نزہت تائی
نہ فیصل کا قتل ہوتا، نہ بیٹے کے جنازے پر تائے میاں نزہت تائی پر غصہ ہوتے، نہ نزہت تائی سفید سپاٹ چہرے، خالی خشک آنکھیں لیے بھولے بھولے انداز میں انہیں تکتیں، نہ ان کا یہ چہرہ میرے حافظے کی البم پر چپکتا اور نہ میں نزہت تائی پر کچھ لکھتی۔ کاش! اے کاش کہ یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا اور اس کے لیے ضروری تھا کہ بہت کچھ ویسا نہ ہوتا جیسا کہ تھا۔
یہ موت کا گھر تھا جہاں تائے میاں تائی پر بیٹے کے ناز نخرے اٹھا کر بگاڑنے کی ذمہ داری ڈال کر اپنی ذمہ داری سے گویا برات کا اظہار کر رہے تھے، میرے نزدیک یہ بے رحمانہ اظہار تھا جس کا درد مندی اور حساسیت سے دور کا بھی واسطہ نہیں، نزہت تائی کے لیے یہ ناقابل معافی اور مجرمانہ بھی رہا ہو گا، پتا نہیں نزہت تائی تائے میاں کے اس عمل کو یہ لفظ بھی دے سکیں یا نہیں۔ ہمارے معاشرے میں بالعموم لڑکیوں پہ کنٹرول رہتا ہی ہے اور لڑکوں پر باپ کا کنٹرول ہوتا ہے، فیصل نزہت تائی کا بڑا بیٹا تھا، تائے میاں کا نہیں، وہ انڈیا میں بیوی کو بتائے بغیر پاکستان پہنچے اور اگر کوئی اولاد چھوڑ کر نہیں آئے توان کے بڑے بیٹے ان کی دوسری بیوی نوربی تائی سے تھے، نوربی تائی بھی کیا قسمت لکھا کے لائی تھیں۔ ویسے تو یہ سب عقلی فیصلوں کے پھیر ہیں جسے تقدیر کا لکھا کہا جاتا ہے، کوئی مانے گا تھوڑی کہ اس میں ہمارا مشورہ تھا، اور یہ کہنے میں دامن صاف کہ یہ تمہارے نصیب میں لکھا تھا، جسے پورا کرنے کی ذمہ داری ہماری قسمت میں لکھی تھی اور ہم نے تو بس تمہارے نصیب اور اپنی قسمت کا لکھا پورا کیا ہے اور اسے ہی تقدیر کہتے ہیں۔ نہ کوئی مشورہ دینے کی ذمہ داری قبول کرے گا اور نہ کسی کی زندگی کا فیصلہ کرنے کی، یہ اخلاقی جرات سے زیادہ شخصی اخلاقیات کا مسئلہ ہے۔
علاقہ لالو کھیت دو نمبر، تاریخ 6 یا 7 جولائی 1997 ء، فیصل کی عمر بائیس سے تیئس سال، لاش ایدھی سینٹر سہراب گوٹھ سرد خانے سے ملی۔ دو روز قبل اسے الفلاح اسکول کے پاس سے، جس کے مقابل تائے میاں کے گھر کی گلی ہے، یعنی گھر سے محض چند فرلانگ کے فاصلے سے اٹھایا گیا، اس کے ساتھ موٹر سائیکل پر محلے کا کوئی لڑکا تھا جو الفلاح اسکول پر اترا، وہاں موٹر سائیکل رکی ہوگی، وہ لڑکا جو الفلاح اسکول پر اترا تاکہ موٹر سائیکل رکے، کیا یہ محض اتفاق تھا؟ شاید ہاں، شاید نہیں، یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
گھر، لالو کھیت اور اس وقت کراچی کا سیاسی و سماجی ماحول، موروثی جراثیم کا کردار ایک طرف، یہ سب بھی ایک نسل کو بنا بگاڑ رہے تھے، اگرچہ کہ تائے میاں نے فیصل اور فہد دونوں بھائیوں کو دہلی اسکول میں داخل کرایا تھا، ساتھ ٹیوشن بھی رکھی تھی، لیکن سنا ہے کہ فیصل نے میٹرک بھی نہیں کیا۔ الٹا اسے چوری کرنے کی لت پڑ گئی تھی، اس کے متاثر تو ہم بھی تھے جب وہ نارتھ کراچی میں ہمارے گھر آیا، اس نے کہا کہ وہ یہاں قریب کہیں آیا تھا اور اسے واش روم جانا ہے، ہمارے واش روم میں ایک الماری بنی ہوئی تھی، اس میں اٹیچی رکھی تھی اور اٹیچی میں امی کی سونے کی بالیاں اور سونے کا چھلا رکھا تھا، جب امی نے پہننا چاہا اور دیکھا تو غائب۔ باتھ روم میں کون جاتا ہے، یہ تو سمجھ میں نہ آئے۔ بھائی صاحب کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، ایسے میں شک کے دائرے میں کون آتا؟ بھلا ہو بھائی صاحب کا کہ انہوں نے ہی یہ گتھی سلجھائی اور ہم سب کو اس ذہنی اذیت سے نجات ملی کہ یہ کسی گھر کے آدمی کے کام نہیں ہے۔
معلومات کے مطابق فیصل کا براہ راست تعلق کراچی کی کسی مشہور یا معتوب سیاسی جماعت سے نہیں تھا البتہ اس کا دوست نانو تھا، نانو کی ٹولی نانو پارٹی کہلاتی تھی، وہ پہلے مہاجر قومی موومنٹ میں تھا پھر حقیقی میں ہجرت کر گیا۔ لالو کھیت دو نمبر بس اسٹاپ پر واقع پنجاب سوئٹس والوں کا بیٹا طاہر عرف تارہ نے فیصل کو نانو پارٹی میں اٹھنے بیٹھنے سے باز رکھنا چاہا، یہ نہیں مانا، پہلے سننے میں آیا کہ فیصل کے قتل میں نانو کا ہاتھ ہے، پھر تارہ کا نام سامنے آیا، ان ہی میں کہیں نہ کہیں اصل حقیقت چھپی ہے، کسی پر عیاں بھی ہوگی۔ نانو فیصل کے جنازے پر نہیں آیا، بعد میں اسے فیصل کی قبر پر دیکھا گیا، پھر پتا نہیں کب نانو کو بھی مار دیا گیا۔ خدا جانے کہ فیصل کی گم شدگی یا قتل کی کوئی رپورٹ یا ایف آئی آر بھی کٹی یا نہیں؟ نہیں کٹی ہوگی، وہ ابتری کا زمانہ تھا اور نہ تائے میاں یہ کرتے، یہ مجھے ضرور لگتا ہے کہ نزہت تائی کا بس نہیں چلا کہ وہ اپنے ہاتھ سے فیصل کے قاتل کے سر میں گولی مارتیں۔ وہ بدلے کی آگ میں نہیں جل رہیں تھیں وہ اپنے بیٹے کے غم میں ڈوب گئی تھیں۔ تائی کے منجھلے بیٹے فہد نے فیصل کو قبر میں اتارتے وقت اس سے کہا ”میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں میں تیرے قتل کا بدلہ ضرور لوں گیا۔“ بھلا ہو کہ یہ عہد وقتی غم و غصے کا اظہار ثابت ہوا اگرچہ کہ وہ بھی کوئی بھلا انسان نہ بن سکا، سنا ہے کہ نشے میں دھت کہیں پڑا ہوتا ہے۔
لالو کھیت میں ہمارا گھر تائے میاں کے نئے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا، جس گھر میں ہم تھے اس میں چھوٹے بڑے تین حصے تھے، پچھلی طرف والے حصے میں نوربی تائی اپنے پانچ بچوں تین بیٹے اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہتی تھیں، یہ سب جوان اور ہوش مند تھے جب تایا نے نزہت تائی سے تیسری شادی کی تھی۔ کسی نے تو یہ پھبتی بھی کسی کہ پوتے نواسے کھلانے کے دنوں میں بچے کھلا رہے ہیں۔ ہمارے برابر والے حصے میں اس کے بیچنے سے قبل چھوٹے چاچا کا خاندان رہتا تھا، لیکن کبھی تایا، چچا، باوا میں ان حصوں کے چھوٹے بڑے ہونے پر کوئی جھگڑا تو دور کی بات، بات بھی نہیں ہوئی اور نہ عورتوں میں اس پر کوئی چخ چخ۔
اپا، تیا، نانو یہ تین بھائی مجھے یاد ہیں، محلے میں ہمارے بھائیوں کے ساتھ بچپن میں کھیلا کرتے تھے، نانو سب سے چھوٹا تھا، ان کی امی بسم اللہ نرس تھیں اور دبئی چلی گئی تھیں، یہ لڑکے باپ کے ساتھ یہیں رہتے تھے، ہمارے گھر سے آگے، قبرستان کے قریب پتلی پتلی گلیاں تھیں، اس میں سب سے آخر میں جا کے ان کا گھر تھا، بغیر پلستر اینٹوں کا بنا۔ ریاستی آپریشن، غیر جمہوری قدروں کے درمیان پنپتی ہوئی آمر کی بنائی سیاسی جماعت، پھر اس میں دھڑے بندی، ایک ہی محلے کے لڑکے کس لیے کیسے کب ایک دوسرے کے مخبر، دشمن اور قاتل بن گئے؟ کراچی کی دیواروں پر یہ نعرے ”جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے“ کس نے لکھے؟ کیا متوسط اور زیریں متوسط طبقے کی آواز بننے والی یہ سیاسی جماعت فاشسٹ تنظیم میں تبدیل ہو گئی تھی؟ کیا ریاستی آپریشن فاشزم نہیں؟
شام چھ بجے کے قریب فیصل گھر سے ڈاک خانے ضرورت کی کوئی چیز خریدنے گیا، محلے سے کوئی لڑکا موٹر سائیکل پر اس کے ساتھ ہوا جو واپسی کے وقت الفلاح اسکول کے پاس اترا اور وہیں سے فیصل لاپتا ہو گیا۔ اگلے دن صبح سے فیصل کی ڈھونڈھ پڑی۔ گلی کے نکڑ کی دکانوں پر جس نے جو دیکھا تھا انہوں نے بتایا کہ ہم نے دیکھا کہ وہ کچھ لڑکوں کے ساتھ گیا ہے، کن کے ساتھ؟ یہ کوئی نہیں دیکھتا، کراچی خوف کے عجیب تجربے سے گزر رہا تھا، لوگ اندھے بہرے گونگے نہیں تھے لیکن تھے، فیصل کو لاپتا ہوئے دوسرا دن بھی گزر گیا۔ نزہت تائی بہت بیکل تھیں، انہیں کسی طرح قرار نہیں، وہ بار بار فہد سے کہتیں، کبھی کہیں دوڑاتیں کبھی کہیں، اس کا پتا نہ چلنا تھا نہ چلا، دوسری رات کے کسی پہر نزہت تائی کی آنکھ لگی تو انہوں نے سنا کہ فیصل نے انہیں پکارا ہے، امی! امی! وہ ہڑ بڑا کہ اٹھ بیٹھیں، شاید یہی وہ پل تھا جب فیصل نے دم توڑتے آخری لمحوں میں اپنی ماں کو پکارا ہو گا۔ اگلی صبح ایدھی سینٹر سے اطلاع ملی کہ انہیں الا اعظم اسکوائر کے عقب سے ایک لاش ملی ہے۔ میں تصور کی آنکھ سے دیکھتی ہوں، اس اطلاع پر نزہت تائی پر کیا گزری ہوگی؟ وہ سن ہو کر رہ گئی ہوں گی، دھڑکتے دل کے ساتھ، کبھی سینے پر ہاتھ رکھتے، کبھی آسمان پر نظر اٹھاتے اور ہاتھ بلند کرتے ٹہل ٹہل کر دعائیں کرتی ہوں گی کہ وہ نہ ہو، اللہ نہ کرے کہ وہ ہو، بار بار دروازے پہ جا کے دیکھتی ہوں گی اور اگر انہوں نے ایمبولینس کو گلی میں داخل ہوتے دیکھا ہو گا یا جب وہ دروازے پر آ کر رکی ہوگی، کیا کیا ہو گا تائی نے؟ کیا وہ بغیر چپل اور بغیر دوپٹے دوڑتی ہوئی ایمبولینس کے پاس گئی ہوں گی، کیا وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے میت لانے والوں کے منہ تک رہی ہوں گی؟ کیا وہ چیخ رہی ہوں گی اور فیصل فیصل پکار رہی ہوں گی؟ ایسا ہی ہوا ہو گا، ایسا ہی ہو سکتا ہے، ایسا ہی تو ہوتا ہے۔ کیا بعد میں فہد نے تائی کو بتایا ہو گا؟ کیا تائی نے اپنی جان کی قسمیں دے دے کے فہد سے پوچھا ہو گا کہ مجھے بتاؤ اسے کیسے مارا؟ اس کے جسم پر زخموں کے کتنے نشان تھے؟ کیا فہد نے تائی کو سب بتایا ہو گا؟ یہ کہ اس کے دونوں بازوؤں پر چھریوں کے کٹ تھے، یہ کہ اس کی گردن کے پاس بھی چھری کا کٹ تھا، یہ کہ اسے تین گولیاں ماری گئیں، ایک پاؤں پر (یہ پہلی گولی ہوگی، اس سے کوئی مرتا نہیں ہے ) ، ایک سینے پر (شدید زخمی ہو گیا ہو گا، کراہ رہا ہو گا، چیخ رہا ہو گا) ، تیسری گولی گردن پر جو آخری ثابت ہوئی، چیخیں ختم، کراہیں ختم۔
لاش کی نشان دہی پر ریاستی پولیس بہرحال ”ضابطے“ کی تمام کاغذی کارروائی مکمل کرتی ہے، اطلاع پر فیصل کی لاش کو عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا، وہاں پوسٹ مارٹم ہوا، پھر لاش ایدھی کے سرد خانے پہنچی۔ نہ ایف آئی آر کا پتا نہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ لواحقین اپنے پیاروں کے تکلیف دہ حقائق بھی جاننا چاہتے ہیں، لیکن میرا نہیں خیال کہ تائے میاں نے ایسا چاہا ہو گا اور شاید تائی چاہتے ہوئے بھی ایسا نہیں کر سکی ہوں گی۔ وہ گھٹ گھٹ کے روتی ہوں گی کیوں کہ ان کی چیخیں تو تائے میاں نے گھونٹ دی تھیں، اب تائی کو رشتے دیمک کی طرح کھا رہے تھے۔ سنتے تھے کہ وہ اکثر فیصل کی قبر پر جاتی ہیں اور قبر سے لپٹ لپٹ کر روتی ہیں۔ ایک دن تائی فیصل کی قبر پر گئیں، روئی بھی ہوں گی، قبر کو گلے بھی لگایا ہو گا اور یہ بھی بتایا ہو گا کہ فیصل کل تیری بیٹی کی پہلی سال گرہ ہے اور میں نے گھر میں پارٹی رکھی ہے تو کل نہیں آ سکوں گی، اور ہوا کیا؟ فیصل کے قتل کے محض چھ ماہ بعد جس دن اس کی بیٹی کی پہلی سال گرہ تھی، نزہت تائی پوتی کی سال گرہ بیٹے کی یاد میں اتنا کھو کر کر رہی تھیں کہ ان کی غم زدہ روح خوشی و غمی کا یہ عجیب ملاپ نہ سہ سکی۔ جس گھر میں شام کو تائی سال گرہ منانے کی تیاریاں کر رہیں تھیں اسی شام اس گھر میں تائی کی فاتحہ پڑھی جا رہی تھی، غم کی اس فضا میں اگر کسی کو سکون ملا تھا تو وہ نزہت تائی کی روح تھی۔
تائی کا دکھ کون بانٹ سکتا تھا؟ ہم ان سے کم کم ملتے تھے اس لیے ان کے دکھ میں بھی دور دور رہے اور اسے اس طرح سے نہ بانٹ سکے اور نہ اپنے دل میں اتار سکے، ان کو شاید ہم سے یہ توقع بھی نہیں ہوگی، بس تائی کا وہ چہرہ جو ایک ماں کا چہرہ تھا دل پہ نقش ہو گیا۔
باجی نے تائی سے پوچھا کہ آپ نے تائے میاں میں کیا دیکھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ ہمارے گھر آئے تھے، میں نے پردے میں سے جھانک کر دیکھا بس وہ مجھے اچھے لگے۔ تائی مناسب قد کی، گوری رنگت، گھنگریالے بال، خوب صورت، شوخ، کھنکتی ہنسی اور لپ جھپ کام کرنے والی عورت تھیں۔ تائی کی تایا سے شادی کی حافظے میں جھلکیاں باقی ہیں، جس کا مقام جٹ لائن پھپھو کا گھر تھا۔ تائے میاں نے جب نزہت تائی سے تیسری شادی کی اس وقت وہ سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے، پتا نہیں انہوں نے حج زیادہ کیے یا شادیاں، نزہت تائی سے بڑے بیٹوں کے نام فیصل اور فہد سعودی شاہی فرمارواؤں کے نام پر رکھے، تائے میاں کے ڈرائنگ روم میں ان کی بڑی بڑی رومانوی انداز کی تصاویر لگی تھیں۔ نزہت تائی کے چھ بچے ہوئے، چار بیٹے اور دو بیٹیاں، ان کی چھوٹی بیٹی بالکل چھوٹی نزہت تائی لگتی تھی، نوجوانی میں اچانک سنا کہ ڈائیلسس پر ہے اور پھر اس کا بھی انتقال ہو گیا، اس کے انتقال پر میں اپنی نند کے ساتھ گئی تھی، میت اٹھنے کے بعد مجھے ڈرائنگ روم میں جاتے ہوئے لحاظ آ رہا تھا کہ وہ تصاویر دیکھ کر میری نند گھر جا کے بتائے گی، لیکن اب وہ تصویریں وہاں نہیں تھیں، تب ہٹا لی گئی ہوں گی جب لگا ہو گا کہ اب زندگی کا سچ بدل گیا ہے۔ اسی میں ایک بہت خوب صورت تصویر سعودی عرب میں کھنچوائی گئی اس وقت کی تھی جب فیصل تائی کی اور فہد تائے میاں کی گود میں تھا، بچے صحت مند اور جوڑا خوش و خرم۔
ہمارا ددھیال ہمارے ننھیال سے بہت مختلف تھا، امی کا قدری اور تہذیبی معیار ان سے نہیں ملتا تھا، اس لیے اور اس لیے بھی کہ امی نے اپنے آپ کو ہم آٹھ اور باجی کی شادی کے بعد سات بچوں کو دن میں تین وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کے لیے وقف کر دیا تھا، وہ کہیں آتی جاتی نہیں تھیں، نہ رشتہ داروں میں نہ پڑوس میں، ان کے معمولات گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ نماز فجر تا نماز عشاء تک بندھے ہوئے تھے۔ شاید اسی کا اثر تھا کہ میرے چھ بھائیوں میں کوئی بھی کسی سیاسی جماعت میں نہیں پڑا، ہاں مذہبی جماعت کے ہتھے ضرور چڑھ گئے۔ امی کو اس پر اعتراض تو کیا ہوتا، شاید مذہب کا سہارا بہتر ہی لگا ہو، ایک دن مولانا الیاس قادری لالو کھیت میں ہمارے گھر آئے، بڑے کمرے کے پردے کے پیچھے سے ایک کتھئی چادر باہر آئی، امی اور میں نے اس کو پکڑ کر الیاس قادری کی بیعت لی، ایک دن محلے میں بس بھر کر امی اور میں عورتوں کے سالانہ اجتماع میں بھی گئے، اس کے بعد صد شکر کہ امی دوبارہ کسی اجتماع میں نہیں گئیں اور میری تو جامعہ کراچی پہنچ کر کایا کلپ ہو گئی۔
تایا کے گھر کا ماحول ایک طرف، جو کراچی کا سیاسی ماحول بنا اسے کون قابو میں کر سکتا تھا؟ کراچی کے کتنے لڑکے ریاستی عملیات کی بھینٹ چڑھے؟ کتنے فاشزم کی؟ اس کی آڑ میں کتنوں نے خاندانی یا ذاتی دشمنی نکالی؟ اتنا اسلحہ کہاں سے آیا؟ اسلحے کی فیکٹری کن کی پنپ رہی تھیں؟ بیچ کون رہا تھا؟ سپلائی کون کر رہا تھا؟ عقوبت خانے کس نے بنائے؟ فیصل کو کہاں لے جایا گیا؟ کون لے گیا؟ کس نے اذیتیں دیں؟ کس نے قتل کیا اور وہ کون تھے جو لاش پھینک گئے؟ تایا کے گھر اطلاع کیسے پہنچی؟ کیا اس کی گم شدگی کی رپورٹ درج کرائی؟ کوئی ایف آئی آر کٹی؟ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ؟ سماجی ماحول کسی ایک گھرانے یا خاندان کی ذمہ داری نہیں ہے، یہ کس کی ذمہ داری تھی؟ اور جن کی ذمہ داری تھی انہوں نے یہ کیسا ماحول اپنے عوام اور لوگوں کو دیا؟ غیر جمہوری قدریں اور اسلحے کی فراہمی، ریاستی عملیات، المیوں کی داستانیں کبھی ختم نہیں ہو سکتیں، ہم سب داستانوں کو نہیں جان سکتے، کیا سب لکھی گئی ہوں گی؟ یہ تقسیم کے المیوں کے تسلسل میں، یا اس تقسیم کا مستقبل سقوط ڈھاکہ کی المناک داستان سے ہوتا ہوا، کراچی، بلوچستان، کشمیر، پارہ چنار۔ تقسیم کا یہ کیسا بیج کہ المیوں کی فصل ہی کاٹے جا رہے ہیں؟ انسانی معاشرہ اکائی کیسے ہے؟ یہاں ریاست و حکومت و مذہبی جماعتیں ایک طرف، علاقائی سیاسی جماعتیں دوسری طرف اور معاشرہ درمیان میں۔ اس میں بھی کتنے طبقات ہیں۔ ہمارے جیسے ملک میں عوام بس ووٹ بینک کا کام دینے کے لیے ہیں، عوام جیسے جمہوری ملک کے عوام نہیں بلکہ پہلے بادشاہ کی رعایا تھے اب اپنے ووٹوں سے منتخب یا کہیں اور سے منتخب کردہ وزیر اعظم کی رعایا ہیں، عوام یتیم ہیں، جن کو گھر میں ذمہ دار سرپرست نہ ملے انہیں سیاسی و مذہبی نام نہاد سرپرست مل جاتے ہیں، جیسی جمہوریت ہے ویسا ہی جمہور کا حال ہے۔


