سرکاری اسکول اور میری قابلِ فخر بہو


رامش کی شادی کو چھ ماہ گزرے تھے کہ ایک روز میں نے اسے اور بہو (سوما) کو ایک دوسرے سے بحث کرتے اور الجھتے ہوئے دیکھا۔ سوما نے میری مدد چاہی۔ ”امی بہت پہلے میں نے گورنمنٹ اسکول ٹیچر کے لیے اپلائی کیا تھا۔ حیدرآباد میں ٹیسٹ کے لیے بلایا ہے“ ۔ بہو امید سے تھی، ”بیٹے نے اس بہانے کا سہارا لیتے ہوئے کہا۔ امی یہ کیسے مینج کرے گی؟“ میں نے رامش کو سمجھایا: ”بیٹا ٹیسٹ ہونے دو، کون سا اسے ابھی نوکری مل رہی ہے، ویسے بھی یہ سب فارملٹیز ہوتی ہیں۔ بغیر سفارش کے سرکاری نوکری کیسے ملے گی۔“ سوما ٹیسٹ کی تیاری کرتی رہی۔ مقررہ تاریخ پر بیٹا، بہو کو حیدرآباد لے کر گیا۔ سوما نے آ کر بتایا کہ ٹیسٹ ملتوی ہو گیا۔ بیٹا بھی مطمئن ہو گیا اور میں بھی۔

کچھ دنوں بعد پھر ٹیسٹ کے لیے بلایا گیا۔ پھر گھر میں وہی بحث چھڑی میں نے پھر وہی جواب دیا کہ کون سا نوکری ملنی ہے یہ تو بس فارمیلٹیز ہیں۔ بہو کا ٹیسٹ اچھا نہیں ہوا تھا۔ وہ خاصی افسردہ تھی۔ بیٹا، بہو اب ہم سے دور ناظم آباد میں الگ گھر میں رہ رہے تھے۔ ایک روز بہو نے بتایا کہ اس نے انٹرویو دے دیا ہے۔

ایک سال گزر گیا۔ بہو نے بتایا کہ سرکاری ٹیچرز کی تقرریاں شروع ہو چکی ہیں۔ لیکن وہ اپنے خراب ٹیسٹ کی وجہ سے مایوس ہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے مارکس بہت ہی کم آئے ہیں، اس کی تقرری مشکل ہے۔ اس دوران ایک بچہ ہو چکا تھا، جو اب تین سال کا تھا اور وہ ایک بار پھر امید سے تھی۔ ایک روز اس نے خوشی خوشی اطلاع دی کہ بطور سرکاری ٹیچر اس کی تقرری کا پروانہ آ چکا ہے۔ وہ بہت خوش تھی میرا بیٹا پریشان کہ اس حالت میں جب کہ ننھا بچہ بھی ہے کیسے یہ بھاری ذمہ داری اٹھائے گی اور مجھے تھوڑی سی سبکی کا احساس، کہ میں دوسروں کو کیا بتاؤں گی کہ میری بہو ’سرکاری‘ ٹیچر ہے۔ کیونکہ ہمارے ذہن میں عرصے سے یہ تاثر قائم تھا کہ سرکاری سکولوں میں ٹیچرز کاہل اور جاہل ہوتے ہیں۔ کئی قصے سن رکھے تھے کہ نان میٹرک کو بھی سفارش کی بنیاد پر نوکری مل جاتی ہے۔ ٹیسٹ اور انٹرویو کے دوران، کیے گئے عام سوالات کے غلط جوابات کے قصے بھی زبان زد عام تھے۔ میری بہو۔ وہ بہت قابل ہے، شادی سے پہلے ٹی وی چینلز پر نیوز کے شعبے میں کام کر چکی تھی، شاید اسی دن کے لیے اس نے ایم ایڈ بھی کر رکھا تھا۔ میں اس کے لیے کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ ”سرکاری“ ٹیچر بنے گی۔ میں نے انہی خیالات کا اظہار اس سے کیا تو اس نے کہا ”امی ہمارے جیسے ٹیچر ہی تو بدلاؤ لائیں گے ہم تو ٹھیک ہیں نا“ ۔ بہو کے اس جملے نے مجھے خاموش کر دیا۔ مجھے اس پر بڑا پیار آیا۔

ایک روز میری بہو نے مجھے بتایا کہ اس کا اسکول گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے۔ اس نے حمل کی حالت میں اپنی ساری توانائیاں جمع کر کے اسکول جانا شروع کر دیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی ہیڈ مسٹریس کہہ رہی تھی کہ تم اپنے ہونے والے بے بی کی فکر مت کرنا۔ اسے سکول لے آیا کرنا ہم سب مل کر اسے سنبھال لیا کریں گے۔ موسم گرما کی چھٹیوں سے دو ماہ پہلے میری بہو نے بیٹی کو جنم دیا۔ وہ میڈیکل لیو پر تھی اور اس کے بعد موسم گرما کی چھٹیاں شروع ہو گئیں۔ چھٹیاں ختم ہوئیں اور میری بہو شیر خوار بچی کو اپنے ساتھ اسکول لے جانے لگی۔ مجھے اکثر بتاتی کہ ہیڈ مسٹریس اور ساری ٹیچرز بچی کا بہت خیال رکھتی ہیں۔ مشکل کے دن تھے مجھے اپنی بہو پر بڑا ترس آتا تھا۔

اس سکول میں صرف لڑکیاں پڑھتی ہیں۔ بلڈنگ بہت شاندار ہے۔ کمپیوٹر اور سائنس لیب میں ہر قسم کی سہولیات ہیں۔ بچیاں بہت کم ہیں۔ ایک روز اس نے بتایا کہ سرکار کی جانب سے حکم آیا ہے کہ تمام اساتذہ، سرکاری اسکولوں کی پروموشن کے لیے اسکول سے باہر نکل کر جلوس کی صورت، لوگوں کو سرکاری سکول میں اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے مہم چلائیں۔

میری بہو، کولیگ اسٹاف کی قابلیت، ہیڈ مسٹریس کی اپنے پیشے سے دیانت داری اور اسکول کی بچیوں کی حساسیت اور تعلیمی شوق کے بارے میں بتایا کرتی ہے۔ لیکن کیونکہ ان بچیوں کے غریب اور ان پڑھ والدین انہیں گھر پر پڑھا سکتے ہیں، نہ ان کی ٹیوشن افورڈ کر سکتے ہیں اس لیے اساتذہ کو انہیں اس قابل بنانا ہوتا ہے کہ یہ اسکول کے امتحانات اور میٹرک بورڈ میں تسلی بخش کارکردگی دکھا سکیں۔ اکثر و بیشتر سرکار کی طرف سے اہلکار آ کر اساتذہ کی تدریسی کارکردگی اور بچوں کی قابلیت کا معائنہ کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے اساتذہ کو الرٹ رہنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر تدریسی سرگرمیاں اسکول کے اندر اور باہر متواتر ہوتی رہتی ہیں۔

میری بہو خود بھی مختلف النوع تخلیقی صلاحیتوں کی حامل ہے۔ بچیوں میں ان کی چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدار کرنا اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینا والدین کی ان سرگرمیوں پر مخالفت کی بنا پر انہیں راضی کرنا، اس کے علاوہ اکثر والدین اپنی لڑکیوں کو آٹھویں کے بعد گھر بٹھا لینا چاہتے ہیں یہاں پر بھی میری بہو اپنی حساس طبیعت کی بنا پر ان والدین کو اپنی ذاتی کوششوں سے بچیوں کو آگے پڑھانے کی اجازت دینے پر آمادہ کر ہی لیتی ہے۔

ایک روز سوما نے بہت خوشی اور پرجوش انداز میں بتایا کہ پینٹنگ کے مقابلے کے لیے طالبات کو اسکول سے باہر کسی جگہ پر لے جانا تھا اور حکومتی وزیر مہمان خصوصی تھے۔ کہنے لگی صرف ایک لڑکی کو لے جانا تھا لیکن ایک اور لڑکی بری طرح ضد کرنے لگی کہ میں بھی جاؤں گی تو میں، میڈم سے اسے زبردستی اجازت دلوا کر لے گئی۔ وہاں اسے بھی مقابلے میں شامل کر لیا گیا ان دونوں لڑکیوں کو بہترین پینٹنگ پر 10، 10 ہزار کیش انعامات دیے گئے۔ سوما کے چہرے سے خوشی پھوٹی پڑ رہی تھی اس نے کہا ”امی یہ 10 ہزار ان کے لیے بہت بڑی رقم تھی۔ وہ بار بار ان پیسوں کو دیکھ رہی تھیں ان بچیوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ دونوں بچیاں کہہ رہی تھیں کہ وہ تو یہ پیسے جاتے ہی اپنی ماں کو دے دیں گی۔“

میں سوچتی ہوں کہ میری بہو گورنمنٹ اسکول ٹیچر نہ ہوتی تو گورنمنٹ اسکولوں کے بارے میں میرے خیالات کبھی تبدیل نہ ہوتے۔ پھر میں نے دیگر اسکولوں میں تحقیق کی تو اس نتیجے پر پہنچی کہ اسّی فیصد پرائیویٹ سکولوں سے کہیں بہتر یہ سرکاری سکول ہوتے ہیں، کہ ان کی کارکردگی کی جانچ پڑتال ہوتی رہتی ہے۔

جس طرح محکمہ فوڈ کنٹرول کی جانب سے اکثر و بیشتر دکانوں اور سبزی کے ٹھیلوں اور بچت بازاروں میں، قیمتوں اور ناقص غذا کی جانچ پڑتال ہوتی رہتی ہے اور جرمانے لگتے ہیں چھاپے مارے جاتے ہیں۔ اسی طرح ملک بھر کے ہزاروں نجی اسکولوں میں تعلیم کے نام پر پیسے بٹورنے کا دھندا کرنے والے مالکان، ہیڈ مسٹریس اور اساتذہ کی تعلیمی اور تدریسی قابلیت کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر وزٹ ہو۔ مستقبل کے معماروں کی نشو و نما، تعلیم و تربیت کو دیکھنے، پرکھنے کے لیے بھی جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔ چھاپے مارے جائیں۔ فرائض سے غفلت برتنے کے جرم میں قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ تب پھر ہو سکتا ہے کہ ملک میں صحیح معنوں میں علمی اور تعلیمی انقلاب برپا ہو اور ملک فکری، علمی اور معاشی سطح پر ترقی کر سکے، کہ اس کی ترقی کی بنِا تعلیمی ادارے ہی ہیں، جہاں باصلاحیت، غریب بچے اپنے اور ملک کے مستقبل کو مایوسی کے اندھیرے سے نکال سکتے ہیں۔ یہی ہیں جن کے پاس انتخاب کرنے کو اپنی سر زمین کے سوا دوسری زمین ہے نہ آسمان۔

(ذاتی تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں نجی اسکولوں کے بارے میں مضامین کا سلسلہ جاری رہے گا)

Facebook Comments HS