جی ایم بٹ : کچھ یادیں کچھ باتیں


میں جب 2004 اکتوبر میں پنجاب کالج سیشن کورٹ روڈ گوجرانوالہ کے تدریسی عملے کا حصہ بنا تو میرے ساتھ نوید اقبال، مولوی احسان، عمران صدیق اور حافظ عمران بٹ صاحب بھی تھے۔ ہم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہم سے کچھ ماہ پہلے انگریزی میں ریاض اور جی ایم بٹ، اسلامیات میں جاوید صاحب بھی تدریسی عملے کا حصہ بن چکے تھے۔ تمام لوگوں سے میرا ایسا تعلق قائم ہوا جو عمروں پے محیط ہوتا ہے مگر جی ایم بٹ کے ساتھ مجھے خاص انس تھا۔

اس کا محفل سے یوں اٹھ جانا گہرے دکھ کا باعث ہے، ہم نے کبھی نہ سوچا تھا کہ یار پیارا یوں چل نکلے گا۔ ذیل میں اس کی کچھ یادیں اور کچھ باتیں احباب کی نذر ہیں۔ سوچتا ہوں کہ جب کبھی وقت ملا تو گوجرانوالہ میں گزرے دنوں پر مشتمل یادوں کو تفصیل سے لکھوں گا اور مجھے لگتا ہے کہ جی ایم کا ذکر اس میں سب سے زیادہ ہو گا۔

ہم کلاس پڑھا کر اساتذہ کے کمرے میں پڑے صوفوں پر نیم دراز تھے۔ جی ایم سگریٹ سلگاتے ہوئے درد بھرے لہجے میں کہنے لگا یار رضوان تو ہم انگریزی پڑھانے والوں کا دکھ نہیں سمجھ سکتا۔ میں نے کہا کچھ سمجھا بھی تو، کہنے لگا ہمیں انگریزی بھی پنجابی میں پڑھانی پڑتی ہے۔ میں اس کا دکھ نہ سمجھ سکا تادیر کہ صدیق مکرم نے برسوں بعد ہمارے بچوں کو تحقیق پڑھانے کا تجربہ تقریباً برا بھلا کہتے ہوئے بیان کیا۔

جی ایم تھا بڑا ہنس مکھ، ہم محنت کر کے ماحول کو سنجیدہ کرتے وہ کوئی چٹکلا چھوڑ کر ماحول برباد کرتا اور گالیاں کھانے سے پہلے بھاگ نکلتا، بالکل ایسے ہی جیسے اب وہ بھری محفل سے نکل بھاگا۔

ہم، جی ایم، نوید اور میں، بش شرٹ اور پتلون بڑے شوق سے پہنا کرتے تھے۔ ایک روز اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے میں نے جی ایم سے پوچھا یار یہ بش شرٹ اور پتلون دوسرے ملبوسات سے کیسے مختلف ہے۔ کہنے لگا سچ کہوں، میں نے کہا کہہ دے۔ کہنے لگا مجھے تیرا نہیں پتا مگر میں جس روز یہ چاہوں کہ کچھ بھی نہ پہنوں اور لوگ سمجھیں کہ پہن رکھا ہے تو میں بش شرٹ اور پتلون پہن لیتا ہوں۔ میں نے کہا کیا یہ اتنا آرام دہ لباس ہے، کہنے لگا قسم سے۔

برسوں بعد ریس کورس پارک میں چہل قدمی کرتے ہوئے یہ بات میں نے صدیق مکرم سے کہی تو کہنے لگے یہ بات جی ایم نے حق کہی۔ اس کا ہر معاملے میں انداز نرالا تھا۔

اب کئی بار یہ سوچتا ہوں کے جی ایم کون تھا؟ ایک طرح سے یہ سوال سادہ ہے اگر میں یہ کہہ دوں کے وہ میرا یار تھا اور بس۔ مگر دوسری طرح یہ ایک مشکل سوال ہے کیوں کے ہر شخصیت کی طرح اس کی شخصیت کے بھی کئی پہلو تھے۔ اگر معاصر استاد ساتھیوں میں دیکھوں تو مجھے کہنا ہو گا کہ جی ایم انگریزی کا یوسف ابراہیم تھا جو نہ صرف زبان جانتا تھا بلکہ گہرا ادبی شعور بھی رکھتا تھا۔ ورنہ عام طور پر اردو اور انگریزی کے استاد یا تو زبان کے قواعد میں الجھے ہوتے ہیں یا ادب کے بوجھ تلے دبے ہوئے۔

میں نے کئی بار اس کے ساتھ ادب اور زبان دونوں پر گفتگو کی اور ہر بار اس کے ذوق سے محظوظ ہوا۔ حق مغفرت کرے اس کی ذات میں بہت سی خوبیاں جمع کر دی گئی تھیں۔

جسے ہم قید کرنا چاہتے ہیں
وہی اک لمحہ لمحوں میں نہیں ہے

ویسے تو یونیورسٹی کے زمانے میں امجد اسلام امجد صاحب کی یہ نظم میں نے خود ان سے سن رکھی تھی مگر جب ہمیں یہ نظم جی ایم نے سنائی تو ایسے لگا اس کا نزول اس پے ہوا تھا۔ نظم سناتے ہوئے وہ اس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ جیسے اس نظم کے ساتھ اس کا کوئی ذاتی تجربہ منسلک ہو۔ اس روز یقین سے لطف دوبالا ہو گیا :

ایک لڑکی
امجد اسلام امجد
گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے
وہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سے
سہیلیوں کو لیے اترتی
تو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہو
کچھ اس تیقن سے بات کرتی تھی جیسے دنیا
اسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہو
وہ اپنے رستے میں دل بچھاتی ہوئی نگاہوں سے ہنس کے کہتی
تمہارے جیسے بہت سے لڑکوں سے میں یہ باتیں
بہت سے برسوں سے سن رہی ہوں
میں ساحلوں کی ہوا ہوں نیلے سمندروں کے لیے بنی ہوں
وہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکی
جو راہ چلتی تو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہو
وہ کل ملی تو اسی طرح تھی
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
کہ جیسے چاندی پگھل رہی ہو
مگر جو بولی تو اس کے لہجے میں وہ تھکن تھی
کہ جیسے صدیوں سے دشت ظلمت میں چل رہی ہو

جی ایم تھا تو انگریزی کا استاد مگر سروس کے ابتداء ہی سے اسے کالج کے ان پروگراموں میں پڑھانے کے لئے کورسز دیے گئے جو کاروباری تعلیم سے متعلق تھے۔ ابتداء میں ہمارے قریب آنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی تاہم یہ واحد وجہ نہیں تھی۔

ایک روز جی ایم کہنے لگا کہ رضوان میں اب تمھارے قبیلے سے ہوں۔ میں نے کہا یار اس بات کا کیا مطلب ہے۔ کہنے لگا کاروباری تعلیمی پروگرامز میں پڑھانے کے باعث اور تم لوگوں کی صحبت میں رہ کر اب میں ایک کاروباری فرد کی طرح سوچتا ہوں۔ مزید کہنے لگا کہ وہ شخص جو انگریزی عام پروگرامز میں پڑھائے وہ اسے مختلف ہو گا جو کسی خاص پروگرام میں پڑھائے۔

سچی بات ہے یہ جی ایم نے بڑے نقطہ کی بات کی تھی۔ اس کی اس بات سے میں نے عملی زندگی میں بہت سیکھا کیونکہ اس کی یہ بات دوسرے مضامین کے اساتذہ کے حوالے سے بھی درست تھی۔ اس کی یہ بات زبانی جمع خرچ نہیں تھی بلکہ عملی ثبوت کے طور پر اس نے دو بار ایم بی اے کرنے کی کوشش کی اور بالآخر اپنا کاروبار بھی شروع کر دیا۔ اس واقع سے آپ جی ایم میں سیکھنے اور عمل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

ہم سارے، جی ایم، نوید، احسان اور میں بڑے آوارہ گرد تھے۔ کالج میں کلاسز کے درمیان وقفہ کے دوران ہم باہر نکل جاتے۔ ہم سب میں سے صرف احسان کے پاس گاڑی تھی۔ ہم گاڑی میں سوار ہوتے اور اکثر راحت والے کے پاس آئس کریم کھانے پہنچ جاتے۔ وہاں سے پیٹ بھر کر آئس کریم کھاتے اور سیگرٹ اڑاتے ہوئے واپس کالج پہنچ جاتے۔ ہم میں نوید کے علاوہ سبھی سیگرٹ کا شوق فرماتے تھے۔ ہمیں امریکی نظام دعوت بالکل بیہودہ لگتا تھا اس لیے میزبان کوئی ایک ہی ہوتا مگر ہر بار بدل جاتا۔ ہم میں سے صرف احسان شادی شدہ تھا اور باقی آسودہ تھے۔

جی ایم میں ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ایک ہی وقت میں بہت سے لوگوں کو ملاقات کا وقت دے دیتا اور پھر سب سے مل بھی لیتا۔ ہماری ملاقاتوں کی خصوصیت یہ تھی کہ ہم صرف زندگی کی باتیں کرتے اس زندگی کی جسے ہم جی رہے تھے جو بہت خوبصورت تھی۔ جی ایم رومانوی گفتگو کا شوقین تھا، اس کے حوالے اس کی تعلیمی زندگی سے ہوتے۔ میں نے کم لوگ دیکھے جو زندگی سے اس قدر بھرپور تھے۔

وہ زمانہ بڑا بھرپور اور شفاف تھا، ہم سب میں تعمیر کا جذبہ بھرا ہوا تھا۔ ہم ایک پروگرام میں مختلف مضامین اس طرح پڑھاتے تھے کہ ایک دوسرے کے کام میں مداخلت بھی نہ ہو اور طالب علموں کی تعمیر میں ایک کا مضمون دوسرے کا مدد گار بھی ہو۔

مثال کے طور پر جی ایم بزنس کمیونیکیشن پڑھاتا تھا اور میں مارکیٹنگ۔ ہم دونوں شام کی محفلوں میں اس موضوع پر اکثر تبادلہ خیال کرتے کہ ہم دونوں کن باتوں کا خیال رکھیں تاکہ طالب علم دونوں مضامین سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

ہم اکٹھے پڑھاتے ہوئے اس اصول پر سختی سے کاربند رہتے کہ کوئی دوسرے کے بارے میں منفی گفتگو نہیں کرے گا۔ اس کے دو فائدے ہوئے ایک یہ کہ ہمارے دل صاف رہے دوسرا یہ کہ طالب علموں پر منفی اثر نہ پڑا۔

جی ایم ناں صرف جدت پسند تھا بلکہ تدریس میں نئے تجربات کا بھی قائل تھا۔ اس نے ہمارے پروگرامز میں ہمارے بچوں کے اندر خود اعتمادی اور خود نمائی کی صلاحیت اس مثبت پیرائے میں پیدا کی جو عملی زندگی میں ان کا اثاثہ بنی۔

وہ اکثر کہتا رضوان میں تجھ سے مارکیٹنگ اس طرح چپکے چپکے سیکھ رہا ہوں کہ جلد ہی یہ مضمون میں پڑھایا کروں گا، میں کہتا وہ سب سے اچھا دن ہو گا۔ میں صرف مارکیٹنگ پڑھاتا تھا مگر وہ عمل بھی کرتا تھا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم آہستہ آہستہ ذاتی مالی آسودگی کی منزلیں طے کر رہے تھے۔ ہم سب ابھی کچھ روز پہلے تو پڑھ کر فارغ ہوئے تھے اور اب مالی خود مختاری سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ایک دن خبر ملی کہ جی ایم نے موٹر سائیکل خرید لی ہے، آپ کہیں گے کہ یہ کون سی بڑی بات تھی، دراصل بڑی بات یہ تھی کہ اس نے موٹر سائیکل پر ڈرائیور رکھ لیا تھا جو اسے صبح کالج چھوڑ جاتا اور شام میں لے جاتا۔ مجھے وہ ملا تو میں نے مسکراتے اور اسے ستاتے ہوئے کہا یہ تونے کیا کیا۔ میری بات کے جواب میں وہ کھل کھلا کر ہنسا اور چپکے سے باہر نکل گیا۔ وہ مسکراتا تو ایسے لگتا جیسے اس کا پورا وجود مسکرا رہا ہو۔ میں اس کو بہت چھیڑا کرتا مگر وہ مسکراتا رہتا، اس نے کبھی میری کسی بات کا برا نہ منایا۔

