خلوص کی مہکار اور پھوار میں بھیگے ابر آلود دن کی کتھا


صبح سویرے جب گھر سے نکلے تو رات بھر برسنے والی بارش تھم چکی تھی۔ موسم ابر آلود دھند میں لپٹا، صاف ستھرا نکھرا نکھرا، سرسبز و شاداب رسالپور نظروں کو بہت بھلا لگ رہا تھا۔ بادل، کہر آلود موسم اور بارش یہ ساری چیزیں مجھے بے حد پسند ہیں۔ بیماری سے پہلے اکثر ایسے موسم میں جوگرز پہن کے گھر کے سامنے واکنگ ٹریک پر چہل قدمی کے لئے نکل پڑتی تھی۔ ہلکی ہلکی پھوار میں، اپنی سوچوں میں گم چلنا کسی دل کش و سہانے خواب کی طرح لگتا۔ لیکن اب دو سال سے بیماری کی وجہ سے میں اپنے پسندیدہ مناظر باہر نکل کر نہیں دیکھ پاتی۔ آج ایسے موسم میں باہر آئی تو بہت اچھا لگا درختوں پہ نئے نویلے پتے بارش میں نہا کے زیادہ سرسبز نظر آرہے تھے۔ موٹر وے پر آئے تو نظاروں کی دل کشی اور سندرتا میں مزید اضافہ ہو گیا۔ کچھ آگے بڑھے تو پھولی اور کھلی پیلی پیلی سرسوں کے تاحدِ نظر کھیتوں نے نگاہوں کو تراوٹ اور دل کو شاد کام کیا، امیر خسرو کے گیت یاد آئے۔ اسلام آباد پہنچے تو گھنگھور گھٹاؤں میں لپٹا اسلام آباد زیادہ حسین نظر آیا۔ تھوڑی دیر میں ہم نیشنل بک فاؤنڈیشن پہنچ گئے۔

گاڑی سے اترے تو ہلکی ہلکی پھوار پڑنی شروع ہو گئی۔ گاڑی سے اتر کر، خیال تھا کہ فون کروں مگر اس سے پیشتر ہی محترم مراد علی اپنی مخصوص خوش مزاجی اور دل نواز مسکراہٹ کے ساتھ سیڑھیاں اتر کر استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ انڈونیشیا کے تعاون سے بنے بہت خوبصورت گیسٹ روم میں بٹھایا۔ اسد کا تعارف کروایا، اتنے میں نازیہ رحمٰن بھی آ گئیں، ان سے غائبانہ تعلق تو پہلے سے تھا ان کی تعریف سن رکھی تھی انہیں تعریف سے بڑھ کر پایا۔ ان خوشگوار لمحات کو فوٹوگرافر عکس بند کرنے میں مصروف رہا اور ہم اپنی گفتگو میں، جو کتاب ماضی کی روایات اور مختلف موضوعات کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ اتنے میں کافی آ گئی۔

باہر کن من کن من بوندوں کا تار سا بندھ گیا، اندر خلوص کی گرمی، کافی کی مہک اور مٹھاس، دل نواز اور خوشگوار تھی۔ میں نے اپنی پہلی تصنیف و تالیف جو ربنا کی دعاؤں پر مشتمل ہے، مراد علی صاحب کو پیش کی اور انہوں نے مجھے نواح کا ظمہ جیسی انمول کتاب دی وہ کتاب جس کا منظوم ترجمہ ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ نے کیا ہے۔

قصیدہ بردہ شریف سے مجھے جو عقیدت ہے سو ہے پر اس عقیدت کی ایک اور وجہ میری بہت پیاری دوست روبینہ قاضی اور ان کی قابلِ صد احترام والدہ جو میری بھی ماں سمان ہیں، وہ اور ان کا خاندان قصیدہ بردہ شریف کا عامل ہے۔ اس حوالے سے مجھے بھی ایک خاص قسم کی عقیدت اور محبت رہی ہے، میں نے جب سے یہ سنا کہ ڈاکٹر صاحبہ نے اس کو منظوم کیا ہے تو میری خواہش تھی کہ میں اس کتاب کو پڑھ سکوں، مراد علی کو اللّہ خوش رکھے، انہوں نے یہ کتاب دے کر میرے من کی مراد پوری کردی۔ اس کتاب کا ملنا اور پڑھنا میرے لیے ایک انعام ایک سعادت ہے۔ کتابوں کے تبادلے، گفتگو اور کافی کے بعد وہ ہمیں میوزیم دکھانے لے گئے، میرا خیال تھا کہ میوزیم اوپر ہے، مراد صاحب نے کہا نہیں میڈم آئیں یہ گراؤنڈ فلور پر ہے لہذا ہم خوشی خوشی میوزیم کی طرف چل پڑے، گیلری میں وال آف فیم دیکھی، مشاہیر ادب کی تصاویر دیکھ کر ذوق کا شعر یاد آیا۔

رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے رہے یہی دو پشت چار پشت

شاعر بھی کیسے پیمبر ہوتے ہیں کہ ان کی کہی ہوئی باتیں برسوں بعد بھی حقیقت کے روپ میں نظر آتی ہیں صدیاں گزرنے کے بعد بھی شاعر، ادیب زندہ ہیں۔ گیلری میں اپنے شہر کوہاٹ کے طرحدار شاعر احمد فراز کے نام سے موسوم ”احمد فراز آڈیٹوریم“ دکھایا گیا۔

