”بغیر عنوان کے“ از سعادت حسن منٹو کا تجزیاتی مطالعہ
اُردو ادب کے معروف افسانہ نگار ”سعادت حسن منٹو“ کو اُردو ادب میں افسانہ نگاری کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اپنے بے باک لہجے، سادہ و سلیس زبان اور مخصوص اسلوبِ تحریر کی وجہ سے انہیں اُردو ادب میں ایک منفرد اور ممتاز مقام حاصل ہے۔ بقول ڈاکٹر انور احمد:
” منٹو اپنی نوعیت کا اکلوتا افسانہ نگار ہے اور جس نے بھی اس کی نقالی کی وہ پنپ نہ سکا۔“
اگر منٹو کی افسانہ نگاری کی بات کی جائے تو منٹو کے تقریباً بیس افسانوی مجموعے ملتے ہیں جنہیں برصغیر پاک و ہند میں بے حد مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی۔ معروف محقق اور نقاد ڈاکٹر انور احمد نے اپنی کتاب ”اُردو افسانہ: ایک صدی کا قصہ“ میں منٹو کو ”برصغیر کا تخلیقی ضمیر“ کہا ہے۔ بلا شبہ سعادت حسن منٹو ایک عظیم تخلیق کار ہے جس کا ثانی اُردو ادب میں نہیں ملتا۔ مگر جہاں ان کے افسانوں کو اُردو ادب اور حتیٰ کہ عالمی ادب میں بھی ایک بڑا مقام حاصل ہے وہاں ان کے ناول ”بغیر عنوان کے“ کو وہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی جو اُردو کے بڑے ناولوں ”آگ کا دریا“ ، ”اداس نسلیں“ ، ”آنگن“ ، ”راجہ گدھ“ ، ”غلام باغ“ ، ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ اور اس طرح کے دیگر ناولوں کے حصے میں آئی ہے۔ نا تو کسی نقاد نے اس ناول پر زیادہ بحث کی ہے اور نہ تحقیق کے میدان میں اس ناول کو بڑے ناولوں کی فہرست میں گردانا جاتا ہے۔ ”بغیر عنوان کے“ سعادت حسن منٹو کا واحد ناول ہے جو 1954 میں ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل چھپا۔ ناول کا انتساب ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو ”کے نام ہے جسے“ پنڈت نہرو کے نام ”لکھا گیا ہے۔ اگر اس ناول کا مطالعہ کریں تو“ بغیر عنوان کے ”اپنے اندر ایک بڑے ناول کی تمام تر خصوصیات کو سموئے ہوئے ہے۔“ بغیر عنوان کے ”دراصل ایک نفسیاتی ناول ہے جس میں سگمنڈ فرائیڈ کے نظریہِ“ تحلیل نفسی ” ( Psycho Analysis ) کے ذریعے منٹو نے سعید کی مثال دے کر معاشرے کے نوجوانوں کی جنسی نفسیات کو سمجھایا ہے۔ تحلیل نفسی کے بارے میں ڈاکٹر جمیل جالبی رقم طراز ہیں :
” تحلیل نفسی، کسی شخص کے تحت الشعوری خیالات کا مطالعہ کا نام ہے۔ جیسے آزادانہ ربط و ضبط اور خوابوں سے ظاہر شدہ ان خفیہ ذہنی تناقضات کا پتا چلانے کے لئے جو جسم اور ذہن میں انتشار پیدا کر سکتے ہیں“ ۔
منٹو نے سعید کی مثال کے ذریعے معاشرے کے نوجوانوں کی ذہنی الجھنوں، جنسی نا آسودگی اور نفسیاتی کشمکش کے اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی الجھنوں کے نفسیاتی اثرات کو پیش کیا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار سعید ایک بیس سالا نوجوان ہے جو جنسی الجھنوں اور کشمکش میں مبتلا ہے۔ وہ محبت کو ایک عام آدمی کی نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ ایک مخمصے کا شکار ہو کر وہ اپنے لئے الجھنیں پیدا کرتا ہے۔ اپنے دوستوں سے محبت اور عشق کی باتیں سن کر وہ بھی مبتلائے محبت ہونا چاہتا ہے مگر ذہنی الجھنوں میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور خود ساختہ سوالات اور ان کے مابین موجود کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کی ذہنی حالت کا اندازہ اس اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے :
”تھوڑے روز ہوئے ایک دوست نے جب اس سے کہا: کمپنی باغ میں آج میں نے ایک لڑکی دیکھی۔ ایک ہی نظر میں اس نے مجھے گھائل کر دیا تو اس کی طبیعت مکدر ہو گئی۔ ایسے فقرے اسے بہت پست معلوم پوتے تھے۔ ایک ہی نظر میں اس نے مجھے گھائل کر دیا۔“ لا حول ولا۔ جذبات کا کس قدر عامیانہ اظہار ہے۔ ”
وہ اسی ذہنی الجھنوں میں پھنسا کئی بار سوچتا ہے کہ اس کی زندگی محبت کے بغیر ادھوری ہے مگر پھر وہ اپنے خود ساختہ معیارات کے زیر اثر اُکتاہٹ کا شکار ہو جاتا۔ آخر وہ محلے کی لڑکیوں کی فہرست بناتا ہے کہ ان میں سے کس سے محبت کی جا سکتی ہے اور کیوں کی جائے، مگر وہ پھر اپنے مفروضوں کے پیشِ نظر ان تمام میں خامیاں نکال کر انہیں رد کر دیتا ہے۔ سعید کی نفسیاتی کشمکش کی حالت درج ذیل اقتباس سے دیکھی جا سکتی ہے :
” عشق شروع کرنے کے لئے اس نے اور بھی بہت سے حیلے کیے مگر وہ ناکام رہا۔ آخر کار اس نے سوچا کیوں نہ اپنی گلی ہی میں کوشش کی جائے۔ چنانچہ ایک روز اس نے اپنے کمرے میں بیٹھ کر گلی کی ان تمام لڑکیوں کی فہرست بنائی جن سے عشق کیا جا سکتا تھا۔ جب فہرست تیار ہو گئی تو نو ( 9 ) لڑکیاں اس کے پیشِ نظر تھیں۔
نمبر ایک حمیدہ، نمبر دو صغرا، نمبر تین نعیمہ، نمبر چار پشپا، نمبر پانچ بملا، نمبر چھہ راجکماری، نمبر سات فاطمہ عرف پھاتو، نمبر آٹھ زبیدہ عرف بیدی۔
نمبر 9۔ اس کا نام اسے معلوم نہ تھا۔ یہ لڑکی پشمینے کے سوداگروں کے ہاں نوکر تھی۔ ”
ان لڑکیوں سے محبت کرنے کا سوچنے کے بعد بھی وہ ان کو اپنے خیالات کے تحت رد کر دیتا ہے کہ فلاں میں یہ کمی ہے، فلاں اس مذہب کی ہے، فلاں مولوی کی بیٹی ہے اور فلاں اس کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ مگر سب سے مشکل اسے اس وقت پیش آتی ہے جب اسے نویں نمبر والی لڑکی ”راجو“ کی زندگی کا پتا چلتا ہے جس سے اسے محبت ہو جاتی ہے۔ راجو جو چار سوداگر بھائیوں کے گھر میں کام کرتی ہے اور وہاں سے لڑ کر سعید کے گھر میں بطورِ ملازم آ جاتی ہے۔ سعید راجو کے لئے محبت اور نفرت کے ملے جلے جذبات رکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک غریب لڑکی ہے مگر راجو کے چار سوداگر بھائیوں کے ساتھ جنسی تعلقات بھی ہیں جس وجہ سے اس کے لئے سعید کے دل میں بیک وقت محبت کے ساتھ ساتھ نفرت بھر جاتی ہے۔ راجو سے سعید جنسی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔ دیگر لڑکیوں کی نسبت اسے راجو سے جنسی روابط قائم کرنا آسان لگتا ہے کیونکہ راجو ایک بے گھر لڑکی ہے اور پہلے جنسی تعلقات بنا چکی ہے۔ مگر وہ اسے اپنا نہیں سکتا کیونکہ کہ وہ معاشرے کے احتساب اور اخلاقی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے ڈرتا ہے کہ ایک پسماندہ طبقے اور کئی جنسی تعلقات رکھنے والی لڑکی کو معاشرہ کیونکر قبول کرے :
” گدھے، گھوڑے، خچر، اونٹ غرض کہ کہ ہر جاندار اور بے جان شے پر اخلاق مرد تسما پاء کی طرح سوار ہے، ادب پر، شاعری پر، تاریخ پر ہر انسان کی گردن پر اخلاق بٹھا دیا گیا ہے۔ مہاتما گاندھی سے لے کر ماسٹر نثار گویئے تک سب کے سب اخلاق زدہ ہیں۔ سعید حق بجانب تھا کہ راجو کی صدا تبسم آنکھوں میں آنسو نظر آئیں اور وہ ان آنسوؤں کو اخلاق سے بے پرواہ ہو کر اپنی انگلیوں سے چھوئے، وہ اپنے آنسوؤں کا ذائقہ اچھی طرح جانتا تھا، مگر دوسروں کے آنسو بھی چکھنا چاہتا تھا، خاص کر کسی عورت کے آنسو! چونکہ عورت شجر ممنوعہ ہے اس لئے اس کی یہ خواہش اور بھی تیز ہو گئی“ ۔
اسی ذہنی اور نفسیاتی کشمکش میں مبتلا وہ بیمار پڑ جاتا ہے اور ہسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے۔ وہاں اس کا معائنہ ایک نرس ”فاریا“ کرتی ہے۔ اس عرصہ میں فاریا سعید کی صحت کا خیال رکھتی ہے اور شفیق برتاؤ کرتی ہے۔ سعید کا دوست عباس اس کو نرس سے محبت کرنے کا درس دیتا ہے مگر سعید ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے اور انکار کر دیتا ہے :
” عباس جس کے دماغ میں عشق بسا ہوا تھا، کہنے لگا۔ جاؤ وہ نرس تمہاری ہے۔ واللہ تمہاری ہے۔ اس کی آنکھوں نے مجھے بتا دیا تھا کہ وہ ایک غلطی کر کے رونا چاہتی ہے۔ جاؤ اس کو اپنی زندگی کی پہلی غلطی میں مدد کرو۔ بیوقوف نہ بنو۔“
ہسپتال سے گھر واپس آ کر سعید کچھ عرصہ گھر رہتا ہے مگر راجو کی موجودگی سے اسے ذہنی کوفت ہوتی ہے اور بالآخر وہ گھر چھوڑ کر لاہور چلا جاتا ہے۔ وہاں جا کر اس کی ملاقات اسی نرس فاریا سے ہوتی ہے جو اپنے عاشق سے دھوکہ کھائے، لاہور کے کسی ہوٹل میں رہ رہی ہوتی ہے۔ سعید اس سے ملنے کے بعد اپنے کرائے کے مکان پر اسے بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ فاریا اسے مکمل سپردگی دیتی ہے اور سعید میں بھی فاریا کو چھونے اور اس سے جنسی قرابت کی خواہش ہوتی ہے مگر وہ پھر معاشرے کے نفسیاتی اثرات کی وجہ سے اس کے قریب نہیں جا پاتا اور اسے کہتا ہے :
” میں تم سے بارہا کہ چکا ہوں، میں نے ایسی فضا میں پرورش پائی ہے جہاں آزادیٔ گفتار اور آزادیٔ خیالات بہت بڑی بدتمیزی متصور کی جاتی ہے۔ جہاں سچی بات کہنے والا بے ادب سمجھا جاتا ہے، جہاں اپنی خواہشات کا دبانا بہت بڑا ثواب خیال کیا جاتا ہے۔“
بالآخر فاریا کی قربت میں اپنے جنسی تعلقات کے حوالے سے اعتراف سے سعید اپنی ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں سے چھٹکارا پا لیتا ہے۔ اس جگہ ناول کا اختتام درج ذیل اقتباس سے ہوتا ہے :
”اس نے سرخ آنکھوں سے فاریا کو دیکھا اور آگے بڑھ کر اپنے جلتے ہوئے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر داغ دیے۔ ایک بار پھر آہنی پلنگ پر وہ ایک دوسرے پر مدغم تھے“ ۔
اگر اس ناول میں دیکھا جائے تو جس طرح سعادت حسن منٹو نے انسانی جنسی نفسیات کو بیان کیا ہے وہ دیگر ناولوں میں کم ملتا ہے۔ امید ہے ناقدین اور محققین اس پر توجہ دیں گے۔

