حصولِ علم کا آغاز

ہمارے گاؤں میں قیامِ پاکستان سے پہلے ہی لڑکوں کے لیے ایک پرائمری سکول موجود تھا۔ جہاں پر ہمارے گاؤں کے ساتھ ساتھ اردگرد کے دیہات کے بچے بھی حصولِ علم کے لیے آیا کرتے تھے۔ ابا جی قریبی شہر بورے والا کے ایک سرکاری سکول میں ٹیچر تھے۔ مجھ سے بڑے میرے دو بھائی تھے اور اُن دونوں نے پرائمری تک ہمارے گاؤں کے سکول میں تعلیم حاصل کی اور چھٹی جماعت میں ابا جی کے ساتھ آ کر بورے والا کے ہائی سکول میں داخل ہو گئے۔ بورے والا میں رہائش کے لیے ایک چوبارہ ہمارے پاس موجود تھا۔ چھٹی کے بعد کبھی ابا جان شہر میں بچوں کے پاس ٹھہرتے اور کبھی گاؤں میں کاشت کاری اور ڈھور ڈنگروں سے متعلقہ مسائل کے حل کے لیے واپس گھر آ جایا کرتے۔ چوبارے کے مکین اپنا کھانا خود تیار کرتے۔
مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے میں سات آٹھ سال کا تھا جب مجھے حصولِ علم کے لیے گاؤں کے پرائمری سکول میں بھیجا گیا۔ یہاں پر مجھے سب سے پہلا احساس یہ ہوا کہ میری آزادی سلب ہو کر رہ گئی ہے۔ میرا دم گھٹ رہا تھا میں نے باہر نکلنے کے متعلق سوچنا شروع کر دیا۔ سکول کی چار دیواری اونچی تھی اور میرے لیے اُسے پھلانگنا ناممکن تھا مین گیٹ کے عین سامنے ماسٹر صاحب اپنی کلاس سمیت براجمان تھے۔ ایک طرف کونے میں دیوار میں نیچے کی طرف بڑا سا شگاف کیا ہوا تھا۔ اس شگاف سے نہری پانی سکول کے اندر داخل ہوتا تھا میں چلتا چلتا شگاف کے پاس آیا اور اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے اگلے ہی لمحے میں شگاف میں سے گزرتے ہوئے سکول سے باہر تھا۔
سکول سے باہر آ کر جو سب سے پہلا احساس مجھے ہوا وہ کسی قید خانے سے نکل کر آزاد فضاؤں میں موجودگی کا تھا چاروں طرف دور دور تک ہرے بھرے کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ صاف اور ٹھنڈی ہوائیں، نیلا آسمان، نکھری ہوئی دھوپ پرندوں کی اُڑانیں سب کچھ بہت بھلا لگ رہا تھا۔ میں سکول سے ملحقہ اپنی ملکیتی زمینوں پر موجود تھا۔ کچھ دیر تک اِدھر اُدھر بلا مقصد گھومتا پھرتا رہا۔ سکول بیگ کی شکل میں میرے پاس ملیشیا کا ایک جھولا موجود تھا۔ جس کی کل کائنات ایک عدد تختی، قلم، دوات ایک عدد سلیٹ، سلیٹی اور اُردو کا ابتدائی قاعدہ تھا۔ اس وقت تک ہمارے تعلیمی دانشوروں کی توجہ ابھی اس طرف مبذول نہیں ہوئی تھی اور کندھا توڑ سکول بیگ کا رواج عام نہیں ہوا تھا۔
تھوڑی دیر گھومنے پھرنے کے بعد مجھے بھوک محسوس ہوئی تو میں نے یہاں پر اگائی ہوئی دو تین مولیاں اور گاجریں زمین سے اکھاڑیں کھالے میں موجود پانی سے انہیں دھو کر ایک شیشم کے گھنے درخت کے نیچے بیٹھ کر کھانا شروع کر دیا۔ ٹھنڈی، پاکیزہ اور شفاف ہوا کے جھونکے مجھے لوری دے رہے تھے۔ چلنے پھرنے سے تھوڑی سی تھکاوٹ بھی ہو گئی تھی کچھ پیٹ پوجا بھی ہو چکی تھی اس لیے اونگھ آ گئی۔ جب آنکھ کُھلی تو سکول سے چھٹی ہو چکی تھی اور بچے گھروں کو واپس جا رہے تھے اس طرح میں اپنا سکول کا پہلا دن سکول سے باہر گزارنے کے بعد گھر واپس چلا گیا۔
اگلے دن پھر سکول پہنچا گو کہ سکول کی عمارت تین چار ایکڑوں پر مشتمل تھی۔ عمارت تو خیر برائے نام ہی تھی۔ دو بڑے بڑے کچے کمرے تھے جنہیں سکول کا نام دیا گیا تھا اور وہ کمرے بھی سکول کا ٹوٹا پھوٹا فرنیچر کچھ پھٹے پرانے ٹاٹ اور دیگر بہت سا الم غلم قسم کا غیر ضروری ساز و سامان رکھنے کے کام آتے تھے۔ کلاسیں ساری کی ساری باہر درختوں کے نیچے بیٹھا کرتی تھیں۔ حالاں کہ سکول کے بیشتر طالب علم جانے پہچانے ہی تھے۔ لیکن میں اس ماحول میں بھی اجنبیت کا شکار تھا۔ سکول کی چار دیواری نے سمٹ کر صرف میرے وجود کو ہی اپنے گھیرے میں کچھ اس طرح لے رکھا تھا کہ اس کے اندر مجھے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا لہذا تھوڑی ہی دیر کے بعد میں اپنے دریافت کردہ چور راستے سے گزر کر کھیتوں کی کھلی اور آزاد فضاؤں میں موجود تھا۔
چند دنوں تک تو یہ سلسلہ کچھ اسی طرح چلتا رہا۔ اس کے بعد گھر والوں کو میری اس واردات کا پتہ چل گیا۔ ماں جی اس بات کو لے کر بہت برہم ہوئیں مجھے لعن طعن کی حصولِ علم کی افادیت پر ایک طویل لیکچر دیا۔ حالاں کہ خود وہ کوری ان پڑھ تھیں۔ لب لباب اس سارے لیکچر کا یہ تھا کہ اگر دو چار جماعتیں پڑھ لکھ جاؤ گے تو بقیہ زندگی آسانی سے گزر جائے گی۔ بصورت دیگر ساری عمر جانوروں کی طرح کام کرنا پڑے گا۔ شام کو ابا جی گھر آئے تو یہ گمبھیر مسئلہ اُن کے علم میں لایا گیا۔ انھوں نے نہایت خاموشی سے ساری بات کو سنا اور اس پر کسی بھی قسم کے ردِعمل کا اظہار کرنے سے گریز کیا اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ لیکن اگلے ہی دن مجھے اپنے ساتھ سائیکل پر بٹھایا اور شہر میں لا کر اس سکول میں داخل کروا دیا جہاں وہ خود بھی بحیثیت ٹیچر تعینات تھے۔
پندرہ بیس دن میں پہلی کچی جماعت میں بیٹھتا رہا پھر مجھے پہلی میں داخل کروا دیا۔ اس دوران وہ سکول ٹائم کے بعد ڈیڑھ دو گھنٹے مجھے خود بھی پڑھاتے رہے۔ شاید عمر میں بڑا ہونے کی وجہ سے میں دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ تیزی سے سیکھ رہا تھا۔ تین چار ماہ کے بعد مجھے دوسری جماعت میں پرموٹ کر دیا گیا۔ دوسری جماعت کو وہ خود پڑھایا کرتے تھے۔ میں چوں کہ اس جماعت میں نووارد تھا اور ظاہر ہے کہ باقی لڑکوں سے پیچھے بھی تھا۔ اس لیے وہ مجھے اپنی کرسی کے پاس بٹھایا کرتے اور ریاضی کا مضمون بھی خود ہی کروایا کرتے تھے۔ اُردو عام طور پر کلاس کا مانیٹر ہی پڑھا دیا کرتا تھا۔
اُردو میں ویسے بھی مجھے کچھ شد بد ہو چکی تھی۔ مزید برآں اُردو میں میری دلچسپی کو بڑھانے کے لیے انہوں نے تعلیم و تربیت نامی ایک بچوں کا رسالہ بھی میرے نام سے جاری کروا دیا تھا۔ جو ہر ماہ باقاعدگی سے بذریعہ ڈاک مجھے موصول ہو جایا کرتا تھا۔ اس میں چھوٹی چھوٹی دل چسپ اور اخلاقی کہانیاں آسان اُردو میں ہوا کرتیں جنہیں میں اپنے طور پر پڑھنے کی کوشش کرتا اور جہاں کہیں ضرورت پڑتی دوسروں سے مدد بھی حاصل کر لیتا۔ اُن دنوں کھلونا نامی بچوں کا ایک اور رسالہ بھی نکلا کرتا تھا۔ وہ بھی میں خود خرید لیا کرتا اور اس میں موجود کہانیوں کو پڑھنے کی کوشش کرتا۔
اوائل عمری میں ہی اُردو قصے کہانیاں پڑھنے کی علت کچھ ایسی لگی کہ تمام عمر میرے ساتھ بُری طرح چمٹی رہی میں نے چوتھی پانچویں جماعت میں ہی نسیم حجازی کے ناول پڑھنے شروع کر دیے تھے۔ بڑی جماعتوں میں جا کر بھی نہ صرف یہ علت بدرجہ اُتم موجود رہی بلکہ روز بروز فزوں تر ہوتی گئی۔ اکثر اوقات صبح کو امتحانی پرچہ ہوتا اور شام کو اس کی تیاری کرنے کی بجائے میں کوئی نہ کوئی ناول پڑھ رہا ہوتا اور ظاہر ہے کہ نتیجہ بھی کچھ ایسا اچھا نہ نکلتا۔ اکثر اساتذہ میرے بارے میں ایک اچھا طالب علم ہونے کا گمان رکھا کرتے تھے لیکن میرے امتحانی نتائج انہیں بُری طرح مایوس کر دیا کرتے۔
بات ہو رہی تھی دوسری جماعت کی اُن دنوں پرائمری تک اُردو اور حساب بس دو مضامین کو ہی خصوصی اہمیت دی جایا کرتی تھی۔ اُردو پڑھائی ایک خود کار نظام کے تحت خود بخود ہی بہتر ہو رہی تھی اور حساب ابا جی کی توجہ سے بہتر ہوتا جا رہا تھا۔ تین چار ماہ بعد ہی ہمارا سالانہ امتحان ہوا اور اُس میں کامیابی حاصل کر کے میں تیسری جماعت میں ہو گیا۔ گویا کہ آج کے پرائیویٹ تعلیمی نظام میں حصولِ علم کا جو سفر طے کرنے میں ایک بچے کو پانچ چھ سال کا طویل عرصہ درکار ہوتا ہے وہ سارا سفر میں ایک ہی سال کی جست میں پھلانگ چکا تھا۔

