ڈیفنس ہیپی فلاؤرز شاپ (1)


کاکو (خلیل ماجد) کی ماں شاہانہ، جسے اس کے گھر والے شانو کہتے تھے، گھر سے تین دفعہ بھاگی۔ چوتھی دفعہ بھاگنے میں کامیاب ہو جاتی تو یہ عین ممکن تھا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اسے 42.195 کلومیٹر کی میراتھن دوڑ میں دوڑنے کے لیے بھیج دیتی۔ ہالینڈ کی سفان حسن نے حالیہ پیرس اولمپک میں یہ فاصلہ 2 : 22 : 55 میں طے کیا تھا۔ وہ تربیت یافتہ بھی تھی۔ شانو کی Running۔ Speed کا معیار بھلے سے سفان کے مقابلے کا سا برق رفتار نہ ہوتا مگر کم از کم اس کی کارکردگی اسلام آباد کلب کے ان ٹونی پیراکوں سے اولمپک میں بہتر رہتی جو اپنی ہیٹ میں ماٹھے ترین لوزر گروپ میں شامل تھے۔

شانو کی ماں رابی بھی گھر سے بھاگی تھی۔ وہ منچن آباد تحصیل بہاولنگر میں رہتی تھی۔ جنوبی پنجاب میں وسیب کے ان علاقوں میں تقسیم کے بعد بھارت سے آن کر آرائیں پنجابی کاشتکار آباد ہو گئے تھے۔ انہیں یہاں نومسلم اور آباد کار بھی کہتے تھے۔ یہ تو آپ جانتے ہیں اسی منچن آباد میں پاکستان کی سرحد سے جڑے سلیمان کی، تک چلے جائیں تو دوسری طرف دس میل کے قریب بھارت کا قصبہ فاضلکا ہے، پاکستان میں زیادہ تر ڈیرے دار طوائفیں اسی بنگلہ فاضلکا کی جان لیوا سوغات تھیں۔

رابی دیکھنے میں سندر اور سجل تھی۔ ناز نخرے میں پوری۔ شادی کم عمری میں ہوئی تھی۔ ایک بیٹی شانو تھی۔ میاں سرکاری ملازم تھا اسلام آباد میں رہتا تھا مگر گھر کم آتا تھا۔ شادی نہ ہونے کے برابر سمجھو۔ قریبی عزیزوں میں یہ بات عام تھی کہ اس نے وہاں اسلام آباد میں ہی کوئی دوسری عورت گھر میں ڈال لی تھی۔ سو رابی سے اس کا کچھ لینا دینا نہ تھا۔

رابی کا باپ اناج کا معمولی تاجر تھا جس پر چکوال کے ایک آڑھتی معراج علی کا لمبا چوڑا قرضہ تھا۔ اس قرضے کی کی کاروباری تفصیلات سے یہاں گریز کرنا بہتر ہے۔ اپنی کار پر جب وہ منچن آباد وصولی کو آیا تو رابی کا باپ اسے چکر دے کر غائب ہو گیا۔ وہ رابی کو قرضے کا Colateral جان کر ساتھ لے گیا۔ بیٹی کے نکل جانے پر باپ نے رابی کی اداس ماں کو کہا سمجھو اپنے میاں کے پاس اسلام آباد چلی گئی۔ بیٹیاں تو ویسے بھی پرایا دھن ہوتی ہیں۔ معراج علی کے گھر رہے گی تو وہاں اللہ کا دیا سب کچھ ہے یہاں تو بے چاری کو تن کے جوڑے کم اور عزیزوں کے طعنے زیادہ ملتے تھے۔ شانو کو ساتھ لے گئی ہے تو تمہاری نواسی بھی خوش رہے گی۔ معراج برا آدمی نہیں۔ عمر بیس سال زیادہ ہے تو کیا۔ گھر کے بستر میں تو بڈھے بلے بھی شیر ہوتے ہیں۔

یوں شانو کے گھرانے میں بھاگ دوڑ کی ریت پرانی تھی۔

sifan hasan

اسی خاندانی ریت رواج کو نبھانے کے چکر میں رابی کی بیٹی شانو بھی پہلی دفعہ چک ملوک سے کاکو کے باپ ماجد کے ساتھ چکوال سے پتوکی کی جانب بھاگی۔ یہ پانچ گھنٹے کے دورانیے والا۔ 310.6 کلو میٹر کا ٹریک ہے۔

ماجد بیل، گھوڑے نچاتا تھا اور اس کی پتوکی میں اپنی نرسری بھی تھی مگر سالانہ لیز پر۔ پندرہ سال کی شانو جس کا باپ سوتیلا مگر دھیمے لاتعلق مزاج کا مرد تھا، اس کی ماں سے عمر میں بیس سال بڑا، ماں تند مزاج، بھڑکیلی، ہات پیر کی مضبوط تھی۔ غصہ آتا تو کہاں کی شانو کیا اس کا اپنا میاں۔ کوٹ ڈالتی تھی۔

شانو کو کمزور، اپنے باپ جیسے جورو کے غلام، واشنگ مشین میں پڑے گیلے کپڑوں جیسے مرد سخت ناپسند تھے۔ اسے میلے میں گھوڑے نچانے والا ماجد زور آور خان جی لگا۔ دوسرے دن جب میلے کا سامان سمیٹا جا رہا تھا۔ پتوکی پہنچنے والے ٹرک پر لدے شامیانوں، بیلوں کی جوڑی بنٹی اور ببلی، گھوڑے جس کا نام رانا جی تھا اور چکوال سے خریدے گئے پودوں والے سامان میں رانو بھی چھپ چھپا کر اڑسی ہوئی موجود تھی۔ ماجد نے پڑوس کے مولوی کو بلایا اور شانو اس کے حبالۂ نکاح میں داخل ہو گئی۔ شادی پانچ سال چلی پہلے دو سال میں دو لڑکے ہوئے خلیل اور سہیل پیدا ہوئے۔

ماجد بھلے سے گھوڑوں کے ناچ میں ماہر مانا جاتا تھا مگر اس سے ایک چوک ہو گئی۔ ایک دن وہ اپنے گھوڑے رانا جی کو فلم کرن ارجن کا گیت۔ چھت پر سویا تھا بہنوئی، میں تنّے (تجھے۔ راجھستانی بولی) سمجھ کے سو گئی رانا جی معاف کرنا، گلطی مارے سے ہو گئی گاتا ہوا، اگست کے mating season میں برابر کے فارم پر اپنے کسی جاننے والی کی نسلی گھوڑی سے ملاپ کے لیے لے جا رہا تھا۔ اس اثنا میں گھوڑے رانا جی کی نگاہ راستے کے کھیت میں چرتی کسی آوارہ بے لگام گھوڑی پر پڑی۔ آپ کو تو علم ہے کہ بریڈنگ سیزن میں مادہ جانوروں کے ہارمونز کی خوشبو، نر ہوا میں سونگھ لیتے ہیں۔ وحشت طلب میں سلگتے گھوڑے رانا جی کو کیا پتہ کہ اس کے لیے اگلی تھاں پر گھوڑیوں کی کون سی پریناکا چوپڑا جوش وصال میں تڑپ رہی ہے۔ سو وہ اس آوارہ گھوڑی کی فوری دستیابی کو قدرت کا بغیر ایڈریس کا عجلت پسند بلاوا جان کر بے قابو ہو گیا اور اس کی جانب لپکا، ماجد نے جب اس کی لگام کھینچی تو وہ یکایک مشتعل ہو گیا اور برق رفتاری سے پراں مر کہہ (پنجابی میں دور جا کر مر) کر کس کے ایک لات ماری جو سیدھی جا کے ماجد کی جانگھ (groin ) میں لگی۔

لات کا لگنا تھا کہ اس کے ہات سے لگام چھوٹ گئی اور وہ درد کی شدت سے بے ہوش ہو گیا۔ جب ہوش آیا تو علاج کرنے والے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اسے Testicular torsion ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے عضو مخصوص تک خون کی ترسیل رک گئی ہے اور اب راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری۔ اٹھارہ برس کی شانو کو شناختی کارڈ تو وقت پر مل گیا پر تن من کا گھاؤ نہ بھر پایا۔ ماجد نے گھوڑے رانا جی کو خود ہی یہ کہہ کر گولی مار دی کہ جو آوارہ زنانی کے ساتھ ذری دیر کے مزے کی خاطر مالک کو لات مار کے نامرد بنا دے اس گھوڑے کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔

مردانگی سے محرومی کے بعد اب ماجد کی مکمل توجہ گھوڑوں کے ناچ کی بجائے اپنی سلامت نرسری کے کاروبار پر ہو گئی۔ خوشحالی تو آئی مگر شانو کا بدن بے آباد رہا۔

شانو کی گھر سے بھاگنے والا دوسرا ایونٹ یوں بنا کہ پانچویں سال پتوکی ان کی سلامت نرسری پر کراچی کے میمن سیٹھ مناف کاپڑیا جس کا کراچی میں اپنا بڑا فارم بھی تھا اس کا سندھی منیجر معشوق علی چانڈیو کار پر سوار آیا۔ شانو باہر گیٹ کے پاس ہی کھڑی تھی۔ چانڈیو نے اپنی آمد کے وقت صدر میں پٹھان کے ٹھیلے سے خریدے ہوئے رے بن کے جعلی reflective sunglasses لگا رکھے تھے۔ جب اس نے وہ چشمہ ایک ادا سے اتارا تو مانو، شانو کے دل پر اک تیر سا چل گیا، دونوں نے جی بھر کے پہلی نظر میں ایک دوسرے کو پسند فرمایا۔ ماجد علی اس وقت دور کسی قطعے میں پودوں کی قلمیں بنا رہا تھا۔ اسے کیا خبر کہ آنے والے سندھی مہمان کے ہاتوں اس کا بھنبھور لٹ چکا ہے۔

اپنے سندھ والے فارم کے لیے انہیں کچھ Exotic Plants درکار تھے۔ چانڈیو قد کاٹھ میں گھوڑے رانا جی کی ماری ہوئی دولتی سے پہلے والے جوانی کے ماجد علی جیسا لگتا تھا، سیاہ بے باک ٓآنکھوں میں ہاشمی سرمے کی گھلاوٹ، نگاہ میں ایک عاجزانہ سی التجا۔ جیسے کہہ رہی ہو کہ سینے لگا جا ٹھاہ کر کے۔ مزاج میں بھی ایک لہرے لیتی، مستی بھری سخاوت تھی۔ چانڈیے کی ہر بات کی تان ”جانی نو پرابلم۔ نو ٹینشن“ کے الفاظ پر ٹوٹتی، اپنی شہ پر نوکیلی مونچھوں پر تاؤ دیتا، سونے کی انگوٹھی والے ہات سے سگریٹ جلاتا تو لگتا کہ سندھ کا کوئی بڑا جاگیردار ہے۔

جب وہ باتیں کر رہا تھا ماجد کی پشت اپنے گھر کے دروازے کی جانب تھی اور شانو چانڈیو کو کھڑکی سے تاڑے چلے جاتی تھی۔ پولیسٹر بوسکی کا کرتہ، کھڑکھڑاتے لٹھے کی کلف والی شلوار، سر پر کاسنی، شیشوں والی، سندھی ٹوپی جو اس کی کشادہ پیشانی پر ایک عجب سی مخروطی محراب بناتی تھی۔ اس کی آواز میں بھی اداکار عابد علی کی طرح، اپنائیت بھرے ایک احساس تحفظ کی لٹ سیل برپا۔ اس احساس میں لپٹ کر شانو کو لگا کہ اس کے سامنے رنگ روپ بدلتے کئی فوارے ناچتے ہیں۔ ان تھرکتے فواروں کے جاگتی آنکھوں کے سپنوں کی پھوار میں ناچتے بھیگتے شانو نے فیصلہ کیا کہ اب انشا جی کے، یعنی اس کے اپنے، ماجد کی سلامت نرسری سے کوچ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ سو اس نے جلدی سے اپنے اور خلیل کے چند جوڑے ایک تھیلی میں ڈال کر چھپا لیے۔

ماجد علی کو لگا کہ بڑا آرڈر ہے تو اس نے گھر والی شانو کو کھانے اور ملازم کو مرغا کاٹنے کا کہہ دے دیا۔ شانو کو کہہ گیا کہ مہمان کے چائے پانی آرام کا خیال رکھے۔ وہ گھنٹے دو میں آ جائے گا۔ چانڈیو نے اسے بیع نامے کے تین ہزار بھی دے دیے تو ماجد کو لگا کہ گاہک سالڈ ہے، ہلے گا نہیں۔ سودا، ڈن ہے۔ ماجد کے پاس موجود پودوں میں ویکس پام، میا زاکی مینگو، قندھاری لیمن، الائچی، بادام، ساگوان کے پودے نہ تھے۔ وہ چانڈیے کو چھوڑ کر یہ پودے خود لوڈ کرانے ملتان روڈ پر گھیلان پھاٹک کی طرف چلا گیا۔

چانڈیے پر ماجد کے اس قدر جواں سال بیوی کی موجودگی میں بھروسے کا سبب یہ نہ تھا کہ اس کو یہ خوش گمانی تھی کہ چانڈیو کو بھی اس کی طرح کسی بدمست گھوڑے نے کراچی میں عین اسی جگہ لات ماری ہے جہاں رانا جی نے بے وفائی اور اشتعال کے سونامی میں بہہ کر اسے ٹھوکی تھی۔ اس حیوانی زیادتی کے کارن وہ بھی اسی کی طرح عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق کے حوالے سے خوابوں کی طرح بے ضرر ہے۔

