جنوبی افریقہ میں مقتول ہم جنس پسند امام مسجد ایک دینی مدرسے کا فاضل نکلا


گزشتہ دنوں ایک خبر موصول ہوئی جس کے مطابق جنوبی افریقہ میں قتل ہونے والا ایک متنازع مسلمان امام مسجد جو کہ علانیہ طور پر ہم جنس پسند تھا کراچی کے ایک دینی مدرسے کا فارغ التحصیل نکلا۔

ہم جنس پسندوں کی ایک ویب سائٹ کے مطابق محسن ہینڈرکس کے دادا امام مسجد، والد روحانی معالج اور والدہ مذہبی معلمہ تھیں، محسن نے مزید دینی تعلیم کے حصول کے لیے پاکستان کا رخ کیا اور 1994 تک کراچی میں یونیورسٹی روڈ پر سفاری پارک کے سامنے واقع ایک دینی مدرسے جامعہ داراسات الاسلامیہ سے عربی زبان اور درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔

جنوبی افریقہ میں بھی کم و بیش تین مساجد میں امامت اور تدریس کے فرائض سر انجام دیتا رہا، 23 سال کی عمر میں ارینج میرج ہوئی، ویب سائٹ کے مطابق شادی کی تقریب سے کچھ وقت پہلے محسن نے اپنی ہونے والی شریک حیات کو اپنے جنسی رجحان کے متعلق آگاہ کر دیا تھا لیکن بیوی نے چار و ناچار اس شادی کو نبھانے کا فیصلہ کیا، چھ سالہ رفاقت اور تین بچوں کی پیدائش کے بعد بالآخر علیحدگی ہو گئی۔

اس خبر کو شیئر کرنے کا مقصد قطعاً کوئی ٹھٹھا اڑانا مقصود نہیں ہے، نا ہی مدارس پر تنقید، ہم جنس پسندی کی تائید یا مخالفت مدنظر ہے، بس کچھ سوالات گوش گزار کرنے ہیں، ہماری مذہبی فکر کا یہ ماننا ہے کہ اس طرح کے جنسی رجحان لوگوں میں نہیں پائے جاتے بلکہ ماحول یا شوق کی وجہ سے لوگ اس قسم کی حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق یورپ میں لوگ عیاشی کی غرض سے ایل جی بی ٹی کمیونٹی کی حمایت کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ محسن ہینڈرکس تو سایہ روحانیت و مذہب تلے ہی پلا بڑھا تھا بلکہ مذہبی تربیت تو اس کی گھٹی میں شامل تھی، دادا امام مسجد، والد روحانی معالج اور والدہ کے مذہبی معلمہ ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے شیطانی رجحان سے نجات نہیں پا سکا تو پھر کیا سمجھیں کہ نقص کہاں پر ہے؟ اگر تقویٰ و طہارت اور پاکیزہ ماحول بھی کسی بندے کو ایک نارمل انسان میں نہیں بدل پایا تو پھر متبادل کون سا ایسا پاکیزہ راستہ ہو گا جو اسے اس شیطانی ناسور سے نجات دلا کر ایک نارمل انسان بنا پائے گا؟ آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ مندر کے چوہے بھگوان سے نہیں ڈرتے؟ سوال تو جینوئن ہے نا کہ عوام کو خدا کے عذاب سے ڈرانے والے خود خدا سے خوف زدہ کیوں نہیں ہوتے؟ کیا محسن ہینڈرکس قوم لوط کے عذاب والے واقعے سے بے خبر تھا؟ حالانکہ وہ تو خود عالم دین تھا اور جانتے بوجھتے ہوئے بھی گمراہی کے راستے پر چل پڑا کیوں؟

عالم دین ہونے کے باوجود بھی وہ اس قدر بولڈ اور بے شرم کیسے ہو گیا کہ اس نے علانیہ ہم جنس پسند ہونے کا اعلان تک کر رکھا تھا؟ اور دیانت دار بھی اس قدر تھا کہ ویب سائٹ کے مطابق رشتہ ازدواج میں بندھنے سے پہلے ہی اپنی بیوی کو اپنے جنسی رجحان کے متعلق بتا چکا تھا، اتنے سارے حقائق کے باوجود معزز علمائے ذی وقار انسانوں کے مختلف جنسی رجحانات کے متعلق کیا رائے دینا چاہیں گے؟

کیا وہ فطری رجحانات یا سائنسی حقائق کو یکسر مسترد کر دیں گے، اگر ایسا ہے تو پھر محسن کے متعلق ان کا کیا موقف ہو گا جو انہی کی چھتر چھایا میں علم و سلوک کی منازل طے کر کے جنوبی افریقہ میں اپنی دینی خدمات سر انجام دے رہا تھا؟ اگر اس شیطانی عمل کا تعلق یورپی تعلیم و تربیت یا ماحول سے ہوتا ہے تو سوال یہ ہے کہ محسن کی تو بنیادی تعلیم و تربیت میں ہی مذہب اور مذہبی شخصیات کا خاصا عمل دخل تھا، اس قدر دینی تربیت کے باوجود وہ بے راہروی یا گمراہی کا شکار کیسے ہو گیا؟

یہ تو سائنس نے ہمیں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں مختلف جنسی رجحان رکھنے والے افراد پائے جاتے ہیں بھلے وہ مذہبی ہوں یا لامذہب۔ جن میں ٹرانس جینڈر، ہیٹرو سیکشوائل، ہومو سیکشوائل، کیوئر، گے، لیزبین حتی کہ اے سیکشوائل تک پائے جاتے ہیں جو سیکس کے نام سے بھی دور بھاگتے ہیں، اب اسے ابنارمیلٹی کہیں یا کروموسومز کا گورکھ دھندا، بہرحال یہ حقائق ہیں ہم بھلے تسلیم کریں یا نہ کریں حقائق کو کیا فرق پڑتا ہے؟

ہاں یہ سوال بالکل جینوئن ہے کہ کیا پاکیزہ ماحول ایک انسان کی فطری جبلت یا جذبے کو ختم کر سکتا ہے؟ کیا فطری رجحان کو دعا و مناجات و تسبیحات یا روحانی تربیت کے ذریعے سے ختم کیا جا سکتا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اس قدر پاکیزہ ماحول میں چھوٹے بچے بچیوں کا جنسی استحصال کرنے والے کیسے پیدا ہو جاتے ہیں؟ رپورٹس موجود ہیں کہ سب سے زیادہ جنسی زیادتیاں مدارس میں ہوتی ہیں جہاں دن رات قرآن مجید کی تلاوت اور خالق ایزدی کا ذکر مبارک ہوتا ہے۔

سائنس کی بدولت ہم یہ تو جان گئے ہیں کہ مختلف جنسی رجحانات والے افراد ہوتے ہیں لیکن اس حقیقت سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے کہ پاکیزہ جگہوں پر جو چھوٹے بچوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں وہ کس وجہ سے کرتے ہیں؟ کیا ان کا بھی جنسی رجحان مختلف ہوتا ہے یا شوق یا علت کی وجہ سے بدفعلیوں کا ارتکاب کرتے ہیں؟

Facebook Comments HS