کیا زیلنسکی مستقبل میں نیگن وان تھیو بن سکتے ہیں؟
یوکرائنی صدر زیلنسکی اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان اوول آفس میں ہونے والی بحث و تکرار ایک اہم واقعہ ہے جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ منظر عام پر آنے والی یہ بحث و تکرار نہ صرف ان دونوں رہنماؤں کے درمیان موجود سیاسی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ اس کے ذریعے دنیا کو ایک اہم پیغام بھی مل رہا ہے۔ یہ پیغام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی سیاسی مفادات تیزی سے بدل رہے ہیں اور طاقتور ممالک اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔
زیلنسکی اور ٹرمپ کے درمیان اس تکرار کا منظر عالمی سطح پر مختلف مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب اپنے مفادات کی بنیاد پر نئے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جس سے دنیا بھر میں نئی سیاسی صف بندیاں اور چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ کیا اس موقع پر تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟
امریکہ نے 1972 میں سرد جنگ کے دوران ویت نام جنگ سے نکلنے، جنگ کا خاتمہ کرنے اور سوویت یونین کو کمزور کرنے کے لیے چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔ اس حکمت عملی میں پاکستان کی فوجی حکومت نے امریکی اشارے پر اہم کردار ادا کیا تھا۔ امریکہ کا مقصد چین کو نیوٹرل کر کے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا تھا تاکہ سوویت یونین کے خلاف ایک طاقتور محاذ بنایا جا سکے۔ کیونکہ سوویت یونین ویت نام جنگ کو امریکہ کے خلاف سرد جنگ کے محاذ کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ اس نے امریکہ کے ساتھ براہ راست جنگ میں شامل ہونے کی بجائے پراکسی جنگ کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھایا۔ سوویت یونین نے چین اور شمالی ویت نام کے ساتھ مل کر امریکہ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ امریکہ ویت نام میں اپنی جنگی پوزیشن کو برقرار نہ رکھ سکے۔
چین کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے امریکہ نے تائیوان کو قربان کر دیا۔ 1971 میں جب امریکہ نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کی تو اس پالیسی کا پہلا نشانہ تائیوان بنا۔ تائیوان کی حیثیت اقوام متحدہ میں چین کے جائز جانشین کے طور پر ختم ہو گئی۔ تائیوان کی اقوام متحدہ میں رکنیت ختم کر دی گئی اور چین کی بطور رکن حیثیت بحال ہو گئی۔ امریکہ نے تائیوان کے تحفظ کے معاملے کو اس وقت بالکل نظرانداز کر دیا اور اس طرح تائیوان کی بین الاقوامی حیثیت کو بڑی حد تک کمزور کر دیا۔ یہ تائیوان کے ساتھ ایک سیاسی اور سفارتی دھوکہ تھا جس نے تائیوان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا۔
امریکہ کی اس وقت چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی صرف اپنی سرد جنگ کی حکمت عملی کو تقویت دینے کے لیے تھی۔ جس کے تحت وہ اپنی عالمی پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتا تھا نہ کہ جنوبی ویتنام کے مفادات کا خیال رکھنا تھا۔ چین نے بھی اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے عالمی سطح پر اپنے سیاسی تجارتی اور معاشی مفادات کے لیے راہیں ہموار کی۔ چین کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے بعد امریکہ نے سوویت یونین پر دباؤ ڈالنا شروع کیا تاکہ ویتنام جنگ میں اپنی شکست کو کسی بھی طرح سے ”امن معاہدے“ کے ذریعے چھپایا جا سکے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1973 میں امریکہ اور شمالی ویت نام کے درمیان پیرس امن معاہدہ طے پا گیا جس میں جنوبی ویتنام کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔ امریکہ نے اپنے فوجی واپس بلا کر نہ صرف جنوبی ویت نام کو تنہا چھوڑ دیا۔