ماجد کے چانڈیے پر فی الفور یقین کا سورج اس وقت طلوع ہوا جب چانڈیے نے اپنی شرافت کا یقین دلانے کے کہا کہ ہمارے صاحب کے فارم ہاؤس والے بیڈ روم میں انڈیا کی ایکٹریس ریکھا کی آدمی کے برابر کلر فوٹو کا کٹ آؤٹ لگا ہے۔ دور سے دیکھو تو لگتا ہے دوپٹہ صاحب کے پلنگ پر پھینک کر ریکھا مائی خود کھڑی ہے۔ ابھی فوٹو تو فوٹو ہے نا سائیں ماجد، مگر ہمارے سندھ کے مرد اتنے شریف ہیں کہ سیٹھ مناف اس کمرے میں کپڑے نہیں بدلتا۔ کہتا ہے جب تک نکاح نہ ہو پرائی رن کو دیکھنا پاپ ہے۔ میں بھی کمرے میں کبھی اس فوٹو کو سیٹھ کی زنانی سمجھ کر آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ پاس پڑوس کے فارم والے میرا مذاق بناتے ہیں اڑے ریکھا تو امیتابھ بچن کی گرل فرینڈ ہے، فلم میں سب کے سامنے اچھل اچھل کر ناچتی ہے۔ میں بولتا ہوں میرے کو اس سے کچھ نہیں لینا۔ یہ اس کا اپنا معاملہ ہے۔ وہ جانے اللہ جانے، میرے سیٹھ مناف کی عورت ہے۔ بس اتنا کافی ہے۔ دوسرے کی عورت کی عزت کرو تو تمہاری عورت کی بھی لاج قائم رہے گی عابد جس کا سندھی اور میمنوں دونوں سے یہ پہلا واسطہ تھا۔ اسے اس شرافت پر ایمان آ گیا

سلامت نرسری کی کھاد مٹی اور پودوں میں جوانی کی حدت سے سلگتی شانو کو شاہ طوس اور پشمینہ کی شالوں کی نرماہٹ اور گرماہٹ کی کچھ خبر نہ تھی مگر اسے معشوق علی کی گفتگو میں سپنوں کی اپنائیت اور تحفظ سے لدی پھندی ایک بنت دکھائی دی۔ اسے لگا کہ اس مرد کا اپنا ایک نیا دوبئی، کراچی کے روپ میں آباد ہے۔ وہ ماجد سے ناراض بھی تھی کہ اس نے چھوٹا بیٹا سہیل اس کی مرضی کے بغیر اپنی بہن کے پاس چھوڑ دیا تھا جو ذرا دور ایک نرسری پر رہتی تھی اور جس کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔

چانڈیو کہہ رہا تھا بابا مناف سیٹھ کا دو سو ایکڑ کا فارم ہے۔ پتہ ہے ایک ایکڑ کتنے کنال کا ہوتا ہے۔ اس پر ہاتھی، شیر، بھالو، بھولڑے (بندر) پالے ہیں، تمہارے سرحد اور پنجاب کے چیف منسٹر تو کراچی میں ٹھہرتے ہی ہمارے فارم پر ہیں۔ قدافی نے بہت بولا مناف سیٹھ ایسا ایک فارم مجھے لیبیا میں بنا دو مگر سیٹھ نہ مانا۔ تین گاڑیاں، چھ ٹریکٹر، کمرے میں اے سی، کنڈے کی وجہ سے فری بجلی، ہمارے فارم پر کراچی جولائی میں بھی مری بنا ہوتا ہے

یہ سب سن کر شانو کو لگا کہ ماجد علی اور سلامت نرسری، پائوں کے تلوے کا تل ہے اور معشوق کی دنیا بادلوں کی بستی میں آباد جاتی امرا۔ چائے بنا کر خود لائی وہ بھی زیرے کے بسکٹ کے ساتھ۔ ماجد علی ملازم کو چند منٹوں کے لیے معشوق علی کے لیے ایک پودا دکھا کر لانے خود ذرا دور گیا اور شانو برتن اٹھانے آئی تو چانڈیے نے مونچھوں کو بل دے کر شرارت بھرے لہجے میں کہا

اللہ سائیں یہ ادا کیسی ہے پنجابی حسینوں میں
برتن رکھ کر دوبارہ جب آئی تو معشوق نے بس اتنا کہا
آتی کیا کراچی؟ آپ کو یاد ہو گا عامر خان اور رانی مکرجی کا مشہور گیت کیا بولتی تو آتی کیا کھنڈالہ

کا یہ سندھی ورژن ہے۔ شانو نے بس اتنا کہا ”ایک بیٹا بھی ہے“ جس پر معشوق نے پشتو میں ”فکر ما کوا“ جس کا انگریزی ترجمہ بھی worry not کر دیا جو دونوں ہی شانو کی سمجھ نہ آئے مگر اسے اندازہ ہوا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ ایک دلفریب وعدہ ایک قابل بھروسا مردانہ یقین دہانی ان طلسماتی الفاظ میں پوشیدہ ہے

