ہائے وہ میری پہلی محبت
25 فروری 2024 کے پچھلے پہر ایک فون کال نے بے جان کر دیا۔ پہلی فرصت میں کسی صورت اس پر یقین کرنے کو دل راضی نا ہوا۔ فون کرنے والے چھوٹے بھائی سے بار بار اور ہر پہلو سے اس خبر کی تصدیق کی اور ہر دفعہ دل و جان سے یہی چاہا کہ کاش یہ کہہ دے کہ یہ جھوٹ ہے۔ دل اس لیے بھی ماننے کو تیار نہیں ہو رہا تھا کہ ابھی اس واقعے سے دو دن پہلے میں ان کے پاس سے آیا تھا۔ میرے دل کو ان کے بارے میں ہر طرح کی تسلی تھی لیکن مشیت کے آگے کبھی کسی کی چلی ہے کیا؟ مشیت نے اپنا کام کر دکھایا اور ہونی ہو کر رہی۔ میرے پہلے استاد، میرے مربی، میرے مشفق، مجھے عزیز از جان، میرا سارا بچپن اور لڑکپن جن کے کندھوں پر گزرا۔ جنہوں نے میری پیدائش کی خبر سنتے ہی کراچی کو خیرباد کہا اور واپس گاؤں ڈیرے ڈال لیے۔ پورے گاؤں میں اپنی استعداد سے بڑھ کر خوشیاں منائیں۔ بقیہ ساری زندگی میرے نام کردی اور دوبارہ کبھی دور دراز کا کوئی سفر نا کیا۔
پالا تو ایسے کہ جیسے اپنے بطن سے پیدا کرنے والی ماں پالتی ہے۔ میری عمر کے ابتدائی دس سال تک میری بہترین سواری ان کے کندھے پر تھی۔ لوگ انگشت بدنداں رہ جاتے کہ آپ اس بچے کو کندھوں پر اٹھائے پھرنے سے تھکتے کیوں نہیں؟ آگے سے میرے گال چوم کر کہتے کہ اولاد سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی نعمت ہوتی ہے؟ مجھے سکول داخل کروایا تو روزانہ وہاں چھوڑنے جاتے اور بعد میں لینے بھی۔ چند گھنٹوں کی کلاس کے دوران بھی کئی دفعہ چکر لگا لیتے۔ وہ صرف تین جماعتیں پڑھے ہوئے تھے لیکن اردو، پنجابی اور ریاضی پر بہت عبور رکھتے تھے۔ میں نے ان تینوں علوم کے بنیادی کلیے ان سے جس قدر آسانی سے سمجھے بعد ازاں کوئی نا سمجھا سکا۔ سکول سے بھاگ آنا میری بری ترین عادت تھی۔ ان سے جب بھی مار پڑی محض اس بات پر پڑی۔
میں نے اپنی زندگی کے 27 سال ان کے ساتھ گزارے انہیں اس میں ہمیشہ ایک سا پایا۔ انتہائی دبلے پتلے مگر دراز قد تھے۔ 6 فٹ 3 انچ قد اور حد درجہ محنتی انسان تھے۔ پنجابی ثقافت و تہذیب کے اتنے دلدادہ کہ ہمیشہ تہبند قمیض پہنتے اور سر پر پگڑی باندھنا فرض سمجھتے تھے۔ اس لباس کو وہ پنجابیوں کی شان قرار دیتے۔ وارث شاہ کی ہیر پڑھنے، بانسری بجانے اور پنجابی لوک داستانوں پر انہیں گہرا عبور تھا۔ 1965 اور 1971 کی جنگ بھی ہمارے علاقے شکر گڑھ میں بڑے پیمانے پر لڑی گئی جس میں مقامی لوگوں نے بڑا جرات مندانہ کردار ادا کیا۔ ان دونوں جنگوں میں بھی انہوں نے رضاکارانہ طور پر سرحدی دیہات سے اپنے عزیز رشتے داروں کو ہجرت کروائی اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ ان کی حفاظت اور ضروریات کا بھرپور بندوبست رکھا۔ ان دونوں جنگوں کے وہ چشم دید راوی تھے انہیں اتنے واقعات زبانی یاد تھے کہ اس پر باقاعدہ ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
وہ انگریز دور میں گورداس پور کی تحصیل شکر گڑھ میں پیدا ہوئے۔ خاندان نے بچپن میں ہی انہیں کھیتی باڑی کا کام سونپ دیا۔ تقسیم برصغیر اور تحریک آزادی کے وقت نوجوان تھے۔ علاقائی سطح پر ایک گروپ کے ساتھ مل کر تحریک آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔ وہاں پیش آنے والے بیشتر واقعات کے راوی تھے۔ پاکستان بننے کے بعد روزگار کے سلسلہ میں کراچی چلے گئے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کی کئی دہائیاں گزاریں اور بالآخر جب ان کے اکلوتے بیٹے کو اللہ تعالٰی نے میری صورت میں بیٹا اور انہیں پوتا عطاء کیا تو وہ دوبارہ گاؤں لوٹ آئے اور بقیہ ساری زندگی یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ نا صرف میرے ساتھ بلکہ مجھ سے چھوٹے سات بہن بھائیوں کے ساتھ بھی انہوں نے ایسے ہی محبت اور شفقت کی داستان رقم کی کہ ہم سب بہن بھائیوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ دادا دادی سے لاڈ اور پیار ملا۔
میرا ایک چھوٹا بھائی تقریباً سات سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔ وہ اسے بھی ساری زندگی کبھی نا بھول پائے اور ہمیشہ اس کا نام لے کر اسے یاد کرتے۔ اس کے منہ سے نکلی باتیں سناتے اور آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔ ان کے گھر میں محلے کے تمام بچوں کا ڈیرہ ہوتا تھا۔ بچوں سے انہیں اتنی محبت تھی کہ ہمارے گاؤں کے درجنوں لوگ اب بڑے ہو کر ہمارے گھر میں حصہ داری کے ازراہ مذاق دعویدار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنا بچپن یہاں گزارا ہے اس وجہ سے ہمارا بھی اس گھر کا اتنا ہی حق ہے۔
ان کی وفات پر پورے گاؤں کو سوگوار پایا کیونکہ تقریباً 13 ہزار کی آبادی والے گاؤں کے ہر گھر کے ساتھ ان کا ایک الگ اور عجیب رشتہ تھا۔ ان کے پاس لوگ جس بھی کام کی غرض سے آتے ہم نے انہیں کبھی کسی کو انکار کرتے نا دیکھا۔ اپنے کام چھوڑ کر لوگوں کی مدد کرتے ان کے مسائل حل کرتے چاہے اپنے بیسیوں کام چھوڑنے پڑ جائیں۔ لالچ اور حرص سے حد درجہ نفرت کرتے تھے۔ سکول ٹیچر نا تھے لیکن علاقہ بھر میں ماسٹر حنیف کے نام سے جانے جاتے تھے۔ 90 سال سے زائد کی بھرپور اور صحت مند زندگی گزاری۔ اپنی آخری عمر تک ان کی نظر اتنی سلامت تھی کہ اخبار پڑھا کرتے تھے۔ مجھے تیسری کلاس سے اخبار پڑھنے کی عادت ان کو دیکھ کر پڑی جو آج تک قائم ہے۔ 9 دہائیاں گزارنے کے بعد بھی ان کے دانت اتنے زبردست تھے کہ خود گنا چھیل لیا کرتے تھے۔ 90 سال سے زائد پوری زندگی میں روزانہ کئی کلومیٹر پیدل چلنا، دوستوں سے ملنا، چائے کے ڈھابے پر لازمی بیٹھنا ان کی پختہ عادت تھی۔ وفات کا دن بھی اتنا بھرپور گزارا کہ نماز فجر کے بعد کئی کلومیٹر گھوم پھر کر گھر آئے۔ ناشتہ کیا اور دوستوں سے ملنے چائے والے ڈھابے پر گئے۔ واپس آئے اور خوب دھوپ تاپی۔ دھوپ میں بیٹھ کر مالٹے کھائے۔ بعد ازاں دوپہر کا کھانا کھایا اور اس کے بعد جوس بنوا کر پیا۔ اچانک دل کی تکلیف شروع ہوئی اٹھ کر کمرے میں جانے لگے تو ایک دم نیچے گر پڑے اور لمحہ بھر میں جان جان آفرین کے سپرد کردی۔
اناللہ و انا الیہ راجعون
ہمارے لیے یہ دن کبھی نا بھولنے والا دن ہے۔ ایسی ہی یادیں میری دادی کے ساتھ ہیں۔ میرا بچپن ماں باپ سے زیادہ دادا دادی کے ساتھ گزرا۔ میری والدہ جب بھی میکے جاتیں تو مجھے ساتھ لے جانے کی کبھی اجازت نا ملتی۔ میرا سارا وقت دادا دادی کے ساتھ ہی گزرتا۔ دادی جان پچھلے دو سالوں سے شدید بیمار اور کئی ہفتوں سے تقریباً کومے میں تھیں۔ ہمیں ان کے بارے میں نہایت فکرمندی تھی۔ دادا جان ان کی بھانجیوں اور بھتیجیوں کو اکثر پیغام بھجواتے تھے کہ اس نے اب نہیں بچنا آپ آ کر اس کی عیادت کرلو ورنہ بعد میں نا کہنا بتایا نہیں۔ لیکن اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ ان سے پہلے خود چل بسے۔ عجب قانون قدرت یہ کہ دادا جان کو خالق حقیقی کے سپرد کرنے کے محض آٹھ دن بعد دادی جان بھی چل بسیں اور ہمیں ہمارے دونوں محبوب اور عزیز ترین رشتے اچانک داغ مفارقت دے گئے۔ یہ ساری زندگی کبھی نا بھولنے والا ایسا زخم ہے کہ جس پر میں آج ایک سال گزرنے کے بعد بھی یقین نہیں کر پاتا۔ کئی دفعہ ان کی یاد آتی ہے تو فوراً گاؤں چلے جانے کا دل چاہتا ہے لیکن پھر اچانک یاد پڑتا ہے کہ اب تو بس ان کی قبر کی ہی زیارت ممکن ہے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود آج بھی کئی دفعہ ان کی آواز کانوں سے ٹکرا جاتی ہے اور کتنی دیر تک یہ بھول جاتا ہوں کہ وہ اب ہم میں نہیں رہے۔ کبھی لگتا ہے کہ کہیں نا کہیں سے وہ آ جائیں گے اور حسب روایت بانہوں میں لے کر منہ ماتھا چوم کر دعائیں دیں گے۔


