اللہ کے مہمان

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ساری زندگی عبادت قرار دی ہے۔ تاہم نماز، زکوٰۃ، حج و عُمرہ وغیرہ دوسرے بھی دیکھتے ہیں۔ ایک روزہ ایسی عبادت ہے جسے اللہ نے خاص اپنے لئے چُنا ہے کہ یہ عبادت بندے اور اُس کے مابین کا معاملہ ہے۔ ورنہ کوئی بھی شخص چُپکے سے پانی پی سکتا ہے۔ کھانا کھا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس کی ذات باری تعالیٰ کی بندوں سے محبت ستر ماؤں سے زیادہ ہے۔ کبھی آپ نے کسی بھوک سے بلکتے بچے کی ماں کو سکون سے بیٹھے دیکھا ہے؟ ہر گز نہیں۔
اسی طرح اللہ نے بیماروں، ضعیفوں، مسافروں کو روزہ سے چھوٹ دے رکھی ہے کہ بعد میں رکھ لینا۔ اور نہیں رکھتے تو فدیہ دے دینا لیکن روزہ رکھ سکو تو زیادہ بہتر ہے۔ کئی فقہاء نے تو قاضیوں کو بھی روزے سے رعایت دی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ میں ایک بہت بڑا مطالعہ ججوں پر کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ نو سے گیارہ بجے صبح تک ملزموں سے رعایت برتی جاتی ہے۔ جبکہ لنچ بریک تک سزائیں سخت ہوتی جاتی ہیں۔ لنچ کے بعد پھر نرمی شروع ہوجاتی ہے لیکن پانچ بجے سے قبل کی سزائیں پھر سختی سے بھرپور ہوتی ہیں۔ گویا ہر نازک کام کرنے والوں جیسے سرجن، پائلٹ، بھاری مشینیں چلانے والوں کو روزے کی وجہ سے صحیح فیصلہ کرنے میں دقت پیش آ سکتی ہے۔ ہمارے تو پائلٹ صاحب نہ صرف روزہ رکھ کر بلکہ شبِ جمعہ بھی جاگ کر پورے جہاز کے مسافروں کو جنت پہنچا چکے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں مرد کی اوسط عمر اڑسٹھ اور خواتین کی تہتر ہو چکی ہے۔ پاکستان کے قیام کے وقت یہ چالیس کے آس پاس تھی۔ غذائی تبدیلی کے ساتھ اس وقت پاکستان میں چالیس سے اوپر لگ بھگ چھتیس فیصد لوگ ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے اکثریت تو حکیموں اور دم درود کے علاوہ شہد کھا کر اپنی زندگی جو اللہ کی امانت ہے، میں خیانت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹروں سے علاج کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد بھی اپنا علاج سیریس نہیں لے رہے۔ اب تو ماشاءاللہ پاکستان میں بھی ایسے سٹکر دستیاب ہیں جن سے آپ مسلسل چوبیس گھنٹے اپنے شوگر اور اس سے بھی زیادہ ایچ بی ون سی سے بھی باخبر رہ سکتے ہیں۔ اور آپ کو بار بار اپنی انگلی میں سوئی چبھونا نہیں پڑتا۔ لیکن بدقسمتی سے مذہبی شدت ہر شعبے کو اتنا متاثر کرچکی ہے کہ اب ڈاکٹرز بھی رمضان سے پہلے سیمینار منعقد کرتے ہیں کہ شوگر والے روزہ کیسے رکھیں۔ اور روزے کے بعد ان کے پاؤں کٹوانے کی نوبت آجاتی ہے۔
جسم میں ہر عضو کو خون کی فراہمی زندگی دیتی ہے۔ جس طرح عصر کے وقت آپ کا پیشاب چند قطرے سے زیادہ نہیں نکلتا، اسی طرح آپ کے خون میں پانی کم ہو جاتا ہے۔ نہ گردوں کو پورا خون سپلائی ہوتا ہے۔ تاہم سب سے زیادہ متاثر شوگر کے مریضوں کے پاؤں میں خون کی روانی کم ہوجاتی ہیں جو پہلے ہی متاثر ہوتی ہیں۔ پچھلے دنوں ایک خاتون مریض کو دیکھ رہا تھا کہ اس کا بلڈ شوگر پچپن ملی گرام تک پہنچ چکا تھا گویا وہ فالج کے بس کنارے پر تھیں۔
اس مذہبی شدت پسندی سے نہ تو مسافروں کے لئے کھانے پینے کا کوئی انتظام گھر سے باہر ملتا ہے اور نہ ہی مریضوں کے لئے۔ غیر مسلموں کی تو بُری حالت ہوتی ہے۔ جب ایک عبادت اللہ نے اپنے لئے مختص کی ہے تو میں اور آپ کون ہوتے ہیں کسی پر فتویٰ دینے والے۔ باقی ممبر و محراب سے جو مضحکہ خیز پابندیاں جاری ہوتی ہیں وہ پورے مذہب کے لئے باعثِ تشویش ہے۔
روزے میں نہ صرف شوگر کے مریضوں کو خدشہ ہوتا ہے بلکہ اسی طرح دل کے مریضوں اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو جن کو اپنی بیماری کے لئے تھوڑے تھوڑے وقفے سے دوا لینی پڑتی ہے، ان کو کم از اللہ کی مہمان نوازی کو ردّ کرنا اللہ کی رحمت سے زیادتی ہے۔
ضعیف افراد، بچوں کو یا جوڑوں کے درد میں مبتلا لوگوں کو لمبی لمبی تراویح (جو کہ نفل عبادت ہے ) میں کھڑے ہونا بھی اللہ کی رحمت کا انکار ہے۔ رہبانیت اور اس دُنیا میں سختی برداشت کرنا دوسرے مذاہب میں اچھا جانا جائے تو اسلام میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔

