پہلے خواب اور پھر آکاش خود قتل ہوئے

جدائیوں، محرومیوں اور جبر کے خلاف لڑنے والے سندھی زبان کے معروف شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کو بھی ایسے ہی قتل کیا گیا ہے، جیسے سیاسی سفر میں ان کے خوابوں کا قتل ہوا۔ ان کو رہبر سے رہزن ثابت ہونے والوں سے گلا تھا، جس کا اپنی شاعری میں برملا اظہار کرتے رہے۔ سندھ میں وہ رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک کے متحرک رہنما رہے اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نعپ (نیشنل عوامی پارٹی) کے سندھ میں جنرل سیکریٹری بنے۔ ملک کے دیگر مدبر اور سرگرم سیاسی کارکنوں کی طرح آکاش نے بھی ضیا کو ”زندگی کا ضد“ کہا اور لکھا۔ ایسی باتیں کہنے اور لکھنے والوں کے لیے وطن عزیز میں جیل تو بنتی ہے۔ آکاش انصاری بھی ضیا دور میں جیل کے حقدار ٹھہرے۔ شاعری ان کا اوڑھنا بچھونا رہی۔ وہ صرف شاعری کے لیے شاعر نہیں تھے ہر کام کاج میں شاعر تھے۔ بیٹی ہوئی تو اس کا نام ”میرا“ رکھا، بیٹا جو گود لیا یا پالا اس کا نام ”شاہ لطیف“ رکھا۔ آکاش کو شاہ لطیف قتل کرے گا آج کے سندھ میں یہ سچ ایک بھیانک سپنے جیسا ہے۔
کچھ سال پہلے جب پمز اسلام آباد سے جگر کی کامیاب پیوندکاری کروا کر سندھ لوٹے تو دوستوں کی محفلوں میں کہتے ”فرشتہ اجل سے مہلت پر ہوں“ ۔ یہ بات اپنے کلام کا بھی حصہ بنائی۔
آکاش کے سندھی زبان میں دو شعری مجموعے ”کیسے رہوں جلا وطن“ اور ”ادھورا ادھورا“ موجود ہیں۔ آکاش کی شاعری کا ڈاکٹر سحر گل بھٹی اور منوج کمار نے انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ کتابوں اور دوستوں کی دنیا آباد رکھنے والے میرے دوست گوبند میگھواڑ کی ڈان میں شاید پہلی چھپنے والی تحریر بھی آکاش انصاری کی کتاب ”کیئن رہان جلاوطن“ پر تھی۔ یہ تبصرہ گوبند نے گیارہویں جماعت میں لکھا تھا۔ زبیدہ مصطفیٰ نے جب تبصرے کا معاوضہ بھیجنے کے لیے گوبند سے بینک اکاؤنٹ نمبر طلب کیا تو وہ حیران ہو گیا۔ اس نے کبھی بینک ہی نہیں دیکھا تھا تو اکاؤنٹ نمبر کہاں سے ہو گا۔ گوبند کی عمر اٹھارہ سال تک نہیں پہنچی تھی جو کے قومی شناختی کارڈ کے لیے لازم ہے۔ گوبند کی پہلی تحریری مزدوری بھی آکاش کی شاعری سے جڑی ہے۔ سندھ میں نوجوان آکاش کی شاعری سے بس ایسا ہی پیار کرتے ہیں۔
آکاش انصاری سندھی زبان کے واحد شاعر ہیں جس کو جلسوں اور جلوسوں سے لے کر گھر کے آنگن میں جھولے پر جھولنے کے دوران شاعری پڑھنے اور گانے والوں تک ایک جیسی پذیرائی ملی۔
آکاش انصاری کی شاعری کا یہ کمال ہے کو وہ جلسوں اور جلوسوں کے شور میں بھی دلوں میں جگہ بناتی ہے اور تنہائی میں بھی ساتھی بنتی ہے۔ دلوں میں امید کے دیپ جلائے رکھنے والا شاعر، عشق کو آتش فشاں میں تبدیل کرنے والا شاعر، دار کا جو درد ہے اس درد کو لذت میں بدلنے والا شاعر، درد کو لاڈلا بنانے والا شاعر، موروں کا شاعر، گلابی گالوں کا شاعر، زندگی میں جو کچھ ملا ہے اس کو قبول کر کے جینے والا اور جو نہیں ملا اس کا ماتم نہ کرنے والا شاعر۔ اپنے کلام میں انہوں نے لکھا موت کا محصول تو بھرنا ہے۔ اس نے جس انداز میں یہ محصول بھرا ہے وہ بڑا المناک ہے۔ اپنی پیاری امی کو مخاطب ہو کر انہوں نے لکھا تھا، ”میرے پیٹھ میں اپنوں کے خنجر گھونپے ہوئے ہیں۔“ شاعروں کی اپنی دنیا ہے اور وہ خنجر، وہ چھری کہاں سے پیچھا کرتے کرتے آ کر اپنے ہی گھر حیدرآباد میں لے پالک بیٹے کے ہاتھوں ان کی جان لے گئی۔ سندھی شاعری کا آکاش 14 اور 15 فروری 2025 کی ظالم رات میں اپنے پیاروں اور چاہنے والوں سے چھن گیا۔ (آکاش کی گفتگو اور شاعری https://www.youtube.com/watch?v=Ww76y8s80m0
سیاسی نظریات، انسانی رویوں اور محسوسات کو اپنی شاعری سے زبان دینے والے آکاش انصاری کے گیت، نظم اور غزل عابدہ پروین، صنم ماروی، استاد محمد یوسف، شفیع فقیر سے لے کر رفیق فقیر تک وہ کون سا گانے والا یا والی ہوگی جس نے نہیں گائے۔ حبیب جالب کی طرح آکاش اپنا کلام خود بھی گاتے اور گنگناتے تھے۔
آکاش ہاریوں، مزدوروں اور طلبا میں ایک جیسا ہی مقبول تھا۔ اس کی شاعری کسی ایک زمانے، کسی ایک عمر اور کسی ایک طبقے کی شاعری نہیں ہے۔ اس نے مرجھائے ہوئے دلوں کو نئی دھڑکنے عطا کیں۔
اپنے دیس کے دکھوں اور دردوں کو دیکھ کر آکاش نے لکھا تھا یہاں ہر موسم ماتم کا موسم ہے۔ بہاریں دیکھنے کے لیے گیت لکھنے والے وہ شاعر اس ہی رت میں خون میں لت پت کیے گئے جس رت میں گلاب نکھرنے ہیں۔ وہ رت آئی ہے، مگر آکاش بدین سندھ میں ان گلابوں کو نیچے اپنی دھرتی ماں کی گود میں چلے گئے ہیں۔



