بلوچستان میں سیاسی مذاکرات کی تاریخ اور انجام


سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد بلوچستان میں موجود علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے دو نظریات پر بہت زوروشور سے بحث ہو رہی ہے۔ پہلا یہ کہ اس مسئلے کے سیاسی حل کی طرف جایا جائے اور مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔ دوسرا یہ کہ اس مسئلے کا حل صرف فوجی آپریشن ہی ہے۔ یہ دونوں نظریات نئے نہیں ہیں کیونکہ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کا رجحان پاکستان بننے کے فوراً بعد سے ہی شروع کروا دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ پاکستان کے اردگرد موجود دوستی کے روپ میں دشمن ہمسایہ ممالک ہیں جو کھلے دشمن بھارت سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔

ان ممالک کا تذکرہ فی الحال چھوڑ کر اوپر کے اُن دو نظریات پر بات کرتے ہیں جو بلوچستان کے حوالے سے زبان زدِعام ہیں اور انہیں سمجھنے کے لیے پاکستان کی ہسٹری پر نظر ڈالتے ہیں۔ بلوچستان میں پہلی سازش خان آف قلات کے بھائی نے جولائی 1948 ء میں کی۔ دوسری مسلح سازش 1958 ء سے 1959 ء تک جاری رہی۔ تیسری مرتبہ بلوچستان میں گوریلا کارروائیاں 1963 ء سے 1969 ء تک ہوتی رہیں۔ اِن تینوں مسلح سازشوں کے دوران مرکز کی طرف سے سیاسی مذاکرات کیے گئے اور ان علیحدگی پسندوں کو بہت سی آفرز بھی کی گئیں لیکن حتمی طور پر اِن سازشوں کو فوجی آپریشنز کے ذریعے ہی کچلنا پڑا۔

چوتھی مرتبہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں نے بیرونی امداد کے سہارے مسلح بغاوت کا بہت بڑا منصوبہ بنایا۔ یہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا دور اور 1973 ء کا سال تھا جب عراق کی ایمبیسی میں خفیہ اطلاعات پر بہت بڑی تعداد میں اسلحے کا ذخیرہ پکڑا گیا۔ یہ مہلک ہتھیار اور بارود اُس زمانے میں بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو سپلائی کیا جانا تھا تاکہ وہ دہشت گرد کارروائیاں کریں اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو نقصان پہنچائیں۔

اس سازش میں اُس وقت کی بلوچستان کی صوبائی حکومت اور بعض سرداروں کے نام بھی سامنے آئے۔ حکومت پاکستان نے یہ مصدقہ اطلاعات ملنے اور اسلحہ پکڑے جانے کے بعد بلوچستان کی صوبائی حکومت کو برطرف کر دیا اور علیحدگی پسندوں کی تیز ہوتی کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ بلوچستان میں یہ فوجی آپریشن 4 برس تک جاری رہا۔ اس آپریشن کے دوران علیحدگی پسند شہروں سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے اور پہاڑوں میں پناہ لے کر خفیہ کارروائیاں کرنے لگے۔

اُن کی اِن خفیہ کارروائیوں سے بہت سے معصوم بلوچ شہری مارے گئے جسے پاکستان کے دشمن ممالک نے پراپیگنڈہ کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ ہلاکتیں فوج نے کی ہیں۔ فوج کو بدنام کرنے اور اس جھوٹے پراپیگنڈے کی حقیقت دہائیوں بعد اب کھل چکی ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے 1977 ء میں جب مارشل لاء لگا کر بھٹو کا تختہ الٹ دیا تو انہوں نے بلوچستان میں جاری آپریشن کو بھی ختم کر دیا۔ جنرل رحیم الدین خان بلوچستان کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور گورنر مقرر ہوئے۔

انہوں نے علیحدگی پسندوں سے ملاقاتیں کیں، مذاکرات کیے اور باغیوں کو مرکزی سیاسی دھارے میں لے کر آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنرل ضیاء الحق کے 11 سالہ مارشل لاء دور میں بلوچستان کو ڈویلپ کرنے کی کوشش کی گئی۔ مثلاً کوئٹہ اور بلوچستان کے قصبوں تک پہلی بار براہِ راست گیس کی فراہمی کے لیے سوئی گیس فیلڈ کو کھولا گیا، کوئٹہ سے لورالائی تک بجلی کی بڑی ٹرانسمیشن لائنیں بچھا کر بجلی کی سپلائی شروع کی گئی جس سے ٹیوب ویلوں کے ذریعے وسیع بنجر زمینوں کو زرخیز زمینوں میں بدلنے کا عمل شروع ہوا، گوادر کو بلوچستان کے ایک اہم ضلع کا درجہ دیا گیا، بلوچستان کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور پیداوار کو فروغ دیا گیا جس سے بلوچستان کا جی ڈی پی گروتھ ریٹ بلوچستان کی اُس وقت تک کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، بلوچستان میں خواندگی کی شرح ملک میں سب سے کم ہونے کی بناء پر کافی وسائل کا رخ تعلیم کی طرف موڑا گیا جس میں نمایاں طور پر ڈیرہ بگٹی میں لڑکیوں کے سکول تعمیر کروائے گئے اور عمومی طور پر بلوچستان میں گرلز ایجوکیشن کے کئی پروگرامز شروع کیے گئے۔

