دسمبر، شاعری، اور مونی بھائی کی کانپتی ہوئی محبت


tariq ishaq

جیسے ہی دسمبر آتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے سوشل میڈیا پر شاعروں کی کوئی بین الاقوامی کانفرنس شروع ہو گئی ہو۔ فیس بک، ٹویٹر، اور انسٹاگرام پر ہر طرف ”دسمبر اور جدائی“ کا نوحہ سنائی دیتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ مہینہ صرف بچھڑنے، ٹوٹنے، اور اداس ہونے کے لیے بنایا گیا ہو۔

ہمارے دوست مونی بھائی اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں۔ عام دنوں میں ان کے اندر شاعری ایسے غائب رہتی ہے جیسے چاند گرہن میں چاند، مگر جونہی دسمبر آتا ہے، ان کے اندر غالب، فیض، فراز سب کی ارواح بیک وقت حلول کر جاتی ہیں۔

مونی بھائی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ خاصے کمزور بھی ہیں اور جتنی زیادہ سردی لگتی ہے، اتنی ہی زیادہ شاعری ان پر نازل ہوتی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر درجہ حرارت 20 ڈگری ہو تو شاعری محض ”دسمبر کی رات، تنہائی کا ساتھ“ جیسی ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی ٹمپریچر 10 ڈگری سے نیچے جاتا ہے، شاعری میں محبوب کی بے وفائی، زندگی کی ناقدری اور یادوں کی بارش گھس آتی ہے۔ اور اگر سردی اتنی ہو کہ ہاتھ جیب سے نکالنا مشکل ہو جائے، تو بھائی کی شاعری ایسی ہو جاتی ہے جیسے انہوں نے اپنی ساری محبوبائیں دسمبر میں ہی کھوئی ہوں۔

پچھلی سردیوں میں ایک رات مونی بھائی بغیر جیکٹ کے باہر نکلے۔ ہوا تیز تھی، درجہ حرارت 5 ڈگری تھا، اور وہ ایسے کانپ رہے تھے جیسے موبائل کی وائبریشن آن ہو۔ اس حالت میں وہ اچانک زمین پر بیٹھ گئے، آسمان کی طرف دیکھا، اور کپکپاتی آواز میں بولے :

”ہائے دسمبر! تو نے پھر سے تنہا کر دیا!“

حالانکہ ان کے ساتھ ہم دو دوست کھڑے تھے، لیکن ان کے دماغ میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ دسمبر میں ہر شخص کو اکیلا اور بے وفا ہونا ضروری ہے۔

جب سردی مزید بڑھ گئی اور ٹھنڈی ہوا نے ان کی آخری گرمی بھی چھین لی، تو انہوں نے موبائل نکالا اور کپکپاتے ہاتھوں سے فیس بک پر اسٹیٹس ڈالا:

”محبت بھی عجیب چیز ہے، جتنی گہری ہوتی ہے، اتنی ہی زیادہ ٹھنڈ لگتی ہے۔“
ہم نے کہا، ”بھائی! یہ محبت کی ٹھنڈ نہیں، تمہاری جیکٹ گھر رہ گئی ہے، اس کی ٹھنڈ ہے!“

لیکن دسمبر میں جو شاعری کا بخار چڑھتا ہے، وہ عقل پر غالب آتا جاتا ہے۔ جوں جوں رات ڈھل رہی تھی، ان کی سردی بڑھ رہی تھی اور شاعری کا لیول بھی ڈیپ ہوتا جا رہا تھا۔ جیسے ہی درجہ حرارت 2 ڈگری پہنچا، تو مونی بھائی کے الفاظ کچھ یوں ہو گئے :

”زندگی یوں بھی گزرتی ہے، جیسے دسمبر کی رات بغیر چادر کے!“

ہم نے ان کی اس کیفیت کو دیکھ کر فوری طور پر چائے پلانے کا فیصلہ کیا تاکہ شاعری کا زہر کچھ کم ہو، مگر چائے کے پہلے گھونٹ کے ساتھ ہی انہوں نے ایک اور شعر جڑ دیا:

”یہ چائے بھی بے وفا نکلی، ہونٹ جلا گئی، دل گرم نہ کر سکی!“

اصل میں دسمبر کا قصور نہیں، بلکہ یہ سوشل میڈیا پر بیٹھے موسمی شاعروں کا کمال ہے جو اسے بچھڑنے، اداسی اور یادوں کا مہینہ بنا دیتے ہیں۔ جیسے ہی یکم دسمبر آتا ہے، ہر دوسرا شخص فرسٹ ائر کا فراز اور بی اے کا غالب بن جاتا ہے۔

فیس بک پر اسٹوری لگتی ہے :
”دسمبر میں بچھڑنے والے کبھی نہیں بھولتے!“
حالانکہ حقیقت میں دسمبر میں ان کی واحد جدائی بجلی کے بل سے ہوئی ہوتی ہے!
انسٹاگرام پر ایک شاعر کی پوسٹ دیکھی:
”دسمبر وہ مہینہ ہے جہاں لفظ ٹھنڈے، جذبات برف اور محبت راکھ بن جاتی ہے!“
نیچے کمنٹ دیکھا تو کسی نے لکھا تھا: ”بھائی، تمہاری محبت نہیں، گیزر کی گیس ختم ہوئی ہے!“

مونی بھائی جیسے شاعر، جو دسمبر کو اپنی محبتوں کی لاش پر ماتم کرنے کا مہینہ سمجھتے ہیں، اصل میں وہی ہیں جو گرمیوں میں ”یادوں کی تپش“ ، برسات میں ”محبت کی نمی“ اور خزاں میں ”اداسی کے زرد پتوں“ پر شاعری جھاڑتے ہیں۔

ہماری مخلصانہ درخواست ہے کہ دسمبر کو معاف کر دو!
یہ بے چارہ موسم بدلنے کے لیے آیا ہے، تمہاری بے وفائیوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے نہیں۔

Facebook Comments HS