جلد ہی خدا کا لطف و کرم ہوا اور خدا نے اسے اپنی موٹر عطا کردی۔ وہ کالی ٹویوٹا وٹز میں بیٹھ کر ایسے لگتا جیسے اس کے لیے ہی بنائی گئی ہو۔ کالا رنگ اس کو بہت پسند تھا، کہا کرتا تھا کہ خوش لباس آدمی اپنے پاس کم از کم تین کالی پتلونیں رکھتا ہے۔ حق مغفرت کرے وہ رنگوں سے لگاؤ رکھتا تھا۔

میری یاداشت میں اس کے ساتھ آخری تین ملاقاتیں اب بھی تازہ ہیں۔ اس کے گھر میں آخری ملاقات 2017 میں ہوئی۔ میں گیا تو آ کر میرے سامنے والے صوفے پر دراز ہو گیا اور میرے سامنے سگریٹ کی ڈبیا رکھی۔ کچھ دیر جب میں نے سگریٹ نہ سلگائی تو کہنے لگا پیتا کیوں نہیں، میں نے کہا یار تم بھول گئے کہ میں سگریٹ برسوں پہلے چھوڑ چکا، کہنے لگا اچھا کیا۔ وہ جہاں بیٹھا تھا اس کے اپر شیلف میں Anne Frank ’s diary پڑی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا تجھے کیسی لگی، کہنے لگا اچھی ہے مگر اب اس سے بھی زیادہ مظلوم لوگ ہیں۔ ہم باتیں کر رہے تھے کہ عبدالصبور چائے لے آیا، کہنے لگا اب بیٹا بڑا ہو رہا ہے اور میرے مہمانوں کو چائے پلانا اس کے ذمہ ہے۔ ہم نے ڈھیروں باتیں کیں اور پھر میں اٹھ کے چلا آیا۔

آخری دونوں ملاقاتیں کالج کے باہر والے بڑے کیمپس میں ہوئیں، 2018 اور 2019۔ دونوں مرتبہ میں لاہور سے ڈسکہ جاتے ہوئے اس سے ملا۔ 18 والی ملاقات میں پورے کالج میں ہمیں بیٹھنے کی جگہ نہ ملی اور ہم نے سوچا جب کالج چھوٹا تھا تو جگہ بہت تھی۔ ہم پارکنگ میں کافی دیر کھڑے رہے اور گپیں ہانکتے رہے۔

2019 میں میں نے اس کو لاہور سے نکلتے ہوئے فون کیا کہ کہاں ہو کہنے لگا کالج میں، میں نے کہا وہیں رہنا میں گھنٹے بھر میں آتا ہوں۔ میں پہنچا تو وہ کلاس پڑھا رہا تھا۔ میں خواجہ صاحب سے اجازت لے کر اسے وہیں ملنے چلا گیا، اس کی کلاس ختم ہو رہی تھی، اس کے سامنے والی کلاس میں حافظ احمد پڑھا رہے تھے، ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ میں بھی ابھی کسی کلاس سے نکل کر آ رہا ہوں۔ وہ اپنی کلاس کے بچوں سے کہنے لگا میں تمھیں کیا بتاؤں کے مجھ سے ملنے کون آیا ہے۔ یہ اس کی پرانی یادوں میں گندھی ہوئی محبت تھی۔ اس نے میرا بازو پکڑا اور پارکنگ میں لے آیا، ہم دیر تک کھڑے باتیں کرتے رہے۔ ہم کھڑے تھے تو عامر الیاس اور ریحان آ گئے اور کھانے پر اصرار کرنے لگے۔ میں نے کہا پھر کھائیں گے، اور پھر اتنی دیر میں آئی کہ جی ایم جانی نہ رہا۔

Facebook Comments HS