بھکر دھرتی کے حقیقی سپوت شہداء افواج پاکستان
حالیہ کچھ عرصہ سے سوچی سمجھی سازش کے تحت منظم انداز میں پاک فوج کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے اک طرف سوشل میڈیا کے ذریعے پاک فوج کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور نوجوان نسل کو فوج کے خلاف کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف دشمن قوتوں کی مدد سے زمینی حملے کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور بے گناہ پاکستانیوں پر یہودی دہشتگردوں کے حملے بلاوجہ نہیں ہیں، ماضی یاد کریں تو ہر پاکستانی پر واضح ہوتا ہے کہ جب جب ایٹمی پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے تن من دھن لگاتا ہے، عالمی یہودی طاقتوں بشمول آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کا نعرہ بلند کرتا ہے، تب تب اندرونی اور بیرونی دہشتگرد (یہودی لابی) پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں شروع کر دیتی ہے۔ عالمی یہودی طاقتوں نے اپنے یہودی ایجنٹ کے اقتدار کے خاتمے سے قبل اپنے پالے ہوئے دہشتگردوں کو رہا کر کے قبائل علاقوں میں بلاوجہ نہیں بسایا تھا بلکہ وہ رہائیاں پاکستان کے موجودہ حالات اور فیصلوں کو بھانپتے ہوئے کی گئی تھیں۔ اس لئے عالمی اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ پاک فوج سمیت دیگر سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر دہشتگردی کے واقعات کی کھل کر مذمت کرے۔
پاکستان کے ازلی مخالفین گزشتہ 76 برس سے وطن عزیز کے خلاف منظم مہم چھیڑے ہوئے ہیں اور اس کے پس پردہ نہ صرف بھارت، ٹی ٹی پی اور اسرائیل کے حکومتی طبقات ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے کچھ حلقے بھی اس مکروہ مہم میں حصہ بقدر جثہ ڈال رہے ہیں۔
لیکن ان تمام تر سازشوں کے باوجود عالمی برادری کے خاصے بڑے حلقے میں بھی اس حقیقت کا ادراک سامنے آ رہا ہے کہ پاک فوج، عوام اور آئی ایس آئی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے لازوال قربانیاں دے رہی ہے۔ اسی عالمی اعتراف کا نتیجہ ہے کہ کئی انسان دوست حلقوں کی جانب سے گاہے بگاہے پاک فوج اور آئی ایس آئی کی بھرپور تعریف کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے یہ بات پاکستان کے مخالفین کو کسی طور ہضم نہیں ہو سکتی، اس لئے انھوں نے پلٹ کر وار کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اپنی سفارتی پسپائی کو فتح میں تبدیل کرنے کی ناکام سعی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں کبھی پاک مخالف شخصیتوں کو مہرہ بنا کر ہرزہ سرائی کرائی جاتی ہے اور کبھی کچھ نام نہاد ’تجزیہ نگاروں‘ کے ذریعے ایسی نکتہ آفرینیاں کرائی جاتی ہیں کہ الامان الحفیظ۔
اگر افواج پاکستان کی تمام تر قربانیوں کے باوجود اگر کوئی پاکستانی باشندہ بیرونی طاقتوں کے ایما پر افواج پاکستان خصوصاً آئی ایس آئی کو ہدف تنقید بنائے تو ایسے عناصر فلسطین، یوکرین سمیت یہودی سازشوں اور مظالم کے شکار ممالک کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ اگر افواج پاکستان نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں، اللہ نہ کرے کہ وطن عزیز پر کوئی برا وقت آیا تو یہ یہودی دہشتگرد پاکستان کے ساتھ فلسطین سے بھی بدتر سلوک کریں گے لہذا اپنے اور اپنی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی خاطر ڈنکے کی چوٹ پر پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد کو اپنا مشن بنائیں۔
