گورنمنٹ کالج، چترال: چند وضاحتیں


کچھ عرصہ پہلے چترال کے دو گورنمنٹ کالجوں کا موازنہ کیا تھا۔ اس سے اختلاف کرنے کی گنجائش موجود تھی لیکن چند نو تعینات لیکچرار صاحبان کی طرف سے اسے ایسا رنگ دیا گیا جیسے میں نے گورنمنٹ کالج کے خلاف کوئی سازش کی ہو یا اساتذہ کو، خدانخواستہ، نا اہل کہا ہو۔

پہلی بات یہ کہ دس سال پرانے اور موجودہ کالج کا موازنہ کروں تو میں بلا جھجک یہ کہہ سکتا ہوں کہ گورنمنٹ کالج پڑھائی کے معاملے میں بہتر ہے، تاہم، لرننگ ایک الگ چیز ہے۔ کالج کے بہتر ہونے کی وجہ سابق پرنسپل مسعود صاحب کے دور میں کالج کے لئے کیے گئے بہترین انتظامی فیصلے اور کالج کے اساتذہ کی محنت ہے۔ ان کے فیصلوں کے مثبت اثرات آج بھی موجود ہیں۔

دوسرا اعتراض یہ کیا گیا کہ میں نے چند ایک کا نام کیوں لیا؟ میں نے ان کا نام اس لئے لیا کیونکہ وہ اپنے فرض منصبی کے ساتھ ایک اور منفرد کام بھی کر رہے ہیں جو کہ طلباء کو کتاب بینی کی طرف مائل کرنا ہے۔ اس میں یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف اپنے سلیبس کی کسی کتاب یا ناول کو پڑھنا یا پڑھانا کوئی انوکھا کام نہیں ہے۔ وہ تو ہر حال میں پڑھنے ہی ہوتے ہیں۔ میں نے اپنے پچھلے مضمون میں یہ کہا بھی تھا کہ ”یہ کالج نگینوں پر مشتمل ایک ادارہ ہے“ ۔ اس ایک جملے میں سارے اساتذہ شامل ہیں۔ ایک مضمون، جو کہ بمشکل ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے اس میں سب کا نام شامل کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ اس میں سارے ڈیپارٹمنٹس (اردو، انگریزی، اسلامیات، پولیٹیکل سائنس، کیمسٹری، فزکس، باٹنی، زوالوجی، اکنامکس، کمپیوٹر سائنس) ، ان کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس اور اساتذہ سارے شامل ہیں۔

اب آتے ہیں نصابی اور انتظامی امور کی طرف۔ جیسا کہ میں نے اپنے پچھلے مضمون میں بھی کہا تھا کہ اس کالج کے طلباء کی کامیابی کی وجہ اساتذہ کی دیانتداری اور محنت ہے نہ کہ منیجمنٹ کی اعلیٰ کارکردگی۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ منیجمنٹ صرف تدریسی عمل تک محدود نہیں ہوتی ہے۔ انتظامی عمل کی ناکامی کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کالج میں منیجمنٹ کا ہمیشہ سے فقدان رہا ہے۔ کئی اہل علم و دانش اساتذہ بھی انتظامی لحاظ سے غیر معمولی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ علمی شخصیت ہونا اور منیجریل اسکلز کا ہونا یکسر مختلف چیزیں ہیں۔ یہ ضروری نہیں جو قابل ہو وہ انتظامی امور میں بھی مہارت رکھتا ہو۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوسط سے کم درجے کے قابل لوگوں نے بھی انتظامی معاملات میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے۔

یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس کالج کے کم و بیش ستر اساتذہ میں سے تین یا چار کے علاوہ سارے قابل اور اپنے مضمون پر عبور رکھنے والے ہیں۔ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اُن ستر اساتذہ میں سے پچاس نے ماسٹرز کے بعد ایک کتاب بھی مکمل طور پر نہیں پڑھی ہوگی۔ یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اتنی ہی تعداد میں اساتذہ نے اپنے مضمون کے علاوہ کسی اور کتاب کو ہاتھ لگانے کی زحمت نہیں کی ہوگی۔ بمشکل دس سے پندرہ اساتذہ ایسے ہوں گے جو کتاب بین ہوں گے۔ چند ایک کتاب بین حضرات کو میں خود بھی جانتا ہوں جیسا کہ غنی الرحمٰن صاحب، عتیق اکاشہ صاحب، رحمت خالق صاحب، محبوب صاحب، ایوب صاحب اور حیدر زمان صاحب۔ آصفی صاحب اور عبداللہ شہاب صاحب کے ناموں کا پتہ مجھے نور شمس الدین صاحب کی وساطت سے چلا۔ میں اب بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں کہ جو اساتذہ خود کتابیں نہیں پڑھتے ہیں وہ طلباء کو اپنے مضمون کا سلیبس تو اچھا پڑھا سکتے ہیں لیکن کتاب بینی کی طرف مائل نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ اچھے نوکری پیشہ لوگ پیدا کر سکتے ہیں لیکن معاشرے میں بہتر شہری پیدا نہیں کر سکتے ہیں۔

افسوس اس بات پر ہوا کہ بعض ’پڑھانے والوں‘ نے بھی ’پڑھے بغیر‘ ہی کمنٹ کرنا شروع کیا اور الزام پر الزام لگاتے رہے۔ اگر عام لوگ ایسا کرتے تو کوئی بات نہ تھی لیکن اگر پڑھانے والے بھی آٹھ پیراگراف پڑھنا گوارا نہ کر کے لکھنا شروع کر دیں تو قیاس کیا جا سکتا ہے کہ واقعی میں پڑھنے کے رجحان کی کمی ہے۔ پچھلے مضمون میں اکیڈمی کے پروگراموں اور سی ایس ایس سیمینار میں شرکت مثال کے طور پر دیے گئے تھے۔ اس طرح کے پروگراموں میں شرکت کا مطلب علم سے محبت ہی نہیں بلکہ ان میں شرکت کر کے سیاسی نمائندوں اور انتظامیہ کے ذریعے سے کالج کے مسائل جیسا کہ پانی، بجلی، کنسٹرکشن وغیرہ، کو حل کرایا جا سکتا ہے۔

بعض حضرات اس مضمون کو کالج کے پرنسپل سراج صاحب کی شخصیت پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ انتظامی عمل میں بہتر نہ ہونے کا مطلب کسی کی علمیت کا انکار نہیں ہے۔ انگریزی گرائمر پر سراج صاحب کی کتاب بھی ہے اس لئے وہ صاحب کتاب بھی ہوئے۔ انگریزی کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ دینی علوم پر دسترس رکھتے ہیں۔ اس بات کی گواہی ان کے طلباء بھی دیں گے کہ کس طرح وہ کلاس میں انگریزی زبان و ادب سکھانے کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی تبلیغ کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں جو کہ ان کی علمی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مختصراً یہ کہ علمی قابلیت اور منیجریل اسکلز دو مختلف چیزیں ہیں۔ میں آج بھی یہ برملا کہتا ہوں کہ انتظامی امور میں گرلز ڈگری کالج بہتر ہے۔ گرلز ڈگری کالج کی انتظامی معاملات میں کارکردگی کی وجہ مسرت جبین صاحبہ کی غیر معمولی قابلیت اور دور اندیشی ہے جبکہ نصابی سرگرمیوں میں گورنمنٹ کالج فار بوائز کی بہتر کارکردگی کی وجہ اس کے اساتذہ کی دیانتداری، اپنے مضامین پر عبور اور درس و تدریس کے ساتھ ان کا اخلاص ہے۔ کسی کی اچھی کوالٹی کو سراہنے اور اس سے سیکھنے سے کسی کی شخصیت میں بہتری آ سکتی ہے نہ کہ عزت میں تنزلی، چاہے وہ انتظامی امور ہوں یا پھر تدریسی عمل۔

Facebook Comments HS