ڈاکٹر شبیر نواز صفوی کی سنسنی خیز سرگزشت – پہلی قسط
میں نے کلثوم بائی ولیکا سیکنڈری اسکول کراچی ائر پورٹ سے 1970 میں میٹرک کیا۔ پچھلے دنوں کراچی گیا تو اپنے اسکول کے ہم جماعت ڈاکٹر شبیر نواز صفوی کے گھر آغا باغ، کُری گوٹھ میں ملاقات ہوئی۔ شبیر کے چچا نامور فلمی اداکار کمال ایرانی تھے۔ اس ملاقات کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں مجھ سمیت آٹھ ہم جماعت بھی موجود تھے۔ کچھ سال پہلے ڈاکٹر شبیر اپنے کلینک سے اغوا ہوئے تھے۔ اُن کو کچے کے علاقے میں اغوا کاروں نے قید رکھا۔ در اصل ہم اسی کی سرگزشت سننے وہاں جمع ہوئے تھے۔ ڈاکٹر شبیر کے والد صاحب نے اپنی کوئی زمین بیچی تھی جس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ آئیے انہی سے سرگزشت سنتے ہیں :
اغوا
” میں قائد آباد میں فیملی فزیشن کے طور پر اپنا کلینک کرتا تھا۔ پہلے دن میں پھر شام کو مریضوں کو دیکھتا۔ سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا تھا کہ 12 مئی 2007 کو کراچی میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد پر پُر تشدد واقعات میں 50 افراد کی جانیں چلی گئیں۔ سڑکوں پر رینجرز اور پولیس موجود رہتی تھی۔ 17 مئی کو میں قائد آباد میں واقع کلینک بند کر کے پونے بارہ بجے رات گھر کے لئے نکلا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ کوئی گاڑی میرا پیچھا کر رہی ہے۔ نیشنل ہائی وے پر ’منزل‘ پٹرول پمپ سے میں آغا باغ، کُری گوٹھ کی طرف مڑا۔ تھوڑا ہی آگے جا کر ایک گاڑی نے مجھے اوور ٹیک کرنا چاہا۔ میں نے اسے جیسے ہی راستہ دیا ویسے ہی اُس نے میری گاڑی کے آگے اپنی گاڑی لا کر راستہ روک دیا۔ گاڑی سے تین آدمی خودکار اسلحہ سمیت اترے۔ میں اطمینان سے اپنی گاڑی میں بیٹھا رہا اور سمجھا کہ یہ رینجرز ہیں۔ ان کا لہجہ سندھی تھا۔ انہوں نے مجھے کالر سے پکڑ کر گاڑی سے کھینچا اور اگنیشن سے گاڑی کی چابی نکال کر دور پھینک دی۔ گاڑی کی ہیڈ لائٹ اور اے سی چل رہا تھا۔ میری گاڑی اسی حالت میں سڑک پر کھڑی رہ گئی اور اِن لوگوں نے مجھے اپنی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال دیا۔
میری دونوں جانب ایک ایک ڈاکو بیٹھ گیا۔ میں ان سے بار بار پوچھ رہا ہوں کہ آخر اس سب کی کیا وجہ ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اُنہوں نے میری آنکھوں پر پٹی اور پیروں میں زنجیر باندھ دی تھی۔ یہی نہیں پھر دونوں جانب سے مجھے اتنی زور سے دبا کر رکھا کہ میں پریشان ہو گیا۔ اس قدر گرمی میں یہ لوگ تو مجھے سانس بھی نہیں لینے دے رہے تھے ”۔
اندرونِ سندھ کا جنگل
” گاڑی گوٹھوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی سُپر ہائی وے کے قریب آ گئی۔ ایک جگہ انہوں نے گاڑی کو موڑا اور جنگل میں ایک طرف کچے میں لے گئے اور مجھے اتار دیا۔ کہنے لگے کہ لگتا ہے کہ کوئی ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ شاید تمہارے گھر والے ہیں۔ اگر انہوں نے پولیس کو اطلاع دی ہے تو یہ اچھا نہیں ہو گا یعنی بلا وجہ ذہنی تشدد کرنا شروع کر دیا۔ یہ ان کی حکمتِ عملی ہی ہو گی۔ وہاں سے پھر ہم سب دوبارہ گاڑی میں بیٹھے اور حیدرآباد ٹول پلازہ کے ایک طرف سے ہو کر گزر گئے۔
ویسے میری نیت تھی کہ جب وہ ٹول پلازہ پر رکیں گے تو میں آواز دے کر عملے کو متوجہ کر دوں گا لیکن وہ تو ٹول پلازہ ہی بائی پاس کر گئے۔ اس مرتبہ ان میں سے صرف ایک میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو میں نے چپکے سے آنکھوں سے پٹی ڈھیلی کی کہ تھوڑا بہت نظر آئے۔ رات گئے گاڑی اچانک کہیں اندرونِ سندھ جنگلوں میں قد آور جھاڑیوں کے سامنے رکی۔ میں حیران ہو گیا کہ اتنی گھنی جھاڑیوں پر سے گاڑی کیسے گزرے گی۔ میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں نے آرام سے وہ گھنی جھاڑی کھسکا کر ایک طرف کر دی۔ یہ بھی ایک طرح کا دروازہ تھا! “ ۔
ذہنی اور جسمانی تشدد
” گاڑی گزری تو دوبارہ جھاڑی کو پہلی والی جگہ پر رکھ کر راستہ بند کر دیا گیا۔ کچھ دور چل کر جنگل کے ویرانے میں گاڑی رکی۔ دور دور کوئی روشنی نظر نہیں آتی تھی۔ یہاں میری تلاشی لی گئی کہ میری جیبوں میں کیا ہے۔ اتفاق سے میری پتلون کی جیب میں موبائل فون تھا جو شاید انہیں محسوس ہی نہیں ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے اُسی وقت فون بجا اور مجھ سے پہلے ہی انہوں نے میری جیب پر ہاتھ مار کر فون نکالا اور قبضے میں لے لیا۔
پھر تین دن یہاں قیام کے بعد وہ جگہ چھوڑ دی۔ اسی طرح یہ کچھ مدت ایک جگہ رہتے اور پھر کہیں اور چل دیتے۔ اس طرح کُل 7 مقامات گھوم کر بالآخر منچھر جھیل، دادو پہنچ گئے۔ یہاں پر آخر کے دنوں میں انہوں نے مجھے ایک کشتی میں باندھ دیا تھا۔ ان لوگوں نے 25 دِن اپنے پاس رکھ کر جسمانی اور ذہنی تشدد کی انتہا کر دی تھی۔ کبھی مجھے ٹریکٹر پر لے کر بھاگ رہے ہیں تو کبھی فوراً سے پیشتر نکلنے کا کہا جا رہا ہے کہ جلدی کرو نہیں تو پولیس مقابلہ ہو جائے گا۔ کبھی یہ سننے کو ملتا کہ فوراً کوچ کرنا ہے، پولیس نے موبائل ٹاور سے ہمارا ٹھکانا معلوم کر لیا ہے وہ آ جائے گی“ ۔
” پھر 9 جون آ گئی۔ اُس دن گرمی کی شدت بے انتہا تھی کہ اللہ کی پناہ! منچھر جھیل میں موٹے موٹے مچھر دن میں بھی پُوں پُوں کرتے تھے۔ مجھے اغوا کرنے والے تو خود سائے میں ایک کشتی میں بیٹھتے اور مجھے ایک دوسری کشتی میں لِٹا کر باندھ دیا تھا۔ میں اُن سے کہوں کہ پیشاب کرنا ہے تو کہتے کر لو۔ مجھ سے لیٹے ہوئے پیشاب نہیں ہوا اور میں پریشان ہو گیا کہ کس مشکل میں آ گیا! پھر سخت پیاس لگی تو ان سے پانی کا کہا۔ اس طرح میرے جسم میں پانی کی شدید کمی واقع ہوئی اور میری حالت خراب ہو گئی“ ۔
اغوا برائے تاوان
” اب ہوا یہ تھا کہ اغوا کے چوتھے دن انہوں نے میرے ابّا سے رابطہ کیا کہ آپ کا بیٹا ہمارے پاس ہے۔ ایک کروڑ روپے دو گے تو چھوڑیں گے۔ اس واقعہ سے چار سال پہلے ابّا نے 8 ایکڑ زمین فروخت کی تھی۔ ڈاکووں کے اس گروہ کو چار سال بعد اس بات کی خبر ملی۔ اب وہ کہتے کہ اس پیسے میں ہمارا حصہ ایک کروڑ بنتا ہے۔ بہرحال، اس دوران کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ مجھے بلڈ پریشر کی دوا کی ضرورت پیش آئی۔ مجھے کہا کہ فکر نہیں کرو، نہ تو تم بیمار ہو گے نہ ہی مرو گے!
وہ وہیں سے بیٹھ کر کسی میڈیکل اسٹور کو فون کرتے اور دوا مہیا ہو جاتی۔ واقعی یہ عجیب بات تھی کہ نہ گندے ہاتھوں سے کھانا کھانے اور نہ جھیل کا پانی پینے سے مجھے کچھ ہوا۔ میری تو آنکھوں پر مسلسل پٹی تھی۔ ہاتھ 25 دن تک دھوئے نہیں تھے۔ کھانا آتا، میں چھو کر محسوس کرتا کہ کیا ہے! کبھی بھینس کے کچے دودھ کے ساتھ روٹی دیتے کہ کھانا بس یہ ہی ہے! زندگی میں پہلی دفعہ کچا دودھ پیا جو مجھے بہت لذیذ لگا۔ پھر ایک ایسا بھی مرحلہ آیا کہ میں نے کافی حد تک حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ کشتی میں باندھنے سے پہلے زمین کے فرش پر، پتھروں پر بٹھاتے لِٹاتے رہے۔ کچے کے علاقے میں پہاڑوں اور غاروں میں لے گئے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مجھے انہوں نے باندھا ہوا تھا اور میں زمین کے فرش پر تھا اور سانپ میرے سینے پر سے گزر رہا تھا! اُس سانپ کو میں ہاتھ سے اتار بھی نہیں سکتا تھا کہ کہیں یہ غصہ میں مجھے ڈَس ہی نہ لے لہٰذا میں نے اس کے جانے کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ بچھو نکلنا تو وہاں ایک عام سی بات تھی۔ جنگلوں میں کتے بھی ہوتے ہیں۔ جب کبھی وہ مجھے درخت کے ساتھ باندھتے تو مجھے خوف ہوتا کہ کتے کہیں مجھے کاٹ نہ لیں ”۔
ایک سنہری موقع
” چاندنی رات میں جب ڈاکو سو رہے ہوتے تو دو تین مرتبہ مجھے ڈاکووں کو ہلاک کرنے کا موقعہ بھی ملا۔ میرے پیروں کی زنجیر ایک ڈاکو نے بیگ کے ساتھ باندھی ہوئی تھی جس کو وہ تکیہ بنا کر سو رہا تھا۔ اس کا اسلحہ تکیہ کے قریب رکھا ہوا تھا۔ میرے پاس موقع تھا کہ میں وہ اسلحہ اٹھا کر تینوں ڈاکووں کو مار ڈالوں مگر مجھے وہ اسلحہ استعمال کرنا نہیں آتا تھا۔ اگر مار بھی دوں تو اُس علاقے سے کیسے نکلوں گا؟ اس جنگل کا تو ہر شخص ہی ڈاکو ہے یہاں تو ان کو گرما گرم کھانا بھی بہ آسانی دستیاب ہے۔ کہیں آنے جانے کی ضرورت پڑے تو کبھی موٹر سائیکل تو کبھی ان کے لئے باقاعدہ ٹیکسی آتی ہے۔ پولیس کے آنے کی خبریں بھی یہ موٹر سائیکل سوار ہی دیا کرتے تھے۔ کبھی سواری کے لئے راتوں کو ٹریکٹر بھی میسر ہوتا۔ ماحول بہت خوفناک تھا، بہرحال تکلیف تو بہت کاٹی۔ مجھے گرمی اور جسم میں پانی کی کمی نے توڑ ڈالا“ ۔
تاوان کا بھاؤ تاؤ
” اغوا برائے تاوان کی رقم ایک کروڑ سے کم کرتے کرتے یہ ڈاکو تیس لاکھ پر آ کر اٹک گئے اور کہا کہ یہ دو گے تو ہم چھوڑ دیں گے ورنہ اسے ( یعنی مجھے ) کسی اور گروہ کے حوالے کر دیں گے۔ انہوں نے میرے گھر والوں کو تین چار دنوں کا وقفہ دیا کہ رقم کا انتظام کر لیں۔ پھر انہوں نے بھائی اور ابّا سے بات چیت کی۔ اور میرا تاوان بالآخر پندرہ لاکھ طے ہو گیا۔ اس کے علاوہ میری رہائی کی بھاگ دوڑ پر متفرق دو لاکھ اخراجات الگ ہوئے۔
میری رہائی پر کُل رقم سترہ لاکھ لگ گئی تھی۔ ڈاکووں کے سردار کو حاجی صاحب کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ حاجی صاحب نے کہا کہ میں خود تاوان کی رقم لینے آؤں گا۔ اس کی یہ شرائط تھیں : نوٹ ہزار کے ہونے چاہئیں اور کسی بھی نوٹ پر کوئی نشان نہیں ہو۔ پھر یہ رقم اکیلا میرا بھائی لائے گا۔ ڈاکووں کی جانب سے حاجی صاحب اور میری جانب سے میرا بھائی وَن ٹو وَن ملاقات! بھائی اپنی گاڑی میں اکیلا ہی آئے گا، کوئی اور ہوا تو تم نشانے پر ہو گے“ ۔
قید سے رہائی
” اب اس دوران ہمارے لوگ مسلسل پولیس اور اے وی سی سی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل The Anti۔ Violent Crime Cell (AVCC) والوں سے رابطے میں تھے۔ جب ڈاکو کا سردار پیسے لینے آیا تو آس پاس کا علاقہ اے سی سی والوں نے گھیرا ہوا تھا۔ میرے بھائی نے اُن سے کہا کہ دیکھیں ابھی انہوں نے میرے بھائی کو چھوڑا نہیں ہے۔ اس نے وعدہ کیا ہے کہ پیسے لے کے بھائی کو چھوڑ دیں گے۔ ہم اسی کے تو پیسے دے رہے ہیں۔ اگر آپ لوگ بیچ میں آئے تو ڈاکو میرے بھائی کو مار دیں گے پھر ان پیسوں کا کیا فائدہ ہو گا لہٰذا برائے مہربانی ایسی کوئی حرکت نہیں کیجئے جس سے ڈاکو اشتعال میں آ کر انتہائی قدم اٹھا لے!
12 جون، 2007 کو تقریباً 8:30 بجے ڈاکووں کے سردار، حاجی صاحب نے تاوان کے پیسے لئے۔ مجھے اگلے روز ( 13 جون) کو صبح 4:30 بجے اس کچے کے علاقے سے نکالا۔ میرے پیروں میں زنجیر بندھی ہوئی تھی۔ اسی حالت میں ایک ٹیکسی میں ڈالا۔ میرے جسم اور کپڑوں پر جنگلوں میں سارا دن زمین پر لیٹنے سے بری طرح کانٹے ہی کانٹے پیوست تھے۔ میں اس سے پہلے کبھی زمین پر پتھروں کا تکیہ بنا کر نہیں لیٹا تھا۔ اس 25 روزہ قید میں نہ سر کے بال دھوئے تھے نہ ہاتھ!
اسی ہاتھ سے کھاتا تھا۔ داڑھی بھی بڑھ گئی تھی۔ ٹیکسی نے مجھے ’سَن‘ کے مقام پر اتارا۔ یہ بھی ڈاکووں کا علاقہ ہے۔ اندھیرا اور ہو کا عالم۔ دور نزدیک کتے بھونک رہے تھے۔ ٹیکسی والے نے مجھے کہا کہ آگے چلتے جاؤ۔ ایک بلب جلتا نظر آئے گا۔ وہ ہوٹل ہے۔ ادھر سے صبح اذان کے وقت بس آئے گی۔ آپ اس میں حیدرآباد چلے جانا پھر وہاں سے کراچی۔ کہنے لگے کہ ڈاکٹر ہمیں پیسے مل گئے ہیں اس لئے ہم تمہیں چھوڑ رہے ہیں۔ میری جیب میں پیسے رکھے اور کہا کہ یہ تمہارا ٹکٹ ہے۔
میں نے پوچھا کتنے ہیں؟ کہنے لگا کہ 500 ہیں۔ تم کو کتنے چاہئیں؟ میں نے کہا کہ اتنے تو دو کہ گھر تک چلا جاؤں؟ اس نے جواباً غصے سے کہا کہ کیا ٹیکسی میں جاؤ گے؟ اور جب ٹیکسی سے اتارنے لگے تو چلتی ٹیکسی سے مجھے دھکا دے کر سڑک پر گرا دیا۔ زنجیر تو ابھی پیروں میں بندھی ہوئی تھی، نہ جانے کیا ہوا کہ میرے گرتے گرتے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا زنجیر کی کسی کڑی میں پھنسا اور ٹوٹ گیا“ ۔
آخر اپنے گھر میں
” میں نے حیدرآباد سے کراچی کی بس لی اور سہراب گوٹھ پر اترا۔ وہاں بھائی مجھے لینے آیا تھا۔ اس نے میرا حلیہ اور حالت دیکھتے ہی رونا شروع کر دیا۔ میں تو فوراً اپنے ماں باپ، بیوی بچوں سے ملنا چاہتا تھا۔ میری بیٹیاں امتحان دے رہی تھیں۔ مجھے حمام میں نہانے کا کہا گیا۔ میں نے انکار کیا کہ گھر جانا چاہتا ہوں۔ گھر پہنچا تو مجھے دیکھتے ہی ہر ایک پریشان ہو گیا۔ جب میں گھر آیا تو دستخط کرنے اور لکھنے کے قابل نہیں تھا۔
میں نے جب دوبارہ کلینک شروع کیا تو میرا انگوٹھا ٹوٹا ہوا تھا اور ’اسپائکا‘ لگا ہوا تھا۔ یہ میری میڈیکل پریکٹس کے دوران دوسرا واقعہ تھا۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں فیملی فزیشن یا جنرل پریکٹیشنرز کو کسی قسم کا کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ کوئی ڈاکو چاہے توہم کو لے جائے اور مارنا چاہے تو مار بھی سکتا ہے“ ۔
” بہرحال یہ دُکھ کے دن کاٹے۔ تین دن تک تو مجھے بستر پر نیند ہی نہیں آئی۔ میری بیگم مجھ سے پوچھتی کہ تم رات کو اُٹھ اُٹھ جاتے ہو۔ میں نے کہا کہ نیند نہیں آ رہی کیوں کہ مجھے زمین اور پتھر پر سونے کی عادت ہو گئی ہے۔ انسان ماحول کو اپنا ہی لیتا ہے۔ اب نرم بستر پر نیند نہیں آ رہی۔ کہیں دھیرے دھیرے کہیں جا کر میں بستر پر سونے کے قابل ہوا۔ میری بیٹی نے ڈسپوزیبل سرنج کی مدد سے میرے ہاتھوں، جسم اور پیروں سے تقریباً 50 کانٹے نکالے۔ میرے کلینک کے مریض ان 25 دنوں میں میرے گھر کے باہر بیٹھ کر میرے لئے دعائیں کیا کرتے تھے۔ میری والدہ کو فالج تھا وہ بستر پر بیٹھ کر دعائیں کرتی تھیں۔ کہتی تھیں مجھے اللہ پر کامل بھروسا ہے میرے بیٹے کو کچھ نہیں ہو گا“ ۔
ایک اور واقعہ
” اس کے بعد دوبارہ میں نے اپنے کلینک میں پریکٹس شروع کر دی۔ کچھ دیر اپنے تحفظ کے لئے لوگوں کو رکھا کہ جو میرے ساتھ جاتے لیکن میں اپنے کلینک کے اوقات تو تبدیل نہیں کر سکتا تھا کیوں کہ پریکٹس کے اوقات ہی شام سے رات ہوتے ہیں۔ میرا بھی وہی شام کو جانا اور رات کو آنا شروع ہو گیا۔ دفتروں اور کام کاج کرنے والے شام اور رات ہی کو فارغ ہو کر کلینک آتے۔ پھر 2013 میں ایک اور واقعہ ہو گیا اور مجھ پر حملہ کیا گیا۔
افغانستان میں جہاد ہو رہا تھا میرے پاس بھی جہادی فنڈ کے لئے لوگ آئے کہ ہم نے جہاد کے چندے کے لئے ایک ڈبہ رکھا تھا آپ نے اپنی کلینک سے وہ ڈبہ کیوں ہٹا دیا۔ پہلے واقعے کی طرح گھر جاتے ہوئے میری گاڑی بلاک کر دی۔ میں نے بھی سوچ لیا کہ اب میں مر جاؤں گا لیکن زندہ ان کے ہاتھ نہیں آؤں گا۔ پہلے تو 9 ایم ایم گولی سے میں بال بال بچا پھر انہوں نے مجھ پر اور میری کار پر 22 گولیاں چلائیں۔ وہ گاڑی مکمل طور پر چھلنی ہو گئی۔ میں کس طرح سے بچا ہوں یہ اللہ جانتا ہے“ ۔
” یہ میرے ساتھ تیسرا واقعہ تھا۔ اس واقعے کے بعد میرے ابا نے کلینک کا دروازہ بند کر دیا اور بھائیوں نے کہا کہ آپ کو اب پریکٹس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اب گھر پر ہی رہنے لگا اور جلد ہی معمول کی یکسانیت سے پریشان ہو گیا۔ پھر میں نے ایک خیراتی اسپتال“ کُری گوٹھ ہاسپٹل ”میں کام کرنا شروع کر دیا جو پہلے ہی پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان، ڈاکٹر شیر شاہ جو میرے سینئیر ساتھی ہیں، چلا رہے تھے۔ اب میں صبح شام مسلح گارڈ لے کر جاتا اور خود اپنے پاس لوڈِڈ پستول رکھتا تھا جس کے چلانے کی مشق بھی کی۔
ایک دن انکم ٹیکس والے آ گئے۔ میرا کلینک تو اغوا برائے تاوان کے بعد بند ہو گیا لہٰذا اب میں کس بات کا ٹیکس دوں؟ میرے تو کوئی ذرائع آمدنی نہیں! میرے کلینک کی کہانی تو 2014 میں تمام ہو گئی تھی اور میں کوئی نوکری نہیں کر رہا ہوں۔ میں کُری گوٹھ خیراتی اسپتال سے وابستہ تھا اور فارماکالوجی اور دیگر مضامین پڑھاتا تھا۔ اور اس کے ساتھ یہیں اسپتال میں مفت کلینک بھی کرتا تھا۔ اب جب دوبارہ برطانیہ سے 2 سال بعد واپس آیا ہوں تو ویسی ہی صورتِ حال ہے۔ اخبارات میں خبریں پڑھتا ہوں تو وہی کچے کے علاقے کے ڈاکووں کی خبریں! پہلے سے کہیں بد تر حالات نظر آتے ہیں۔ آدمی گھر سے نکلتے اور گھر واپس آنے تک پریشان رہتا ہے! “ ۔
(جاری ہے )




