اختر جمال: ایک اہم افسانہ نگار کی یاد میں


چونکہ میں نے کم عمری سے ادبی رسائل پڑھنے شروع کر دیے تھے۔ لہٰذا ابتدا میں علامات اور تجریدی کہانیاں لکھنے کے بجائے نسبتاً عام فہم اور سادہ اسلوب میں لکھے افسانے زیادہ متاثر کرتے تھے۔ ایسے افسانے نگاروں میں ایک نمایاں نام اختر جمال کا تھا۔ جن کی ادبی رسائل میں افسانے کے ساتھ تصویر بھی چھپتی تھی۔ گھنے بالوں کا بہت خوبصورت جوڑا، ساڑھی زیب تن کیے ہوئے، با وقار چہرے پہ نمایاں ذہین گہری مگر اداس آنکھیں۔ اب ہمارا ان سے متاثر ہونا کوئی ایسی تعجب کی بات تو نہ تھی۔ نمایاں اردو افسانہ نگار اختر جمال بھوپال، انڈیا کے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والدین کا اردو ادب سے گہرا تعلق تھا۔ خود اختر جمال کا ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کے افسانے سماج کے عام انسانوں کے دکھ درد سے جڑے تھے۔ جو ہمارے مزاج سے میل کھاتے تھے۔

ایک دفعہ اسلام آباد جانا ہوا تو پتہ چلا کہ اسی محلے میں اختر جمال اور ان کے میاں احسن علی خان رہتے ہیں۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حال ہی میں ان کی نوجوان بیٹی بیس سالہ تزئین کا اچانک گردن توڑ بخار میں انتقال ہو گیا ہے۔

اب میں لڑکپن کی حدود سے باہر آ چکی تھی۔ ماسٹرز کا امتحان دے کر امی کے ساتھ پہلے انڈیا اور پھر اسلام آباد ایک شادی میں گئی تھی۔ اپنی پسندیدہ افسانہ نگار کے دکھ کا سن کر صبر نہ ہوا۔ تزئین کو نہ جاننے کے باوجود میں ایک مشترکہ جاننے والے کے ساتھ اختر جمال کے گھر تعزیت کے لیے چلی گئی۔ تواتر سے آنے والوں کو صبر سے خوش آمدید کرنے والے والدین نے مجھے ازحد متاثر کیا۔ ان کے شوہر بھی اردو ادب کے نمایاں شاعر احسن علی خان تھے۔ اسی ملاقات میں ان کے بیٹے طارق احسن سے بھی ملاقات ہوئی جو بہت ذہین باوقار اور متاثر کن اور انٹلکچوئیل شخصیت لگے۔ پتا چلا قائد اعظم یونیورسٹی میں استاد ہیں۔

اس کے بعد سے اس پروقار گھرانے سے میرا ایک کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ بندھ گیا۔ اس کی بنیادی وجہ تزئین کی جدائی تھی۔ مجھے ان کی بیٹی کی جدائی کے دکھ کا اندازہ تو تھا لیکن یہ بھی پتا چلا کہ گھر والے تو سب انڈیا میں ہیں۔ یہی وجہ ہے ان کی تحریروں میں تقسیم اور ہجرت کے دکھ ایک نمایاں موضوع ہے۔ وہ کبھی انڈیا جاکر اپنے پیاروں سے نہ مل سکیں۔ خون کے رشتوں کی کمی نے انہیں خون کے آنسو رلوا دیا۔ دکھ میں ایسے رشتوں کی کمی کچھ اور سوا ہوتی ہے۔ لہٰذا دانستہ میں نے خطوط کا سلسلہ جاری رکھا۔ جن کا وہ باقاعدگی سے جواب دیتیں۔

