مشکل کے ساتھ آسانی ہے لیکن توکل ضروری ہے
پریشان وہ نہیں جو پریشانیوں میں گھرا ہو بلکہ پریشان وہ ہے جو خود پر پریشانیوں کو طاری کر لیتا ہے۔ ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریات زندگی کا پورا نہ ہونا سفید پوش عوام کے لئے امتحان ہے۔ بہت سے افراد وقتی مشکلات کو برداشت نہیں کر پاتے ہیں اور آمدنی میں اضافے اور زندگی کو آسان بنانے کے لئے غلط راستے پر چل پڑتے ہیں۔ حال ہی کی بات ہے میں نے ایک ایپ کے ذریعے آرڈر کر کے کچھ چیزیں منگوائیں، رائیڈر کے چہرے سے اس کی نیت کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا، دیکھنے میں اچھے اخلاق کا مالک اور شریف آدمی لگتا تھا۔
سامان لے کر آیا، پیسے بتائے، میں نے ساتھ میں کچھ اضافی رقم ٹپ کے طور پر بھی دے دی۔ کچھ دیر کے بعد مجھے مختلف رائیڈرز کی کالز آنا شروع ہو گئیں کہ آپ نے بکنگ کی ہے، میں نے کہا کہ میرا آرڈر آ چکا ہے تو ایک شخص نے بتایا کہ جس رائیڈر سے منگوایا تھا اس نے آرڈر لے کر ایپ پر کینسل کر کے سامان پہنچایا ہے۔ میرے لئے حیران کن تھا کہ اپنی کمپنی کے کچھ روپے مار کر سب اپنی جیب میں ڈال لینے سے کوئی کتنا امیر ہو سکتا ہے۔
کچھ شعبے ایسے ہیں جہاں رزق کمانے کے ساتھ نیکیاں جمع کرنے کا بھی بھرپور موقع ہوتا ہے جن میں میڈیکل اور میڈیسن کا شعبہ سر فہرست ہیں، لیکن ہماری بد قسمتی ہے کہ اکثر افراد یہ موقع گنوا دیتے ہیں۔ ہمیں جھوٹ بولنے میں مزہ آتا ہے اور یہاں تک کہ رمضان میں بھی یہ شوق روزہ کی حالت میں بخوبی پورا کرتے ہیں۔ کچھ دن پہلے ایک دوائی خریدنے کے لیے میڈیکل سٹور جانا ہوا، دوا کا نام سنتے ہی جواب ملا کہ یہ شارٹ ہے اسی فارمولے کی دوسری دوا موجود ہے وہ لے لیں، اس معاشرے میں رہتے ہوئے بات بات پر جھوٹ سننے کی عادت سی ہو گئی ہے اور یہ بھی پتا چل گیا ہے کہ جب کوئی چیز سٹاک میں موجود نہ ہو تو اکثر کہہ دیا جاتا ہے کہ شارٹ ہو گئی ہے یا پھر کمیشن حاصل کرنے کے شوق میں بھی جھوٹ بول کر ہلکے برانڈ کو بیچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بہرحال میں ایک اور میڈیکل سٹور پر چلا گیا اور وہاں درجن سے زیادہ پیک موجود تھے۔ اسلام کسی کو زندگی کی مشکلات کی وجہ سے یا آمدنی بڑھانے کے لئے غلط راستہ منتخب کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے۔
بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
کوئی مشکل ایسی نہیں جس کے بدلے میں اللہ نے نعمت نہ رکھ دی ہو۔ یہ نعمت یا تو اسی مشکل کے حل کی شکل میں ہو سکتی ہے یا پھر کسی اور بھلائی کی صورت میں۔ ضرورت ہے کہ ہم شکوے اور غلط کام چھوڑ کر نعمتوں کی تلاش اور گنتی شروع کریں، اپنے ہر عمل کو پاک اور آمدنی کو حلال رکھیں۔
اللہ کی محبت کو ستر ماؤں کی محبت سے تشبیہ دی گئی ہے، اس کا مقصد اس حقیقی محبت کو محدود کرنا نہیں بلکہ خالق کی محبت کی شدت کو سمجھنا اور سمجھانا ہے۔
جس طرح ماں اپنے بچوں پر مہربان ہوتی ہے، اللہ تعالی ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ کچھ لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ جہاں خوف ہے وہاں محبت موجود نہیں ہوتی اور محبت کے لئے خوف کا دور ہونا ضروری ہے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کا خوف بھی دل میں ہو جب کہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہے۔ آئیے اس کو آسان مثال سے سمجھ لیتے ہیں۔ ماں کا پیار جتنا زیادہ ہو گا، اس کے چھن جانے کا خوف بھی اتنا زیادہ ہو گا۔
آپ اپنے والد کو جتنا چاہتے ہوں یَقِیناً ان کی ناراضگی سے اتنا ہی ڈریں گے۔ بس اسی طرح اللہ کی محبت اور خوف ایک ہی وجود میں بیک وقت ہونے چاہئیں۔ محبت کرنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے اور جب محب رب کی ذات ہو جو رحمان اور رحیم ہونے کے ساتھ جزا و سزا کے دن کا مالک بھی ہے تو اس کی ناراضگی سے ڈرنا ضروری ہے۔ جو اللہ سے سچی محبت کرتا ہے وہ اس کی ناراضگی سے ڈرتا ہے اور جس کے دل میں اللہ کی محبت شدت سے آ جائے وہ دنیا والوں کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔
ارشاد باری تعالٰی ہے۔
”یاد خدا سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے“
ہماری زندگیوں میں اگر قناعت، توکل اور اللہ کا ذکر نہ ہو تو مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے اور جو انسان اللہ تعالٰی کو یاد کرتا ہے، اس پر بھروسا رکھتا ہے وہ با ہمت ہوتا ہے، خوش رہتا ہے، اس کی مشکلات میں کمی آتی ہے اور زندگی میں موجود مسائل سے نمٹنا آسان ہو جاتا ہے۔ قناعت اور توکل نہ ہو تو طاقتور آدمی سے زیادہ پریشان کوئی نہیں رہتا ہے۔ لالچ کی کوئی حد نہیں ہوتی، عطا کردہ زندگی سے مطمئن رہنا بہت بڑی نعمت ہے۔ ایسا انسان مشکلات میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔


