”باتیں لاہور کی“ از سوم آنند


ہندوستان کی تقسیم کے حوالے سے لکھے جانے والی کوئی بھی کتاب اٹھا کر پڑھ لیں آپ کو احساس ہو گا کہ اس خطے کی عوام نے کتنے مصائب اور آلائم جھیل کر اس تقسیم کے مرحلے کو طے کیا اور تب جا کر کہیں انھیں آزادی کی نعمت نصیب ہوئی۔ اُن دلسوز واقعات کو سُن اور پڑھ کر انسانی دل جتنا مرضی ہے سخت ہو لیکن نرم پڑھ جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہو جاتی ہے۔ انسان کا دل و دماغ ماضی کے اُس دور میں محو سفر ہوجاتا ہے اور ہر واقعے کے ساتھ وہ منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔

وہ ایسا محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ ان واقعات کا چشم دید گواہ ہو۔ سوم آنند کی کتاب ”باتیں لاہور کی“ اسی پس منظر میں لکھی گئی ہے جس سے ایک طرف تاریخی واقعات اور شخصیات کی حیات و خدمات کے بارے میں خاطر خواہ معلومات پڑھنے کو ملتی ہیں اور دوسری طرف مصنف کے اردگرد رونما ہونے والے دلسوز و دلخراش واقعات صدیوں ساتھ بسنے والے انسانوں کے پل بھر میں تبدیل ہونے والے رویوں کے بارے میں ایک تجزیہ بھی پیش کرتے ہیں۔ جب اس کتاب کو الف سے ے تک پڑھا تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں اس دور میں موجود تھا اور ہر واقعے کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں۔

اتنی خوبصورت، دلکش اور دلنشین اسلوب میں مصنف کے قلم نے ان تمام واقعات کو قلم بند کیا ہے جسے انسان جب بھی پڑھے، سُنے تو انسانی جذبات اور احساسات اپنے ضبط میں نہیں رہتے اور ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ تقسیم پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی تقریباً ہر زاویے سے مصنفین اور تاریخ دانوں نے لکھا اور اپنی آرا کا اظہار کیا۔ جس نے اپنی آنکھ سے وہ لمحات دیکھے انھوں نے بھی اپنا کلیجہ تھام کر قلم کو رواں کیا۔

جنہوں نے نہیں دیکھا انھوں نے بھی تاریخی حوالوں کی مدد سے تحقیقی انداز میں بیشتر کتب لکھ کر اپنے دلی جذبات اور احساسات کو قلم بند کیا۔ اسی لیے اس تقسیم کو ”عظیم المیہ“ بھی کہا جاتا ہے۔ تقسیم صرف دو ملکوں کا ہی بٹوارہ نہ تھی بلکہ صدیوں سے بسنے والی قوموں کی تہذیبی، ثقافتی، سماجی اور مذہبی روایتوں کی تقسیم تھی۔ کس نے کیا کھویا کیا پایا یہ ایک الگ بحث ہے مگر ظلم و جبر کے جو رویے اس دوران ایک دوسرے کے ساتھ روا رکھے گئے اسے تاریخ کبھی نہ بھلا سکے گی۔ کتنے کٹ کر گئے، کتنے یتیم ہوئے، کتنوں کے سہاگ لٹے، کتنوں کی عزتیں چار چار ہوئیں، یہ کوئی نہیں بتا سکتا، فسادات میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا مگر بے سود۔ وہ نہ بن سکا جو تھا، جو ٹوٹ گیا وہ ویسے جڑ نہ سکا۔

آج آزادی کے پچھتر سال گزر گئے، سب نیا بھی بن گیا، خوشحالی بھی آ گئی مگر نہ جانے کیوں یہ المیہ ذہنوں سے نہ نکل سکا۔ کوئی جب بھی ان دو ملکوں کی بات کرتا ہے تو تقسیم کے سانحہ کو لازمی یاد کرتا ہے۔ جن کی عمریں 70، 80 سال کے لگ بھگ یا اس سے کچھ زیادہ ہیں وہ تو اس بات کو کبھی بھول ہی نہ سکے۔ اٹھتے بیٹھتے ہر جگہ یہی روداد ماضی سنائی جاتی ہے۔ کیا کریں یہ ایسا داغ ہے جو ہمیشہ ان دو قوموں اور ملکوں کے ساتھ رہے گا۔

