دو خوش قسمت شاعر: یزدانی جالندھری اور حامد یزدانی


دو دنیائیں

ہم سب انسان دو دنیاؤں میں زندگی گزارتے ہیں۔
ایک خارج کی دنیا
ایک داخل کی دنیا
ایک باہر کی دنیا
ایک اندر کی دنیا
ایک حقائق کی دنیا
ایک خیالوں کی دنیا
حامد یزدانی اپنی تخلیق ”سوسن کے پھول“
کا تعارف کرواتے ہوئے رقم طراز ہیں :

’ باہر بھلے کوئی سا موسم ہو میرے اندر تو ہر دم ایک ہی رت کا ڈیرہ رہتا ہے۔ میں یادوں کے رنگا رنگ موسم میں بستا ہوں‘

حامد یزدانی خوش قسمت شاعر ہیں جن کی یادوں کا موسم سہانا دلکش اور رنگارنگ ہے۔ میں بہت سے ایسے بد قسمت شاعروں ’ادیبوں اور دانشوروں سے بھی مل چکا ہوں جو اپنے ماضی کی طرف مڑ کر دیکھتے ہیں تو دکھی ہو جاتے ہیں اداس ہو جاتے ہیں غمگین ہو جاتے ہیں اور ان کا دل پکار اٹھتا ہے

یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

لاہور کی یادیں

حامد یزدانی کے چاروں طرف کینیڈا کے موسم سرما کی سرد ہوائیں طواف کرتی ہیں لیکن ان کے دل میں لاہور کی محبت کی گرمی کی یادیں رقص کرتی ہیں۔ اسی لیے جب حامد یزدانی کو کینیڈا میں اپنی دھرتی ماں کی یاد آتی ہے تو ان کا دل گنگنانے لگتا ہے

لاہور کی حسیں فضاؤں سے دور ہوں
لگتا ہے جیسے ماں کی دعاؤں سے دور ہوں
گم ہوں دیار غیر کے اس برف زار میں
اپنوں کی پرتپاک جفاؤں سے دور ہوں

والد سے عقیدت

حامد یزدانی کو جہاں اپنی والدہ سے محبت ہے وہیں اپنے والد سے عقیدت بھی ہے۔ ان کے والد یزدانی جالندھری نے ان کی ایسی ادبی، جذباتی اور سماجی تربیت کی کہ شاعر کا بیٹا بھی شاعر بن گیا اور جب اس نے اپنی پہلی کتاب چھاپی تو اس کا انتساب ان الفاظ میں لکھا:

”پاپا (یزدانی جالندھری صاحب ) کے نام
جن کے حسن تربیت سے
میرے اظہار کا حرف حرف آئینہ ترتیب پایا ہے۔ ”
باپ بیٹے کا یہ رشتہ قابل رشک بھی ہے اور قابل صد ستائش بھی۔

یہ فرانز کافکا اور ان کے والد کا رشتہ نہیں جس کا تکلیف دہ اظہار کافکا نے اپنے والد کے نام خط میں کیا ہے۔

اخبار میں پہلا مضمون چھپنا

حامد یزدانی نوجوانی میں ایک مضمون لکھتے ہیں اور ’مساوات‘ اخبار کے ایڈیٹر ظہیر کاشمیری کو دے آتے ہیں۔ حامد یزدانی کا مضمون
”نوجوانوں میں فیشن کا بڑھتا ہوا رجحان“
جب چھپ جاتا ہے تو ان کے والد انہیں بتاتے ہیں کہ ظہیر کاشمیری ان کے دوست ہیں۔

اس کے بعد حامد یزدانی اور ان کے والد یزدانی جالندھری کے درمیان ظہیر کاشمیری کے بارے میں جو مکالمہ ہوتا ہے وہ دلچسپ ہے۔ حامد یزدانی رقم طراز ہیں

’ بیڈن روڈ پر سجی دو طرفہ دکانوں کے پاس سے گزرتے ہوئے میں والد صاحب سے پوچھتا ہوں
پاپا جی کیا ظہیر کاشمیری صاحب شروع سے ہی ایسے ٹیکنی کلر ہیں؟
اچھا تو ان کے رنگین شرٹ کے ذوق کو دیکھتے ہوئے ٹیکنی کلر کہہ رہے ہیں؟ وہ پوچھتے ہیں
جی آپ کا کوئی ایک بھی دوسرا دوست مجھے ایسے شوخ لباس میں نہیں ملا۔ میں کہتا ہوں۔

ہاں ٹھیک ہے۔ ظہیر شروع سے ہی من موجی ہیں۔ اپنی ہی دھن کے آدمی ہیں۔ نظریات کے پکے ہیں۔ عمدہ شاعر ہیں اور ہمارے پرانے دوست ہیں۔

والد صاحب وضاحت کرتے ہیں۔

دانائی کی باتیں

حامد یزدانی خوش قسمت ہیں کہ ان کے والد محض شاعر ہی نہیں ایک دانشور بھی ہیں اور وہ انہیں شاعری کے رموز کے ساتھ ساتھ فلسفے اور روحانیت کے رازوں سے بھی متعارف کرواتے ہیں۔ اس کی ایک مثال مندرجہ ذیل واقعہ اور مکالمہ ہے۔ حامد یزدانی لکھتے ہیں :

’آج انگریزی کے پیریڈ میں پروفیسر شاہد ملک صاحب نے تعارفی مرحلے میں سب سے ان کے خصوصی شوق کے بارے میں پوچھا تو میں نے بس یونہی شاعری کہہ دیا۔ کہنے لگے کہ اپنا کوئی پسندیدہ شعر سنائیے۔ سوچنے کا تو وقت نہ تھا۔ اس وقت احمد ندیم قاسمی صاحب کا شعر

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
سنا دیا۔

پوچھنے لگے کہ کیا اس شعر کا مطلب معلوم ہے؟ یہ سوال میرے لیے اور بھی غیر متوقع تھا۔ ہڑبڑاہٹ میں اگلے دو منٹ ہانکتا رہا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ آسان لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وحدت الوجود کا شعر ہے اور آگے بڑھ گئے۔ اب یہ وحدت الوجود کیا بلا ہے؟ یہ بھی مجھے جاننا ہو گا۔

والد صاحب یہ سب سنتے رہے حسب عادت دھیما دھیما مسکراتے رہتے ہیں۔ فرماتے ہیں :

”کوئی بات نہیں۔ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے فلسفے کی سمجھ بھی آپ کو وقت پر آ ہی جائے گی۔ ابھی نہیں بھی جانتے تو فکر اور پریشانی کی بات نہیں“ ۔

اور پھر آسان الفاظ میں ان کا تعارف اور فرق سمجھاتے رہے۔

حامد یزدانی کا یہ پیرا گراف پڑھ کر مجھے اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین یاد آ گئے جو یزدانی جالندھری کی طرح مجھ سے آپ کہہ

کر مخاطب ہوتے تھے اور مجھے دشوار اور گنجلک فلسفے عام فہم زبان میں سمجھا کر میری ادبی و نظریاتی تربیت کرتے تھے۔

سیاست کی باتیں

یزدانی جالندھری صرف ایک شاعر اور دانشور ہی نہیں ایک جرنلسٹ بھی تھے اور سیاست کے حوالے سے ایک صاحب الرائے ادیب تھے۔ وہ اپنی غیر روایتی سیاسی رائے کی وجہ روایتی دوستوں سے اختلاف بھی رکھتے تھے لیکن وہ اختلاف ایک دوستانہ اختلاف ہوتا تھا کیونکہ وہ دوسروں کی رائے کا احترام کرتے تھے۔ اس اختلاف الرائے کی ایک مثال حامد یزدانی کے مندرجہ ذیل پیراگراف سے واضح ہے۔ لکھتے ہیں :

’ گورنمنٹ کالج کے پروفیسرز روم نمبر 15 میں میری اردو اعلیٰ کی کلاس ہو رہی ہے۔ ماہر اقبالیات مرزا محمد منور صاحب مجھے بتاتے ہیں کہ گزشتہ روز ان کی ملاقات یزدانی صاحب سے ہوئی تھی۔ راز کاشمیری صاحب بھی ساتھ تھے۔

جی سر۔ ”میں ادب سے کہتا ہوں اس پر وہ کہتے ہیں

کل مجھے احساس ہوا کہ یزدانی صاحب کی سوچ ہم سے مختلف ہے۔ وہ افغانستان میں مجاہدین کی براہ راست مدد کی پاکستانی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہم اسے امت مسلمہ کی بقا کے لیے از حد ضروری سمجھتے ہیں۔ تو مختلف سوچ ہے ان کی۔ ”

”جی سر“
میں پھر ادب سے اتنا ہی کہتا ہوں۔

کامیابی کی تقریب

حامد یزدانی جب بی اے پاس کرتے ہیں تو اس خوشی میں ایک مشاعرہ منعقد ہوتا ہے جس میں یزدانی جالندھری بھی شامل ہوتے

ہیں اور اپنے بیٹے کی خوشی کی تقریب میں نہ صرف شرکت کرتے ہیں بلکہ چند اشعار بھی پڑھتے ہیں :
گریزاں شب ہوئی ہے صبح کی تنویر ابھری ہے
نگاہوں میں طلوع مہر کی تصویر ابھری ہے
کھلی آنکھوں سے ہم نے روز روشن میں جو دیکھا تھا
افق پر اس درخشاں خواب کی تعبیر ابھری ہے
خوش قسمت ہیں وہ باپ اور بیٹا جو ایک دوسرے کی خوشی میں شریک ہوں اور ایک دوسرے کو سیلیبریٹ کریں۔

چیاس

یزدانی جالندھری کو چائے پینے کا بہت شوق تھا۔ چائے دیکھ کر ان کی رگ ظرافت پھڑک اٹھتی تھی۔ اس کی ایک مثال یہ واقعہ ہے

حامد یزدانی رقم طراز ہیں

حاضرین جلدی سے اپنے پیالے حسب خواہش سیدھے یا اوندھے کر دیتے ہیں۔ والد صاحب اپنا پیالہ نہ سیدھا رکھتے ہیں نہ اوندھا بلکہ ترچھا کر کے رکابی پر رکھ دیتے ہیں۔ چائے دینے والا لڑکا ٹھٹھک جاتا ہے پوچھتا ہے

اس کا کیا مطلب ہوا آپ کو چائے چاہیے یا نہیں؟
والد صاحب مسکراتے ہوئے کہتے ہیں :

”برخوردار! اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چائے دانی میں چائے بچی ہے تو پیالے کو سیدھا کرو اور انڈیل دو اور اگر نہیں ہے تو اوندھا کر دو میں خود تو ’انکارِ چائے‘ کا مرتکب نہیں ہو سکتا“ ۔

یہ سن کر ساری محفل زعفران زار بن گئی ہے حسرت صاحب بولتے ہیں :
”یزدانی صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں انہیں ویسے بھی پیاس تو لگتی نہیں بس چیاس لگتی ہے چائے کی چیاس۔
ایک اور بھرپور قہقہہ۔

قبر پر حاضری

حامد یزدانی کی اپنے والد سے بہ پناہ محبت اور عقیدت ان کی زندگی میں ہی نہیں ان کی موت کے بعد بھی قائم و دائم ہے۔ اس محبت اور عقیدت کا اظہار اس وقت بھی ہوتا ہے جب وہ ان کی قبر پر حاضری دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

”میں قبر کو چھوتا ہوں تو وہی لرزش مجھے اپنے ہاتھوں میں محسوس ہوتی ہے جو مجھے جرمنی وداع کرتے ہوئے والد صاحب کے بدن میں محسوس ہو رہی تھی۔ میں کچھ بھی نہیں کہہ پاتا۔ نہ حروف میں اور نہ آنسوؤں میں۔ ایک سکوت سا محسوس ہوتا ہے دور دور تک۔ ایک طویل خاموشی۔ آنسوؤں کو بہنے کی اجازت گھر آ کر ملی۔ خوب برسے۔ قطرہ قطرہ مصرعہ مصرعہ اور خود بخود نظم ہوتے چلے گئے

پاپا کے لیے

(یزدانی جالندھری کی یاد میں )
دعائیں حاشیہ چادر گل تر ہیں
لحد کا گھیر ہوئیں صبر و ضبط کی بیلیں
پس زماں مہک اٹھے گل بہار ابد
جنھیں طلوع خزاں سے کوئی علاقہ نہیں
گماں کی دھوپ پہ ابر یقیں کا سایہ ہے
غم سفر کسی دیوار کی منڈیر نہیں
ہم اپنی آنکھیں مسافت میں بھول آئے ہیں
کھنک اٹھے ہیں ستارے ہوا کی مٹھی میں
سلگ اٹھے ہیں بجھے زخم منزلوں کی طرح
دہکتی ریت پہ یادوں کی چھب اترنے لگی
کنار شام پس ساحل جمال شفق
کسی نوید سحر کی اذاں ابھرنے لگی ”۔

ندا فاضلی کی نظم

حامد یزدانی کی نظم پڑھ کر مجھے ندا فاضلی کی وہ نظم یاد آ گئی جو انہوں ہندوستان سے پاکستان آ کر اپنے والد کی قبر پر حاضری کے بعد لکھی تھی۔ حاضر ہے :

تمہاری قبر پر میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا
مجھے معلوم تھا تم مر نہیں سکتے
تمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھی وہ جھوٹا تھا
وہ جھوٹا تھا وہ تم کب تھے
کوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے گر کے ٹوٹا تھا
مری آنکھیں تمہارے منظروں میں قید ہیں اب تک
میں جو بھی دیکھتا ہوں سوچتا ہوں وہ وہی ہے
جو تمہاری نیک نامی اور بدنامی کی دنیا تھی
کہیں کچھ بھی نہیں بدلا
تمہارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیں
میں لکھنے کے لیے جب بھی قلم کاغذ اٹھاتا ہوں
تمہیں بیٹھا ہوا میں اپنی ہی کرسی پہ پاتا ہوں
بدن میں جتنا بھی میرے لہو ہے وہ
تمہاری لغزشوں ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہے
مری آواز میں چھپ کر تمہارا ذہن رہتا ہے
مری بیماریوں میں تم مری لاچاریوں میں تم
تمہاری قبر میں میں دفن ہوں تم مجھ میں زندہ ہو
کبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا
تمہاری قبر پر میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا

ندا فاضلی کی نظم پڑھ کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے حامد یزدانی کی شخصیت اور شاعری میں بھی ان کے والد یزدانی جالندھری آج بھی زندہ ہیں۔

خوش قسمت شاعر

حامد یزدانی اور یزدانی جالندھری دو خوش قسمت شاعر ہیں۔
بیٹے کے دل میں باپ کے لیے بے پناہ محبت
باپ کے سینے میں بیٹے کے لیے بے پناہ شفقت۔
اگر دنیا میں اور بھی ایسے باپ بیٹے ہوتے تو دنیا ایک جنت ارضی بن جاتی۔
۔ ۔

نوٹ: یہ مضمون حامد یزدانی کے ادبی تحفے ”سوسن کے پھول“ (والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظر منظر جھلکیاں ) جسے راولپنڈی کے آواز پبلی کیشنز نے چھاپا ہے، سے انسپائر ہو کر لکھا گیا۔

 

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail