ایک ملاقات


کل کی شام ایک یادگار اور امید افزا شام بنکر ابھری۔ جب میں اور بینا گوئندی قریب شام سات بجے قدر تاخیر سے یعنی ایک گھنٹہ ٹریفک کے بے ہنگم ہجوم سے زگ زیگ کرتے برادر فکر و نظر جناب وجاہت مسعود صاحب کے دولت خانہ پر حاضر ہو گئے بہن تنویر اور بیٹی کامنی نے فقید المثال خوش آمدید کہا۔ نیلم احمد بشیر پہلے تشریف لا چکی تھیں۔

وجاہت بھائی سے یہ ملاقات گو عرصہ دراز کے بعد ہوئی مگر ہمیشہ کی طرح ان کی علمی فضیلت اور دانش پرواز سے مستفید ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

دو دل گرفتہ لوگ جب بھی ملتے ہیں تو گفتگو کا محور پاکستان اور عوام ہی ٹھہرتا ہے۔ تقسیم ہند محض برصغیر کے جگر پر کھنچنے والی ایک لکیر نہیں اس سے منسوب خاندانوں کے اکھاڑ پچھاڑ کی وہ پر آشوب داستانیں بھی منسلک ہیں جن کا تذکرہ ہی دل دہلا دینے کے لئے کچھ کم نہیں۔ میرا گھر جو ایک لمحہ پہلے تک میرے خاندان کے جان مال عزت آبرو کی حفاظت کا ضامن تھا مسکن امن و آتشی تھا وہی میری جان عزت و آبرو کے ننگے ناچ کا تھیٹر بن گیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے منہ چھپانا ممکن نہیں۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ تاریخ پاکستان جو ہمیں پڑھائی گئی وہ ان داستانوں سے کوئی میل نہیں کھاتی جو جیتے جاگتے باشعور اذہان نے ہمیں سنائی ہیں یہ نئی مملکت جغرافیائی حدود پر بھی اپنی جگہ کئی ایک سوال لیے ہوئے تھی اب چھوڑیے ان داستانوں کو جو حاصل ہے اسی کی بات کر لیتے ہیں۔

پاکستان کو چلانے کے لئے ایک مضبوط اور متفقہ آئین کی ضرورت تھی جو مملکت کے خد و خال کا بھرپور آئینہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کے حقوق کا ضامن بھی ہوتا مگر ہر چند ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ جو قائد کہلائے وہی اس قصے سے دور کر دیے گے۔

حکومت قانون ساز اسمبلی کے چند پرچوں پر درج نکات پر قائم کی گئی مگر آئین بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ ہوئی کچھ قدم اس سمت اگر چلے تو مارشل لاء کی آمد نے ان پر روک لگا دی۔ مارشل لاء والوں نے اپنے مقاصد کے مطابق ایسے شاندار قانونی معاملات درج کیے کہ ووٹ کا تقدس پامال بھی ہوا اور شرمندہ بھی کیونکہ آپ کا ووٹ حق میں تھا یا مخالفت میں ہر دو صورتوں میں نتیجہ صاحب اقتدار کی جیت ہی تھا۔ ایسا سب 1971 ء تک چلتا رہا۔ مشرقی پاکستان جو اس استحصال سے بے حد متاثر ہوا تھا عوام میں بے چینی کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا لہذا ملک دولخت ہوا بنگلہ دیش بن گیا بقایا پاکستان کا وجود بھی خطروں میں گھرا تو مارشل لاء والوں کو جمہوریت یاد آئی اور فیصلہ کیا گیا کہ حکومت منتخب نمائندوں کے سپرد کر کے ایوان اقتدار سے رخصت لی جائے۔ یعنی چھٹی پر چلا جایا جائے۔ بھٹو صاحب کی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی چونکہ اس وقت کے مغربی پاکستان یعنی اب کے بچے ہوئے پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی تھی لہذا اب اسے اقتدار دے دیا گیا۔ بھٹو نے کئی ایک غلطیاں کیں ان کی تفصیل پھر سہی مگر ایک کام انہوں نے اچھا کیا کہ پاکستان کو ایک آئین دے دیا۔ جو آج تک ہمارا آئین ہے جسے 1973 ء کا آئین کہا جاتا ہے۔ بھٹو کیونکہ اسے شاید متفقہ بنانا ضروری سمجھتے تھے لہذا اس میں بھی انہوں نے مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کچھ ایسے نکات شامل کر دیے جن کی چنداں ضرورت نہ تھی پاکستان کا نام اب آئینی طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو گیا اور اس میں وفاق کو اس کی اکائیوں کے طابع حقوق عطا کیے گئے۔

