قربانی کی عورت


چاروں ٹانگیں رسیوں سے بندھی ہونے کے باوجود، زمین پر لٹائے ہوئے بکرے کو تین آدمیوں نے پکڑا ہوا تھا۔ قصائی بھی تیار تھا مگر جواد ہاشمی نے چھُری اپنے بیٹے تقی ہاشمی کو پکڑا کر تکبیر کا حکم صادر کر دیا۔ چھری چلتے ہی بکرے کی گردن سے خون کا ایک فوارا پھوٹا۔ کچھ چھینٹے جواد ہاشمی اور تقی ہاشمی کے چہروں پر بھی پڑے۔ قصائی نے اپنے کندھے پر پڑا صافہ جواد ہاشمی کی طرف بڑھایا کہ وہ اپنا چہرہ صاف کر لیں۔ جواد ہاشمی نے یہ کہہ کر چہرہ صاف کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ چھینٹے قربانی کے گواہ ہیں۔ انہیں کچھ دیر چہرے پر رہنے دینا چاہیے۔ تقی ہاشمی نے بھی اُن کی تقلید کی۔

سات سالہ کنزا دُور کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اُس سے یہ خونی منظر برداشت نہ ہوا۔ ذبح ہو چکنے کے باوجود بکرے کا جسم ابھی تک ایسے تڑپ رہا تھا جیسے جینے کی آخری کوشش کر رہا ہو۔ کنزا روتی ہوئی اندر چلی گئی۔ وہ کب تک اندر کسی کونے میں چھُپ کر بیٹھی روتی رہی، کسی کو خبر نہ ہوئی۔ کھانا لگا تو اُس نے گوشت کھانے سے انکار کر دیا۔ ذبح ہوتے بکرے کا تڑپنا، والد (تقی ہاشمی) اور دادا (جواد ہاشمی) کے چہروں پر پڑے وہ خون کے چھینٹے۔ یہ خوفناک منظر اُس کی آنکھوں میں منجمد ہو کر رہ گیا تھا۔

اُن کے گھر میں یہ پہلی قربانی نہیں تھی۔ جواد ہاشمی تو ہر سال بڑی دھوم دھام سے قربانی کرتے چلے آئے تھے مگر ایک تو تب کنزا چھوٹی تھی، دوسرے وہ اپنے کھیلوں میں مصروف رہتی تھی۔ قربانی کے بارے میں اُس کا اب تک کا تمام علم، بس سُنی سنائی باتوں تک محدود تھا۔ البتہ یہ پہلی قربانی تھی جس کا تمام منظر اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

اس بار لیکن معاملہ ایک اور وجہ سے بھی بالکل الگ تھا۔ نو دس ماہ پہلے دادا جان قربانی کی غرض سے ایک میمنہ خرید کر لائے تھے۔ مگر کنزا، دادا جان کے مقصد سے بالکل بے خبر تھی۔ اُسے تو اِس میمنے کی صورت میں جیسے ایک زندہ کھلونا، ایک ہمجولی مل گیا تھا۔ جس کے ساتھ وہ مل کر کھیل بھی سکتی تھی۔ اس سے پہلے تو ماں (رابعہ بی بی) ، باپ، دادا، چار سال بڑے بھائی نعمان اور نوکروں چاکروں کے باوجود اس بھرے پُرے گھر میں وہ خود کو اکیلا محسوس کرتی تھی۔

ماں کو گھر کے کاموں سے ہی فرصت نہ تھی، باپ اور دادا کی اپنی مصروفیات تھیں اور نعمان کو تو جیسے پیدا ہوتے ہی سکھا دیا گیا تھا کہ اُسے لڑکیوں سے نہیں کھیلنا۔ وہ لڑکی خواہ اُس کی چھوٹی بہن ہی کیوں نہ ہو۔ اس میمنے کی صورت میں جیسے کنزا کی زندگی میں بھی ایک رونق در آئی تھی۔ دادا جان کے ساتھ ساتھ اب وہ بھی اس میمنے سے پیار کرنے اور اُس کی خدمت میں جُٹی رہتی۔ سکول سے واپس آ جانے کے بعد اُس کا زیادہ وقت اِسی کی دیکھ بھال میں گزرتا۔

جوں جوں یہ میمنا ایک بکرے کی جسامت میں ڈھل رہا تھا تُوں تُوں اُس پر دادا جان کی توجہ بڑھتی جا رہی تھی۔ اُس کی دیکھ بھال، خوراک اور سجاوٹ میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ چند ماہ پہلے والا میمنہ اب ایک زور آور بکرے کا روپ دھار چکا تھا۔ لیکن اب وہ دادا جان کے علاوہ صرف کنزا کو اپنے ساتھ کھیلنے کی اجازت دیتا تھا۔ وہ بھی اُس کے اِس برتاؤ پر بہت خوشی محسوس کرتی تھی۔ لیکن اُس کی خوشیوں کا یہ عرصہ زیادہ دیر نہ چل سکا کہ عید قربان کا وقت آن پہنچا تھا۔ بے شک اُس نے عیدِ قربان کے بارے میں کافی کچھ سن رکھا تھا مگر وہ اِس حقیقت سے ابھی بہت دور تھی کہ اس بار اُس کے پیارے بکرے کو بھی قربان کر دیا جائے گا۔

اس قربانی کے بعد کتنے ہی برسوں تک اُس نے گوشت کھانا ہی چھوڑے رکھا۔ جب بھی گوشت پر اُس کی نظر پڑتی تو بکرے کے ذبح ہونے کا وہ منظر اُسے یاد آ جاتا۔ یہی منظر اُسے کبھی کبھی خواب میں بھی نظر آتا۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ جاتی اور دیر تک اس سوچ میں مبتلا رہتی کہ اگر اس جانور کو قربان ہی کرنا تھا تو پھر اسے اتنے پیار سے کیوں پالا گیا؟

اُس کے گوشت نہ کھانے کی عادت کو، کئی سال تک تو یہ سوچ کر اہمیت نہ دی گئی کہ اُن کے خاندان میں بچیوں کا زیادہ گوشت اور توانائی بخش غذا کھانا یوں بھی مناسب نہ سمجھا جاتا تھا مگر جب اُس نے کئی برس عید پر بھی گوشت نہ کھایا تو دادا جان کو تشویش ہوئی۔ پھر مذہب کا حوالہ دے کر اُسے مجبور کر دیا گیا کہ وہ کم از کم عیدِ قربان پر ضرور گوشت کھایا کرے، بصورتِ دیگر اُس کے اِس عمل کو مذہب سے رُو گردانی سمجھا جائے گا۔ معاشرہ اُس پر نہ صرف انگلیاں اُٹھائے گا، بلکہ اُسے حقارت کا نشانہ بھی بننا پڑے گا۔ اور کنزا چاہنے کے باوجود ابھی اس قابل نہ تھی کہ بڑوں کی نافرمانی کر سکے۔ سماج کی تضحیک کا سامنا کرنے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ سو وہ کبھی کبھی گوشت بھی کھانے لگی اور پھر آہستہ آہستہ وہ بھول ہی گئی کہ کبھی وہ گوشت کھانا چھوڑ چکی تھی۔

کسی زمانے میں جواد ہاشمی کے آبا کا شمار نوابین میں ہوتا تھا۔ خاندانی شان و شوکت کے علاوہ دولت کی ریل پیل بھی تھی سو دولت مندوں والے سبھی ناز نخرے بھی تھے اور کچھ خاندانی رسم و رواج بھی اُن کی زندگیوں پر حاوی تھے جن پر اب تک بہت سختی سے پہرہ دیا جاتا تھا۔ لڑکیوں کی جتنی بھی تعلیم ہوتی وہ سب گھر پر ہی انجام پاتی۔ یوں ناظرہ قرآن، بنیادی اردو اور گزارے لائق انگریزی پر ہی اکتفا کیا جاتا۔ کھانا پکانا، سینا پرونا اور گھر سنبھالنا اس کے علاوہ تھا۔

گو اب وہ پرانی زمینداریاں اور وہ پُرشکوہ حویلیاں تو کہانیوں کا حصہ بن چکی تھیں مگر اُن کا گھر ابھی بھی کافی بڑا تھا۔ کھلے کھلے کمرے، مرکزی عمارت کے دونوں اطراف میں وسیع صحن اور ایک جانب کچھ پھولوں کے پودے اور پھلوں کے درخت بھی۔ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے دباؤ میں آ کر البتہ اب خاندان کی لڑکیوں کو سکول کی حد تک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی لیکن انہیں گھر داری ہی سنبھالنی پڑتی تھی۔

پُرکھوں کی بچی ہوئی جائیداد سے دادا جان نے کچھ کاروبار ضرور جما لیا تھا مگر اس کاروبار کی کامیابی کا اصل راز بھی دادا جان کے اُن دوستوں کا تعاون تھا جو نسل در نسل بیوپار سے منسلک چلے آ رہے تھے۔ ورنہ دادا جان کا خاندان تو ایسا تھا کہ جنہوں نے کبھی خود محنت کی ہی نہیں تھی۔ زمینوں کی آمدنیوں سے شان و شوکت تھی اور علاقوں میں رعب داب بھی۔ دادا جان نے تو بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ کسی حد تک بردباری اور ملنساری بھی سیکھ لی تھی لیکن تقی ہاشمی ابھی تک پرانے زمانوں میں جی رہے تھے۔ ناز و نعم میں پلے تقی صاحب میں خاندانی ٹھاٹھ باٹھ کا تفاخر ابھی تک کسی اونچے تخت پر براجمان تھا۔

بے شک گھر اور باہر دونوں مقامات پر آخری حکم دادا جان کا ہی چلتا تھا اور تقی صاحب اُن کے سامنے ’ہاں ہاں اور جی جی‘ کے علاوہ کم ہی کچھ کہہ پاتے تھے مگر کاروبار تو سب وہی دیکھ رہے تھے۔ دادا جان تو کبھی اُدھر جاتے بھی تو اپنے دوستوں سے گپ شپ کر کے لَوٹ آتے۔ بے شک اُن کے دوست انہیں دبے دبے الفاظ میں تقی صاحب کے منفی رویّے سے آگاہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے تھے لیکن دادا جان شاید ایسے اشاروں کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ ہی نہیں رکھتے تھے۔

وقت اپنی رفتار سے ہفتے، مہینے اور سال طے کرتا جا رہا تھا۔ کنزا کے لئے گھر میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ وہ یوں بھی اپنے ہی گھر میں ایک نظرانداز کیے گئے فرد کی زندگی گزار رہی تھی۔ اسی لئے وہ سکول سے آنے کے بعد بھی زیادہ تر اپنی کتابوں کے ساتھ ہی مصروف رہتی۔ اُس کی والدہ کے دن رات، گھر کی دیکھ بھال اور نوکروں سے کام لینے میں بیت رہے تھے۔ کنزا بآسانی اگلی جماعتوں کی طرف بڑھ رہی تھی مگر اُس کے دادا کی صحت لگاتار شکست و ریخت سے دوچار تھی۔ اُدھر تقی ہاشمی کے غیر کاروباری انداز سے مالی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ بڑی بنیاد یہ بھی تھی کہ تقی ہاشمی کے رویّے میں، تکبر اور خودسری کے غلبہ کی وجہ سے دادا کے دوستوں نے تعاون سے ہاتھ کھینچ لئے تھے۔

یہی وہ وقت تھا جب یاسر ہاشمی نامی اُن کا ایک دُور کا رشتہ دار، کسی کام سے تقی صاحب کے دفتر آیا۔ اٹھائیس انتیس کی عمر میں ہی وہ ایک کامیاب کاروبار کا مالک تھا۔ اسی لئے تقی صاحب کے کاروباری حالات کو اُس نے چند منٹ میں ہی جان لیا تھا۔ وہیں اُسے جواد ہاشمی صاحب کی بیماری کی خبر ملی تو وہ تیمارداری کے لئے اُن کے گھر جا پہنچا۔ یہیں اُس نے کھڑکی کے سامنے سے گزرتی ہوئی کنزا کو بھی ایک نظر دیکھ لیا۔ نوجوانی کی دہلیز پر پہلا قدم رکھتی ہوئی، پندرہ سالہ کنزا کا حُسن و جمال آگے چل کر کیا قیامت ڈھانے والا تھا، اس کا اندازہ یاسر ہاشمی نے پہلی نظر میں ہی کر لیا۔ اسی بنیاد پر اُس نے اپنے لئے نئے منصوبے بھی بنا لئے۔

اب وہ کسی نہ کسی بہانے سے اکثر تقی صاحب سے ملنے آتا اور تادیر وہاں بیٹھا رہتا۔ جہاں کہیں اُن کو کسی لین دین کے معاملے میں الجھا ہوا دیکھتا تو ضد کر کے اُن کی مدد بھی کر دیتا۔ ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر تو وہ پہلے ہی اچھی شہرت رکھتا تھا اس لئے تقی صاحب بھی اُس کی پُرکشش شخصیت کا شکار ہو گئے۔ صرف ایک سال کے عرصہ میں تقی صاحب کے کاروبار میں اُس کا عمل دخل اتنا بڑھ گیا کہ وہ جیسے اُس کے مشوروں اور امداد کے محتاج ہو کر رہ گئے۔

اب پہلے کچھ یاسر ہاشمی کے ماضی کے بارے میں۔ وہ سکول کا ایک نالائق طالب علم تھا۔ کسی طرح نقل وغیرہ کر کے میٹرک ہی پاس کر سکا تھا کہ اُس کے والد نے اپنی اچھی آمدنی کے باوجود اُسے ایک ملنے والے کی دکان پر ملازم کرا دیا۔ سکول کا نالائق یہاں بہت ہوشیار نکلا اور تیزرفتاری سے کاروبار کی اُونچ نیچ سیکھنے لگا۔ جونہی اُسے اِدھر کا مال اُدھر کرنا آیا، اُس نے داڑھی رکھی، ٹوپی پہنی اور جمعہ کے جمعہ مسجد بھی جانے لگا۔ ایک سے دوسری دکان کا سفر کرتا ہوا چند سالوں میں ہی دکانوں پر مال سپلائی کرنے لگا۔ چوبیس پچیس سال کی عمر میں اُس نے ہول سیل اور امپورٹ کی کمپنی کھڑی کر لی۔ اور اب تو اُس کا کاروبار خوب چمک رہا تھا۔

کنزا نے میٹرک پاس کر کے کالج جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو اُسے سب سے پہلے بڑے بھائی کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ نعمان، دو بار ایف اے میں فیل ہونے کے بعد اب پھر پرائیویٹ امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ کنزا کی بدقسمتی سے تقی ہاشمی بھی بیٹے کے ہم نوا بن گئے تھے۔ دونوں، باپ بیٹے کا کہنا تھا کہ زیادہ پڑھی لکھی لڑکیوں کو سیّدوں میں رشتے نہیں ملتے۔ تقی ہاشمی اور نعمان کے اس رویّے کے پیچھے کسی حد تک یاسر ہاشمی کی سوچ کا بھی عمل دخل حاصل تھا۔ کنزا سے شادی کا خواہشمند تو وہ پہلی نظر میں ہی ہو گیا تھا۔ اگرچہ اُس نے ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں کیا تھا۔

کالج جانے کی مخالفت کے ضمن میں کنزا نے اپنے والد کے سامنے زبان نہ کھولی مگر بڑے بھائی سے اُس نے اس معاملے میں باقاعدہ جھگڑا مول لے لیا۔ عام طور پر بڑا بھائی ہونے کی وجہ سے وہ نعمان کا بھی احترام کرتی تھی لیکن اُس کے کالج جانے پر جو نعمان نے مخالفت کی، اُسے وہ برداشت نہ کر سکی۔ گھر کے سب بڑے بھی فکرمند ہوئے کہ اُس نے بڑے بھائی سے یوں زبان درازی کی ہے۔ یہ اُن کی خاندانی روایات کے سخت خلاف تھا۔ آخر کار دادا جان نے اُسے کالج جانے کی اجازت تو دِلوا دی مگر اس کے لئے اُسے پہلے بڑے بھائی سے معافی مانگنا پڑی۔

ابھی کنزا کالج کے دوسرے سال میں ہی تھی کہ سخت بیماری نے دادا جان کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی۔ اسی بیماری سے تنگ آ کر انہوں نے تمام جائیداد اور کاروبار تقی ہاشمی کے نام کر دیا تھا۔ اُن کے نام پر تو اب وہ کمرہ بھی نہیں رہ گیا تھا، جس میں اُن کے دن رات بیت رہے تھے۔ تقی ہاشمی جو پہلے باپ کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہ کرتے تھے، اب کسی بھی معاملے میں اُن سے رائے لینے کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے تھے۔ دادا جان ان حالات کو زیادہ دیر برداشت نہ کر سکے اور ایک رات نیند کے عالم میں ہی اگلے جہان سدھار گئے۔

یاسر ہاشمی نے بھی اسی دوران میں آہستہ آہستہ تقی صاحب کے کاروبار میں اپنے پنجے اتنی مضبوطی سے گاڑ لئے تھے کہ وہ اب اُس کی پسند کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے ڈرنے لگے تھے۔ نعمان بھی چونکہ مزید تعلیم سے مایوس ہو کر والد کے کاروبار میں ہی ہاتھ بٹا رہا تھا تو وہ بھی یاسر کی شخصیت کا مداح بن چکا تھا۔

بی بی اے میں کنزا نے ابھی دو سمیسٹر ہی مکمل کیے تھے کہ یاسر نے تقی صاحب کو اپنی خواہش سے آگاہ کر دیا۔ وہ بے شک یاسر کو پسند کرتے تھے مگر داماد کے طور پر نہیں، اسی لئے انہوں نے رابعہ بی بی یا کنزا سے ابھی اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اُسے صاف انکار کرنے کی ہمت بھی اُن میں نہیں تھی، لہٰذا وہ ابھی تک خاموش تھے۔ یاسر کو یقین تھا کہ کچھ اور آگے چل کر تقی صاحب کے پاس اُسے داماد کے طور پر قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں رہ جائے گا۔ نعمان تو آغازِ ملاقات سے ہی یاسر کا گرویدہ اور قصیدہ گو بن چکا تھا۔ اُسے تو یاسر کی اس خواہش کے بارے میں جان کر بہت خوشی ہوئی تھی۔

کنزا، بی بی اے کے امتحانات سے فارغ ہو کر نتیجے کا انتظار کر رہی تھی، جب اُسے صحیح طور پر یاسر کی خواہش کے بارے میں معلوم ہوا۔ اُس نے پہلے موقع پر ہی نہ صرف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دیا بلکہ اُسے بہت برا بھلا بھی کہا۔ اُس کے الفاظ کو باقاعدہ لعن طعن بھی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

نعمان کیونکہ یاسر سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو چکا تھا، اُس نے یاسر کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے کنزا کے کہے ہوئے الفاظ اسی طرح یاسر تک پہنچا دیے۔ کنزا کے پُرکشش شباب میں وقت کے ساتھ آنکھوں کو خیرہ کرنے والی چمک پیدا ہو چکی تھی۔ اُس کی خوبصورتی کی یہی معراج یاسر کی بے تابیوں میں اضافہ کا باعث بھی بنی ہوئی تھی۔ یاسر ابھی تک کنزا کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اُس سے شادی کا خواہشمند تھا اور اس طرح اُسے بہت اچھی زندگی دینے جا رہا تھا۔ لیکن جب اُس نے نعمان کی زبانی اپنے بارے میں کنزا کے الفاظ سنے تو اُس کے سینے پر جیسے چھریاں چلنے لگیں۔ اُسے اپنا تکبر پاش پاش ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ چنانچہ اب وہ ایسے منصوبے بنانے میں مصروف ہو گیا کہ وہ شادی کے بعد کنزا سے اپنی ہتک کا انتقام لینے کے لئے کیا کیا طریقے اختیار کرے گا۔

بے شک کنزا بھی جانتی تھی کہ یاسر ایک نہایت کامیاب بزنس مین ہے، مگر اُس کی بنیادی تعلیم تو مشکل سے میٹرک تک ہی تھی۔ اُس کی عمر بھی اب چونتیس سال سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اُس کی پہلی بیوی اُس کے ناروا سلوک سے تنگ آ کر کئی سال پہلے، طلاق اور بچہ لے کر جا چکی تھی۔ دولت کی ریل پیل نے اُسے مغرور اور گھمنڈی بھی بنا دیا تھا۔ ایسی ہی کچھ اور وجوہات بھی تھیں کہ جن کی بنیاد پر کنزا اُسے کم از کم خاوند کے طور پر قبول کرنے کے لئے بالکل آمادہ نہیں تھی۔

تقی صاحب ہزار کوشش کے باوجود کاروبار کو سنبھال نہیں پا رہے تھے۔ یاسر، ظاہری طور پر تو پوری طرح اُن کا ہمدرد بنا ہوا تھا، مگر وہ ایک کائیاں آدمی، اپنی چالیں بہت سوچ سمجھ کر چل رہا تھا۔ اُس نے سب کچھ جاننے کے باوجود پہلے اُن کے کاروبار کو تباہی کے آخری کنارے تک جانے دیا۔ دیکھنے میں تو یہی نظر آ رہا تھا کہ وہ اُن کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے، لیکن اندر ہی اندر وہ اُن کی جڑیں کاٹنے کا پورا انتظام کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ جب کنزا نے بی بی اے کر کے ایم بی اے میں داخلہ کی خواہش ظاہر کی تو تقی صاحب کے پاس یونیورسٹی کا داخلہ اور دوسری فیسیں دینے کی طاقت بھی نہیں رہ گئی تھی۔ ناگفتہ بہ مالی حالات کی وجہ سے گھریلو ملازم بھی فارغ کیے جا چکے تھے۔

یاسر کو تو پہلے ہی شادی کی جلدی تھی۔ وہ تو چاہتا ہی نہیں تھا کہ کنزا مزید تعلیم حاصل کرے اور نعمان اُس کا سب سے بڑا حامی بنا ہوا تھا۔ تقی صاحب کی خواہش تو تھی کہ بیٹی اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہو کر اُن کی مددگار بن سکے اور شاید یونہی یاسر کے چُنگل سے بچ نکلنے میں بھی کامیاب ہو جائے، مگر وہ اقتصادی طور پر بے بس تھے۔

عام طور پر خاموش اور کسی بھی فیصلہ سازی سے دُور رہنے والی رابعہ بی بی نے ایسے موقع پر کنزا کو دلاسا دیا۔ ایک تو انہوں نے اپنے کچھ زیور سب سے چھپا کر رکھے ہوئے تھے، دوسرے دادا جان بھی اپنی وفات سے پہلے انہیں کچھ پیسے کنزا کی شادی کے لئے دے گئے تھے۔ دونوں چیزوں کی کسی اور کو کوئی خبر نہ تھی۔ یوں دونوں ماں بیٹی نے مل کر یونیورسٹی کے ابتدائی اخراجات کا بندوبست کر لیا۔ تقی صاحب اور نعمان کو بتایا گیا کہ کنزا کے کچھ دوستوں نے مل کر، قرض حسنہ کے طور پر اُس کی یہ مدد کی ہے۔

یاسر کو بالکل امید نہیں تھی کہ کنزا اُس کی مدد کے بغیر بھی یونیورسٹی پہنچ جائے گی۔ لیکن اب اُس کے سر پر یہ خطرہ منڈلا رہا تھا کہ کہیں وہ اپنے ہی کسی ذرائع سے ایم بی اے کر کے کوئی اچھی جاب ہی نہ حاصل کر لے۔ ایسی صورت میں اگر تقی صاحب کا تمام بزنس بھی تباہ ہو جائے تو وہ اپنے خاندان کو بچانے میں کامیاب ہو سکتی تھی۔ اس نوع کی کامرانی کے بعد تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ یاسر سے شادی کرتی۔ چنانچہ یاسر کو نئی چالیں چلنا پڑیں

یاسر اب ضروری سمجھتا تھا کہ کنزا کا خود اُس کے گھر میں ہی گھیرا تنگ کیا جائے۔ بصورتِ دیگر، حالات اُس کے ہاتھ سے باہر ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے تھے۔ کافی سوچ بچار اور تلاش کے بعد اُس کی نظر زاریہ پر پڑی۔ زاریہ اُسی کے رشتہ داروں میں سے ایک امیر کبیر گھر کی بیٹی تھی۔ وہ کچھ نفسیاتی مریضہ تھی مگر اپنے مرض کو ماننے کے لئے تیار نہ تھی۔ چنانچہ نہ علاج ہو پایا، نہ ابھی تک شادی ہوئی تھی اور عمر تھی کہ گزری چلی جا رہی تھی۔ جب زاریہ کے ماں باپ نے یاسر کی تجویز سُنی تو وہ خوشی سے راضی ہو گئے۔

اُدھر سے کامیاب ہو کر یاسر نے نعمان کا رُخ کیا۔ اُس نے نعمان کے سامنے زاریہ کا ایسا خوبصورت نقشہ کھینچا کہ اُسے شادی کے لئے اتاولا کر دیا۔ تقی صاحب بھی اُس کی اِس تجویز پر بہت خوش ہوئے کہ لڑکا تو ابھی تک کسی کام کا ہی نہیں ہوا تھا۔ پھر جب یاسر نے اس ضمن میں یہ عندیہ بھی دیا کہ نعمان چونکہ اُس کے چھوٹے بھائی کی طرح ہے تو اس کی شادی کے تمام اخراجات وہ اُٹھائے گا۔ تقی صاحب کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہو گا۔ البتہ اُس نے خواہش ظاہر کی کہ تقی صاحب اپنے گھر کا آدھا حصہ اپنی ہونے والی بہو کے نام کر دیں۔ اس طرح لڑکی والوں پر احسان بھی ہو جائے گا اور جائیداد تو گھر میں ہی رہے گی۔

زاریہ اور نعمان کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ شادی کے بعد زاریہ اس گھر میں آ گئی تو ہی گھر والوں کو خبر ہوئی کہ ایک تو وہ نعمان سے عمر میں بڑی ہے اور کچھ نفسیاتی مریضہ بھی ہے۔ اچھے بھلے بیٹھے بیٹھے اُس پر غصے کا دورہ پڑ جاتا ہے اور پھر وہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتی۔ اپنے اس مرض کے باوجود اُس نے یاسر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے چند ہفتوں میں ہی سارے گھر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ نعمان کے ساتھ اور خاص طور پر اکیلے میں، وہ نہایت محبت سے پیش آتی تھی اس لئے وہ ہمیشہ اُسی کا ساتھ دیتا۔ تقی صاحب بھی جانتے تھے کہ زاریہ کو ناراض کرنے کا مطلب ہے یاسر کو خفا کرنا۔ اور وہ یاسر کی ناراضی کا بوجھ اُٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ جبکہ زاریہ اپنے ساتھ دو ملازم بھی لائی تھی۔ زاریہ کی آمد کے بعد ، کنزا بس اپنے کمرے تک محدود ہو گئی تھی۔ وہ زاریہ کے ملازموں کو کبھی کوئی کام نہیں کہتی تھی۔

زاریہ کی شادی سے آدھے تقی ہاؤس پر تو سمجھیں یاسر کا قبضہ ہو ہی چکا تھا، مگر یہ اُس کی نظر میں کافی نہیں تھا۔ جبکہ تقی صاحب کو یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا کہ اُن کا گھر ہی دراصل اُن کا قیمتی سرمایہ تھا، جو یقینی بھی تھا۔ کاروبار کا تو کچھ اعتبار ہی نہیں تھا۔ اب تو اُن کے مالی حالات بھی مشکلات کا شکار تھے۔ یوں خاندان کی شہرت بھی داغدار ہو رہی تھی۔ ایسے میں یاسر نے تقی صاحب کو ایک نئی پیش کش کی۔ کچھ عرصہ اس پر بات چیت چلتی رہی اور بالآخر یاسر ہاشمی نے تقی صاحب کے کاروبار میں ایک بڑی سرمایہ کاری کر دی۔ کاروبار نہ صرف سنبھل گیا، بلکہ خوب چلنے لگا۔ اب یہ سارا کاروبار ظاہری طور پر تو تقی صاحب کے نام ہی تھا مگر قانونی طور پر اُس کا کنٹرول یاسر کے ہاتھ میں آ چکا تھا۔ اسی بنا پر یاسر نے نئے سرے سے شادی پر زور دینا شروع کر دیا۔

کنزا نے آنے والے ممکنہ خطرے کو بروقت محسوس کر لیا۔ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کا تہیہ کیے ہوئے تھی۔ اس ضمن میں وہ مسلسل یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطے میں تھی۔ خوش قسمتی سے جلد ہی اُسے ایک ایسا سکالرشپ مل گیا جو کسی پرائیویٹ شخص نے اپنے نام کو خفیہ رکھنے کی شرط پر جاری کر رکھا تھا۔ تعلیمی اخراجات سے بے فکر ہو جانے کے بعد اُس کی خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہو گیا۔ اب اگر کوئی اُس سے یاسر کے رشتے کی بات کرتا تو وہ پہلے سے بھی سخت جواب دیتی۔ ایسے سخت جواب یاسر کی انتقامی آگ کو اور بھڑکا دیتے۔ وہ کنزا کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے مزید نئے طریقے ڈھونڈنے اور ابھی سے اپنی انتقامی کارروائی کے انوکھے انداز تلاش کرنے میں جُتا رہتا۔

کنزا بھی تمام معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی، مگر پھر بھی ایک امر اُس کی آنکھوں سے اوجھل رہ گیا۔ یاسر کی سرمایہ کاری سے تقی صاحب کی کمپنی جو یکایک ترقی کی راہ پر چل نکلی تو گھر میں پیسے کی ریل پیل شروع ہو گئی۔ نوکر چاکر، گاڑیاں اور دوسرے عیش آرام جو کبھی چھِن گئے تھے، پہلے سے بھی زیادہ طاقت سے واپس آ گئے۔ بڑے بڑے لوگوں کی دعوتیں ہونے لگیں اور ایسی ہی دعوتوں پر بلایا بھی جانے لگا۔ زاریہ تو زاریہ، اب رابعہ بی بی بھی کبھی کبھی بیوٹی پارلر جانے لگیں۔ تقی صاحب جو صرف ایک سال پہلے تک کنزا کو یاسر کے چنگل سے بچانے کی فکر میں تھے، اب یاسر کو اُس کے لئے سب سے اچھا شوہر سمجھنے لگے تھے۔

کاروبار ترقی کر رہا تھا، تقی ہاؤس کی شان و شوکت میں اضافہ ہو رہا تھا تو ساتھ ہی ساتھ یاسر کے اختیارات بھی تقی صاحب کے کاروبار میں بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ انہی بڑھتے ہوئے اختیارات کی بدولت یاسر کے مطالبے میں بھی شدّت بلندی اختیار کر رہی تھی۔ اب کنزا کے گھر کے سب افراد بھی یاسر کے گُن گانے لگے تھے۔ کنزا ابھی تک حالات کی سنجیدگی کا درست اندازہ لگانے میں ناکام تھی۔ وہ بیچاری نہیں جانتی تھی کہ تقی صاحب کا تمام کاروبار اس وقت یاسر کی مٹھی میں ہے۔

کنزا کے ایم بی اے کا آخری سمیسٹر چل رہا تھا، جب یاسر نے تقی صاحب کو صاف صاف لفظوں میں بتا دیا تھا کہ اگر کنزا ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی اُس سے شادی پر راضی نہ ہوئی تو وہ اُن کی کمپنی سے تمام سرمایہ نکال لے گا۔ تقی صاحب اچھی طرح جانتے تھے کہ ایسی صورت میں وہ اپنا سرمایہ نکالنے کی بجائے اُن کی کمپنی پر ہی قبضہ کر لے گا۔ قانونی طور پر ایسا کرنے کے تمام اختیارات اُس کے پاس پہلے سے ہی موجود تھے۔ تقی صاحب اور نعمان دونوں ہی یاسر کی مہربانیوں کی بدولت جو اس وقت ایک جمے ہوئے کاروبار کے مزے لُوٹ رہے تھے، کسی صورت بھی اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھے۔

یاسر نے بھی طے کر رکھا تھا کہ وہ ہر حالت میں ایک بار کنزا کو اپنی بیوی بنا کر ہی رہے گا۔ وہ کنزا کے لئے کوئی بھی اور راستہ بند کرنے کے لئے ہر قدم اُٹھانے کو تیار تھا۔ کنزا کے ڈگری حاصل کرتے ہی اُس نے تقی صاحب کو ایک نئی پیش کش کر دی کہ کنزا کی اُس سے شادی کی صورت میں وہ نہ صرف اُن کے کاروبار میں شامل اپنے تمام سرمایہ سے اُن کے حق میں دستبردار ہو جائے گا بلکہ کنزا کی شادی کے تمام اخراجات بھی خود اُٹھائے گا۔ اُس نے کنزا کو بھاری حق مہر دینے کا عندیہ بھی دے دیا۔ مطلب اگر یہ شادی ہو جائے تو تقی صاحب کے وارے نیارے ہو جائیں گے، بصورتِ دیگر کوڑی کوڑی کی محتاجی اُن کا منہ چڑائے گی۔

کاروبار اب بہت اچھا جا رہا تھا۔ بار بار کے اتار چڑھاؤ سے گزر کر اب تقی صاحب بھی ایک منجھے ہوئے بزنس مین بن گئے تھے۔ اسی لئے اُن کی بھی شدید خواہش تھی کہ کسی طرح یاسر اُن کے کاروبار سے نکل جائے۔ یاسر کی کنزا سے شادی اس کا آسان ترین طریقہ تھا۔ نعمان اُن کی اس خواہش میں برابر کا شریک تھا۔

تقی صاحب نے رابعہ بی بی کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ پھر نعمان کے ساتھ مل کر، تینوں نے کنزا کو اس شادی کے لئے قائل کرنے کی ایک اور کوشش کی۔ اُسے باور کرایا، چونکہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہے اس لئے یاسر ہمیشہ اُس سے مرعوب رہے گا۔ پھر وہ اپنی تعلیم کو یاسر کے کاروبار میں بھی استعمال کر سکتی ہے کہ جو شادی کے بعد اُس کا بھی اُتنا ہی ہو گا۔ کنزا پھر بھی نہ مانی تو تقی صاحب نے خاندان کی اُس تباہی کا نقشہ کھول کر اُس کے سامنے رکھ دیا جو اس شادی کے نہ ہونے کی صورت میں ہونی یقینی تھی۔

کنزا نے بچپن سے اپنے ہی گھر میں ایک نظرانداز شدہ فرد کے طور پر زندگی گزاری تھی۔ اسی بنا پر وہ تنہائی پسند بھی ہو گئی تھی۔ کتابوں سے دوستی نے اُس کی ایک اپنی دنیا بسا دی تھی۔ اس دنیا میں اُس کے گھر والے بھی شامل نہیں تھے۔ پہلے سکول اور پھر کالج، یونیورسٹی میں کچھ سہیلیاں ہی تھیں کہ جن سے وہ دل کی بات کر لیتی تھی۔ حالات کی مسلسل سختیوں نے اسے نہایت مضبوط اعصاب کی مالک اور اپنے موقف پر ڈٹ جانے والی بنا دیا تھا۔ کسی کی دولت سے مرعوب ہونا یا کسی کے اثر و رسوخ سے ڈر جانا بھی اُس کی فطرت کا حصہ نہیں تھا۔ وہ جاب کر کے، اپنی قابلیت اور محنت سے خود کو مضبوط بنانا چاہتی تھی۔ لیکن جب خاندان کی ممکنہ تباہی کے پیشِ نظر اُس کے ماں باپ نے اُس سے قربانی کی بھیک مانگی تو وہ انکار نہ کر سکی۔ بچپن سے لے کر اب تک، بڑی شد و مد سے پروان چڑھائے اُس کے تمام ارفع عزائم، ماں باپ کی مجبوریوں کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔

یاسر نے اپنے تمام وعدے نکاح سے پہلے ہی پورے کر دیے اور شادی نہایت احسن طریقے سے انجام پا گئی۔ شادی کی تقریبات کے انداز سے تو شائبہ تک نہیں ہو سکتا تھا کہ یاسر کے دل میں انتقام کا کوئی جذبہ بھی پل رہا ہے۔ اسی لئے کنزا نے نکاح نامہ پر دستخط کرتے ہی خود کو اس نئی زندگی میں ڈھالنے کا ارادہ کر لیا۔ وہ اپنے اور یاسر کے درمیان پیدا ہو جانے والی اب تک کی تلخیوں کو یکسر بھلا دینا چاہتی تھی۔ اُس کی خواہش تھی کہ وہ یاسر کے ساتھ مل کر، اب ایک بالکل نئی زندگی کا آغاز کرے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ یاسر کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ وہ یہ سب جان بھی کیسے سکتی تھی؟

نکاح کے بعد دیگر رسومات سے گزار کر کنزا کو حجلہ ء عروسی میں پہنچا دیا گیا۔ کنزا روایتی دلہنوں کے انداز میں بیٹھی یاسر کا انتظار کر رہی تھی۔ اُدھر یاسر اپنے انتقام کی ابتدا کے موقع پر آج اُسے زیادہ سے زیادہ انتظار کی اذیّت دینے پر تلا ہوا تھا۔ وہ رات کو دیر گئے حجلۂ عروسی میں داخل ہوا۔ اُس کے چہرے پر پہلی رات کے دلہا جیسی خوشی کے کوئی آثار نہ تھے۔ ہاتھ میں بریف کیس پکڑے وہ تو جیسے کسی بزنس میٹنگ میں شامل ہو رہا تھا۔ اُس نے دروازے کو اندر سے لاک کیا، کنزا کے قریب آیا، بریف کیس بستر پر رکھا اور کھڑے کھڑے کنزا کو مخاطب کیا ”دیکھو لڑکی! تقی صاحب نے تمہاری پرورش پر جو کچھ خرچ کیا، اُس کے بدلے میں، مَیں نے اُن کی کمپنی میں لگایا گیا اپنا تمام سرمایہ انہیں معاف کر دیا ہے۔ انہوں نے تمہارے سکول، کالج اور یونیورسٹی کی فیسیں دیں، میں نے شادی کے مکمل اخراجات سے بھی زیادہ انہیں نقد دے دیا۔ مطلب اُن کا حساب چُکتا ہوا“ ۔ پھر اُس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا بریف کیس کھول کر کنزا کے سامنے رکھ دیا۔ جو بڑے نوٹوں سے بھرا ہوا تھا، ”اور یہ رہا تمہارا حق مہر۔ اچھی طرح دیکھ لو۔ ضرورت سمجھو تو گن لو۔ جتنا نکاح نامہ میں لکھا ہے یہ اُس سے کچھ زیادہ ہی ہے۔ تم اسے بینک میں جمع کرانے جاؤ گی یا کسی کے پاس رکھوانے، تو آنے جانے کا خرچہ بھی اس میں شامل ہے۔ اُدھر سامنے سیف ہے، اس کی چابیاں بھی اسی بریف کیس میں ہیں۔ بینک میں جمع کرانے سے پہلے تم یہ رقم اس سیف میں سنبھال سکتی ہو“ ۔

”میں پہلے آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں“ کنزا نے اپنی چپ توڑی۔ ”باتوں کا وقت گزر گیا ہے لڑکی۔ تمام طے شدہ شرطوں پر عمل درآمد ہو چکا۔ کسی نئے سوال کا اب کوئی سوال ہی نہیں رہ گیا۔ تم بس یہ حق مہر کے پیسے گن لو۔ اگر گننے کی پریکٹس نہ ہو تو اندازہ لگا کر مجھے صرف اتنا بتا دو کہ پورے ہیں یا نہیں؟“ ۔

”مگر آج سے ہم ایک نئی زندگی شروع کرنے جا رہے ہیں، اس لئے میری بات ضروری ہے“ ۔

”تمہارے ساتھ اب کوئی بھی بات ضروری نہیں رہ گئی کنزا بیگم۔ تم نے سکول، کالج اور یونیورسٹی میں سترہ سال لگا کر اپنی جو قیمت بنائی تھی، تمہارے وارثوں نے وہ سب وصول کر لی ہے۔ تمہارے حصے میں بس یہ حق مہر کے پیسے رہ گئے ہیں۔ اب تمہارے لئے یہی اچھا ہے کہ جلدی سے انہیں گن لو تاکہ اگلے اقدامات کی ابتدا ہو سکے“ ۔

”جی! آپ کہہ رہے ہیں تو پورے ہی ہوں گے۔ مجھے آپ کی زبان پر اعتبار ہے“ کنزا نے جواب دیا۔
وہ ابھی بھی ماحول کو صلح جوئی کی طرف لانے کی کوشش کر رہی تھی۔
”نا بھئی نا! یہ غلط بات ہے۔ لین دین کا معاملہ ہے، اچھی طرح تسلی کر لو اور اگر اعتبار ہے تو پھر۔“
اُس نے ایک قلم اور سٹامپ پیپر نکال کر کنزاکے سامنے کر دیا ”تو پھر اسے پڑھ کر دستخط کر دو“ ۔
”یہ کیا ہے؟“ ۔
”پڑھ لو۔ اس میں لکھا ہے کہ میں نے تمہیں پورا حق مہر نقدی کی صورت میں ادا کر دیا ہے“ ۔ کنزا نے ایک نظر کاغذ کو دیکھا اور دستخط کر دیے

”بہت شکریہ! میں نے ایک ایماندار بزنس مین کی طرح سارے وعدے پورے کر دیے ہیں۔ تمام واجبات کی ادائیگی ہو چکی ہے۔ حق مہر وصول کرنے کے بعد اب تم صرف میری بیوی ہو۔ اس لئے اُٹھو، اس بریف کیس کو سنبھالو اور کپڑے اتار کر بستر میں آ جاؤ۔ میں بھی تب تک اس بھاری لباس سے آزاد ہو جاتا ہوں“ ۔

کنزا یہ سب سن کر بھی وہیں بیٹھی رہی تو وہ ذرا بلند آواز میں بولا ”میں نے کہا نا! سب ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔ لین دین کی کوئی شرط باقی نہیں رہ گئی۔ اب تم صرف میری بیوی ہو۔ اس لئے جلدی سے اُٹھو، بریف کیس سنبھالو اور کپڑے اتار کر بستر میں آ جاؤ۔ میرے پاس ضائع کرنے کے لئے وقت نہیں ہے“ وہ خود بھی بے لباس ہونے لگا۔

کنزا بدحواس ہو گئی۔ اُس نے اُلجھے ہوئے ذہن کے ساتھ اپنا عروسی بھاری زرتار آنچل، جس کا وہ اب تک گھونگھٹ بنائے بیٹھی تھی اُتار کر بستر پر پھینکا۔ اُٹھ کر بریف کیس ایک طرف رکھا اور کھڑی ہو گئی۔ وہ سخت بوکھلائی ہوئی تھی۔ یاسر اب تک اپنے تمام کپڑے اُتار چکا تھا۔ کنزا پر اُس کی نظر پڑی تو غرّایا ”جلدی کرو بھئی۔ اب تم اپنے باپ کے گھر میں نہیں ہو اور میرے ساتھ خوامخواہ کے نخرے نہیں چلیں گے“ ۔ کنزا پھر بھی ویسے ہی کھڑی رہی تو اُس نے خود آگے بڑھ کر اُس کا عروسی جوڑا کھینچنا شروع کر دیا۔

”میں نے زندگی سے یہی سیکھا ہے کہ جو چیز پیار سے نہ ملے اُسے چھین لو۔ چھیننے کی بدتمیزی سے بچنے کے لئے میں نے پیسا کمایا، تاکہ پیار سے نہ ملنے والی چیز کو خرید لوں۔ تم اپنی ڈگریوں کی وجہ سے نجانے خود کو کتنا قیمتی سمجھ رہی ہو مگر سیانے کہتے ہیں، جسے خریدا جا سکے، اُس سے سستا کچھ ہوتا ہی نہیں“ ۔

کنزا کو یاسر سے کسی اچھے برتاؤ کی امید تو پہلے بھی نہیں تھی، مگر یہ بھی اُس کے گمان میں نہیں تھا کہ وہ ایسی تحقیر اور منتقم مزاجی کا مظاہرہ کرے گا۔ وہ بے بسی میں تلملا رہی تھی کہ یاسر نے اُسے بازو سے پکڑ کر بستر پر لٹایا اور فوراً۔

پہلے ہی دخول پر کنزا کا بدن ایسے تڑپا جیسا اُس کے بچپن میں ذبح ہونے والا بکرا تڑپا تھا۔ درد کی ایک لہر اُس کے دماغ کو لپکی اور اُسے ایسا لگا جیسے اِس بار قربانی پر لہو کے چھینٹے، اُس کے والد اور دادا کے چہروں پر نہیں بلکہ اُس کے چہرے پر پڑے ہیں۔

(پھر کیا ہوا؟ اس افسانے کے دوسرے حصہ میں پڑھیے گا)

Facebook Comments HS