اس وقت وطن عزیز کے سبھی سیاسی، سماجی، تجارتی، مذہبی حلقوں خصوصاً طلبا و طالبات، ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین کی ذمہ داری ہے کہ ملکی اور غیر ملکی میڈیا و تحقیقی اداروں کے ذریعے ایسی بے بنیاد الزام تراشیوں کا خاطر خواہ ڈھنگ سے جواب دیں اور بڑے ناموں سے مرعوب ہونے کے بجائے دلیل اور ”لوجک“ کو اہمیت دیں۔ کچھ بڑے نام غالباً اپنے طرز عمل کی وجہ سے ”نام بڑا اور درشن چھوٹے“ کے زمرے میں آتے ہیں۔
یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ آئے روز پاک فوج سے تعلق رکھنے والے سلامتی کے ادارے وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کے نذارنے پیش کر رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے ہر قصبہ، گاؤں، دیہات، شہر اور محلہ میں کسی نہ کسی پاک فوج کے شہید کی فیملی آباد ہے اور ان کے لخت جگر نے خالصتاً اسلام، پاکستان کی سلامتی کے لئے اپنی جان قربان کی۔
اب اگر ہم کالم کے آخر میں جائزہ لیں تو ضلع بھکر جس کی کل آبادی انیس لاکھ ستاون ہزار 1,957,470 افراد پر مشتمل ہے۔ اس کا رقبہ 8153 مربع کلومیٹر ہے۔ سطح سمندر سے اوسط بلندی 159 میٹر ( 521.65 فٹ) ہے۔ اس چھوٹے سے خطہ میں بھی سینکڑوں شہدا دفن ہیں جنہوں نے جنگ 1949، جنگ 1965، جنگ 1971 اور جنگ کارگل کے علاوہ دیگر مواقع پر ملک و قوم کی سلامتی کے لئے اپنی جان قربان کی اور ان کی قربانیوں اور بہادری کی طویل داستانیں ہیں جو پھر کسی موقع پر تحریر کروں گا۔ اگر ہم ملک میں جاری دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر نظر ڈالیں تو ضلع بھکر سے تعلق رکھنے والے درج ذیل شہداء نے اسلام، پاک فوج اور ملک کی خاطر لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
جن میں سرفہرست بولان ٹرین حادثہ (جعفر ایکسپریس) بھکر دھرتی کے تین سپوت مادر وطن پر قربان ہوئے۔ جن میں لانس نائیک جاوید اقبال ولد محمد رمضان چک نمبر 26 ٹی ڈی اے، پنجگرائیں کا نوجوان محمد عبداللہ بھٹی ولد استاد اکرم (پی ٹی) شہید ہو گیا ہے۔
جب کہ بنوں دھماکے میں 214 چک کا رہائشی محمد عاقب شہید ہوا۔ اسی طرح پنجگرائیں بستی احمد شاہ والی کے اعجاز خان بلوچ پولیس والے کے جواں سال بیٹے عابد حسین خان بنوں میں پاک آرمی میں اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں شہید ہوئے۔ ایسے ہی تھل دھرتی کے بہادر سپوت محمد فاروق اعوان اٹھواں میل چک نمبر 184 ٹی ڈی اے شہید ہوا۔ ایسے ہی چھینہ والا سرائے مہاجر سے تعلق رکھنے والا پاک آرمی کا جوان محمد تنویر خان بلوچ شہید ہوا۔ تنویر خان شہید نے گوادر کے مقام پر دوران ڈیوٹی جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقابلہ کے دوران جام شہادت نوش کیا۔ پاک آرمی کے جانباز سپاہی ناصر احمد بلوچستان میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ ناصر احمد ضلع بھکر کی تحصیل کلورکوٹ سے تعلق رکھتے تھے شہید ناصر کی اسی ماہ شادی تھی اور وہ کئی مہینوں سے گھر نہیں آئے تھے کیونکہ انہیں شادی کے نزدیک ایک دو ماہ کی اکٹھی چُھٹی درکار تھی، چک 70 اے۔ ایم ایل کے رہائشی پاک آرمی کے جوان فیض الرحمان بلوچستان کے علاقہ اوماڑا میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔ ایسے ہی ضلع بھکر کا ایک اور سپوت محمد مقبول نے پاکستان آرمی کی طرف سے باجوڑ میں مُلک دشمن عناصر سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ شہید کا تعلق درکھان فیملی گوہر والا تحصیل منکیرہ ضلع بھکر سے تھا۔
اس کے علاوہ متعدد فوجی، افسران و جوان ایسے ہیں جن کے نام و دیگر تفصیل راقم کے پاس موجود نہیں لیکن ان کا تعلق ضلع بھکر سے تھا اور انہوں نے شہادت کو خوش دلی سے گلے لگایا۔ اس کے علاوہ غازیوں کی اک طویل فہرست الگ سے ہے جن کی بہادری بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔


