کوزے بچ دریا
ضرب المثل اور محاورہ کسی بھی زبان کی تکمیل کے لیے لازم تصور کیے جاتے ہیں جو گفتگو، تقریر یا تحریر کو موثر اور مختصر بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جہاں کسی بات کی وضاحت و صراحت کے لیے کئی ایک جملوں کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے وہاں ایک ضرب المثل یا محاورہ کافی سمجھا جاتا ہے اور بات کا مفہوم بھی واضح ہو جاتا ہے۔ دراصل ضرب المثل یا محاورہ انسانی زندگی میں بار بار پیش آنے والے نوع بہ نوع حالات و واقعات اور گرم و سرد زمانہ کے تجربات و مشاہدات کا جوہر ہوتے ہیں اور حکمت و دانش سے لبریز ہوتے ہیں۔ ’ہندکو زبان میں ضرب المثل یا کہاوت کے لیے دو لفظ رائج ہیں۔ ایک ”کھان“ جو ”اکھان“ کا مخفف ہے اور دوسرا ”متّل“ (مت، تل) ہے۔ اکھان کے لفظ پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ لفظ آخنئا یا اکھنئا سے بنا ہے یا بنایا گیا ہے آخنئا یا اخنئا (دو مختلف لہجے ہیں ) جن کا مطلب ہے کہنا یا کہی ہوئی بات۔ جب ہندکو بول چال کے دوران کسی ضرب المثل کے بولنے یا استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو یوں کہا جاتا ہے۔ ”ایہہ بڈیاں بزرگاں یا سیانریان لوکاں دا اکھان اے“ یعنی یہ بزرگوں اور عقل مند لوگوں کی کہی ہوئی بات ہے یا ضرب المثل ہے۔
ہندکو ایک قدیم اور مکمل زبان ہے اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس میں کہاوت، ضرب المثل، بجھارت (پہیلی) اور محاورے کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے جو کہ صرف اہل زبان کے سینوں میں محفوظ تھا مگر کتابی شکل میں دستیاب نہیں تھا۔ اس ضرورت کے پیش نظر محاورے، روزمرہ اور کہاوتوں پر مشتمل سلطان سکون ؔکی کتاب ”کوزے بچ دریا“ جون 2009 ء میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب کا سرورق محمد عابد نے تحریر کیا اور اسے مثال پبلشرز نے فیصل آباد سے شائع کیا۔ اس کتاب میں 285 محاورے، روزمرہ الفاظ اور کہاوتیں بھی شامل ہیں۔ کتاب کے آخر میں 62 دعائیہ کلمات اور 9 بددعائیں بھی شامل کی گئی ہیں جو ہندکو زبان میں صدیوں سے جاری و ساری ہیں۔ اس کتاب کی یہ خوبی ہے کہ مصنف نے ہندکو محاورات، روزمرہ اور کہاوتوں کا ترجمہ ُاردو زبان میں کیا ہے جس سے اُردو دان طبقے کو بھی استفادہ کرنے کا موقع ملے گا اور ہندکو زبان میں رائج محاورات، کہاوتوں اور روزمرہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ کہاوتیں اور محاورے کسی بھی زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور زبان کی کاملیت کے لیے ان کا موجود ہونا لازمی جزو ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح ہندکو زبان میں بھی ان کا کثیر تعداد میں ذخیرہ موجود ہے۔ ”کوزے بچ دریا“ میں موجود کہاوتیں اور محاورے روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے مختلف معاملات کے بارے میں ہیں۔ ان میں معاشی، معاشرتی، سیاسی و سماجی زندگی کے بارے میں استعمال ہونے والے محاورے اور کہاوتیں بھی شامل ہیں۔ گفتگو کے دوران محاورہ یا کہاوت کلام کو مختصر کر دیتا ہے اور لمبی بات اور تاویل دینے کی ضرورت قطعاً محسوس نہیں ہوتی۔ سننے والا لمحے کے اندر متکلم کی بات کو بھانپ لیتا ہے۔ اس سے گفتگو میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ زبان کی جامعیت اور فصاحت و بلاغت کا اندازہ بھی اسی سے ہی ہوتا ہے۔
اُنھوں نے ترجمہ بڑی سادگی اور روانی کے ساتھ کیا ہے بلکہ اگر سلیس کا لفظ استعمال کیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ ہندکو میں موجود اکثر محاورے اور کہاوتیں تھوڑی بہت کمی و زیادتی کے ساتھ اُردو، انگریزی اور فارسی زبان میں بھی موجود ہیں اسی لیے انھوں نے اُردو اور فارسی کا حوالہ تو دیا ہے مگر انگریزی سے ناواقفیت کی بنا پر اس کا حوالہ نہیں دیا۔ اگر کوئی محقق ان چار زبانوں میں موجود محاوروں اور کہاوتوں کا تقابلی جائزہ لے تو ان میں یکسانیت جگہ جگہ نظر آئے گی۔ ان کہاوتوں اور محاوروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو صرف اور صرف ہندکو زبان کا خاصہ ہیں۔ جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی یا داستان ضرور موجود ہوتی ہے۔ یہ کہانی یا داستان علاقائی ہونے کی بنا پر دوسری زبانوں میں منتقل نہیں ہوتی اور ہندکو زبان ہی میں اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ اُردو اور فارسی میں موجود کہاوتوں اور محاوروں کا حوالہ بھی دیا ہے مثال کے طور پر جیہجے رُوح ایہجے فرشتے۔ یہ کہاوت اُردو زبان میں بھی رائج ہے اور اکثر استعمال میں آتی ہے۔ مونھ چاڑھنا یا مونھ چڑھنا (محاورہ) ترجمہ: تیوری چڑھانا، یہ بھی اُردو میں رائج ہے۔ فارسی کہاوت جو فارسی ادب سے ہندکو ادب میں منتقل ہوئی۔ جڑھا اتھے خوار اوہ مکّے بھی خوار (کہاوت) ترجمہ: جو یہاں خوار ہے وہ مکہ مکرمہ میں جا کر بھی خوار ہے۔ کتاب میں شامل کہاوتوں اور محاوروں کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں سر زمین ہزارہ کی تہذیب و ثقافت اپنے مختلف انداز اور رنگ میں نظر آتی ہے۔ پن چکی کو ہندکو میں ”جندر“ کہتے ہیں۔ پشتو زبان میں بھی یہی لفظ مستعمل ہے۔ آج کل ان کا رواج ختم ہو گیا ہے۔ پہلے وقتوں میں لوگ مکئی اور گندم کے دانے پسوانے کے لیے ”جندر“ پر جایا کرتے تھے۔ ”جندر“ پانی کی مدد سے چلتا تھا اور پانی کا زور پڑنے پر بھاری پتھر حرکت کرنا شروع کر دیتے تھے جس سے دانے پسنا شروع ہو جاتے تھے۔
پھگواڑی کا درخت ہزارہ میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ پھگواڑ یا پھاگ کو جنگلی انجیر بھی کہا جاتا ہے بلکہ یہ اسی ہی کی ایک قسم ہے اس درخت کے بارے میں مشہور ہے اس پر پھل آنے سے پہلے پھول نہیں لگتے یا لگتے بھی ہیں تو کسی کو نظر نہیں آتے۔ اسی بنا پر جو شخص بڑی مدت کے بعد کسی کے گھر یا اس سے ملنے جاتا ہے تو اس کو دیکھ کر یہ کہاوت کہی جاتی ہے ”پھگواڑی دا پُھل ہو گیاں“ ۔ اس کے علاوہ ندی، نالے، پھل، پھول، آسمان، زمین، ریت، بارش، مہینوں کے نام، رنگوں کے نام، دوست، دشمن، ماں باپ، خاندانی، رشتہ داری، ایمان، ایمانداری اور اخلاق و کردار کے حوالے سے کئی محاورے اور کہاوتیں اس مجموعے میں شامل ہیں۔ کتاب کے آخر میں انھوں نے ہندکو زبان میں موجود دعائیہ کلمات اور بددعائیں بھی درج کی ہیں جس سے اس زبان کی جامعیت کا اندازہ با آسانی لگایا جا سکتا ہے مثال کے طور پر یہ دعائیہ کلمات ملاحظہ ہوں :
اللہ اوہ جہان چنگا/گیلا کرے
یعنی اللہ تمہارا آخری سفر (سفر آخرت) اچھا کرے۔ اسے کشادہ کرے۔
کتنی خوبصورت اور جامع دعا ہے جو انسان اپنے کسی عزیز، دوست یا رشتہ دار کو دیتا ہے، جو اس کے ساتھ بھلا کرے۔ بعض اوقات کسی بزرگ مرد و عورت کو راستہ پار کروا دیا جائے یا اس کی مدد کی جائے۔ تو اس موقع پر وہ بزرگ مدد کرنے والے کو یہ دعا دیتے ہیں۔ جس میں دونوں جہان کی کامیابی و کامرانی کی دعا کی جاتی ہے۔ ان دعائیہ کلمات میں اکثر لمبی زندگی، فرمانبردار اولاد، کامیابی و کامرانی، عزت و اکرام، خوشی و جوانی اور صحت بارے میں دعا دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہندکو زبان میں موجود بددعائیں بھی جمع کی ہیں جب انسان کسی دکھ یا مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے اور دکھ اور مصیبت دینے والا سامنے ہویا نہ ہوں تو اس کو برے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ بددعا ملاحظہ ہو: اگا اگا روزی جلا پچھا پچھا توں جلیں۔ ترجمہ: آگے آگے روزی جائے۔ پیچھے پیچھے تم جاؤ، یعنی روزی کے لیے مارے مارے پھرو اور تمہیں روزی نہ ملے۔ اس کتاب میں کہاوتوں اور محاوروں کی مناسبت سے اُردو اور ہندکو اشعار بھی جگہ جگہ درج کیے گئے ہیں۔ اُردو اور ہندکو میں موجود فرق کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اگر کوئی لفظ متروک ہو گیا ہے تو اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ تجربے کے طور پر ان کی خود ساختہ کہاوتیں بھی کتاب کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس کتاب پر پروفیسر آصف ثاقبؔ، پروفیسر صوٖفی عبدالرشیدؔ، ڈاکٹر ارشد محمود ناشادؔ، محمد سرور تنولی، ڈاکٹر محمد صغیر خان، علی سفیان آفاقی، حق نواز خان، پروفیسر شعیب آفریدی اور شفقت تنویر مرزا نے اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔ المختصر یہ کتاب ہندکو زبان و ادب کی تاریخ میں ایک اہم مقام و مرتبے کی حامل ہے۔


