مصر کی جادو نگری۔ کپلنگ کا سفر نامہ۔ 1913
1913 کے مصر کا تاریخی اور سیاسی پس منظر
مصر 639 میں مسلمانوں کے زیرِ انتظام آ گیا۔ تاریخ کا پہیہ چلتا رہا۔ پھر 878 سال بعد 1517 میں یہ ترکی کی عثمانیہ سلطنت کا حصہ بن گیا۔ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں یورپی تجارتی طاقتوں، خاص طور پر فرانس اور برطانیہ نے مصر میں عثمانیہ حکومت کی عملداری کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ 1798 میں اُس وقت کے فرانسیسی حکمران نپولین نے مصر پر چڑھائی کر دی۔ اِس سے مصر افراتفری کا شکار ہو گیا۔ سلطنتِ عثمانیہ نے فوجی کمانڈر محمد علی پاشا کو حکومت کی رِٹ قائم کرنے کے لئے بھیجا۔ آگے چل کر برطانوی دور میں یہ خود مصر کا حکمران ہو گیا گو کہ وقت کے عثمانی سلطان سے حکمرانی کی اجازت لے رکھی تھی۔ بیسویں صدی کے وسط تک محمد علی کا خاندان ایک طرح یا دوسری طرح حکمرانی کرتا رہا۔ یہ اپنے آپ کو ’خَدِیو‘ کہلاتے تھے۔ جس کا مطلب ہے وائسرائے۔
1820 وہ سال ہے جب مصر کے کسانوں نے کپاس کی پیداوار پر زور دیا اور اِن کی معیشت بدلنے لگی۔ اِس کی وجہ سے غیر ملکی تجارتی کمپنیوں کی رال ٹپکنے لگی۔ انہوں نے یہاں آ کر سرمایہ کاری کی اور خوب دولت کمائی۔ پاشا حکمرانوں نے زرعی اور ملکی حالات بہتر کیے۔ پھر 1869 میں فرانس کے اشتراک سے مشہورِ زمانہ نہر سویز تعمیر ہوئی۔ سب جانتے ہیں برطانیہ اور فرانس کا اینٹ پتھر کا بیر ہے۔ لہٰذا اِس نہر کے بننے پر برطانیہ نے سخت مخالفت کی۔ بہت جلد اقتصادی دباؤ کی وجہ سے مصر کو اس نہر کے اپنے حصص برطانیہ کو فروخت کرتے ہی بنی۔ یوں نہر سویز کا کنٹرول اینگلو فرینچ کینال کمپنی کے ہاتھ میں چلا گیا۔ لیکن اس کا مصر کو ایک دھیلے کا فائدہ نہ ہوا۔ مصر کی کابینہ میں برطانوی اور فرانسیسی کنٹرولر بھی سرکاری طور پر بیٹھنے لگے۔
1879 سے 1882 کے درمیان کرنل احمد اعرابی المعروف عربی پاشا نے بغاوت کر دی جس سے فرانسیسی اور برطانوی مفادات کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ دونوں ممالک صدیوں پرانی دشمنیاں بھول کر ایک ہو گئے اور اسکندریہ پر بمباری کر دی۔ اس کے ساتھ اپنی افواج بھی مصر میں لے آئے۔ اس طرح 1882 میں بغاوت فرو کر کے نوجوان توفیق پاشا کو اپنے زیرِ سایہ وائسرائے بنا دیا۔ پھر 1913 میں جب کِپلنگ مصر کی سیاحت کو آیا تو مصر برطانیہ کے زیرِ تسلط تھا لیکن ملک چلانے کے لئے ایک بے حد پیچیدہ سیاسی نظام بھی تھا۔
1913 میں جنگِ بلقان نے ترکی کی کمر توڑ دی۔ سلطنتِ عثمانیہ کا انجام قریب نظر آ رہا تھا جس کا اندازہ کپلنگ نے کر لیا۔ اِس کا شیرازہ بکھرنے کے اثرات یقیناً تمام اسلامی ممالک پر مرتب ہوتے خصوصاً اُن کی معیشت پر۔ کپلنگ کے مصر کے ایک زرعی بینک میں کچھ حصص تھے۔ اُس کا سفر دراصل اپنے سرمائے کی جانچ پڑتال کے لئے تھا۔

رُڈیارڈ کپلنگ کی ابتدا
جوزف رُڈیارڈ کپلنگ 30 دِسمبر 1865 کو بمبئی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچوں کی کہانیاں لکھنے سے بہت نام کمایا۔ جنگل بُک اِن کی ایک مشہورِ زمانہ کتاب ہے جو 1894 میں شائع ہوئی۔ بچوں کے لئے انہوں نے مزید بھی لکھا۔ یہ لڑکپن سے معیاری شاعری بھی کرتے رہے تھے۔ جب وہ مزید تعلیم حاصل کرنے انگلستان گئے تو اِن کے بارے میں کہا گیا کہ تعلیمی استبداد کی بہت کمی ہے لہٰذا آکسفورڈ یونیورسٹی کا وظیفہ نہیں مِل سکے گا۔ اُن کے والد اُس وقت ”میو آرٹ کالج“ لاہور کے پرنسپل اور لاہور کے عجائب گھر کے سرپرست بھی تھے۔ انہوں نے مایوس ہو کر بیٹے کو لاہور بُلوا لیا۔ کِپلنگ کو مقامی سِول اینڈ ملٹری گزٹ اخبار میں معاون ایڈیٹر کی مُلازمت مِل گئی۔ اِسی اخبار میں اِن کی شائع ہونے والی مختصر کہانیوں نے دھوم مچا دی۔ صحافی تو پہلے ہی مشہور ہو چکے تھے اب اُنہوں نے ناول نگاری، سائنسی کہانیاں اور سفر نامے بھی لکھنے شروع کر دیے۔
1907 میں کِپلنگ کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ یہ کسی برطانوی ادیب کو ملنے والا اولین نوبل انعام ہے۔ 41 سال کی عمر میں ملنے والا یہ انعام خود اب تک کم عمری کا عالمی ریکارڈ ہے۔ 18 جنوری 1936 کو 70 سال کی عمر میں یہ لندن میں انتقال کر گئے۔
مندرجہ ذیل تحریر میں کپلنگ کا 1913 میں ہونے والا ”مِصر کا سمندری سفر اور سرزمینِ مصر کا سیاحت نامہ“ اور جا بجا رواں تبصرہ بے حد دلچسپ ہے۔ قاہرہ اور لاہور کی کئی ایک چیزوں میں مماثلت کا ذکر بھی خوب کیا ہے۔ اِس کا کچھ نمونہ پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش ہے۔ دیکھئے انہوں نے لاہور کو سیاحت میں بھی یاد رکھا۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ واقعی پہلی پہلی بارش اور پہلی ملازمت کبھی نہیں بھولتی۔ لاہور میں ان کی پہلی ملازمت تھی۔ اسی شہر نے انہیں دوام بھی بخشا۔ آئیے کِپلنگ کے سنگ 1913 کے مِصر چلتے ہیں۔

پورٹ سعید میں آمد
بظاہر تو میں کلکتہ سے سیّاحت کے لئے مصر جا رہا تھا مگر اُس وقت مجھے قطعاً کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہاں مجھے کیا کچھ ملے گا! البتہ جہاز کے عملے کو پورٹ سعید میں تنخواہیں ضرور مِل گئیں۔ میں پچھلے دس سالوں سے لشکریوں، سپاہیوں، جہازیوں وغیرہ کی وہی کہانی سنتا چلا آ رہا ہوں کہ ”پیچھے گھر میں قریبی عزیز یا دوست کے ہاں بیمار بیوی اور ایک چھوٹی بیٹی چھوڑ کے آیا ہوں“ ۔ یا ”اب تو میرا کوئی مُستقبِل ہی نہیں“ ۔ میرا بس چلے تو انہیں نئے موضوع اور نئی کہانیاں لکھ کے دوں۔
پرانا پورٹ سعید تو قصّۂ پارینہ ہو چکا۔ اب تو چہار جانب نئی عمارتیں نظر آتی ہیں۔ شہر کی دو تین علامتیں البتہ اب بھی قائم ہیں۔ میں اور دیگر سیّاح بڑی تعداد میں وہ سب دیکھنے نکل گئے جو ریل گاڑی میں قاہرہ روانگی سے قبل دیکھا جا سکتا تھا۔ میں اور بیشتر سیّاح ”کینال کمپنی باغ“ نہ دیکھ سکے۔ یہ مغرب سے مشرق کے الگ ہونے کی ایک قابِلِ دید مِثال ہے۔ راستوں کے پڑاؤ اور سنگم ہمیشہ ہی جِنّات اور عفریتوں کے محبوب مُقام رہے ہیں۔ مجھے یوں لگتا تھا کہ شاید وہ بھی یہاں ”کینال کمپنی باغ“ میں میرے مُنتظر ہوں گے مگر میں اُن سے اور وہ مجھ سے مُلاقات سے محروم رہے۔
سویز میں مقامی لوگ خاصے مہمان نواز تھے۔ سڑک کی دونوں جانب ایک قطار میں مکانات تھے جن کے سامنے ایک چھوٹا سا باغ! اِن کو دیکھ کر مجھے بھی اپنا گھر بہت یاد آیا۔ میں گھر سے دور ایک سنہرے مُستقبِل کے لئے اِس انجانی جگہ آیا تھا۔ مٹی کی خوشبو بھی یہاں کی زُبان کی طرح بہت مختلِف تھی۔ ( وہ کیا سنہری مستقبل تھا؟ کپلنگ نے اس کا ذکر نہیں کیا) ۔
قصہ ریل گاڑی کے سفر کا
مصری ریل گاڑی جنوبی افریقی ریل گاڑیوں کی طرح ہی تھی۔ ریل کے نظام کا کوئی حال نہیں تھا۔ سمجھ لیں کہ جوتیوں میں دال بٹ رہی تھی۔ مثلاً میں چند ہمسفروں کے ساتھ ڈائننگ کار میں کھانا کھانے گیا تو یہ مکالمہ ہوا:
” ہم سب ایک ہی جگہ بیٹھ کر کھانا چاہتے ہیں“ ۔ میں نے عملے سے کہا۔
” آپ کو سروس کا نمبر مِل جائے گا“ ۔
” کیسا نمبر؟“ ۔
” ابھی آپ کو سروس کا نمبر مِل جائے گا“ ۔
” یہ نمبر کہاں سے مِلے گا؟ کون دے گا؟“ ۔
” جناب! یہ تو میں ہی دوں گا“ ۔
” لیکن ہم لوگ تو ابھی کھانا کھائیں گے“ ۔
” جناب ابھی تو سروس شروع ہی نہیں ہوئی!“ ۔
” تو؟“ ۔
” تو یہ کہ انتظار کیجئے“ ۔
کیسا شاندار جواب دیا گیا۔
ہاہا ہا! میں کھسیانی ہنسی ہنسا۔ کب نو مَن تیل نکلے گا کب رادھا ناچے گی۔ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھی اور ہم سب نے کافی دیر بعد مختلف میزوں پر کھانا کھایا۔
وہ چیز جسے مصر میں دیکھ کر میں چونک گیا وہ اِدھر کے کوّے تھے۔ دیکھتے ہی ایسا لگا جیسے یہ میرے ساتھ ساتھ ہی سفر کر رہے ہوں۔ کیا کلکتہ اور کیا قاہرہ۔ کوے مجھے بالکل ایک ہی جیسے نظر آئے۔
مصر کی رات کا منظر بھی عجیب تھا۔ ریل گاڑی کے ڈبے کی ایک جانب کی کھڑکیوں سے دور تک ویرانہ نظر آتا تھا جب کہ دوسری طرف سے دریا میں پانی کے جہازوں کی جھلملاتی روشنیاں بہت پیاری لگ رہی تھیں۔ کہیں کہیں آبادیاں بھی نظر آتی تھیں جہاں بجلی کے بلب اپنی بہار دِکھا رہے تھے۔ یہ ترقی کپاس کی بدولت ہی ممکن ہوئی تھی۔
یورپ کے شہر اور قاہرہ میں بس اتنا ہی فرق ہے جتنا آج اور آنے والے کَل میں! یہاں بھی کچھ عرصہ پہلے تک گھوڑا گاڑیاں چلتی ہوں گی لیکن اب مجھے ریلوے اسٹیشن سے ہوٹل تک چمکتی دمکتی موٹر کار لے کر گئی۔ مجھ کو یہ اٹلی کے شہر روم اور جنوبی فرانس کے شہر مارسیلز کے مضافات جیسا لگا۔
قاہرہ اور لاہور میں مماثلت
ہوٹل میں تازہ دم ہونے کے بعد بالکونی میں آن کھڑا ہوا۔ نیچے زندگی بیدار تھی۔ مختلف لہجوں میں کئی ایک زبانیں بولی جا رہی تھیں۔ دریائے نیل سورج کی اوّلین کِرنوں کی روشنی سے سنہرے رنگ میں بہہ رہا تھا۔ سامان بردار کشتیاں پُل کھلنے کو منتظر تھیں۔ گھاٹ پر ٹیکسی والے سواریوں کے لئے مستعد نظر آ رہے تھے۔ نیچے زمین پر جا بجا چبائی ہوئی گنڈیریوں کے چھلکے گرم موسم کا اعلان کر رہے تھے۔ فوجیوں کے ایک دستے نے پُل کو اوپر کرنے کا عمل مکمل کیا۔ میں بھی پُل کھلنے سے پہلے ہی سامنے کھجوروں کے جھنڈ کی طرف چلا۔ اُدھر سے ایک جنازہ آتا دِکھائی دیا۔ مَردوں کے پیچھے اُن کی خواتین نوحہ کرتی آ رہی تھیں۔ مَرد اور لڑکے اونچی نیچی آوازوں میں لَے کے ساتھ کچھ پڑھتے جاتے تھے۔ یہ بھی غالباً لاہور شہر کے ٹکسالی دروازے سے آئے ہوں گے جو میں نے اسی طرح کی ایک سرد صبح لب ِ دریا، مُسلمانوں کے قبرستان میں دیکھے تھے۔ زبان، لِبَاس اور چپل کے معمولی فرق کے علاوہ سب کچھ ایک جیسا تھا۔ مجھے تو بعد میں بھی مصر کی بہت سی جگہوں میں یہاں کے عوام اور ان کی سماجی تقریبات میں لاہور کے رہنے والوں کی مماثلت نظر آئی۔ بہرحال اِس جنازے کے پیچھے ایک نوجوان لڑکا گدھے پر بیٹھا جامنی رنگ کا فٹ بھر لمبا گنّا چوس رہا تھا۔ اِن دونوں کے گلے میں لاہور والوں کی طرح نظرِ بد سے بچنے کے لئے تعویز لٹکے ہوئے تھے میں نے بھی بعد میں یہ گنے چوسے لیکن بمبئی کے گنے سے اِن کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔
تھوڑا ہی وقت گزرا ہو گا کہ ہوٹل کے قرب و جوار میں مشرق کی مخصوص چہل پہل شروع ہو گئی۔ راہ گیر، بہشتی، سڑکیں صاف کرنے والے، مُرغیاں بیچنے والے اپنے اپنے کام میں مگن تھے۔ دریائے نیل میں سیاحوں کو اسوان لے جانے کے لئے اسٹیمر چلنے شروع ہو گئے۔ میں نے بھی قاہرہ شہر کی سیر کا آغاز کر دیا۔ یہاں کے لوگوں کو خُدا نے غالباً سب ہی کچھ وافِر مِقدار میں دے رکھا ہے۔ مجھے قاہرہ والے دمشقیوں کے مقابلے میں زیادہ خوش طبع محسوس ہوئے۔
قاہرہ شہر
قاہرہ مجھے کوئی زیادہ اچھا نہیں لگا۔ شہر کی گلیاں گندی اور تعمیراتی لحاظ سے ٹھیک نہیں ہیں۔ گزر گاہیں اور سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں۔ کم از کم مجھے تو قاہرہ سے ایسی اُمید نہیں تھی۔ اِس شہر میں سیاح ہر ایک موسَم میں آتے ہیں اور کافی رقم بھی خرچ کرتے ہیں۔ لکھنے اور کہنے میں تو یہ برا ہے لیکن یہاں باقاعدگی سے آنے والے سیاحوں کے بقول ”سیاح ایک ایسا کتا ہے جو ایک ہڈی تو خود اپنے کھانے کے لئے لائے اور جاتے ہوئے دوسری ہڈی یہاں کے لوگوں کے لئے چھوڑ جائے“ ۔ لیکن میرے مطابق یہ قول پرانی بات ہو گئی کیوں کہ اب سیاحوں سے آمدنی، کپاس کی آمدنی کے مقابلے میں کم مانی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ قاہرہ شہر کی زمین بھی اب کپاس اُگانے کی وجہ سے کافی مہنگی ہے۔
یہاں یقیناً ایک بلدیہ بھی ہو گی مگر شاید اِس کے کام میں مفاہمت اور مصلحتوں کی رُکاوٹیں آ گئی ہیں یوں وہ فعال ہی نہیں! یہاں عموماً مکانات میں ہوا کا صحیح گزر نہیں ہوتا نا ہی یہ جراثیم سے پاک ہوتے ہیں۔ سورج ہی کچھ جراثیم ختم کر دیتا ہو گا، مگر جب باہر تیز ہوائیں چلتی ہوں اور مکان میں روزن ہی نہ ہوں تو پھر گھر میں ہوا کیسے پھرے؟ آپ یہاں سیاحوں کو خوب باتیں کرتے دیکھیں گے، لیکن قاہرہ میں مُستقِل رہنے والے یورپی باشندے ضرور تاً ہی منہ کھولتے ہیں۔ اِس سب کو ایک طرف رکھ دیں پھر بھی
قاہرہ کا پورا سِسٹم سیاسی اور انتظامی دونوں طرح سے نا موزوں ہے۔
چوں چوں کا مربہ
مِصر، کہنے کو تو ایک مملکت ہے مگر در اصل ایک مقامی منڈی ہے۔ گو اِس کی برائے نام حکومت بھی ہے۔ یہ ایک نیم مُردہ سلطنت کی الگ تھلگ ولایت ہے جِس کو نہایت ریاکاری سے ایک طاقت کے زیرِ اثر رکھا جا رہا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ یہ طاقت، طاقت نہیں بلکہ ایک ایجنسی ہے۔ یہ ایجنسی بھی ایک گورکھ دھندا ہے جو سالوں سے چلایا جا رہا ہے۔ یہ کھُلم کھُلا سیاسی اور سماجی بلیک میل ہے جو چھ سات یورپی طاقتیں کر رہی ہیں۔ یہاں تو جِس کی لاٹھی اُسی کی بھینس والا معاملہ ہے۔ جس کا جہاں زور چلتا ہے وہ اپنی من مانی کرتا ہے جیسے فرانسیسیوں نے یہاں کے عجائب گھروں کے کیٹلاگ اور سالانہ رپورٹیں صرف فرانسیسی زبان میں شائع کروائیں۔ دوسری طرف جرمنوں کے مُطالبے اگر اُن کی مرضی سے حل نہ کیے جائیں تو وہ نہ خود کھیلیں گے نہ کسی اور ہی کو کھیلنے دیں گے۔ روسی، جو ہو رہا ہو اُس سے ویسے تو لا تعلق رہتے ہیں لیکن بعد میں بخیے اُدھیڑ ڈالتے ہیں۔ اطالوی اور یونانی اپنے آپ میں مست رہتے ہیں البتہ رقم کے لین دین اور جذباتی پاگل پن میں ہر گِز بھی کسی سے پیچھے نہیں۔
مصر میں عثمانی خِلافت کے وائسرائے بھی قاہرہ میں رہتے ہیں۔ پھر پیرس سے آئے ہوئے مصری پاشا بھی ہیں جو خود اپنی جڑوں کی تلاش میں ہیں۔ یہ نام کے حُکمران ہیں۔ اِس مفاداتی فہرست میں اِنگلستان کے مفادات کپاس اور چینی سے وابستہ ہیں۔ لوٹ کھسوٹ اور مصلحتوں کی اِس چپقلش میں اُن انگریز افسران کی عرق ریزی کو ضرور یاد رکھنا چاہیے جو یہاں کی زمینوں کو سیراب کرنے، نکاسیٔ آب او ر زمین کی زرخیزی کے لئے محنت کر رہے تھے حالاں کہ اِن کو بھی بعض جگہوں پر جان کے خطرات رہتے تھے۔
الف لیلوی قاہرہ
یہاں یورپ کی ہر رنگ نسل کے لوگ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے باشندے اکثر موجود ہوتے۔ میں نے وہاں خالص سیاح، فوجی اور دیگر افسران بھی دیکھے۔ ایک ضعیف تُرک شخص بھی اِس بھِیڑ میں الگ سے پہچانا جا تا تھا۔ معلومات کرنے پر پتا چلا کہ قسطنطنیہ میں یہ نوجوان فوجیوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔ یہ جدید ’الف لیلوی‘ قاہرہ مجھے قطعاً نہیں بھایا۔ مجھے یہ بھانت بھانت کا قاہرہ نہیں بلکہ خالص عربی قاہرہ درکار تھا۔ میں شہر کے بازاروں میں خوب گھوما پھرا مگر کوئی خریداری نہیں کی۔ یہاں کی اکثریت پیدائشی مُسلمان ہے، بعض تربیت سے مُسلمان ہوئے اور کچھ کے اِسلام لانے میں قسمت کا بھی دخل ہے۔ لیکن میں نے وہاں ایک بھی برطانوی شخص ایسا نہیں دیکھا جو اِسلام اور اِس کے ماننے والوں سے نفرت کرتا ہو۔ ایک کہاوت مشہور ہے کہ جہاں مُسلمان ہیں وہاں فہم و تہذیب ہے۔
آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اِسلام تنزلی کا شکار ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ یورپ اور ایشیا کی طرح افریقہ میں بھی اِسکی تجدید ہو گی۔ اِن میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ اِسلام کو سب سے زیادہ انگلستانی ہی سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں مستقبل قریب میں اِسلام اور مُسلمان بھی یہ بات تسلیم کریں گے اور دنیا بدل جائے گی۔

قدیم جامعۃ الازہر
مجھے قدیم درسگاہ الازہر دیکھنے کا شوق تھا۔ جب گیا تو دیکھتا ہی رہ گیا! اگر آپ قاہرہ کی ہزار سالہ قدیم جامعۃ الازہر جائیں تو آپ بھی متاثر ہوں گے۔ دیواروں کی بناوٹ کی وجہ سے اندر سے یہ تمام تر عمارت شِدّت کی گرمی سے محفوظ رہتی ہے۔ طلباء تاریک راہداریوں سے بے شمار چھوٹے بڑے حجروں میں آتے جاتے رہتے ہیں ؛ گویا یہ بھی بازار کی گلیاں ہوں۔ طالبِ علم فرش پر بیٹھتے ہیں۔ اِن کے اُستاد زیادہ تر اپنی یادداشت کے بَل پر پڑھاتے ہیں۔ یہاں گرامر، ترکیبِ کلام، منطق، حساب /ریاضی، الجبرا، تفسیر، حدیث اور اِسلامی قانون وغیرہ پڑ ہایا جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص اِن تمام علوم کا ماہر نہیں ہو سکتا۔ البتہ وہ جب تک چاہے یہاں رہ کر علم حاصل کر سکتا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اِس درس گاہ میں طلباء میں 25,000 روٹیاں روزانہ تقسیم کی جاتی ہیں۔ فرش پر سونے اور آرام کرنے کے لئے ہر وقت جگہ موجود ہوتی ہے۔ میں کہاں کہاں نہیں گیا لیکن اِس سے زیادہ آسان اور موثر حصولِ تعلیم میں نے کہیں اور نہیں دیکھا۔ یہاں مُسلمانوں کے تمام فِقہوں کے ماننے والوں کو 600 علماء تعلیم دیتے ہیں۔ تقریباً 10,000 یا 12,000 طلباء مشرق، مغرب، شمال اور جنوب سب اطراف سے یہاں آتے ہیں۔ یہ طلبا ء پھر اپنے علاقوں میں چھوٹے تعلیمی اداروں کے مُدرس، مساجِد کے علماء اور عالمی مُبلغ بن کر واپس جاتے ہیں۔ یورپ میں یہ بہت ہی خال خال ہوتے
ہیں۔ کئی دنوں کے رہنے کے بعد پھر میں قاہرہ سے کچھ کچھ مانوس ہونے لگا۔
…………………………
(جاری ہے )


