پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر : پس منظر عوامل اور حل
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی زد میں ہے۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ واقعات نے ملک بھر میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے جہاں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی فورسز، مذہبی اور سیاسی شخصیات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ حملے کیوں ہو رہے ہیں دہشت گرد کہاں سے آپریٹ کر رہے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں۔ یہ سوالات اس وقت ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔
چند روز پہلے بلوچستان کے سبی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے ایک ریل گاڑی پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ پاک فوج نے دو دن تک آپریشن کر کے زیادہ تر مسافروں کو بازیاب کرا لیا۔ مگر بیس سے پچیس افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ اکوڑہ خٹک میں مدرسہ حقانیہ پر خودکش حملہ ہوا۔ جہاں مولانا سمیع الحق کے فرزند کو شہید کیا گیا۔ پشاور کی ایک مسجد میں معروف عالم دین مفتی منیر شاکر کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر خودکش حملے میں پاک فوج کے پانچ جوان شہید ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں نے پولیس تھانوں اور چوکیوں پر حملے کیے۔ جس میں چار پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد شہید ہو گئے۔ جبکہ جوابی کارروائی میں چار دہشت گرد مارے گئے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دس حملے ہو چکے ہیں۔ جبکہ جنوبی وزیرستان کے دونوں اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
اب یہ بات غور طلب ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال جو کچھ عرصے سے بہتر ہو رہی تھی وہ اچانک اتنی تیزی سے کیوں بگڑ گئی؟ ان حملوں کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟ اگر حالیہ واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان میں ایک واضح ربط نظر آتا ہے جو افغانستان سے جڑا ہوا ہے۔
افغانستان سے آپریٹ ہونے والے کچھ سوشل میڈیا پیجز پچھلے کئی دنوں سے پاکستان میں ہونے والے حملوں پر مسلسل رپورٹنگ کر رہے ہیں گویا وہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کی تشہیر کر رہے ہوں۔ جہاں بھی حملے ہو رہے ہیں ان کا سرا کسی نہ کسی طور پر افغانستان سے جا ملتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان جو کچھ عرصہ پہلے قدرے غیر فعال نظر آ رہی تھی اب دوبارہ پوری شدت کے ساتھ متحرک ہو چکی ہے۔ یہ وہی گروہ ہے جسے خیبرپختونخوا میں آپریشن کے بعد افغانستان کی سرزمین میں پناہ ملی تھی اور وہاں سے وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ افغان حکومت ان دہشت گرد گروہوں کو روکنے کے بجائے ان کی پشت پناہی کر رہی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کی مدد کی۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ مگر بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے، سرحد پار سے حملے اور پاکستان میں امن و امان کو تباہ کرنے کی سازشیں۔ ایسے میں پاکستان کے پاس افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہا۔
مالاکنڈ ڈویژن کے عوام نے چند سال پہلے تحریک طالبان کی سرگرمیوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور سیکیورٹی فورسز کی مدد سے انہیں یہاں سے بھگا دیا۔ اب یہ دہشت گرد وسطی اور جنوبی علاقوں میں حملے کر رہے ہیں جہاں انہیں نسبتاً آسانی محسوس ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں محض فوجی آپریشن ہی کافی نہیں ہو گا بلکہ سیاسی جماعتوں کو بھی متحد ہو کر ایک مضبوط حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی۔ دہشت گردوں کے خلاف قومی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہو گا اور ہر قسم کی سیاسی تفریق کو پس پشت ڈال کر ملک کی سلامتی کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔
اگر بروقت اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو خیبرپختونخوا ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ جس کا خمیازہ صرف یہاں کے عوام ہی نہیں بلکہ پورا پاکستان بھگتے گا۔ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں صرف ریاستی ادارے نہیں بلکہ پوری قوم کو مل کر حصہ لینا ہو گا۔


