آج میری چھوٹی بیٹی نشاء کا جنم دن ہے


خوش نصیب ہوتا ہے وہ آنگن جہاں بیٹیوں کی چہکار ہوتی ہے، ان کی تو تکار، چھوٹی موٹی سی پیار بھری لڑائیاں اور ماما پاپا سے فرمائشوں کے تسلسل کے بنا یہ زندگی بھی بھلا کیا ہوتی، ان کی آوازوں میں سحر اور لہجوں میں جو مٹھاس ہوتی ہے اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی موسیقی یا دھن نہیں کر سکتی۔

ماں باپ کا درد بنا کہے ایک بیٹی ہی محسوس کر سکتی ہے کوئی اور بالکل بھی نہیں کر سکتا، بیٹی کا دل تو ایثار و محبت اور قربانی کی آماجگاہ ہوتا ہے، شادی ہو جانے کے بعد بھی ان کے دلوں میں ماں باپ کی محبت کم نہیں ہوتی بلکہ کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

ایک ماہ پہلے بڑی بیٹی عائشہ عروج کی سالگرہ تھی اور آج میری چھوٹی بیٹی نشاء کا جنم دن ہے، بڑی بیٹی کی طرح اپنی چھوٹی بیٹی کو بھی اس کے جنم دن کے موقع پر لفظوں کا گلدستہ پیش کرنا چاہوں گا تاکہ سند رہے اور ان الفاظ کو ”ہم سب“ کے خزانے میں جمع کروا دوں گا تاکہ میری بیٹی زندگی میں کبھی بھی میرے آدرشوں سے مستفید ہونا چاہیے تو ویب سائٹ اوپن کر کے پڑھ لے۔

(چند الفاظ نشاء بیٹی کے نام)

بیٹی میں جو کچھ بھی کہوں گا وہ سب میرے دل کے قریب تو ضرور ہے لیکن من و عن عمل کرنا تم پر لازم نہیں ہے، مجھے پتا ہے کہ میری بیٹی باشعور ہے اور زندگی کے مختلف مراحل کو بڑی تیزی سے سمجھ رہی ہے، میں نہیں چاہتا کہ تمہارے فہم کے مدمقابل میرے آدرش آئیں، مجھے ہر صورت میں تمہاری انفرادیت، آزادی اور چوائس عزیز ہے۔

مجھے پتا ہے کہ آج کل تم خاصی مصروف ہو، چند روز بعد تمہارے میٹرک کے امتحان ہونے والے ہیں، جن میں یقیناً ناصرف تم کامیاب ہو گی بلکہ شعوری بالیدگی کی طرف بھی قدم بڑھاؤ گی، بیٹا! ذہانت کا پیمانہ مارکس نہیں ہوتے بلکہ ذہنی پختگی اور اعلیٰ سمجھ بوجھ ہوتی ہے، اس لیے بغیر کسی خوف یا دباؤ کے امتحان میں بیٹھنا، مارکس کی پرواہ مت کرنا، ہمیں آپ کے مارکس سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔

اس لیے تمام طرح کے دباؤ سے نکل کر اپنے پیپرز حل کرنا اور دنیا کی پرواہ مت کرنا، ان کا تو کام ہی باتیں بنانا ہوتا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ سب سے بڑا روگ ”کیا کہیں گے لوگ“ ہی ہے۔ ہمارے لیے تم سب سے اہم ہو اور تمہیں بھی خود کو اہمیت دینی چاہیے دوسروں کو نہیں۔

اپنے مقاصد کا خود سے تعین کرنا سیکھو، قدرت نے دنیا بھر کے دوسرے انسانوں کی طرح تمہیں بھی تمام تر صلاحیتوں سے نوازا ہے، بس صلاحیتوں کا ادراک کرنا سیکھو اور جو دل و دماغ میں چل رہا ہو اس کا ببانگ دہل اظہار کرنا سیکھو، یاد رکھو تم خود میں مکمل ہو، ہماری نظر میں تمہاری حیثیت نصف نہیں ہے، تم ایک مکمل شخصیت کی مالک ہو اور آزاد انسان ہو۔

بڑی بیٹی کی طرح تمہیں بھی یہی کہوں گا کہ کسی خوابوں کے شہزادے کے چکروں میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر مت بیٹھنا، تم تن تنہا اپنی زندگی اور خوابوں کی ڈیزائنر اور ملکہ ہو، تم اپنی صلاحیتوں اور سمجھ بوجھ کے حساب سے مکمل و اکمل ہو اور کسی سراب کے پیچھے دوڑنے کی بجائے ایک کامیاب بزنس وومین بن کر دنیا پر ثابت کردو کہ بچیاں بغیر سہارے کے بھی کامیاب ہو سکتی ہیں۔

تمہارا نصیب اور مقدر تمہارے خود کے ہاتھ میں ہے، کسی کی طرف دیکھنے کی بجائے خود کی طرف دیکھو، مسائل سے نبرد آزما ہو کر کے آگے بڑھو، زندگی میں ایڈوینچر کا اپنا ہی ایک لطف ہوتا ہے۔

تم اپنے سپنوں کو اپنے حساب سے ڈیزائن کر سکتی ہو، کھلے آسمان میں اپنی رفتار سے پرواز کر سکتی ہو، ایک باپ کا تم سے وعدہ ہے کہ روایات کے نام پر تمہارے پر نہیں کاٹوں گا، تمہاری خواہشات کے آگے رکاوٹ نہیں بنوں گا۔

تمہیں مکمل شناخت دوں گا، کسی کو بھی تمہاری پہچان مسخ کرنے کی اجازت نہیں دوں گا، یاد رکھنا تم پر میرے آدرشوں کا بوجھ بالکل نہیں ہو گا، اپنی زندگی کے قواعد و ضوابط بنانے میں تم مکمل آزاد ہو، آج کی نسل ہم سے کہیں زیادہ ذہین اور باصلاحیت ہے اور مجھے یہ تسلیم کرنے میں بالکل بھی کوئی عار نہیں ہے کہ میں اپنی بیٹیوں سے سیکھ رہا ہوں۔

یاد رکھنا تم اپنے جسم، ذہن اور صلاحیتوں کی بلاشرکت غیرے مالک ہو، کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ تمہاری انفرادیت چھینے بھلے والدین ہی کیوں نہ ہوں، تمہاری انفرادیت پر تمہارا پیدائشی حق ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا۔ اپنے دانائی انکل ڈاکٹر خالد سہیل کے سنہری الفاظ کو ذہن میں رکھنا اور اپنے حصے کا سچ خود تلاش کرنا۔

”دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی دیکھنے والی آنکھیں“

Facebook Comments HS

One thought on “آج میری چھوٹی بیٹی نشاء کا جنم دن ہے

  • 27/02/2025 at 2:30 صبح
    Permalink

    مبارک ہو۔ اور یہ پیغام پاکستان کی تمام بیٹیوں کے نام

Comments are closed.