ملک میں کچھ استحکام پیدا ہونے کے اثرات نمودار ہونے لگے عوامی شعور میں قدرے بیداری کا چراغ جلنے کو تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کو لے کر ایک تحریک اٹھی اور یک دم وہ نفاذ نظام مصطفیٰ تحریک میں تبدیل ہو گئی بس ہنگامے ہوئے فوج نے ان ہنگاموں کو روکنے کے احکامات سے کنارہ کشی اختیار کی اور پھر اقتدار پر قبضہ ہو گیا وعدہ ہوا کہ 90 دنوں میں نئے پر امن انتخابات کرا کے ہم واپس بیرکس میں چلے جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا اور کہیں سے پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ لگوایا گیا اور یوں ملک ایک مرتبہ پھر طویل مارشل لاء کی بھینٹ چڑھ گیا آئین معطل کر دیا گیا اس مرتبہ آرمی چیف اپنی زندگی کی آخری سانس تک حکمران بنے رہے۔ 1987 ء میں جنرل ضیاء کی طیارہ حادثہ میں موت کے بعد پاکستان میں 1988 ء میں عام انتخابات ہوئے پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا بینظیر وزیر اعظم بن گئیں پنجاب کا صوبہ نواز شریف کی پارٹی کو ملا اور پھر وفاق اور صوبے کی کشمکش نے اسمبلیاں تحلیل کرا دیں یوں نواز شریف اقتدار میں آئے وہ بھی جلد سبکدوش کر دیے گئے پھر بینظیر اور پھر نواز شریف یکے بعد دیگر اقتدار میں آتے جاتے رہے۔ 1999 ء میں ایک طیارہ سازش کا شور بلند ہوا آرمی چیف جن کو وزیر اعظم برطرف کر چکے تھے وہ فوج کی مدد سے پھر ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے میں کامیاب ہوئے اور جنرل پرویز مشرف نے آئین معطل کر دیا۔ ہمیں ایک بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ہر مرتبہ ان غیر آئینی مداخلتوں کو ملک کی عدالت عظمیٰ نے جائز قرار دیا اور مارشل لاء لگانے والوں کو اپنے تئیں آئین میں تبدیلی کا حق بھی دیا۔

ایک طویل جدوجہد کے بعد 2008 ء میں انتخابات ہوئے اور سویلین حکومت واپس آئی۔ اس دوران نواز شریف اور بینظیر نے ایک معاہدہ کیا جو میثاق جمہوریت کہلاتا ہے جس کی رو سے ہر دو جماعتوں کے سربراہوں نے طے کیا کہ کوئی بھی فریق اب کسی کے کسی بھی غیر آئینی اقدام کا ساتھ نہیں دے گا اور نہ ہی کسی آرمی چیف سے کسی دوسرے فریق کی ٹانگ کھینچنے میں معاون ہو گا۔ اس معاہدہ پر اگر عمل پیرا ہوا جاتا تو آرمی کا سیاسی امور میں عمل دخل گویا ختم ہو جاتا اسی نے اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں کچھ بیزاری کو جنم دیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ ایک تیسری سیاسی قوت میدان میں اتاری جائے تو تحریک انصاف 2014 ء میں ایک دھرنا لے کر اسلام آباد آئی مذہبی رنگ تحریک کا حصہ رہے تو طاہر القادری کو کینیڈا سے درآمد کر کے اس دھرنے کا حصہ بنایا گیا اور یوں عمران خان 2018 ء میں وزیر اعظم بنا دیے گئے یہ سب کچھ سب کی آنکھوں کے سامنے ہوا اس کی تفصیل کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

اب عمران جیل میں ہیں حکومت شہباز شریف کے پاس ہے اور انتخابات میں دھاندلی کی گونج در و دیوار میں۔ گویا ایک ہی سکرپٹ دہرایا جا رہا ہے۔

عمران فوج سے بات کرنا چاہتے ہیں فوج نے فی الحال ان سے کٹی کی ہوئی ہے عجب تماشا لگا ہوا ہے 1947 ء سے۔

البتہ میثاق جمہوریت سے ایک بات واضح ضرور ہوئی حالانکہ اس پر جزوی طور پر ہی عمل ہوا مگر اسٹیبلشمنٹ میں یہ تاثر بہرحال ابھرا کہ اگر سیاسی جماعتیں آپس میں مل کر آئین کے مطابق چلنے کا ارادہ کر لیں تو غیر آئینی اقدامات پر قدرے روک لگائی جا سکتی ہے تبھی تو انہیں ایک تیسری سیاسی جماعت کو میدان میں اتارنے کی ضرورت پیش آئی۔

اس بات سے انکار نہیں کہ عمران کی تحریک انصاف ایک بڑی جماعت ہے اور اس کا ملک کے طول و عرض میں ایک بڑا ووٹ بنک بھی ہے جس کا ثبوت 2024 ء کے انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہے مگر عمران کا فوج سے ہی بات کرنے پر اسرار انہیں قدر غیر جمہوری بنا رہا ہے اس سے یہ تاثر تو پیدا ہوتا ہے کہ وہ پھر سے فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنا چاہتے ہیں شاید یہ حقیقت نہ ہو مگر پھر بھی عمران کو چاہیے کہ وہ انا کی گاڑی چھوڑ کر موجودہ سیاسی جماعتوں سے بھرپور مذاکرات کریں سیاسی جماعتیں بہت کچھ لے اور دے سکتی ہیں ان کی رہائی سے نئے انتخابات اور مکمل سول سپرمیسی کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی بات سنیں اور ایک دوسرے کو راستہ دیں۔ عمران سے ایک نیا میثاق جمہوریت پی ٹی آئی کی شمولیت سے کیا جائے اسی میں سب سیاسی جماعتوں کا بھلا ہے۔

Facebook Comments HS