ٹرمپ سادہ دِکھتا ہے مگر بھولا ہرگز نہیں
عمر بڑھنے کے ساتھ ذہن کو پیکا کے قانون نے بھی مفلوج بنا رکھا ہے۔ ’’صحافت‘‘ کے قابل رہ گیا ہوتا تو اس خبر کاعمر رفتہ کی لگن کے ساتھ پیچھا کرتا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے کینیڈا جیسے ہمسائے اور اتحادی کو بھی ناراض کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو 397 ملین ڈالر کی خطیر رقم دینے کا فیصلہ کیوں کیا۔
مذکورہ فیصلہ گزرے ماہ کی 25 تاریخ کو ہمارے سامنے آیا۔ مقصد اس فیصلے کا پاکستان کے F-16 طیاروں کو ’’دہشت گردی سے نبرد آزما‘‘ ہونے کے لئے جدید آلات سے لیس کرنا بتایا گیا تھا۔ یہ خبر پڑھتے ہی میرے ذہن میں سوال اٹھنا چاہیے تھا کہ ٹرمپ جو امریکہ میں مقیم عاشقانِ عمران خان کی نگاہ میں پاکستان کے موجودہ حکومتی بندوبست سے نفرت کرتا ہے پاکستان کو ’’دہشت گردی سے نبرد آزما‘‘ ہونے کے لئے جدید ترین آلات کیوں فراہم کرنا چاہ رہا ہے۔ ’’دہشت گردی‘‘ ہمارے خطے میں ہمیشہ طالبان سے منسوب ہوتی رہی ہے۔ مرکز ان کا افغانستان ہے اور افغانستان سے ٹرمپ ہی نے 21 سالہ جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی افواج کے انخلا کا اعلان کیا تھا۔ سوال اٹھانا لازمی تھا کہ افغانستان سے اپنی افواج کی واپسی یقینی بنانے والا ڈونلڈ ٹرمپ ’’دہشت گردی‘‘ کے خاتمے کی تیاری کیوں کر رہا ہے۔ بڑھاپے اور پیکا ایکٹ سے مفلوج ہوئے ذہن نے یہ سوال مگر اٹھایا نہیں۔ بالآخر مارچ کی 4 تاریخ کو امریکی کانگریس کے اجلاس سے طویل خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک حوالے سے اس سوال کا جواب ازخود فراہم کر دیا ہے۔ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں اور دہشت گردی سے نبرد آزما اداروں نے اس شخص کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کر دیا ہے جو 26 اگست 2021ء کو ہوئے ایک ہولناک واقعہ کا منصوبہ ساز تھا۔ اس روز کابل ایئر پورٹ کے ایبی گیٹ پرخود کش دھماکہ ہوا۔ اس کی وجہ سے 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ 170 کے قریب افغان شہری بھی جان سے گئے۔
ایبی گیٹ پر ہوئے خود کش دھماکے نے امریکہ کو دہلا دیا تھا۔ اس کا میڈیا اور سیاسی نمائندے امریکی صدر جوبائیڈن کواس کا ذمہ دار ٹھہرانے لگے۔ بائیڈن کے حامیوں نے مگر ڈھٹائی سے یاد دلانا شروع کر دیا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا فیصلہ جو بائیڈن نے نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے زلمے خلیل زاد کے ذریعے قطر کے شہر دوحہ میں ہوئے مذاکرات میں کیا تھا۔ بائیڈن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہوئے اس معاہدے پر عمل درآمد کو مجبور تھا۔ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ڈیمو کریٹ اور ری پبلکن جماعتوں کے نمائندے اس سوال کو فراموش کرگئے کہ اگست 2021ء میں ہوئے اس ہولناک دھماکے کا ذمہ دار کون تھا۔ اس کی گرفتاری درکار ہے یا نہیں۔
بارہا اس کالم میں عرض کرچکا ہوں کہ ٹرمپ سادہ دِکھتا ہے مگر بھولا نہیں۔بائیڈن کو شکست دینے کے باوجود وہ امریکی عوام کو یہ ثابت کرنے کو بضد ہے کہ اس کا پیشرو ان کے ملک کی تاریخ کا ’’احمق ونکما ترین‘‘ صدر تھا۔ اس مقصد کو نگاہ میں رکھتے ہوئے نومبر کا انتخاب جیتنے کے بعد سکیورٹی امور کی بابت بریفگنز لیتے ہوئے وہ جاسوسی اداروں سے مستقل 26 اگست 2021ء کے واقعہ کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتا رہا۔ ان دنوں جو شخص سی آئی اے کا سربراہ ہے نام ہے اس کا John Ratcliffe ٹرمپ کے گزشتہ دورِ صدارت میں وہ قومی انٹیلی جنس کا چیف تھا۔ اس عہدے پر فائز شخص ہر صبح امریکی صدر سے مل کر اسے 18 انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے فراہم ہوئی اطلاعات کی تلخیص سے آگاہ رکھتا ہے۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر ریٹ کلف مصررہا کہ 26 اگست 2021ء کے دن کابل ایئرپورٹ پر ہوئے دھماکے کا اصل منصوبہ سازمحمد شریف اللہ ہے۔ وہ ازبکستان سے فرار ہوکر افغانستان آیا تھا اور بعدازاں داعش میں شامل ہوگیا۔ اسے داعش کا کارکن ہونے کی وجہ سے اشرف غنی حکومت کے دوران گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ فاتح کی طرح کابل لوٹتے ہوئے طالبان نے مگر 15 اگست کو جیل توڑ کر وہاں مقید تمام افراد رہا کردئے۔ انٹیلی جنس اداروں کا خیال ہے کہ دوران قید ہی شریف اللہ کابل ایئرپورٹ پر دھماکے کا منصوبہ بنارہا تھا۔ جیل سے رہا ہوتے ہی اس نے اپنے منصوبہ پر عمل درآمد یقینی بنا دیا۔
کابل ایئرپورٹ پر ہوئے دھماکے کے بعد شریف اللہ مگر افغانستان تک محدود نہیں رہا۔ اس نے تقریباََ نو افراد پر مشتمل ایک گروپ بنایا جو افغانستان، تاجکستان، روس اور ایران کے درمیان سفر کرتے رہے۔ اس گروپ نے ایران کے شہرکرمان میں خودکش بمبار کے ذریعے 100 سے زیادہ افراد کی جان لی۔ سب سے خوفناک واردات مگر اس گروہ نے ماسکو میں ما رچ 2024ء میں سرانجام دی جب داعش کے چارنقاب پوش افراد وہاں کے ایک میوزک ہال میں گھس کر بھاری ہتھیاروں سے وہاں موجود تماشائیوں کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بناتے رہے۔ اب یہ اطلاع سامنے آرہی ہے کہ امریکہ نے مذکورہ گروپ پر مستقل نگاہ رکھی ہوئی تھی۔ امریکہ کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے ایران اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات خراب ہونے کے باوجود ان دونوں ممالک کو خبردار کیا تھا کہ ان کی انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق داعش کا گروپ بڑے پیمانے کی کارروائی کرنے والا ہے۔
ٹرمپ کو یہ سب معلومات ملیں تو اس نے مذکورہ گروپ کی گرفتاری کو اولین ترجیح قرار دیا۔ ریٹ کلف کے توسط سے اس نے امریکی فوج کو بھی اس ضمن میں تیار رہنے کا پیغام دیا۔ قابل اعتماد ذرائع سے گفتگو کے بعد اب میں یہ خبر دے سکتا ہوں کہ پاکستان اور امریکی افواج کے مابین ایک خلیجی ملک میں (جو سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نہیں) اعلیٰ ترین سطح پر گزشتہ برس کے آخری ہفتے کے دوران روابط ہوئے۔ ان کے دوران فیصلہ ہوا کہ محمد شریف اللہ کی قیادت میں متحرک گروہ پر کڑی نگاہ رکھی جائے گی اور انہیں زندہ گرفتار کرنا اولین ترجیح ہو گی۔ 20 جنوری کو ٹرمپ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا تو عاشقان عمران اپنے محبوب کی رہائی کا انتظار کرنے لگے۔ ٹرمپ نے مگر سی آئی اے کے سربراہ کو پاکستان سے مسلسل رابطہ رکھتے ہوئے شریف اللہ کی گرفتاری کا ٹاسک دیا۔ سی آئی اے کے سربراہ اور آئی ایس آئی کے مابین کم از کم چار مرتبہ براہ راست رابطے ہوئے۔ ان کے نتیجے میں پاکستان کو شریف اللہ اور اس کے گروہ کی لوکیشن معلوم ہوگئی۔ مصدقہ لوکیشن کے حصول کے بعد شریف اللہ کو گرفتار کرکے امریکہ بھجوا دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف امریکہ میں جو مقدمہ چلایا جائے گا اس کے دوران شریف اللہ کو کماحقہ سزا دلوانے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کو اکثر پاکستان سے مختلف النوع حوالوں سے تعاون درکار ہو گا۔ عمران خان کی رہائی کے لئے فون کرنے کی فی الوقت ٹرمپ کو ضرورت نہیں۔ اس کی ترجیح امریکی عوام کو ثابت کرنا ہے کہ ’’احمق بائیڈن‘‘امریکی فوجیوں کے جس مبینہ قاتل کو گرفتار نہیں کرواسکا تھا ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی اسے پکڑ لیا اور امریکی عدالت سے سزا دلوائی۔ اس ’’مشن‘‘ کی تکمیل کے لئے اسے پاکستان کے موجودہ حکومتی بندوبست کی مدد درکار ہے۔
(بشکریہ نوائے وقت)