(افغانستان کی مثال بھی ذہن میں رکھیے ) امریکہ نے اپنے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے جنوبی ویتنام کو سیاسی طور پر دھوکہ دے کر ان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا۔ چین کا اس حوالے سے اہم کردار تھا کیونکہ چین نے امریکہ ویت نام جنگ کے دوران شمالی ویت نام کو غیر سرکاری طور پر مدد فراہم کی تھی اور اس کا اثر و رسوخ شمالی ویت نام پر تھا۔ چین کی حمایت کے بغیر شمالی ویت نام کو امریکہ کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔ 1972 میں نِکسن کا چین کا دورہ اس تعلقات میں بہتری کا پیش خیمہ تھا جس کے بعد چین اور امریکہ کے تعلقات نے ویت نام جنگ پر اثر ڈالا اور جنگ بندی اور امن معاہدے کی فضا پیدا کرنے میں مدد دی۔ چین کی موجودگی نے شمالی ویتنام کو مذاکرات میں لچک دکھانے کے لیے مجبور کیا اور اس کے نتیجے میں امریکہ کی پوزیشن کو تقویت ملی کیونکہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری سے سوویت یونین شدید دباؤ میں آ گیا۔ اس طرح چین کا کردار عالمی سیاست میں ایک اہم کڑی کے طور پر سامنے آیا۔ جس نے امریکہ کے ویتنام جنگ سے نکلنے کے عمل کو آسان بنایا اور شمالی ویت نام کے ساتھ مذاکرات میں سہولت فراہم کی۔
نیگن وان تھیو جو جنوبی ویتنام کے صدر تھے 1973 میں ویت نام جنگ کے اختتام پر امریکہ کی جانب سے شمالی ویت نام کے ساتھ امن معاہدے کے بعد سیاسی طور پر تنہا ہو گئے تھے۔ جب امریکہ نے اپنی افواج کو واپس بلایا اور جنوبی ویتنام کو اپنے دفاع کے لیے تنہا چھوڑ دیا تو نیگن وان تھیو کی حکومت غیر مستحکم ہو گئی۔
نیگن وان تھیو نے امریکہ کی جانب سے مسلط شدہ یک طرفہ امن معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جس طرح آج کل زیلنسکی کر رہا ہے۔ امریکہ کے درمیان سے ہٹ جانے کے بعد 1975 میں شمالی ویت نام نے جنوبی ویتنام پر حملہ کیا تو نیگن وان تھیو کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ اور وہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے امریکہ فرار ہو گئے اور ان کی سیاسی حیثیت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب ایک بڑی طاقت اپنے پراکسی کو چھوڑ دیتی ہے تو اس کے لیے اس کے بعد بچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ کیا امریکہ کی جانب سے زیلنسکی کو ایک اور نیگن وان تھیو بنایا جا رہا ہے؟ اس وقت پورا یورپ اسی خوف کا شکار ہے کہ کب انہیں امریکہ کی جانب سے سیاسی، سفارتی اور عسکری سطح پر تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔ یورپی ممالک کی جانب سے یوکرائن کی حمایت دراصل یوکرائن کی حمایت نہیں بلکہ وہ ہر قیمت پر امریکی تحفظ کی چھتری اپنے سروں پر رکھنا چاہتے ہیں۔ یورپ اس تصور سے لرزہ براندام ہے کہ کیا 2025 میں ایک اور پیرس امن معاہدہ (امریکہ ویت نام) ہونے جا رہا ہے؟
یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ روس یوکرائن جنگ کے تناظر میں امریکہ کے قریب آ سکتا ہے یا نہیں۔ روس اور چین کے ایک اہم اتحادی کے طور پر موجودگی کے باوجود یہ زمینی حقیقتیں اپنی جگہ پر موجود ہیں کہ روس زار شاہی کے دور سے چین کے مختلف علاقوں پر قابض ہیں خاص طور پر چین، روسی فار ایسٹ کے علاقوں پر اپنے حق ملکیت کا دعویٰ کرتا رہتا ہے۔ چین اور روس کی پارٹنرشپ میں بھی ہر فریق اپنے فائدے کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک کی حکومتیں اور ریاستی میڈیا مثالی تعلقات اور مضبوط پارٹنرشپ کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان تعلقات میں تناؤ، عدم اعتماد اور متصادم مفادات کی موجودگی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔


