طلسمِ خاک ہی ٹھہری ہے اب متاعِ زیست


اس ماہ خاندان کی ایک بزرگ شخصیت کو وداع کیا کیا کہ اپنا بچپن، لڑکپن اور یادوں کے کوچے سب آباد ہو گئے۔ ویسے تو فی زمانہ ”صبح گئے کہ شام گئے“ اور ”آج وہ کل ہماری باری ہے“ جیسا احوال چل رہا ہے مگر ان بوجھل اور سرد خشک دنوں کا تریاق ایک خوبصورت کتاب کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا اور کتاب بھی وہ جس کے عنوان میں ہی جدائی کا لفظ شامل ہو جی ہاں محمد اظہار الحق صاحب کی تازہ تصنیف ”سمندر، جزیرے اور جدائیاں“ ( بُک کارنر جہلم)

یقیناً (زندگی کے ) سمندر (میں وصل کے ) جزیرے (کم ہیں اور ہجر کی) جدائیاں بہت سی!

ہجر سے بُنی گئی ایسی ہی فراق کی چادر ہے جس پہ آپ تاسف کے موتی رولتے رولتے سو جائیں۔ اور پھر گاؤں کی گلی، نواسی کی شرارت یا پوتے کی ہنسی کی ننھی سی یاد دل کو شادمانی کے احساس سے جگا دے۔ ہر دو صورتوں میں آپ بہرحال فرقت زدہ قرار پائیں گے۔ قدیم زمانوں سے ایسی مستقل کیفیت صرف عُشاق پہ وارد ہوتی رہی اور شاعروں کے ہاتھوں رقم بھی!

یہ احساس بھی دامنگیر رہا کہ تحریر و تکلم کی شیفتگی اور خیالِ خاطر مصنف کے ”گرائیں“ ہونے کے سبب سے تو نہیں؟ بھئی کچھ تو ہے جو مشترک ہے اور وہ ہے ماں بولی اور اپنے جد اور دھرتی سے گہرا اُنس (احباب اسے شناخت شناسی سے تعبیر کرتے ہیں )

اُردو، فارسی اور عربی کی شاندار روایت پہ مبنی نثر لکھنے والے اب کتنے باقی رہ گئے اور اس روایت سے محبت کے دعویدار اُس سے بھی کم!

اپنی ماں کی بڑی ہمشیرہ کے پُرسکون رُخصت ہو جانے پہ آزردہ دل کسی پرسکون گوشے اور تسلی آمیز الفاظ کی تلاش میں تھا تو یہی کتاب سکون قلب کا باعث بنی۔

”ہجر تیرا جے پاننڑیں منگے تے میں کھوہ نیناں دے گیہڑاں“

کتاب صریحاً دو بڑے ادوار کی ترجمانی کرتی ہے، اپنی دھرتی یعنی اصل کا ادراک اور اپنی دوسری نسل سے اُلفت اور لگاوٹ کا بھرپور احساس!

بیسویں صدی کے سطح مرتفع پوٹھوہار کے نیم قبائلی اور کولونیل اثر پذیری کے تحت معاشرت جہاں خاندانی علمی وراثت محمد اظہار الحق کے بہت کام آئی۔ اُن کی شخصیت خالص اسلامی روایت اور جدیدیت کے منتخب مثالی تلامذے سے وجود میں آئی۔ اس پہ مستزاد شعری ذوق ایک پیدائشی جوہر کے طور پہ عطا ہوا۔ یوں اگلی کئی دہائیوں میں ہم نے اس طلسم خاک کے دونوں بڑے جوہر مصنف کی ”گلستان اور بوستان“ سے مشابہ تصانیف میں عیاں ہوتے دیکھے۔

اپنی مٹی اور اولاد کی اولاد کی محبت یہی محمد اظہار الحق کی متاعِ زیست ٹھہری۔ ذرا دیکھیے اس گنجلک دور میں حضرت اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے کیا خوبصورت حکایت بیان فرماتے ہیں۔

” لاؤنج، ڈرائنگ روم اور بیڈ روموں میں قید ان بچوں کو کیسے بتایا جائے کہ عصر کے بعد جب سائے خوب ڈھل جاتے تو بڑے بڑے ( کچی مٹی کے ) صحنوں میں صفائی کے بعد پانی کا چھڑکاؤ ہوتا چارپائیاں باہر نکالی جاتیں ان پہ گدے ( تلائیاں ) اور گدوں پہ چھیبی ہوئی چادریں بچھائی جاتیں، ساتھ کڑھے ہوئے غلافوں والے تکیے ہوتے ان بستروں پہ لیٹ کر، اچھل کر اور قلابازیاں کھا کے کتنا مزا آتا“ ۔

گھوڑی کی کھال سے نکلنے والی خوشبو ( مشک) اور تازہ کٹی ہوئی گندم سے نکلنے والی عجیب مست کر دینے والی مہک کیا! خوشبوئیں تھیں جو زندگی بھر ساتھ رہیں، مٹی کے کورے پیالے سے آتی سوندھی خوشبو، تنور سے اُترنے والی گرم روٹی کی خوشبو سرسوں کے پھولوں بھرے کھیت میں سے گزرتے وقت ناک سے ٹکرانے والی خوشبو اور گاؤں سے باہر بہنے والی ندی کے مٹیالے پانی کی خوشبو! ”

کتاب کے دوسرے حصے میں ایسے بے شمار مناظر آپ کو فطرت اور بچپن دونوں سے قریب کرتے جاتے ہیں۔

یہاں آپ کو مقامی ترکھان کے ہاتھ سے بنا لکڑی کا ریڑھا نظر آتا ہے، ستو اور باجرے کے دانوں کا مزا، میٹھی لسی کا ذائقہ اور کپڑے سے بنے اسکول کے بستوں کا لمس!

سُوت کی رنگین پایوں والی چارپائیوں کی تاہنگ، باجرے کی روٹی اور مکئی کے ساگ کی یاد سے بھری کتاب!
کتاب کا اولیں حصہ درس زیست ہے یا سعدئی عصر کی حکایت!

”خوش قسمت تو وہ ہے جو تندرست ہے جو بچوں پوتوں نواسیوں میں گھرا ہے جو گُم نام ہے اور لوگ اُس پہ اُنگلیاں نہیں اٹھاتے۔

جو اتنی دولت اور جائیداد اور کارخانے اور مُربعے چھوڑ کر نہیں مرے گا کہ اولاد ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہو جائے اور کبھی بھول کر بھی ماں باپ کی قبر پر دعا کرنے نہ آئے۔ خوش بخت ہیں وہ جو وراثت میں صرف نیکی، صرف نیک نامی اور صرف نیک اولاد چھوڑتے ہیں یہی وہ اولاد ہے جو ماں باپ کے مرنے کے بعد ایک دوسرے سے محبت کرتی ہے ایک دوسرے کے کام آتی ہے ماں باپ کے لئے رحمت مانگتی ہے اُن کی قبروں پہ اپنے ہاتھوں اور اُجلے رومالوں سے جھاڑو دیتی ہے۔ ”

قلم میں سادگی اور سلاست ہو تو سیدھی دل پہ وار کرتی ہے یہاں تو سادہ دلی کی ایسی مار پڑتی ہے کہ الاماں و الحفیظ!

آپ اگر کچی مٹی سے بنے ہیں تو ڈھیں ڈھیری، دوسری صورت میں تازہ دم اور سحر دم، سمندر، جزیرے اور جدائیاں کی کتاب خوانی کریں۔ کیا کیا نہ یاد کریں گے۔

Facebook Comments HS