میرے خطوط کے تواتر نے عبادت کا درجہ اس وقت اختیار کر لیا جب ان کے بیٹے طارق احسن کو، جو عمدہ ادیب اور قائد اعظم یونیورسٹی میں استاد تھے، ضیا کی آمریت کے زمانے میں دو سال کے لیے جیل کی کال کوٹھری میں پابند سلاسل کیا۔ ان پہ الزام تھا کہ انہوں نے آمریت کے خلاف کچھ مواد لکھ دیا تھا۔ بیٹی کی موت کے بعد کچھ ہی عرصے میں بیٹے کی قید کے سبب جدائی والدین کے لیے تازیانہ ہی تو تھا۔ یہ وہ وقت تھا کہ میرا اس گھرانے کے ساتھ انمٹ رشتہ جڑ گیا۔

اختر آپا ایک کالج میں اردو کی سینئر استاد تھیں۔ اپنی سادگی، وقار اور مزاج کی نرمی کی وجہ سے ہردلعزیز اور مقبول بھی۔ وہ اور ان کے شوہر ترقی پسند نظریات رکھنے والے سچے حق گو قلمکار تھے۔ ان کے شوہر احسن علی خان سرکار کے ایسے ادارے سے وابستہ تھے کہ انہیں سرحد کے پار انڈیا جانے کی اجازت نہ تھی۔ اختر آپا کو بھی اسی وجہ سے انڈیا کا ویزہ نہ مل سکا۔ ان کی گفتگو کے علاوہ اختر آپا کی کہانیوں میں اس ذاتی دکھ کا شدت کا اظہار نمایاں طور پہ نظر آتا ہے۔ اور ان کی آنکھوں میں ڈوبے غم کے ساگر کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔

اختر آپا نے بتایا کہ جب ان پہ برا وقت پڑا، اس وقت ان کے ساتھ دینے والے کم ہوتے گیے۔ ایک آمر کی حکومت کے ظلم اور زیادتی کی خلاف کھڑے ہونے والے کم ہی ہوتے ہیں۔ اس رویہ پہ تعجب کیسا؟

دو سال جیل میں تکالیف جھیلنے کے بعد طارق بھائی کی شادی مشہور افسانہ نگار ہاجرہ مسرور اور احمد علی خان کی ذہین بیٹی نوشین سے ہو گئی۔ جس نے ایم اے صحافت میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ شادی کے بعد دونوں میاں بیوی کینیڈا منتقل ہو گئے۔ شوہر کے انتقال کے بعد اختر آپا بھی کینیڈا منتقل ہو گئیں۔

ان کے کینیڈا آنے کے بعد میں بھی امریکہ آ بسی۔ اب خطوط کے الفاظ فون کال میں ڈھل گئے۔ میں تقریباً ہر روز ان سے خیریت لیتی۔ ان سے گفتگو میرے لیے ایسے ہی ضروری تھی جیسے روز کی غذا۔ کھانا جسمانی تو اختر آپا سے بات چیت روحانی غذا۔ وہ مجھ سے بہت بے تکلف تھیں اور اپنے تمام جذبات اور احساسات کا برملا اظہار کرتیں۔ ایک دن انہوں نے کہا ”تم نے میرا اس طرح خیال رکھا کہ اگر تزئین زندہ ہوتی تو وہ بھی اسی طرح کرتی۔“ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ طارق بھائی کی کوئی بہن یا بھائی نہیں۔ سارے رشتے دار انڈیا میں تھے۔ انہیں بیٹے کے لیے رشتوں کی کمیابی کا احساس تھا۔ آخر ایک دن میں نے ان سے کہا ”اختر آپا طارق بھائی میرے بھائی ہی ہیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ ان کا ہمیشہ ایسا ہی خیال رکھوں گی جس طرح تزئین اپنے بھائی کا کرتی۔“ میں حلفیہ کہہ سکتی ہوں کہ میں نے طارق بھائی جیسے باوقار، باعلم تمیزدار اور پرخلوص انسان گنتی کے ہی دیکھے ہیں۔

