ریاست امی کی رٹ


 

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا لیکن آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ اپنے محل وقوع اور معدنی وسائل کے باعث یہ خطہ دوست و دشمن سب کی نظروں میں (کھٹکتا) رہتا ہے۔ گزشتہ دہائیوں سے یہ صوبہ مشکل اور اب مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔

مسافر بسوں کر روک کر شناختی کارڈ چیک کر کے غیر بلوچیوں بالخصوص پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کر دینا تو یہاں معمول کی بات تھی ہی لیکن جعفر ایکسپریس کا حالیہ واقعہ خاصا جھنجھوڑ دینے والا ہے اور اس واقعہ نے ایک عام پاکستانی کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ وہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ کیا بلوچستان واقعی (خاکم بدہن) ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے؟

جس طرح ایک ماں اپنے سب بچوں کے مزاجوں سے واقف ہوتی ہے اور وہ ان کی پرورش بھی اسی طرح کرتی ہے، بعینہ ریاست بھی ماں ہوتی ہے اور اسے بھی اپنے بچوں کے مزاج کا علم ہونا چاہیے۔ ریاست پاکستان کے بچے اس کے صوبے ہیں۔ اور اس کا ایک اہم بچہ بلوچستان ہے۔ ریاست امی کو چاہیے کہ اس بچے کے مسائل کا کھوج لگائے اور انھیں حل کرے۔ جہاں پیار سے بات بنتی ہے وہاں بے تحاشا پیار نچھاور کرے اور جہاں (گمراہ عناصر کے خلاف) طاقت کی ضرورت ہے وہاں طاقت کا استعمال بھی ضرور کرے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے۔ بلوچستان میں دہشت گردی ہو یا خیبر پختونخوا میں، ہر دفعہ افغانستان کا نام ضرور آتا ہے۔ ہر دفعہ یہی کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے۔ ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ ایک ایٹمی پاکستان اتنا بے بس کیوں ہوجاتا ہے جب افغانستان کا نام آتا ہے؟ 47 ء سے لے کر اب تک افغانستان ہمیشہ پاکستان میں پنپنے والی علیحدگی پسند تحریکوں کا حامی رہا ہے۔ حامی ہی نہیں بلکہ بھارت کی طرح ان کا سرپرست بن جاتا ہے اور انھیں جگہ بھی فراہم کرتا ہے۔ افغانستان سے ہماری محبت ہمیشہ یک طرفہ ہی رہی ہے۔ مشرقی عاشق کی طرح ہم ہمیشہ افغان معشوقہ کی پرپیچ اور خمدار زلفوں کے اسیر ہی رہے ہیں۔ اُدھر سے آنے والے پتھر ہمیں ہمیشہ پھول ہی محسوس ہوئے ہیں۔ خدارا! اب یہ سلسلہ رک جانا چاہیے۔ ہمیں اس یک طرفہ محبت پر نظر ثانی کرنی چاہیے کیوں کہ بہت نقصان ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ تھم نہیں رہا۔ ہمیں افغانستان سے دو ٹوک بات کرنی چاہیے۔ ہمارا لب و لہجہ ایک ایٹمی ریاست جیسا ہونا چاہیے۔ اگر ہم بھارت سے سینگ پھنسا سکتے ہیں تو افغانستان کو کیوں نہیں روک سکتے؟

بلوچستان کے عوام کو بھی چاہیے کہ وہ وفاق کو ہی تمام محرومیوں کا ذمہ دار سمجھنے کی بجائے ان سرداروں کا گریبان بھی پکڑیں جو صدیوں سے ان پر مسلط ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک بلوچستان میں بلوچ سردار ہی صوبائی حکومتوں پر قابض رہے۔ انھوں نے اپنے عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے کیا کیا؟ یہ سردار وفاق سے فنڈز تو لیتے ہیں لیکن اپنے عوام پر خرچ نہیں کرتے۔ اور جب مسائل کی بات آتی ہے تو صوبائی کارڈ کھیلنے لگتے ہیں۔ بلوچستان کے باشعور عوام کو اپنے سرداروں کو استثنا ہرگز نہیں دینا چاہیے۔

ریاست امی سے ایک بار پھر درخواست ہے کہ اپنے سب بچوں کا خیال رکھے۔ ہم مشرقی پاکستان جیسا سانحہ شاید اب سہ نہ سکیں۔

Facebook Comments HS