سودائی شاعر: نصیر کوی
ایک کھوکھے پہ ٹھنڈی بوتلیں بیچنے والے شخص کی سیاسی اور سماجی فراست اہم دانشوروں سے بڑھ کر ہو سکتی ہے؟ اس سادہ شخص کے حلیے اور کھوکھے کو دیکھ کر گمان بھی نہ کیا جاسکتا تھا کہ اس جسم کے اندر قومی جذبے دہکتے اور آنکھوں کے پیچھے رومانی خواب مچلتے ہیں۔ اس کے منہ سے نکلنے والے اشعار مجمع میں آگ لگا دیتے ہیں اور اسے تنویمی کیفیت میں لے آتے ہیں۔ وہ ایک شعر پڑھتا ہے اور ہزاروں کا مجمع دوسرا شعر یک زبان پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
تم ڈاکو چور لٹیرے بھی نگرانی کرنے آئے ہو
تم خلق خدا کے ٹھکرائے سلطانی کرنے آئے ہو
تم بھوکے ننگوں کے خون کی ارزانی کرنے آئے ہو
تم ٹینکوں توپوں کے بل پر من مانی کرنے آئے ہو
تم امر کے پروردہ ہو جمہور کے معنی کیا جانو؟
تم قاتل ہو دستوروں کے دستور کے معنی کیا جانو؟
تم فتویٰ گر ہو شاہوں کے منصور کے معنی کیا جانو؟
تم تاریکی کے پالے ہو تم نور کے معنی کیا جانو؟
ہم بھٹو کے دیوانے ہیں یہ جان امانت بھٹو کی
بی بی پہ کرنے آئے ہیں قربان امانت بھٹو کی
ہم آن پہ مرنے والے ہیں یہ آن امانت بھٹو کی
جس شان سے مقتل میں آئے وہ شان امانت بھٹو کی
کیوں اتنا بوجھ اٹھائے ہو؟ کل کیسے قرض اتارو گے
تم اپنی جان بخشی کے لئے پھر ہم سے عرض گزارو گے
یہ جان کی بازی ہے اور تم یہ بازی ہارو گے
ہر گھر سے بھٹو نکلے گا تم کتنے بھٹو مارو گے
اکتوبر 1947 ء کو جہلم کے ایک سفید پوش گھرانے میں جنم لینے والا معروف پنجابی شاعر ”نصیر کوی“ صرف دسویں جماعت تک نصابی تعلیم حاصل کر پایا۔ گھر کے دگرگوں ہوتے معاشی حالات نے اسے تعلیم چھوڑ کر ملازمت کرنے پر مجبور کر دیا۔ تربیلہ کے مقام پر ڈیم تعمیر ہو رہا تھا، نصیر کوی نے وہاں بطور ترکھان ملازمت اختیار کر لی۔ شاموں میں نصیر شاعری پڑھا کرتا اور تاریخی کتابیں چاٹتا۔ اس کے علاوہ اپنے ساتھ کام کرتے محنت کشوں کے دکھوں اور بے چارگی پر کڑھا کرتا اور کہتا ایک مزدور اور خچر کی زندگی میں کوئی فرق نہیں، دونوں جان توڑ محنت کرتے ہیں اور دونوں بے زبان بھی ہوتے ہیں۔ نصیر روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں بھی چار سال مقیم رہا۔ نصیر کی شخصیت میں جو پہلو زیادہ نمایاں ہوئے ان میں اپنی مٹی سے پیار، تاریخ کا شعور، ماں بولی سے عشق، محنت کش کے لیے درد بلکہ تڑپ اور بے ساختہ ابلتی ہوئی شاعری شامل ہیں۔ نصیر کی پہچان اردو شاعری بنی جب کہ اس سودائی کو اصل مان اپنی پنجابی شاعری پر تھا۔
عرفان جاوید اپنی مشہور تصنیف ”دروازے۔ خاکے“ میں نصیر کے ساتھ اپنی کچھ ملاقاتوں کا احوال تحریر کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں ایک ملاقات میں پوچھا کہ معاش کے گھوڑے کے سموں تلے بڑے بڑے باغی کچلے گئے اور ان کا جوش رزق حالات ہوا تو اس کے اندر مزاحمت کا شعلہ کیسے بھڑکتا رہا۔ یہ سن کر شاعر مسکرایا اور بولا ”میری مٹی، جہلم کی زمین، ہمیشہ سے جنگجووں کو جنم دیتی رہی ہے، راجا پورس سے لے کر آج تک ہم لوگوں نے ایک ہاتھ میں بیلچہ اور دوسرے میں تلوار اٹھا کے رکھی ہے“ ۔
راجا پورس، ٹلا جوگیاں، خانقاہیں، محقق البیرونی، جنونی رانجھا، آزادی کا جری سکھ بھائی متی داس اور بے چارہ نصیر کوی آج بھی جہلم کے نقش لازوال ہیں۔ اس زمین سے کیا کیا پرندے اڑے اور دور ڈالیوں پر جا بیٹھے، دینے کا گلزار، چھوٹالے کا سنیل دت جہلم کا اندر کمار گجرال اور من موہن سنگھ۔
جہلم کے گردونواح میں بکھرا افلاس اس محنت کش کوی کو بے چین رکھتا۔ وہ اس قبیل اور نسل کے آخری لوگوں میں سے تھا جو اپنے دین سے عشق کرتے اور دوسروں کے مذاہبِ اور ان کے اوتاروں کی بھی عزت کرتے تھے۔ وہ کہتے ہم محنت کش چھوٹے لوگ نہیں۔ ہم خدا کے مقرب اور پیغمبرِ ﷺ کے وارث ہیں۔
سیاست میں متحرک کردار ادا کر نے کے حوالے سے ایک نشست میں عرفان جاوید کو بتایا کہ اس کی زندگی مزے سے گزر رہی تھی۔ ان کے ہوٹل میں دن بھر گاہکوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا۔ اس دوران ایم آر ڈی تحریک شروع ہو گئی۔ ”اس دوران مجھے احساس ہوا کہ وہ بے زبان خچر جسے محنت کش کہا جاتا ہے اسے ملکی تاریخ میں کسی نے زبان دی تھی اور خواب دیکھنے کا حقدار بنایا تھا وہ بھٹو تھا اور ستم شعاروں کے ہاتھوں اس کا قتل ایک بھیانک واقعہ تھا“ ۔ تحریک زور پکڑ رہی تھی اور ساتھ میں نصیر کا جذبہ حریت ہوا پکڑ رہا تھا۔ چنانچہ نصیر نے اپنا ہوٹل سیاسی جانبازوں کی نذر کر دیا۔ نصیر کو امید بندھی کہ غریب دہقان اور مزدور حالات کے بہاؤ پر ابھر کر اوپر آئے گا۔ چنانچہ اس کے لیے یہ تحریک آزادی محنت کش کا استعارہ بن گئی اور بھٹو اس جذبے کا چہرہ۔ اسی دوران نصیر کے ہوٹل پہ چھاپے پڑنے لگے بالآخر ہوٹل سیل کر دیا گیا۔ آمدنی کے سوتے خشک ہونے لگے اور پس آخر بات یہاں آ کر ٹھہری کہ نصیر کوی مقروض اور چھوٹے موٹے کام کرنے پر مجبور ہوا۔
لوگ پارٹی رکنیت تب حاصل کرتے ہیں جب وہ پارٹی عروج کی جانب گامزن ہوتی ہے۔ نصیر نے پیپلز پارٹی کی رکنیت تب حاصل کی جب قد آور لوگ اسے چھوڑ رہے تھے۔ اس وقت اس کی اندر سے آواز اٹھی کہ یہی درست وقت ہے پورے قد کے ساتھ کھڑے ہو کر راست گووں میں شمار ہونے کا۔ میرا ضمیر گورا نہ کرتا تھا کہ جو وقت آواز بلند کرنے کا ہے تب دونوں ہاتھ بلند کر کے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے ہر جلسے کا منتر اور جلوس کا سلوگن شعر
یہ بازی جان کی بازی ہے اور تم یہ بازی ہارو گے
ہر گھر سے بھٹو نکلے گا تم کتنے بھٹو مارو گے
اس شعر کا خالق نصیر کوی، کوئی شاطر سیاستدان نہ تھا، دوراندیش سیاسی کارکن بھی نہ تھا فقط خواب دیکھنے والا ایک معصوم، جذباتی اور درویش شاعر تھا جو امید اور نا امیدی کے بیچ جھولا جھولتا رہتا ہے۔ وہ اپنے نظریے سے اس طرح چمٹا ہوا تھا جیسے اگلے وقتوں میں گو فصیل سے چپک کر دیوار سے پھلانگنے والوں کے لیے دوسری جانب کودنے میں معاون ثابت ہوتی تھی۔ وہ شخص جس کی شاعری جلسوں میں پڑھ کر سیاسی راہنما اقتدار کی غلام گردشوں سے گزر کر مسند تک پہنچے، خود کینسر جیسی موذی بیماری کا شکار ہو کر اپنے اکلوتے بیٹے کی معمولی سرکاری نوکری کا ارمان دل میں لیے ہوئے گم نامی، غربت اور بے چارگی کا دکھ اوڑھے ہوئے 24 نومبر 2011 کو اس دارفانی سے کوچ کر گیا۔
نوٹ۔ اس کالم کے لیے مواد عرفان جاوید کی کتاب دروازے۔ خاکے سے لیا گیا ہے۔