مصنف لکھتے ہیں کہ اس زمانے کے ادب کا جب ذکر ہو گا تو سب سے پہلے سعادت حسن منٹو کا نام لیا جائے گا۔ منٹو نے تقسیم ہند کا ڈراما بہت قریب سے دیکھا تھا اس نے فسادات سے متعلق لطیفے اور چٹکلے بھی لکھے اور ایسے افسانے بھی جن میں انسان کی بربریت، رحم دلی اور درد و کرب کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا گیا تھا۔ انھوں نے انسانیت کا المیہ لکھ کر خود کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر کر دیا ہے۔ جہاں انسانیت ایسے درندہ صفت انسان کے سماجی رویوں کی عکاسی کرتی ہے جو ہے تو انسان مگر اس میں صفات حیوان جیسی ہیں۔

کوئی ناول اٹھا لیں کوئی افسانہ پڑھ لیں اس میں کہیں نہ کہیں اس المیے کے بارے میں کوئی نہ کوئی نقطہ یقیناً آپ کو ملے گا۔ علی اکبر ناطق کا ناول ”نولکھی کوٹھی“ تقسیم سے قبل ہندوستان کی سیاسی، سماجی، معاشرتی اور مذہبی تاریخ کے بارے میں ایک اہم دستاویز ہے مگر ناول کا ہیرو ڈپٹی کمشنر ولیم تقسیم کے بعد بھی اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کر نہیں گیا اور اپنی موت تک یہیں وقت گزارا۔ حالانکہ اس کی بیوی اور بچے اپنے وطن برطانیہ اسے بے یارو مددگار چھوڑ کر چلے گئے۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر بھیشم سہانی کے افسانے جو ہندی میں لکھے ”امرتسر آ گیا“ ، اس میں بھی وطن کی محبت، انسانی رویے، ظلم و ستم، محبت و خلوص، بردباری، دنگا فساد سے بھری داستانیں لکھی گئی ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ”گنڈاسا“ ہو، پریم چند کے افسانے یا ناول ہوں، خشونت سنگھ کا ناولٹ ”ٹرین ٹو پاکستان“ میں بھی کچھ ایسے ہی ملے جلے جذبات اور احساسات موجود ہیں۔ شاعری میں تو آپ کو ہزاروں، لاکھوں ایسی مثالیں مل جائیں گی۔

آج کل تو سوشل میڈیا پر آئے روز ایسی داستانیں دیکھنے اور سننے کو مل جاتی ہیں۔ کبھی کوئی اپنے بزرگوں کی قبروں پر حاضری دینے کے لیے جا رہا ہوتا ہے اور کبھی کوئی اپنے آبائی گھر کو ڈھونڈتے نئے مالک مکان سے آنسوؤں کی برسات میں ملاقات کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ صاحب ِکتاب نے بھی ایسے ہی عناصر سے بھرپور بوٹا سنگھ اور زینب کی محبت کی کہانی اور رام کرشن اور علی محمد کی دوستی کی رُوداد بیان کی ہے جو پڑھنے کے لائق ہیں۔

مصنف کا بچپن اور جوانی کا کافی حصہ لاہور کے تاریخی شہر میں گزرا اور ان کی یادداشتیں پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انھیں اپنے شہر لاہور سے خاصی محبت تھی اور اس کی جدائی ان کے لیے سوہان ِ روح سے کم نہ تھی۔ ان کے والد چونکہ ملازمت پیشہ تھے اور اسی لیے وہ تقسیم کے بعد پاکستان چھوڑ کر ہندوستان نہیں گئے بلکہ کافی عرصہ یہیں گزارا اور مصنف اکثر و بیشتر اپنے والد سے ملنے کے لیے لاہور آتے اور کچھ دن ان کے ساتھ گزارتے۔

شہر لاہور کی تاریخی عمارتیں، پرانی گلیاں، بازار، سکول، کالج، ادبی و غیر ادبی، سماجی اور مذہبی شخصیات کے ساتھ بیتی ہوئی یادیں، واقعات، محبت، خلوص اور احترام کے رشتے، رواداری، بھائی چارہ جیسے واقعات لکھ کر اس دور کی یاد تازہ کر دی ہے۔ یہ ایک سماجی حقیقت کہ انسان جس جگہ بود و باش اختیار کرتا ہے تو اس کی ہر عام و خاص چیز سے اسے انس ہو جاتا ہے۔ جو لوگ بھارت کے شہروں سے ہجرت کر کے آئے ان کی اپنی آہوں بھری داستانیں ہیں اور جو یہاں سے گئے وہ بھی دکھوں کی گٹھڑی اپنے کندھوں پر رکھ کر آج تک اس غم کو رو رہے ہیں۔ وطن کی محبت میں یوسف ؑ بھی روتے رہے اور طارق بن زیاد کی فوج بھی وطن اور اہل و عیال کی محبت اور جدائی میں پریشان تھی۔ حکیم الامت علامہ اقبال ؔ کیا خوب فرماتے ہیں :

خشت ِ وطن از ملک ِ سلیماں خوشتر
خارِ وطن از سنبل وریحاں خوشتر
یوسف کہ بملک ِ مصر شاہی می کرد
گفت گدا بودن ِ کنعاں خوشتر

اور طارق بن زیاد نے جب کشتیاں جلا دیں تو ان کی فوج کہنے لگی گفتند کار ِ تو بہ نگاہ خرد خطا است، دوریم از سواد ِ وطن باز چوں رسیم۔ لیکن جواب میں طارق بن زیاد نے انھیں ہمت اور حوصلہ کرنے کی تاکید کی۔ مصنف نے لاہور شہر کا تاریخی پس منظر، یہاں پر حملہ آور اور حکومت کرنے والے حکمرانوں کے بارے میں ذکر کیا ہے اور ان کے دور میں ہونے والی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے حوالے سے بھی کچھ واقعات نقل کیے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر بھی سیاسی اور سماجی حوالوں سے روشنی ڈالی ہے۔ لاہور کا مال روڈ اور ماڈل ٹاؤن جہاں مصنف رہائش پذیر تھے اس کے اردگرد رونما ہونے والے واقعات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس کے علاوہ بادشاہی مسجد، شالامار باغ اور دیگر تاریخی مقامات کے بارے میں اپنی گزری ہوئی یادوں کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کے پنجابی ادب کا ذکر ہو تو استاد دامن کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے ساری زندگی لاہور ہی میں گزاری۔ سوم آنند نے اپنی آپ بیتی ”باتیں لاہور کی“ میں استاد دامن کی شخصیت اور شاعری پر ایک مکمل باب باندھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ لاہور ہی میں نہیں بلکہ پنجاب کے کسی بھی شہر چلے جاتے تو ان کا کلام سننے کے لیے ہر مشاعرے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی۔ اپنے دور میں وہ ایک مشہور اور عوامی شاعر کے طور پر سامنے آئے تھے۔

ایک وقت تھا کہ پنجابی سمجھنے والوں میں جو مقبولیت استاد دامن کو حاصل تھی اس کا مقابلہ شاید ہی کوئی شاعر کرتا۔ اس ہر دل عزیزی نے ہی اسے عوام سے استاد کا لقب دلایا۔ اس کے علاوہ جن نامور اور معتبر شخصیات کا ذکر آیا ہے ان میں قائداعظم محمد علی جناح، پنڈت جواہر لال نہرو، ذوالفقار بھٹو، ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر باقر، حنیف رامے، مولانا صلاح الدین، فیض احمد فیض، میرا جی، جی ایم سید وغیرہ شامل ہیں۔

مصنف نے کتاب کا دیباچہ ”بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشاؔ“ کے عنوان سے 15 اگست، 1976 ءکو لکھا تھا اور قیاس ہے کہ یہ کتاب اسی سال ہی شائع ہوئی ہو گی کیونکہ نئے ایڈیشن میں اس کی بارِ اول اشاعت کے بارے میں کوئی سند موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی ادیب یا شخصیت کی رائے یا تبصرہ درج کیا گیا ہے۔ ابواب کی فہرست بھی نہیں بنائی گئی جس سے حسِ جمالیات کی کمی کا ہلکا سا ادراک ہوتا ہے۔ دونوں ملکوں کی آزادی کے بعد کے چند سالوں کی آنکھوں دیکھی تاریخ کا حال احوال اس کتاب میں درج ہے جس سے اُس دور کے حالات کے بارے میں خاطر خواہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ رہے نام اللہ کا۔

Facebook Comments HS