سیاسی شعور سے عاری طلبہ، روبوٹک مزدوروں کی افزائش
نو آبادیاتی معاشروں میں سیاسی آزادی پر قدغن کوئی نئی بات نہیں ہے یہ نا صرف معمول کا ہی حصہ سمجھی جاتی ہے بلکہ اپنا تاریخی تسلسل بھی رکھتی ہے کیونکہ ایسے معاشروں کی کل تاریخ سیاسی آزادی پر قدغن اور پابندیوں کا ہی شاخسانہ ہے۔ پاکستان بھی جو برطانوی استعمار سے آزاد ہو کر (کچھ لوگوں کی رائے البتہ مختلف ہے ) دنیا کے نقشے پر ابھرا، ایسے ہی المیے کا شکار رہا ہے۔ پہلے انگریزوں کی پابندیاں تھیں اور ہندوستان غلام تھا بعد میں ان کے ہم نواؤں نے انہی کے چلن کی پیروی کرتے ہوئے یہ سلسلہ جاری رکھا جو کہ اب تک بدستور جاری ہے، پاکستان میں۔ پیکا ایکٹ کی حالیہ ترمیم اس دعوے کی صداقت کے لیے کافی ہے۔ مذکورہ مضمون میں طلبہ کی سیاسی تاریخ کو محض بیان ہی کر دینے سے گریز کیا گیا ہے اور یہ تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جامعات، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی سیاسی صورتحال کیا ہے۔ طلبہ کی کثیر تعداد کیوں۔ غیر سیاسی رویوں۔ کا شکار ہے؟ اور کیوں طلبہ کے اندر غیر جمہوری بیانیے مقبول ہو رہے ہیں؟
ایسے معاشروں کی فہرست میں جہاں جمہوریت کی حیثیت کسی عبوری تجربہ سے زیادہ نہیں ہے، ان میں پاکستان سر فہرست ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری رویوں و اقدار کے پروان چڑھنے کے لیے مناسب ماحول ہی پیدا نہیں ہوسکا ہے۔ معرضِ وجود میں آنے کے بعد سے ہی پاکستان کا اقتدار ایسے سیاستدانوں پر مشتمل رہا ہے جو سیاسی بالیدگی اور پختگی سے یکسر نابلد تھے۔ ایسے میں جب خالصتاً سیاستدان بھی کوئی کام نہ آ سکیں تو پھر جاگیرداروں، نوابوں اور سرمایہ داروں سے۔ سیاسی قیادت کی امید رکھنا عبث ہے، بلکہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ وطن عزیز کی ابتدائی برسوں کی تاریخ دراصل پاؤں پر کلہاڑی مارنے کی ہی تاریخ ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی ملک کی باگ ڈور ایسے سیاسی نابلدوں کے ہاتھ میں رہی ہے جنہوں نے از خود اپنی نا اہلیوں اور ناکامیوں کے سبب سول افسر شاہی کے لیے اقتدار پر قبضہ جمانے کی راہ ہموار کی ہے۔
سول افسر شاہی کی اقتدار پر قبضے کی ابتداء ملک کے تیسرے گورنر جنرل غلام محمد سے ہوتی ہے جب انہوں وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو برطرف کر کے محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ البتہ، سول افسر شاہی کا اقتدار دیرپا ثابت نہ ہوسکا اور مارشل لا کی نذر ہو گیا۔ سول افسر شاہی کا اقتدار اسکندر مرزا کی گورنر جنرلی کے زمانے میں عروج کو پہنچا جبکہ اس عروج کو زوال کی طرف خود اسکندر مرزا نے ہی دھکیلا جب انہوں نے آرمی چیف ایوب خان کے ذریعے مارشل لاء کا اعلان کیا اور فیروز خان نون کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا۔ یوں اسکندر مرزا نے علانیہ فوجی افسر شاہی کو اقتدار کی راہ دکھائی۔ یہاں کچھ لوگوں کو اعتراض ہو سکتا ہے کہ تاریخ کو محض شخصیات تک محدود کر دینا اور سیاسی، اقتصادی و سماجی پہلوؤں اور تبدیلیوں کو نظر انداز کر دینا، تاریخ کو مسخ کر دینا ہے، تو یہاں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ مضمون کے موضوع کی مناسبت سے سیاسی، اقتصادی و سماجی پہلوؤں اور تبدیلیوں پر تجزیہ کرنا تو کجا انہیں بیان کرنا بھی محال ہے۔
بہرحال یوں سول و فوجی افسر شاہی (جس میں فوجی افسر شاہی کا غلبہ ہے ) کی اقلیم نے ملکی اقتدار پر اپنی گرفت کو مضبوط کیا۔ اس غیرجمہوری ہیئت مقتدرہ کی اقتدار پر گرفتگی کے ہی سبب پاکستانی سماج میں جمہوری رویوں کا کال دکھائی پڑتا ہے اور سیاست جمہوری اقدار سے خالی نظر آتی ہے۔ پے در پے لگتے مارشل لاز اور آمریتوں کے دامن میں پنپتی جمہوریت نے سیاسی شعور کی نا پختگی کو مزید وسعت بخشی۔ غیرجمہوری ہیئت مقتدرہ (یا جسے اسٹیبلشمنٹ بھی کہا جاسکتا ہے ) کی سرپرستی میں سیاسی شعور کو کچلنے کی مسلسل اور مستقل کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ دانشوروں، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور طلبہ کو جیلوں میں ٹھونسا گیا، عقوبت خانے سجائے گئے، اخبارات پر پابندیاں عائد کی گئیں اور مزدور یونینوں، طلبہ تنظیموں کو شجر ممنوعہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔
ایسے میں ارباب اختیار کی جانب سے سیاسی شعور کو دبانے کی سب سے بڑی کوشش طلبہ یونین پر پابندی ہے۔ وہ طلبہ یونین جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں نرسری کی حیثیت رکھتی ہے جہاں سے ملک کی سیاسی قیادت جنم لیتی ہے۔ طلبہ یونین کی پابندی سے قوم کے اجتماعی سیاسی شعور کو شدید ترین نقصان پہنچتا ہے۔ یہ نقصان اس قدر شدید تر ہے کہ اس سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے غیرجمہوری ہیئت مقتدرہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی آل و اولاد پر انحصار کرتی ہے یا مجبوراً کھیل کے میدانوں کو کھنگالتی ہے اور مسیحا تراش لاتی ہے۔ عہد قدیم سے ہی مسیحا تراشنے کا عمل استبدادی قوتوں کا وتیرہ رہا ہے، پاکستان کی تاریخ بھی ان ہی مشاغل سے بھر پور ہے، نام نہاد عوامی قائدین کی فہرست طویل ہے اس فہرست میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے سیاسی جد کو علانیہ ڈیڈی کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔
طلبہ یونین پر پابندی کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ طلبہ کے سیاسی کردار سے تعلیم و تدریس کے معیار میں ابتری ہو رہی ہے جس سے قوم و ملک کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جبکہ صورتحال اس کے برعکس ہے، طلبہ یونین پر پابندی کو 40 برس کا طویل عرصہ گزر چکا ہے اس کے باوجود ملک بھر میں تعلیمی صورتحال زبوں حالی کا شکار ہے۔ اور صرف تعلیمی صورتحال ہی زوال پذیر نہیں ہے بلکہ اخلاقی و سماجی پہلووں کا بھی برا حال ہے، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں غنڈہ گردی، نشے کا استعمال، ہراسانی اور دیگر جرائم کا ارتکاب معمول بن چکا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بڑی طلبہ تنظیمیں مافیا کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہیں جو چھوٹی تنظیموں پر اپنی دھونس جماتی ہیں۔ یہ دھونس جمانا صرف چھوٹی اور کمزور تنظیموں کا ہی مقدر نہیں ہوتا بلکہ عام طلبہ جو اسی رویے کے ہی سبب سیاست سے کنارہ کش رہتے ہیں، ان کو بھی جھیلنی پڑتی ہے۔ جامعات کے اندر طالبات کی جنسی ہراسانی کی خبریں بھی معمول کی بات ہو چکی ہیں۔ گزشتہ برس کے اخبارات اٹھا کر دیکھے جائیں تو صورتحال کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ بعض جگہوں پر استادوں کے بھیس میں جنسی درندے برا جمان ہیں جبکہ ایسے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ بھی بے حس نظر آتی ہے۔ ایسا ہے کہ بعض اداروں میں تو انتظامیہ خود ہی مافیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ طلبہ یونین کے عدم وجود اور طلبہ سیاست پر غیر علانیہ پابندی کے سبب طلبا اپنے حقوق سے غافل ہیں اور انتظامیہ کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں جو انہیں لوٹنے، کھسوٹنے اور اپنی جباریت کے اظہار کے لیے متحرک ہے۔
بہر حال، مضمون طویل ہو رہا ہے تو سطورِ بالا میں پوچھے گئے سوالات کا جواب پیش کرنا مناسب ہو گا۔ طلبہ کی کثیر تعداد کیوں غیر سیاسی رویوں۔ کا شکار ہے؟ اس کی صریحاً ذمہ داری ہمارے تعلیمی نظام پر ہے جو عالمی نیو لبرل ازم کے زیر اثر پورے سماج کو ہی غیر سیاسی رویوں کی جانب دھکیل رہا ہے۔ کارپوریٹ سامراج کے سائے میں پلتے تعلیمی ادارے ایسی۔ معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں کہ جو محض وائٹ کالر روبوٹک مزدور پیدا کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کر رہی۔ عالمی استعمار کے زیر تسلط سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں نیو لبرل ازم کا بھرپور پرچار کیا جا رہے جس کی ابتدا غیر سیاسی رویوں کے جڑ پکڑنے اور انجام طلباء کا اپنے حقوق سے بیگانگی کی صورت میں ہوتا ہے۔ ریاست بھی اپنی تمام مشینری کے ساتھ عالمی ایجنڈوں کو بروئے کار لانے میں پیش پیش ہے، اور استعماری قوتوں کی ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔
جبکہ طلبہ کے اندر غیر جمہوری بیانیے کیوں مقبول ہو رہے ہیں؟ تو اس کا جواب بھی تاریخی تسلسل میں سمجھا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ مردِ آہن کی آمریتوں کی داستان ہے۔ جنہوں نے اپنے خو دساختہ اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے جمہوری روایات و اقدار کا گلا گھونٹا ہے۔ بنیادی جمہوریت کے نظام سے لے کر اسلامی سوشلزم تک اور اسلامی جمہوریت سے اسلامی جدیدیت تک، آمروں نے نظریات کا سہارا لے کر نظریات سے عاری سیاست کو فروغ دیا ہے۔ غیر جمہوری ہیئت مقتدرہ نے اپنے لاڈلوں کو مسند ِ اقتدار پر بٹھانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا ہے۔ ریاست کی جانب سے میڈیا اور سوشل میڈیا کا بے دریغانہ استعمال نوجوانوں میں ایسے بیانیوں کو فروغ دینے میں ہوا ہے جو آمرانہ و پاپولسٹ طرزِ سیاست کی طرف ابھارتے ہیں۔ ایسے میں طلبہ کے اندر غیر جمہوری بیانیوں کی مقبولیت پر تشویش کا اظہار خود اپنی ہی لا علمی کا اعلان ہے۔
سطورِ بالا سے طلبہ کی سیاسی صورتحال کو سمجھنے میں کچھ حد تک مدد ملتی ہے اور مرض کی تشخیص کر کے علاج کی جانب بھی بڑھا جاسکتا ہے۔ پہلے ضروری ہے کہ مرض کی بہتر طور پر تشخیص کر لی جائے تاکہ کارگر و مفید علاج کی جانب بڑھا جا سکے۔