کراچی آن کے شانو کو معلوم ہوا کہ وہ دو سو ایکڑ کا فارم صرف چار ایکڑ کا ہے، جو خود چانڈیو نے ٹھیکے پر لے رکھا ہے، وہاں ریکھا کی تصویر بھی نہیں۔ وہ شانو سے باقاعدہ شادی پر بھی راضی نہیں، اس کی گاؤں میں ایک کزن وائف بھی ہے دن گزرے تو اسے لگا کہ چانڈیا جسے اس نے بی ایم ڈبلیو کی پاؤر موٹر بائیک سمجھا تھا وہ بستر میں ویسی ہی سہراب کی پرانی سائیکل ہے جس پر اس کا نانا منچن آباد میں گھوما کرتا تھا۔

دن گزرتے رہے خلیل جسے وہ کاکو کہتی تھی اس فارم پر پل بڑھ کر چودہ سال کا ہو گیا۔ ایک دن جب چانڈیو فارم پر موجود تھا۔ دو لڑکے موٹر سائیکل پر آئے۔ اسے پانچ ہزار روپے ماہانہ بھتہ ان کی پارٹی کو دینے کو کہا مگر چانڈیو نے حقارت سے کہا کہ مفت کی کمائی ہے، باپ کا مال ہے کہ تیرے جیسے لونڈے لپاڑوں کو ہر مہینے پانچ ہزار سونپ دیں، اس پر ایک لڑکے نے قمیص کا دامن اونچا کر کے اسے ہولسٹر میں دھری پستول دکھائی تو چانڈیا کہنے لگا ابھی چینی بھی کھلونا پستول بنانے لگے ہیں بندوق چلانے کے لیے دل چاہیے۔ تم کو تو ایک جھانپڑ (تھپڑ) پڑے گا تو بغیر ٹکٹ نخلؤ (لکھنؤ ) پہنچ جاؤ گے۔ اس پر لڑکے نے کہا تیرے لیے ابھی یونٹ والوں نے ٹکٹ نہیں دیا ورنہ دیکھتے کہ تو کسی نالے کے اندر بوری میں ملتا ہے کہ ہم لکھنؤ جاتے ہیں۔

یہ مکالمہ فارم کے گیٹ پر ہوا تھا سو اسے نہ خلیل نے سنا نہ ہی شانو نے۔ ان میں وہ لڑکا جس نے چانڈیے کو بوری کی دھمکی دی تھی وہ پرائمری اسکول میں کاکو کے ساتھ تھا۔ چانڈیو نے اپنے مردانہ تکبر کی وجہ سے اس کا تذکرہ شانو سے نہ کیا اور کاکو سے اس کی یوں بھی زیادہ بنتی نہ تھی۔ اسے لگتا تھا کہ کاکو اس کے پیسے چوری کرتا ہے۔ موقع ملنے پر فارم کی مرغیاں بکریاں بھی بیچ دیتا ہے۔

شانو نے نوٹ کیا کہ کچھ دن سے اس کی اور فارم کی نگرانی کی جاتی ہے۔ جب چانڈیو اور کاکو موجود نہیں ہوتے ایک جوان مرد سرکاری نمبر پلیٹ کی جیپ میں وہاں لازماً چکر لگاتا ہے، کچھ پودے بھی لیتا ہے، بھاؤ تاؤ بالکل بھی نہیں کرتا۔ ہوتا بھی اکیلا ہے۔ جب آتا ہے تو فارم کے اندر تو وہ خود جیپ میں آتا ہے مگر گیٹ کے اور آس پاس کی باؤنڈریوں پر کچھ لڑکے موٹر سائیکل پر موجود رہتے ہیں۔ دو تین دفعہ کے دوروں میں شانو نے اسے بتا دیا کہ وہ پنجاب سے آئی ہے۔ کاکو اس کا بیٹا ہے۔ چانڈیا اس کا مرد ہے مگر کاکو کا باپ ایک نرسری والا ماجد ہے جو پنجاب میں ہوتا ہے

یہ مرد جس کی عمر چھبیس برس اور نام مصطفے سلیم صدیقی تھا۔ دیکھنے میں بالکل انیل کپور لگتا تھا لب و لہجہ بھی بہت دھیما شائستہ۔ پر اعتماد، کم گو، دلفریب۔ جسم کھلاڑیوں جیسا، لباس مغربی اور انداز لبھانے والا۔ شانو نے محسوس کیا کہ اس مرد کی نگاہوں میں ایک ایسی طلب ہے جو عورت جلد تاڑ لیتی ہے۔ چوتھی یا پانچویں دفعہ کے دورے میں جب ان کی بات چیت کچھ زیادہ بڑھ گئی تھی اور پودوں کے علاوہ بھی کچھ گفتگو ہونے لگی تھی۔ ایک دن اس مصطفے نے بہت آہستہ سے کہا ہماری فیکٹری ہے۔ آپ کا حسن ہمیں یہاں کھینچ لاتا ہے۔ ہمارے ساتھ چلیں۔

شانو منمنائی کہ چانڈیو اور کاکو بھی تو ہیں۔ مصطفے نے پیش کش کی کہ کاکو کو تو آپ کہیں گی تو کالج میں داخلہ کرا دیں گے اور چانڈیو صاحب کو دوبئی بھیج دیں گے۔ وہاں ہماری بلڈنگ ہے۔ اس کے کرایہ دیکھ بھال، دس مسائل ہوتے ہیں وہ دیکھ لیں گے۔ ویسے وہاں ہم ان کو روزی دینے کے لیے اپنی نرسری اور فارم بھی کھول سکتے ہیں۔ یہ کہہ کر اس نے سونے کا ایک لاکٹ شانو کے ہات پر رکھ دیا اور دروازے کی اوٹ میں کھینچ کر چوم لیا۔ یہ وہ چھا جانے والی وحشت تھی جس کی شانو طلب گار تھی۔ یہ جرات، یہ لاگ لپٹ اسے بہت اچھی لگی۔ وہ اس کے ایک طویل عرصے سے منتظر تھی۔

شانو نے کہا کہ میرا کاکو تو ساتویں فیل ہے کالج کیسے جائے گا۔ اس پر مصطفے میاں نے کہا ویسے بھی تعلیم میں کچھ نہیں رکھا۔ ایم بی اے رکشہ چلا رہے ہیں۔ آپ چلیں تو سہی۔ آپ کو کچھ نہیں ہو گا، ہمارے آستانے پر موج کریں گی۔

شانو نے دو باتیں کیں کہ جب تک چانڈیو ہے وہ یہ گھر چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ آپ چاہیں تو ہار واپس لے لیں۔ مصطفے نے کہا دل اسے دیا تو ہار کی کیا بات ہے۔ آج نہیں تو کل شاید حالات ایسے ہوں کہ وہ مان جائے۔ شانو نے دوسری بات یہ کی کہ وہ جب آتا ہے تو اس کے ساتھ اتنے نوجوان لڑکے کیوں ادھر ادھر حفاظت کے لیے منڈلاتے ہیں۔ اس پر مصطفے نے بتایا کہ وہ ایک کامیاب تاجر کے علاوہ اپنی پارٹی کا سیکٹر انچارج بھی ہے۔

رمضان کے دن تھے۔ عید میں تین یا چار دن باقی تھے کہ اطلاع آئی چانڈیو کو کچرے کے کسی سرکاری ٹرک نے فارم سے ذرا دور مین ہائی وے پر ٹکر مار کر کچل دیا۔ پولیس نے لاش لاوارث جان کر مردہ خانے بھجوا دی ہے وہ تو خیر ہوئی کچھ دیر بعد ہی مصطفے بھی آ گیا۔ ایک کار میں مصطفے شانو اور کاکو دیگر لڑکوں کے ساتھ مردہ خانے چلے گئے۔ ان لڑکوں کے آگے پیچھے ہوتے عملے کے ارکان اور ڈاکٹر ان سب کو دیکھ کر شانو کو لگا مصطفے واقعی ایسا مرد ہے جس کے ساتھ باقی دن بتائے جا سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر کاکو کا بھی کچھ مستقبل سنور جائے گا۔ چانڈیو نے تو اسے بالکل ہی اگنور کیا ہوا تھا۔

اس رات ان کے فارم کے باہر فائرنگ بھی بہت ہوئی۔ وہ اور کاکو خوف کے مارے لرزتے رہے۔ اگلے دن جب مصطفے بھائی آئے تو اس نے رات کی فائرنگ کا قصہ بھی سنایا جسے سن کر مصطفے کہنے لگا اکیلی عورت اور خلیل میاں کا یہاں رہنا محفوظ فیصلہ نہیں۔ چھوٹا موٹا سامان لے کر وہ اس کے بنگلے پر چلے۔ جب حالات ٹھیک ہوں گے تو وہ واپس آ جائے تب تک وہ اس فارم کی ملکیت کے کاغذات بھی اس کے نام بنوا دیں گے۔ مصطفے کو پارٹی میں وہ کسی کام پر لگا دیں گے۔ چانڈیو سے اگر گھر میں پچاس ہزار کی آمدنی ہوتی تھی تو اس کو ڈبل اور ٹرپل ملیں گے۔

یوں شانو تیسری اور آخری دفعہ گھر سے بھاگی۔ اب کی دفعہ گھگھر پھاٹک سے لانڈھی کا یہ فاصلہ تقریباً اولمپک کی میراتھن جتنا تھا۔

شانو کو ٹرپل کا مطلب نہ آتا تھا۔ رات جب وہ مصطفے کی بانہوں میں وحشت وصل سے کسمساتی تھی اسے مصطفے نے کہا جانو تیری پنجابی آنکھ تو کھول ٹرپل کا مطلب ہے تین گنا۔

وہ گھر پر زیادہ تر اکیلی ہوتی تھی۔ ہر طرح کی آسائش مہیا تھی۔ ایک لڑکی عینی بھی تھی۔

اسے ملازمہ کہنا تو غلط ہو گا مگر وہ شانو کا بہت ہات بٹاتی تھی۔ سودا اور کھانا لانے کے لیے مصطفے نے ایک لڑکے شعیب کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی۔ شہر میں کہیں جانا ہوتا تو کار ڈرائیور سب ایک فون پر آ جاتے تھے۔ شاپنگ سیر مگر سب اکیلے۔ بس وہ ملازمہ عینی وہی اس کی ہم راز و ہم سفر ہوتی۔

اس عرصے میں مصطفے نے اس کے جس و جاں کے وہ تمام عذاب دھو ڈالے جو گھوڑے رانا جی کی ماجد علی کو لات مارنے سے چانڈیو کے جھوٹ تک عرصہ تیرہ سال پر محیط تھے۔ مصطفے کی کارروائی اور پارٹی کے بارے میں اسے کچھ پتہ چلا تو اس عینی کے ذریعے جس کا بھائی یونٹ میں تھا۔ اسی نے تھوڑا بہت بتایا مصطفے جب شانو کے پاس ہوتا تو عینی کے پاس شعیب ہوتا تھا۔ سمجھو ٹینس کا مکسڈ ڈب چل رہا ہے بس ٹینس کورٹ کی جگہ بستر اور علیحدہ کمرے ہیں۔ شانو کو ان لوگوں کے اسلحہ کو دیکھ کر خوف آتا تھا

کاکو البتہ اس کے یہاں منتقل ہونے کے بعد اس کے پاس گھر کم ہی آتا تھا۔ نئی موٹر سائیکل جانے کہاں سے لے آیا تھا شانو نے پوچھا بھی کہ کہاں سے آئی ہے تو یہ کہہ کر ٹال گیا کہ تھانے والوں نے ابا چانڈیو کی موٹر سائیکل غلطی سے کسی اور بندے کو دے دی تھی۔ مصطفے بھائی کا تھانے پر بہت رعب ہے انہوں نے ڈانٹا تو اس کی جگہ تھانے والوں کی جانب سے یہ نئی مجھے مل گئی۔
مصطفے ہی نے پہلی دفعہ شعیب کی ڈیوٹی لگائی کہ کاکو کو ٹی ٹی چلانے کی تریبت دے۔ جب کاکو نے اس کے کہنے پر ایک آوارہ کتے کے سر کا نشانہ بنایا تو پانچویں گولی سیدھی اس کتے کے سر میں جاکر لگی۔ کاکو کا دل بہت خراب ہوا۔ وہ دیکھتا تھا کہ اس کے ساتھیوں میں اسلحہ عام تھا۔ سب ہی کے پاس کلاشن کوف یا ٹی ٹی پستول ہوتی تھی۔

ایک دن جب کاکو گھر آیا تو شانو موجود نہ تھی۔ اسے معلوم تھا کہ وہ مصطفے کے کتنی قریب ہے۔ دبے لفظوں میں کسی نے اس کے سامنے کہہ دیا کہ وہ بھائی کی رکھیل ہے تب تک کاکو، کو رکھیل کے معنی نہ آتے تھے مزید کریدنے سے یوں گریز کیا کہ اسے معلوم تھا علاقے میں مصطفے کس بلا کا نام ہے اور وہ کتنا سفاک انسان ہے۔

یونٹ سے حکم آیا تو وہ پہلی دفعہ دو ساتھیوں کے ساتھ ایک بنک لوٹنے میں شامل ہوا۔ اسے پہلی دفعہ بیس ہزار روپے ملے تو اس نے والدہ کے ہات پر اس وقت رکھ دیے جب وہ دوبئی سے واپس لوٹی۔ اس نے کاکو کو بتایا کہ وہ تین دن کے لیے پارٹی کے کسی کام سے دوبئی گئی تھی۔

دن گزرتے رہے۔ کاکو اکثر ڈکیتیوں میں شریک رہتا۔ اس اثنا میں شانو کے دوبئی کے تین چکر لگ گئے۔ دوبئی سے آتے جاتے اس کی ملاقات ائر پورٹ پر خفیہ ادارے کے میجر فیصل سے ہوئی۔ دوبئی میں بھی وہ اس کے پاس آ جاتا تھا۔ دونوں کا خوب اور بے دریغ ساتھ رہا۔ اس نے چالاکی سے بہت سے ایسے راز بھی شانو سے اگلوا لیے جن کے آئندہ نتائج کا شانو کو علم نہ تھا۔ دوبئی سے واپسی پر ایک ٹرپ میں اس سے یہ بداحتیاطی ہوئی کہ وہ ائرپورٹ سے واپسی پر فیصل کے ساتھ ہی اس کی کار میں گھر پر ڈراپ ہو گئی۔

عینی نے یہ مہربانیاں اور لطف کرم کھڑکی سے بھی دیکھا اور محلے والوں سے بھی تصدیق ہو گئی کہ وہ مردوا جو شانو کو چھوڑنے آیا ہے وہ کسی طور اپنی طرف کا نہیں لگتا۔ عینی مصطفے بھائی کی طرف سے مقرر کردہ حلف یافتہ کارکن اور جاسوس تھی۔ جب مصطفے کو ان سب باتوں کا علم ہوا تو یہ پہلی دفعہ تھی کہ مصطفے نے اسے بیلٹ سے خوب مارا۔

انہیں دنوں ایک ایسا بگاڑ ہوا کہ سب ساتھی روپوش ہو گئے۔ اسی اثنا میں مصطفے نے اسے ایک بڑی رقم دے کر دوبئی بھیجا جہاں اسے فیصل ملا شانو نے اس دن کی روداد سنائی۔ بدن پر جو نشانات تھے انہیں فیصل نے بستر میں چوما بھی اور دیکھا بھی۔ شانو نے بتایا کہ انہیں گھر پر آتا صرف عینی نے دیکھا تھا

اور یہ بھی بتایا کہ یہ سب قصہ اس کے اندازے کے مطابق شعیب کو اسی عینی نے بنایا اور مصطفے کو اس کے یار شعیب نے مخبری کی تھی۔ اس کی غیر حاضری میں شعیب اور عینی دونوں اٹھ گئے۔ شانو واپس آئی تو انہیں غائب ہوئے ہفتہ بھی ہو چکا تھا۔ مصطفے بھی نہ آیا مگر اس کی آمد کے تیسرے دن عینی واپس آ گئی، برا حال تھا۔

شانو گھر سے کیسے غائب ہوئی اس کی موت کیسے ہوئی۔ اس کی لاش ہسپتال کے مردہ خانے کیسے پہنچی یہ ایک معمہ ہے۔ پارٹی کا جو غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے۔

اس دن کینٹ اسٹیشن کے قرب و جوار میں جب کاکو ایک کیش وین کو لوٹنے والے تین لڑکوں کی گینگ میں شامل تھا۔ ان میں سے ایک لڑکے نے تجویز دی کہ سامنے سڑک کے دوسری طرف جو بینک ہے وہاں ایک ہی گارڈ ہے کیوں نے اس پر بھی ہات صاف کر لیں۔ لوٹ کا یہ آئٹم، ٹیم کو ملنے والی ہدایات کے مینو میں شامل نہ تھا۔ کاکو کو انہوں نے کہا وہ یہاں گلی میں مین روڈ سے پرے کیش کا تھیلا بوری میں بند کر کے بیٹھے وہ ٹھیک پندرہ منٹ بعد بینک لوٹ کر آئیں گے۔ اس رقم کا وہ اسے بھی حصہ دیں گے۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

2 thoughts on “ڈیفنس ہیپی فلاؤرز شاپ (1)

  • 07/02/2025 at 1:01 شام
    Permalink

    لگتا ہے سیدھے نائن زیرو میں بیٹھ کر لکھی گئی ہے۔
    کسی کامیاب تیلگو فلم کی کہانی جس میں کامران ٹیسوری بھی ایکٹر ہیں۔

    • 08/02/2025 at 1:24 صبح
      Permalink

      دیوان بابا آخری سطور میں یہ جملہ مس فٹ لگ رہا ہے۔ وضاحت کرسکیں گے ؟

      شانو گھر سے کیسے غائب ہوئی اس کی موت کیسے ہوئی۔ اس کی لاش ہسپتال کے مردہ خانے کیسے پہنچی یہ ایک معمہ ہے۔ پارٹی کا جو غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے۔

Comments are closed.