اب اگر دیکھا جائے تو مندرجہ بالا تمام کام وہی ہیں جو کسی بھی پسماندہ علاقے کو خوشحال بنانے کے لیے ممکن ہو سکتے ہیں۔ اِس کے بعد تقریباً 10 برس تک ملک میں سِول حکومتیں رہیں۔ ان سِول حکومتوں نے بلوچستان میں کسی قسم کے فوجی آپریشن کا حکم نہیں دیا اور ان 10 برسوں میں بلوچستان کے سیاسی رہنما پوری طرح سیاسی دھارے میں شامل رہے۔ گویا 1977 ء سے 1999 ء تک 2 دہائیوں سے زائد یعنی 22 برسوں تک بلوچستان میں نہ تو کوئی فوجی آپریشن ہوا اور نہ ہی وہاں کے سیاسی رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں لیکن اِن 22 برسوں میں بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کے ارادوں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

وہ بظاہر سیاسی دھارے میں شامل رہتے مگر درپردہ علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتے اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ بین الاقوامی سطح پر ریاست پاکستان کے خلاف بلوچستان کو پسماندہ رکھنے اور بلوچوں پر ظلم و ستم کا جھوٹا پراپیگنڈہ مسلسل کرتے رہے۔ اس کے بعد 2005 ء میں کچھ بلوچ سرداروں نے پاکستان کے خلاف بغاوت کی اور اپنے ایسے مطالبات پیش کیے جن کا مطلب بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی تھا۔ اس دوران بلوچستان میں مرکزی گیس پائپ لائنوں کو اڑایا جاتا رہا، بجلی کی ٹرانسمیشن لائنیں اور ریلوے پٹڑیاں تباہ کی جاتی رہیں، سینئر فوجی افسران کے ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا وغیرہ وغیرہ۔

مختصر یہ کہ اوپر بتائے گئے واقعات میں ہر مرتبہ ریاست پاکستان نے بلوچستان کے نام نہاد سیاسی رہنماؤں کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی پوری جدوجہد کی اور تقریباً ہر حکومت نے بلوچستان کی ترقی پر توجہ دی لیکن وہاں کے باغی جو کہ شروع سے ہی غیرملکی سرپرستی میں کام کر رہے تھے باز نہ آئے۔ اب دہشت گردوں کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی ایک اور مثال مختصراً دیکھتے ہیں۔ یعنی عمران خان نے اپنے دور میں ٹی ٹی پی کے ہزاروں افراد کو افغانستان سے بلا کر پاکستان میں آباد کروایا۔

یہاں تک کہ ٹی ٹی پی کے کئی سرکردہ افراد کو جیلوں سے فرار بھی کرایا۔ گویا ٹی ٹی پی کے ساتھ بھی مذاکرات کیے گئے لیکن اس کا انجام ہم سب کے سامنے ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں بلوچستان میں مسلح کارروائیوں میں ملوث لوگوں سے کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے لیکن کچھ عرصے بعد انہوں نے پھر وہی مذموم کارروائیاں شروع کر دیں۔ یہ صرف اس وجہ سے ہوتا آ رہا ہے کہ یہ مسلح لوگ مقامی مسائل یا اپنے حقوق کے لیے نہیں لڑ رہے بلکہ غیرملکی امداد کے سہارے غیرملکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور غیرملکی ایجنڈوں کو روکنے کے لیے فوج ہی کا سہارا لیا جاتا ہے جس کی مثال پوری دنیا میں ملتی ہے اور اُس وقت سے ملتی ہے جب سے دنیا کی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔

ہمارے ہاں جو اپنے آپ کو سیاسی لبرل ظاہر کر رہے ہیں اُن سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ وہ اسرائیل کو حماس کے مطالبات ماننے کا کیوں نہیں کہتے؟ وہ بھارت کو سکھوں اور کشمیریوں کے مطالبات ماننے کا کیوں نہیں کہتے؟ وہ ایران کو اپنے باغیوں کے مطالبات ماننے کا کیوں نہیں کہتے؟ وہ سعودی عرب کو حوثی باغیوں کے مطالبات ماننے کا کیوں نہیں کہتے؟ وہ روس کو یوکرین کے مطالبات ماننے کا کیوں نہیں کہتے؟ وہ امریکہ کو افغانستان کے مطالبات ماننے کا کیوں نہیں کہتے؟ اور یہ کہ امریکہ کو امریکہ میں سے ریڈ انڈینز کے لیے علیحدہ ملک بنانے کا کیوں نہیں کہتے؟ یا یہ کہ آسٹریلیا کو آسٹریلیا کے اصل باشندوں کے لیے ملک کے اندر ملک بنانے کا کیوں نہیں کہتے؟

Facebook Comments HS