گیلری کے بہت خوبصورت دروازے سے گزرکر اندر گئے تو شاندار میوزیم اور نوادرات ہمارے منتظر تھے۔ میوزیم تک مراد علی صاحب خود ساتھ ساتھ رہے، بریف کرتے رہے پھر ان کی کچھ اہم میٹنگز تھیں، انہوں نے اجازت چاہی۔ نازیہ ہمارے ساتھ ساتھ رہیں اور ایک ایک کونہ ایک ایک چیز دکھاتی رہیں مختلف صوبوں، ان کی ثقافت کے حوالے سے بنے کارنر دیکھے، رومی کارنر، محلہ بلی ماراں، تو خطوطِ غالب نے ذہن پر نقش کر رکھا تھا۔ یہاں غالب نوائے سروش سننے میں محو تھے تو اقبال اپنے گہرے تفکر اور سوچ بچار میں گم تھے۔

رہے گا وادی نیل و فرات میں کب تک
تیرا سفینہ کہ ہے بحر بیکراں کے لئے

”نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر“ امت مسلمہ کو ایک امت ایک طاقت دیکھنے کی تمنا رکھنے والے شاعرِ مشرق آج ٹکڑوں میں بٹی ہوئی مسلم ریاستوں اور نوجوانوں کی حالت زار دیکھیں تو، وہ جوان جنہیں وہ کچھ اس دردمندی سے پکارتے ہیں۔

کبھی اے نوجواں مسلم تدبّر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

سلگتی سوچوں کا ایک الاؤ تھا کہ۔ وہ تو بھلا ہو نازیہ کا کہ اس کی آواز مجھے سوچوں کے گرداب سے باہر لے آئی۔ آئیں۔ یہ معجزاتی قرآن پاک دیکھیں۔ نازیہ نے بتایا کہ یہ معجزاتی قرآن ہیں قرآن تو خود معجزہ ہے۔ نازیہ نے وضاحت کی کہ معجزاتی قرآن اس لیے کہتے ہیں کہ یہ وہ قرآن مجید ہیں کہ جو شدید آگ میں بھی نہیں جلے اور صحیح سلامت موجود رہے۔ میں نے بہت عقیدت سے تمام قرآن پاک دیکھے۔ کچھ قرآن بہت چھوٹے سائز میں موجود تھے جن کے ساتھ محدب عدسہ موجود تھا تاکہ انہیں دیکھا جا سکے محدب عدسے کی مدد سے ان بہت ہی چھوٹے قرآن پاک کو دیکھا۔ قرآن پاک کے نایاب نسخوں کا یہ حصّہ بہت اچھا لگا۔

بلغَ العُلا بکمالِہ
کشفَ الدُجی بِجمالِہ
حَسُنَتْ جمیعُ خِصالِہ
صلُّوا علیہ و آلِہ

اس کے ساتھ ہی اقبال کی مشہور رباعی ”گر حسابم را تو بینی ناگزیر“ کچھ لکھی ہوئی چیزیں بھی کتنی مقبول اور کیسی زندہ جاوید ہوتی ہیں ان دونوں کے ساتھ بھی اپنے دلی تعلق اور ربط کو محسوس کیا۔

میری پوتی خدیجہ کو مشاہیر کے یہ مجسمے اچھے لگے وہ ان کے ساتھ تصاویر بناتی رہی۔ آخری کونے میں بابائے قوم قائدِ اعظم ایک وقار کے ساتھ متمکن تھے مگر یہاں میں نظریں چرا کر آگے بڑھی مبادا پھر سلگتے سوال اور سوچیں پریشان کریں۔

میوزیم کے اختتام پر نازیہ نے رجسٹر میں اپنے خیالات لکھنے کی دعوت دی۔ اپنی پسندیدگی، این بی ایف کی مہمان نوازی، ان کے بہترین رویے کو سراہا، خراج تحسین پیش کیا اور پوار صفحہ لکھ ڈالا۔ دو قدم آگے بڑھے تو نازیہ نے مارکر پکڑا کر کہا اس دیوار پر اپنے دستخط کر دیجئے، دستخط کر کے میوزیم سے باہر نکل کر گیلری میں بنی بک شاپ میں گئے، کتابیں دیکھیں، وہاں سے رخصت چاہی، باہر بارش تیز ہو گئی تھی نازیہ ہمارے ساتھ باہر آنے لگی اسے منع کیا، مگر منع کرنے کے باوجود وہ باہر گاڑی تک آئی۔ بہت گرم جوشی سے رخصت کیا اور بار بار یہ کہتی رہی کہ آپ چلا پھرا کریں، نکلا کریں، باہر آیا جایا کریں، آپ نے بیٹھنا نہیں ہے اس کا یہ پیار بھرا انداز اور اپنے لیے فکر مند ہوتے دیکھنا مجھے بہت اچھا لگا، دل سے اس کے لئے سے بہت سی دعائیں نکلیں۔

این بی ایف کے ایم ڈی مراد علی صاحب، کلیدی عہدے پر فائز خوش خلق نازیہ رحمن جو قدم بہ قدم ہمارے ساتھ رہیں، خوش اخلاقی اور محبت کی خوشگوار یاد لیے باہر آئے۔ مراد علی صاحب کے گرم جوش استقبال، میزبانی، نازیہ کی توجہ پیار اور بہت وقت دینے کے لیے شکر گزار بھی ہوئی اور دعا گزار بھی۔ یہ حقیقت ہے کسی سرکاری ادارے کا ایم ڈی، شاید ہی اتنا خوش اخلاق اور منکسر المزاج ہو۔ شکریہ مراد علی صاحب اور نازیہ آپ لوگوں نے مثبت چہرہ دکھایا اور دل میں ٹمٹاتی خوش امیدی کی لو کو روشن کر دیا، ہمیشہ کامیاب و کامران رہیں۔

Facebook Comments HS