غریبِ شہر زمان خان سے گفتگو
اس سال میرا پاکستان دو سال کے بعد آنا ہوا۔ اپنی ملازمت کو خیرآباد کہنا اور کمائی کے چکر سے نکل کر امریکہ سے پاکستان آنے کا ایک مقصد بہت سی ادھوری ملاقاتوں کا قرض چکانا تھا۔ وہ ملاقاتیں جن کے لیے نہ مجھے ادبی میلے ٹھیلوں میں جانے کی ضرورت ہے نہ ہی ہزاروں کا بل بناتے والے نامی گرامی فائیو اسٹارز ریسٹورنٹس میں شہر کے دانشوروں کے ساتھ دعوتیں اڑانے کی۔ اگر قریب کی آنکھ کام کر رہی ہو تو غریب ِ شہر آس پاس ہی مل جاتے ہیں۔ بقول شخصے ”سماج کے سینے پہ مونگ دلتے، یہ کاہل اور جاہل لوگ“ کمیاب کہاں۔ جن کے لیے پروین شاکر نے لکھا ہے۔
جب بھی غریبِ شہر سے کچھ گفتگو ہوئی
لہجے ہوائےِ شام کے نم ناک ہو گئے
اس شہر بے اماں میں ایسے نایاب لوگ، گھروں میں اپنی آرام کرتی مالکنوں کے لیے گھریلو کام کرتی ماسیاں، کراچی کی ناہموار، اکھڑی سڑکوں پہ کیب اور رکشہ چلاتے نوجوان سے ادھیڑ عمر مرد، اپنی نازک پیٹھ پہ بھاری بوجھ ڈھوتے، اسکول جانے کے بجائے، دھاڑی پہ کام کرتے کم سن بچے۔ سالہا سال سے اپنی قسمتوں کے بدلنے کے منتظر یہ کیڑے مکوڑے، اوہ معاف کیجیے گا میرا مطلب غریب شہر سے ہے، بس ذرا زبان پھسل گئی۔ پیٹ بھرا ہو تو ایسی بھول چوک تو ہو ہی جاتی ہے۔ اپنا سمجھ کے معاف کر دیجیے گا۔ ہاں تو میں کہہ رہی تھی مجھے غریب شہر کو تلاش نہیں کرنا پڑا، بس آنکھ کھولنی پڑی۔
تو جناب آج میں نے اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ، پیپل کے بوڑھے اور تناور درخت کے سائے تلے ادھیڑ عمر زمان خان کو پہلی بار بغور دیکھا، جو سالہا سال سے میری بہن کی اپارٹمنٹ بلڈنگ کی چوکیداری پہ مامور ہے۔ صبح صادق سے شام گئے تک ایک بدہیئت سی کرسی پہ بیٹھا، ہر آنے والی گاڑی کے لیے دوڑ کے مرکزی گیٹ کھولتا، مسکراتے ہوئے ہر آنے جانے والے کو ”سلام صاحب“ کہتا زمان۔ میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ اس کی دھنسی ہوئی سیاہ آنکھوں میں امید و بیم کی کیفیت، پچکے گال، خشخشی داڑھی زدہ چہرے کی جھریوں میں سمٹے تجربات۔ میں نے سوچا آج کچھ زمان کی زبانی اس کی کھال میں سمٹے تجربوں اور آنکھوں میں بسے جاں بلب سہی، سپنوں سے بھی کچھ گفتگو ہو جائے، جو من وعن آپ کی نذر ہے۔
گوہر:آپ یہاں کتنے عرصے سے کام کر رہے ہیں؟
زمان: ہم اس بلڈنگ میں تیس پینتیس سال سے چوکیداری کر رہا ہے۔ پہلے اپنے باپ کے ساتھ پھر بیس بائیس سال سے، ان کے مرنے کے بعد ان کا نوکری ہم کو مل گیا۔
گوہر: آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟
زمان: ہمارا تعلق ایبٹ آباد، مانسہرہ سے ہے۔ ہم کراچی 1983ء میں آئے۔ ہمارا دو بھائی اور بھی تھا۔ ہم چھوٹا چھوٹا تھا جب ہم نے کراچی ہجرت کیا۔ فلیٹوں والوں نے ہمیں سہارا دیا۔ ابا کے مرنے کے بعد ہم کو اس کی جگہ نوکری دی۔ اللہ کا بہت کرم ہے۔
گوہر: کیا عمر ہے آپ کی؟
زمان: ابھی تو ہماری عمر بہت ہو گئی۔ ہم باون ترپن سال کاہے۔
گوہر: شادی کی؟
زمان: 1996 ء میں شادی کی۔ ہمارے تین بیٹے ہیں۔
گوہر: بچوں کو تعلیم دلائی؟
زمان: ہاں سب کو میڑک کرایا۔ اب ایک رکشہ چلاتا ہے۔ دوسرا دکان پہ سیلز مین کا کام کرتا ہے۔ تیسرا فوڈ پانڈا پہ کام کرتا ہے۔ یہ سب سے چھوٹا ہے۔ ہم نے اس کی باہر نوکری کرانے کے لیے آپ کی بہن کو اس کا سی وی بھی دی ہے تاکہ وہ اپنے بیٹے زین کو باہر بھجوا دیں۔ شاید ابھی اس کی باہر نوکری ہو جائے تو حالات بدل جائیں۔
گوہر: کتنا کما لیتے ہیں؟
زمان: بیس ہزار تنخواہ ہے۔ پھر ہم کچھ صاحب لوگوں کی گاڑی دھو لیتا ہے اس کا بھی آٹھ نو ہزار روپیہ بن جاتا ہے۔ مگر ابھی مہنگائی بہت ہے یہاں، گزارہ نہیں ہوتا۔ پہلے ہم اکیلا پورا گھر کو کھلاتا تھا اب ہم تین مل کر بھی مشکل سے گھر چلاتا ہے۔ لیکن بس اللہ کا شکر ہے۔ ہم کسی سے مانگتا نہیں۔ روز کھانا کھا لیتا ہے۔
گوہر: اور روزے چل رہے ہیں؟
زمان: جی الحمدللہ روزہ موزہ چل رہا ہے۔ سب گھر والوں کا بھی۔
گوہر: برسات میں گھر ٹھیک رہتا ہے؟
زمان: ہمارا گھر بھٹایا آباد میں ہے۔ والد صاحب نے ادھر زمین پہ قبضہ کیا اور جھونپڑی ڈال دی۔ اب ہم نے اسے پکا کر لیا ہے۔ یہ گھر نالہ کے پاس ہے۔ بارش میں نالہ بھر جاتا ہے۔ بس ہر وقت ڈر لگتا ہے کہ کب سیلاب آ جائے اور کب گھر بہہ جائے۔
گوہر: زمان آپ کے لیے آپ کی ماں کے کیا خواب تھے؟
زماں : وہ ہم کو درزی کا کام سکھانا چاہتی تھی۔ اس زمانے میں اس کام کی بہت مانگ تھی۔ لیکن وہ سانس کی تکلیف میں مر گئی۔ غربت میں اس کا علاج بھی ٹھیک سے نہیں ہو پایا۔ اس کو ہم نے مانسہرہ میں دفن کیا اور کراچی ہجرت کی۔
گوہر: آپ کا خواب خود اپنے لیے کیا تھا؟
زمان: ہم کو اچھا پڑھنے کا شوق تھا مگر حالات ہی ایسے نہیں تھے کہ ہم کچھ پڑھ کے بن سکتا۔ اب ہمارا خواب ہمارے بچوں کے لیے ہے۔ ہم سوچتا ہے جو زندگی ہم نے گزاری وہ نہ گزارے۔ اچھی نوکری ہو جائے یا وہ باہر چلا جائے۔ اس کی زندگی بہتر ہو جائے۔ ہمارا تو ٹائم گزر گیا۔
گوہر: آپ کی بیوی کام نہیں کرتی؟ جیسے سلائی کڑھائی کا کام؟
زمان: اس کو سلائی کا کام تھوڑا بہت آتا ہے مگر وہ گھر کا کام کرتا ہے۔ ہمارے بیٹے کے بچے دیکھتا ہے۔ کھانا وانا پکاتا ہے۔ اب اس کی عمر بھی ہو گئی ہے۔
گوہر: تفریح کے لیے کیا کرتے ہیں؟
زمان: تفریح تو کچھ نہیں۔ ابھی ہم صبح آتے ہیں شام کو گھر چلے جاتے ہیں۔ بس یہی تفریح ہے۔ لوگوں سے یہیں مل لیتے ہیں۔
گوہر: آپ مطمئن ہیں؟
زمان: جی بس شکر ہے۔ گزارا ہوجاتا ہے۔ اللہ کا بڑا احسان ہے۔



