دہقان قدیم اور تعلیم


dr badar habib sipra

زمانہ قدیم سے دریائے چناب اور دریائے جہلم اس خطے (ضلع جھنگ، ضلع ٹوبہ اور ان کے آس پاس کے علاقے ) کے بے تاج بادشاہ رہے ہیں۔ جہاں چاہتے بہتے، جہاں چاہتے ٹھہرتے۔ نہ کوئی روک، نہ کوئی ٹوک، جب دل کیا جو دل کیا بہا لے گئے اور نشانی کے طور پر ٹیلے (ریت) چھوڑ جاتے۔ جبھی یہاں کے باسیوں کا اس اجارہ داری کے خلاف کوئی چارہ نہ تھا۔ بودوباش انہی دریاؤں کے مزاج پر منحصر تھی۔ لوگ خانہ بدوشوں کی سی زندگی بسر کیا کرتے، مال مویشی پال کر ہی ضروریات زندگی پوری کیا کرتے۔

پھر انگریز دور آیا، جس نے ان کی آزاد روی کو بند و بیراج کے ذریعے قید کیا۔ نہری نظام کے قیام سے ان باقیات (ٹیلوں ) کا دشمن نکلا۔ جھنگ کے علاقے میں تریموں بیراج نے اس بپھرے داند (بیل) یعنی دریائے چناب کو نکیل ڈالی، یوں یہاں کے باسیوں کو کسی حد تک سکون میسر آیا۔ تاہم، باوجود اس کے یہاں کے لوگ مال مویشی پالنے اور چرواہی کو ہی ذریعہ معاش سمجھتے۔ آزادی سے تقریباً ایک دہائی قبل، ولی داد کے ہاں خان محمد نے جنم لیا۔

ابھی وہ پنگھوڑے سے نکلے بھی نہ تھے کہ والد صاحب کے سایہ شفقت سے محروم ہو گئے۔ ہوش سنبھالتے ہی چرواہے کا عہدہ سنبھالا۔ دس برس کی عمر تک سکول کا منہ تک نہ دیکھا۔ دیکھنا تو دور کی بات، سنتے ہی راہ فرار اختیار کرتے۔ ایک روز جب سنا کہ فلاں کو منشی جی نے مارا ہے اور بڑا ڈاڈھا یعنی بڑا زیادہ مارا ہے تو شکرِ خدا بجا لائے کہ اس مصیبت سے جان بچی سو لاکھوں پائے۔

ہیڈ تریموں جھنگ کے علاقے میں ایک اہم منصوبہ تھا، جہاں نہ صرف بڑی تعداد میں مزدور بلکہ افسران کو بھی قیام کرنا تھا۔ اس مقصد کی خاطر نئی کالونی میں سکول کا قیام عمل میں لایا گیا، جو اس علاقے کے لوگوں کے لیے ایک بڑی نعمت تھی۔ یہ کالونی محض ایک نوآبادی نہ تھی، بلکہ یہاں کے باسیوں کے واسطے شہر کی سی اہمیت رکھتی۔ جہاں زندگی کی بنیادی ضروریات زندگی میسر آ تئیں۔

جب اماں جی اور بھاؤ مہر اللہ دتہ شہر جاتے، تو کئی امیدیں لے کر جاتے اور کئی خواہشات کے ہمراہ واپس لوٹتے۔ خاندان کے سبھی افراد بشمول بڑے بھائی علم جیسے گوہر نایاب سے ناآشنا تھے۔ ایک دن اماں جی اور بیبے (بڑی بہن) نے فیصلہ کیا کہ ہمارا منجھلا لڑکا پڑھے گا، اور خاندان کا نام روشن کرے گا۔ اماں جی اور بھاؤ (بڑے بھائی) نے چھوٹے کو شہر لے جانے کی ٹھانی اور اسے وہاں سے من پسند خریداری کا لالچ دیا۔ جناب خوشی سے پھولے نہ سمائے اور بار بار الاپتے رہے، ”شہر جاؤں گا، شہر جاؤں گا، شہر جاؤں گا۔“

شہر جانے سے پہلے اماں جی اور بھاؤ نے منشی صاحب سے ملاقات کر رکھی تھی۔ منشی صاحب استاد کامل، فقیر طبیعت کے مالک اور ایک درویش صفت انسان تھے۔ ان کا مقصد حیات محض خدا تعالی کی خوشنودی اور اس کے حبیب کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی محبت حاصل کرنا تھا۔ پنجابی زبان میں ان کی شاعری خدا کی رضا اور حبیب خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شفا کے گر واضح کرتی ہے۔

شہزادے کو دلہا بنا کر استاد کے حضور پیش کیا گیا، بچوں کو وہاں منشی جی کے ہاں ٹاٹ پر پڑھتے دیکھ کر ان کا دل بیٹھ سا گیا اور بھاگنا چاہا۔ ایسا لگا جیسے کسی معصوم ہرن کو شیر کے سامنے چھوڑ دیا گیا ہو۔ اماں جی کے ساتھ ہونے کے باوجود، بکرا قصاب کے ہتھے چڑھنے والا تھا۔ اضطرابی کیفیت بڑھنے لگی۔ اماں جی کو کہنی مار کر اپنی ناراضگی جتانے لگے۔ منشی جی نے وقت کی نزاکت بھانپتے ہوئے اشارہ کیا کہ اندر چلیں۔ اندر ایک خاتون، جسے موصوف نے کبھی دیکھا تک نہ تھا، باہیں پھیلائے پرتپاک استقبال کے لیے تیار کھڑی تھی۔

”آ گیا میرا لاڈلا پتر!“ جناب سمجھ گئے کہ اب راہ فرار ممکن نہیں۔ یہ آزاد پنچھی اب سکول کے پنجرے میں بند ہونے کو تھا۔ اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا۔ شہر آیا ہی کیوں؟ ایسا سوچا ہی کیوں؟ جب کوئی حیلہ بہانہ کام نہ آیا، تو جان گئے کہ قسمت کا لکھا کون ٹال سکتا ہے اور سر تسلیم خم کر دیا۔ اماں جی اور بھائی گندم کا آٹا اور گھی استاد کے حوالے کرتے وہاں سے چل دیے۔

منشی صاحب جیسا درویش اور متقی انسان شاید ہی کسی ماں نے جنم دیا ہو۔ جب رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا، تو ان کے گھر میں زندگی کی ہلچل محسوس ہونے لگتی۔ نلکے کی آواز سنائی دیتی اور وہ اپنے معمولات میں مشغول ہو جاتے۔ ان کا معمول انتہائی روحانی تھا: تہجد کے وقت اٹھنا، وضو کرنا۔ وہ اپنے رب کو منانے کے لیے نوافل ادا کرتے، اس کا شکر بجا لاتے، اور پھر فجر کی نماز پڑھ کر طلوع آفتاب تک تلاوت قرآن کرتے۔ اس کے بعد وہ اپنا حقہ نوش کرتے، ناشتہ کرتے، اور روزمرہ کے کاموں میں مشغول ہو جاتے۔

اس گلشن میں پیوند پیوندے کے لیے یہ معمول اچنبھے سے کم نا تھا۔ ایک دن ان معمولات کے بارے میں صاحباں (خاتون منشی) سے دریافت کیا، اور جب حقیقت معلوم ہوئی، تو بہت متاثر ہوئے۔ اگلے ہی روز یہ صاحب بھی منشی جی سے پہلے اٹھ بیٹھے۔ وضو کے لیے تازہ پانی فراہم کیا اور خود بھی نماز پڑھنے کی کوشش کی۔ یہ تجربہ اتنا متاثر کن ثابت ہوا کہ آج آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود اس پیوندے کا وہی معمول ہے۔

آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد ، روزگار کی فکر نے گھیر لیا۔ فکر مند رہنے لگے، کس طرح ذریعہ معاش تلاش کیا جائے۔ اس بے سکونی کو دیکھتے ہوئے منشی صاحب اسے چودھری سلیم کے پاس لے گئے۔

اور عرض کیا ”اس پریشان حال بچے کی مشکل کو حل کریں۔“ چودھری صاحب نے سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوراً اپنی تجوری سے پچاس روپے نکال کر دینے کی کوشش کی۔ لیکن منشی صاحب نے یہ رقم قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، ”کیا تم اس بچے کو بھکاری بنانا چاہتے ہو؟ اگر واقعی مدد کرنی ہے تو اسے کوئی کام دو، تاکہ یہ اپنی محنت سے کچھ حاصل کرے اور اللہ کا دوست بنے۔“

آٹھ پڑھا یہ نوجوان ”میٹ“ کے عہدے پر فائز ہوا۔ مہینہ بھر محنت سے کام کرتا اور پچاس روپے تنخواہ پاتا۔ ایک دن، کھانے کے دوران صاحباں نے بتایا کہ ”آپ کا فلاں دوست نویں جماعت کی کتابیں چھوڑ گیا ہے۔“ یہ سن کر خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ کتابیں دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ مگر شرط تھی کہ کھانا ختم کرنے کے بعد ہی کتابیں اٹھائی جائیں۔ مگر اتنا صبر کہاں؟ کھانا اور کتابیں ساتھ لیے کام پر چل دیے۔ وہاں خود کو ایک کوٹھی (چھوٹے کمرہ) میں بند کیا اور کتابیں دیکھنے لگے۔ سوال حل کرتا اور جو حل نہ ہوتا وہ زیر نشاں ہوتا۔ خود سے ہی خوش ہو کر کہتا، ”یہ مشق بھی آتی ہے! یہ مشق بھی آتی ہے!“

کافی دیر ہو چکی تھی کہ افسر کی گاڑی آ پہنچی، ماتحتوں نے بتایا کہ میٹ صاحب کوٹھی بند ہیں اور کافی دیر سے باہر نہیں آئے۔ افسر خود کمرے تک جا پہنچے اور موصوف کو اس دھن میں مگن پایا۔ جیسے کوئی پروانہ شمع پر جان نچھاور کر رہا ہو۔ پروانے کو شمع کے گرد اس قدر محو پا کر اسی وقت اسے مستری کے عہدے پر ترقی دے دی۔

کچھ ہی عرصے بعد نوکری کو خیرآباد کہا اور حویلی بہادر شاہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس بار کسی نوکری کا سوچا ہی نہیں۔ 1950 کے سیلاب سے تباہ شدہ زمین کو آباد کرنے کا ارادہ کیا۔ انجن لگا کر اپنی زمین کو قابل کاشت بنایا۔ ساتھ ہی اپنے کاروبار کا آغاز کیا جو پھلتا پھولتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بلندیوں کو چھونے لگا۔ جب پیسے کی لکشمی مہربان ہونے لگی تو ڈیرہ اور دکان ساتھ ساتھ چلنے لگے۔

دینی رغبت اور علم سے لگاؤ نے انہیں اپنے ارد گرد کے بچوں کو قرآن پاک پڑھانے اور ان کی تعلیم و تربیت کا ذمہ دار بنا یا۔ انہوں نے اپنی بیٹھک کو اس نیک مقصد کے لیے وقف کر دیا، جہاں بچے قرآن کے ساتھ ساتھ دیگر تعلیمات بھی حاصل کرتے تھے۔ ان کی یہ محنت اور خلوص رنگ لائی، اور 1971 میں ان کی بیٹھک کو سکول کا درجہ دے دیا گیا۔

علم کی یہ آبشار تاحال جاری ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ میری والدہ ماجدہ بھی ہیں، جن کا اسم گرامی داخلہ رجسٹر میں پہلے پہل درج ہے۔ چار دہائیوں تک اس گلشن کی آبیاری کرنے کے بعد اب وہ ریٹائر ہونے کو ہیں۔ میرے والد ماجد بھی اس تعلیمی کشتی کے سوار رہے، اور آج وہ ناخدا بنے اس کے چپو کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ اس طرح اس چراغ سے کئی چراغ روشن ہوئے۔ یہ سب اس نیک مقصد اور مسلسل محنت کا ثمر ہے، جو ہمارے خاندان اور علاقے کے واسطے روشنی کا مینار ہے۔

Facebook Comments HS