میں اختر آپا سے ان کی زندگی میں دو دفعہ اپنے گھرانے کے ساتھ، ان سے ملنے اوٹوا، کینیڈا گئی۔ وہیں ان کے بیٹے، بہو اور پوتی (شیری) سے بھی دوستی مزید گہری ہوئی۔ اور میں اب بھی باقاعدہ کینیڈا ان سے ملنے جاتی ہوں۔

ایک دن اختر آپا مجھ سے فون پہ بات کر رہی تھیں کہ مجھے لگا ان کی طبیعت بہت خراب ہے۔ میں نے فوری طور پہ طارق بھائی کو فون کیا کہ اختر آپا کی طبیعت خراب ہے۔ ”بعد میں پتا چلا کہ اسی وقت ایمبولینس پہ ہسپتال پہنچا دی گئی تھیں۔ ہائی بلڈ پریشر کی شکایت تھی جو کسی طور قابو نہیں آ رہا تھا۔ اب مجھے ان کی طرف سے بے چینی لگی رہتی۔ طبیعت کی خرابی کا سوچ کے پریشان رہتی۔ مجھے لگا کہ انہیں میری تکلیف کا احساس ہو گیا تھا۔ جبھی کچھ ہی دنوں بعد نو فروری 2011ء کو انہوں نے مجھے اس تکلیف سے آزاد کر دیا۔ طارق بھائی مجھے روز بہت صبر سے ان کی طبیعت سے آگاہ کرتے۔ لیکن جب انہوں نے ماں کو دفنا دیا تو فون پہ مجھ سے یہ کہتے ہوئے بلک بلک کے رو پڑے کہ“ امی کو دفنا دیا آج۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ ”

ان کی زندگی میں ان کے آخری افسانوں کی کتاب میرے توسط سے آصف فرخی شائع کروا رہے تھے۔ لیکن جانے کیوں انہوں نے اس کام میں بہت تاخیر کی۔ حالانکہ انڈیا کے دو نامور پبلشر ان کی کتاب چھاپنے میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن چونکہ اختر آپا نے آصف کو اپنے افسانے بجھوا دیے تھے۔ وہ زبان دے چکیں تھیں لہٰذا اور کسی کو نہیں دے رہی تھیں۔ تاہم مجھ سے بارہا کہا کہ میں آصف سے کہوں کہ اگر وہ نہیں چھاپنا چاہ رہے تو کوئی بات نہیں۔ میں کسی اور کو دے دوں گی۔ ”میں نے آصف تک ہر بات پہنچائی۔ مگر دیر ہو چکی تھی۔ حتی کہ اختر آپا دنیا سے گزر گئیں۔ میرے دوست ڈاکٹر شیر شاہ سید کو جب اس صورتحال کا علم ہوا تو انہیں بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے فوری طور پہ کتاب کا مسودہ آصف سے لے کر ان افسانوں کو خود شائع کروایا۔ کتاب کا نام ہے۔ “ چاند تاروں کا لہو ”۔ افسوس اس کتاب کو وہ زندگی میں نہ دیکھ سکیں۔ جس کا مجھے ہمیشہ قلق رہے گا۔

میں نے اختر آپا پہ ایک طویل مضمون لکھا تھا جو میری کتاب ”سب میرے لعل و گوہر“ میں شامل ہے۔ اس مضمون کو لکھنے کے لیے میں نے روزانہ کی گفتگو کے علاوہ ان کے پرانے انٹرویوز اور ان پہ لکھے مضامین کی مدد لی۔ جب مضمون انہیں سنایا تو انہیں بہت پسند آیا۔ اتنا کہ شکریہ کہتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔ ان کی پسندیدگی میرے لیے بہت اطمینان کا باعث تھی۔ ورنہ بھلا میں کیا اور میری بساط کیا۔ لیکن کیا یہ ضروری نہیں کہ ہم لوگوں کو ان کی زندگیوں میں ہی بتا دیں کہ ہمارے دل میں ان کی بہت قدرومنزلت ہے اور وہ ہمارے لیے کتنے اہم ہیں؟

(نو فروری 2011ء ان کی وفات کا دن ہے۔)

Facebook Comments HS