چارلس ڈارون سے کون خوفزدہ ہے؟


 

(یووال نوح ہراری کی کتاب ہومو ڈیوس سے ایک مضمون کا ترجمہ)

گیلپ سروے ( 2012 ) کے مطابق صرف 15 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ ہوموسیپینز قدرتی انتخاب کے ذریعے ارتقا پذیر ہوئے ہیں اور کسی بھی الہامی مداخلت کے بغیر۔ 32 فیصد لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت میں لاکھوں سالوں میں دوسرے جانداروں سے ارتقا پذیر ہوا ہو لیکن یہ سارا عمل خدا کی ہدایت پر ہوا ہو گا۔ 46 فیصد کا یہ یقین ہے کہ پچھلے 10 ہزار سالوں میں خدا نے انسان کو اس کی موجودہ حالت میں تخلیق کیا ہے، جیسے کہ بائبل کہتی ہے۔ تین سال کالج میں گزارنے کے باوجود ان کے خیالات پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اسی طرح کا ایک سروے بی اے گریجوایٹس میں کیا گیا: 46 فیصد بائبل کی تخلیق کی کہانی پر یقین رکھتے ہیں جبکہ صرف 14 فیصد سمجھتے ہیں کہ انسان کسی خدائی سرپرستی کے بغیر ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ ایم اے اور پی ایچ ڈی رکھنے والوں میں، 25 فیصد بائبل پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ صرف 29 فیصد کا ماننا ہے کہ ہماری نوع کی تخلیق مکمل طور پر قدرتی انتخاب کے ذریعے ہوئی۔

اگرچہ اسکول ارتقا کی تعلیم دینے میں بہت ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، پھر بھی مذہبی انتہا پسندوں کا اصرار ہے کہ ارتقا کو بالکل نہیں پڑھایا جانا چاہیے۔ یا کم از کم بچوں کو ”انٹیلیجنٹ ڈیزائن“ یعنی کسی اعلیٰ ذہانت (یعنی خدا) کی تخلیق کا نظریہ بھی پڑھایا جانا چاہیے۔ مذہبی گروہوں کا مطالبہ ہے کہ دونوں نظریات پڑھائے جائیں اور فیصلہ بچوں پر چھوڑ دیا جائے۔

لیکن ایسا کیوں ہے کہ ارتقا کے نظریے پر اس قدر اعتراضات کیے جاتے ہیں، جبکہ کوئی بھی تھیوری آف ریلیٹیوٹی یا کوانٹم مکینکس پر اعتراض نہیں کرتا؟ سیاستدانوں کو یہ مطالبہ کرتے نہیں دیکھا جاتا کہ بچوں کو مادہ، توانائی، وقت اور جگہ کے متبادل نظریات بھی سکھائے جائیں۔ جبکہ ڈارون کے خیالات، کم از کم ظاہری طور پر، آئن سٹائن اور ورنر ہائزنبرگ کے سائنسی تصورات سے کہیں کم خطرناک نظر آتے ہیں۔ ارتقا کا نظریہ بقا کے اصول پر مبنی ہے، جو ایک سادہ اور واضح تصور ہے۔ اس کے برعکس، تھیوری آف ریلیٹیوٹی اور کوانٹم مکینکس یہ کہتی ہیں کہ وقت اور جگہ مڑ سکتے ہیں، کچھ چیزیں عدم سے ظاہر ہو سکتی ہیں، اور ایک بلی بیک وقت زندہ اور مردہ ہو سکتی ہے۔ یہ سب کچھ انسانی عقل کے خلاف محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود کوئی یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ ان خیالات کو اسکولوں میں پڑھانے سے روکا جائے۔ آخر کیوں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ تھیوری آف ریلیٹیوٹی ہماری جذباتی یا مذہبی عقائد سے متصادم نہیں ہوتی۔ زیادہ تر لوگ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ وقت اور جگہ مطلق ہیں یا نسبتی۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ وقت اور جگہ کو موڑا جا سکتا ہے، تو ٹھیک ہے، جا کر موڑ لیجیے، اس سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے؟ مگر ڈارون نے ہم سے ہماری روح چھین لی ہے۔ اگر آپ ارتقا کے نظریے کو صحیح معنوں میں سمجھیں، تو آپ کو معلوم ہو گا کہ روح کا کوئی وجود نہیں۔ یہ خیال صرف دیندار عیسائیوں اور مسلمانوں ہی کے لیے نہیں، بلکہ ان سیکولر افراد کے لیے بھی خوفناک ہے، جو کسی مذہبی عقیدے پر تو کاربند نہیں، لیکن پھر بھی یہ ماننا چاہتے ہیں کہ ہر انسان کے اندر کوئی لازوال، غیر متبدل جوہر موجود ہے جو زندگی میں بھی برقرار رہتا ہے اور مرنے کے بعد بھی باقی رہ سکتا ہے۔

لفظ ’انفرادی‘ کا مطلب ہی یہ ہے کہ کوئی چیز تقسیم نہیں ہو سکتی۔ اگر میں ایک ’انفرادیت‘ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا اصل وجود ایک ناقابل تقسیم اور مستقل حقیقت ہے، جو وقت کے ساتھ برقرار رہتی ہے۔ یہ ناقابل تقسیم جوہر مبینہ طور پر ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک بغیر کسی کمی یا زیادتی کے برقرار رہتا ہے۔ میرا جسم اور دماغ مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزرتے ہیں، جہاں نیورون متحرک ہوتے ہیں، ہارمونی نظام فعال رہتا ہے، اور عضلات سکڑتے اور پھیلتے ہیں۔ میری شخصیت، خواہشات اور تعلقات کبھی جامد نہیں رہتے بلکہ سالوں اور دہائیوں میں مکمل طور پر بدل سکتے ہیں۔ مگر ان سب تبدیلیوں کے باوجود، میں پیدائش سے لے کر موت تک اور امید ہے کہ موت کے بعد بھی، وہی شخص برقرار رہتا ہوں۔

بدقسمتی سے، ارتقا کا نظریہ اس خیال کو مسترد کرتا ہے کہ میرا حقیقی وجود کوئی ناقابل تقسیم، غیر متغیر اور ممکنہ طور پر ابدی جوہر ہے۔ اس نظریے کے مطابق، تمام جاندار۔ ہاتھیوں اور درختوں سے لے کر خلیات اور ڈی این اے تک، چھوٹے اور سادہ اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں، جو مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ہاتھی اور خلیات نئے امتزاج اور تقسیم کے نتیجے میں بتدریج ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔ کوئی ایسی چیز جو تقسیم یا تبدیل نہ ہو سکے، وہ قدرتی انتخاب کے ذریعے وجود میں نہیں آ سکتی۔

مثال کے طور پر، انسانی آنکھ ایک پیچیدہ نظام ہے جس میں لینس، کورنیا، اور ریٹینا جیسے کئی اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ آنکھ اچانک مکمل شکل میں نہیں بنی بلکہ لاکھوں سالوں میں ایک ایک قدم کر کے ترقی کرتی گئی۔ ہماری آنکھ ہومو ایریکٹس کی آنکھ سے بہت مشابہت رکھتی ہے، جو 10 لاکھ سال پہلے زمین پر رہتا تھا۔ یہ آسٹرالوپیتھیکس (Australopithecus) کی آنکھ سے کچھ کم مشابہ ہے، جو 50 لاکھ سال پہلے موجود تھا۔ یہ ڈرائیولیسٹس (Dryolestes) کی آنکھ سے بہت مختلف ہے، جو 15 کروڑ سال پہلے رہتا تھا۔ اور یہ ان یک خلوی جانداروں سے بالکل مختلف لگتی ہے جو کروڑوں سال پہلے ہماری زمین پر آباد تھے۔

تاہم، یک خلوی جانداروں میں بھی ننھے ننھے آرگنیلز ہوتے ہیں جو انہیں روشنی اور تاریکی میں تمیز کرنے اور کسی ایک سمت میں حرکت کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ ایسے قدیم سینسرز سے لے کر انسانی آنکھ تک کا سفر طویل اور پیچیدہ ہے، لیکن اگر آپ کے پاس کروڑوں سال ہوں، تو آپ یقیناً یہ پورا راستہ قدم بہ قدم طے کر سکتے ہیں۔ آپ ایسا اس لیے کر سکتے ہیں کیونکہ آنکھ کئی مختلف حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اگر ہر چند نسلوں کے بعد ایک چھوٹا سا تغیر (میوٹیشن) کسی ایک حصے کو معمولی طور پر تبدیل کر دے۔ مثلاً، اگر کورنیا تھوڑا زیادہ خم دار ہو جائے۔ تو لاکھوں نسلوں کے بعد یہ تبدیلیاں انسانی آنکھ کی تشکیل کر سکتی ہیں۔ اگر آنکھ ایک کلی (ہولسٹک) اکائی ہوتی، جو کسی بھی حصے سے محروم ہوتی، تو یہ کبھی بھی قدرتی انتخاب کے ذریعے ارتقا پذیر نہ ہو سکتی۔

اسی لیے ارتقا کا نظریہ روح کے تصور کو قبول نہیں کر سکتا، کم از کم اس صورت میں جب ایک ”روح“ جب اس سے مراد کوئی ناقابل تقسیم، غیر متغیر، اور ممکنہ طور پر لازوال ہستی ہو۔ ایسی کوئی ہستی قدم بہ قدم ارتقا کے نتیجے میں وجود میں نہیں آ سکتی۔ قدرتی انتخاب انسانی آنکھ کو اس لیے وجود میں لا سکتا تھا کیونکہ آنکھ کے مختلف حصے ہوتے ہیں۔ مگر روح کے کوئی حصے نہیں ہوتے۔ اگر سیپینز کی روح بتدریج ایریکٹس کی روح سے ارتقا پذیر ہوئی، تو یہ مراحل کیا تھے؟ کیا روح کا کوئی ایسا حصہ ہے جو سیپینز میں ایریکٹس کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ ہے؟ مگر روح کے تو کوئی حصے ہی نہیں ہوتے۔ آپ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ انسانی روح ارتقا پذیر نہیں ہوئی، بلکہ کسی روشن دن اپنی مکمل عظمت کے ساتھ ظاہر ہوئی۔ مگر وہ روشن دن کون سا تھا؟ جب ہم انسانیت کے ارتقا کو قریب سے دیکھتے ہیں، تو یہ شرمندگی کی حد تک مشکل ہو جاتا ہے کہ اس مخصوص لمحے کو تلاش کریں جب روح وجود میں آئی۔ ہر انسان جو کبھی پیدا ہوا، وہ ایک نر کے نطفے اور مادہ کے بیضے کے ملاپ سے وجود میں آیا۔ ذرا اس پہلے بچے کے بارے میں سوچیں جس کے پاس روح تھی۔ وہ اپنی ماں اور باپ سے بہت زیادہ مشابہ تھا، سوائے اس فرق کے کہ اس کے پاس روح تھی اور ان کے پاس نہیں تھی۔ ہمارا حیاتیاتی علم یقیناً اس بات کی وضاحت کر سکتا ہے کہ کوئی بچہ اپنی آنکھ کے کورنیا کو اپنے والدین کے مقابلے میں ذرا زیادہ خم دار لے کر پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ کسی ایک جین میں معمولی تغیر (میوٹیشن) ایسا کر سکتا ہے۔ لیکن حیاتیات اس بات کی وضاحت نہیں کر سکتی کہ ایسے والدین کی اولاد میں ایک ایسا بچہ کیسے پیدا ہوا جس کے پاس ایک ابدی روح تھی، جبکہ خود اس کے والدین کے پاس روح کا شائبہ تک نہ تھا۔ کیا صرف ایک جینیاتی تغیر (میوٹیشن) ، یا حتیٰ کہ کئی تغیرات، کسی جاندار کو ایسا جوہر عطا کر سکتے ہیں جو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ رہے، حتیٰ کہ موت سے بھی؟

لہٰذا، روحوں کا وجود ارتقا کے نظریے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔ ارتقا کا مطلب ہے تبدیلی، اور یہ کسی لازوال ہستی کو پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ارتقائی نقطۂ نظر سے، انسانی جوہر کے قریب ترین چیز ہمارا ڈی این اے ہے، اور ڈی این اے کا مالیکیول تغیر (میوٹیشن) کا ذریعہ ہے، نہ کہ ابدیت کا مرکز۔ یہ حقیقت بے شمار لوگوں کو خوفزدہ کرتی ہے، اور وہ اپنی روحوں کے عقیدے کو ترک کرنے کے بجائے ارتقا کے نظریے کو مسترد کرنا پسند کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS