نئے کینالز، سندھ کے تحفظات کو نظرانداز کرنا بڑی غلطی ہوگی۔
چولستان کے بنجر صحرا کو آباد کرنے کے لیے کینالز بنانے کا کام زور و شور سے جاری ہے، اطلاعات ہیں کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو دعوتیں دی جا رہی ہیں، ملک کے امیر اور مراعات یافتہ شخصیات کو مخصوص مدت کے لیے پانچ پانچ ہزار ایکڑ رقبہ دیا جا رہا ہے، واحد شرط یہ ہے کہ مقررہ مدت میں سارا رقبہ آباد کرنا ہے، ٹیوب ویلز، ڈرپ ایریگیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا ہو گا، مزدور لانے ہوں گے ، کھیت اگانے ہوں گے ۔ یہ ایک طرف کی پالیسی اور خواب ہیں، طاقت ہے، اقتدار ہے، سب کچھ ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ سب غیرآئینی یا غیر قانونی نہیں ہو رہا لیکن بد نیتی سے ضرور ہو رہا ہے، کیونکہ اس متنازع منصوبے کو نگران دور میں وفاقی حکومت نے چنیدہ لوگوں کی ربر اسٹیمپ نگران حکومت سندھ کی منظوری سے آئینی و قانونی تحفظ دلایا ہے تاکہ پیپلز پارٹی یا کسی اور سیاسی جماعت کو یہ کہنے کی ضرورت نہ رہے کہ یہ کالک انھوں نے اپنے چہرے پر ملی ہے۔
9 جولائی 2024 کو صدر آصف زرداری کی زیرصدارت اجلاس میں چھ کینالز بنانے کی منظوری دی گئی، جن میں سے کچھی کینال منصوبے پر پہلے سے کام جاری ہے، رینی کینال اور تھر کینال منصوبوں کا تعلق سندھ سے ہے، وہ قابل عمل ہی نہیں، مگر تین کینالز پنجاب کی بنجر زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں، جن میں چشمہ رائیٹ بینک کینال، گریٹر تھل کینال اور چولستان کینالز، مذکورہ تین کینالز پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ان کی شروعات تو دریائے ستلج سے دکھائی جا رہی ہے مگر چونکہ ستلج میں پانی کی مقدار کم ہے، اس لیے آگے چل کر دریائے سندھ کا پانی لے کر ان علاقوں کو سیراب کرنا لازمی ہو جائے گا۔
رینی کینال اور تھر کینال بظاہر ایسا لولی پاپ ہیں جن کا حقیقت بننا مشکل ہے کیونکہ جب چشمہ سے پہلے چار کینالز کے لیے 19 لاکھ کیوسک پانی نکال لیں تو سندھ کے لیے پانی بچتا ہی نہیں، پہلے سے آباد زمینوں کو پانی نہیں ملے گا تو نیا کینال بنانا کیسے ممکن ہو گا؟
پیپلز پارٹی اس بات کی تو کوئی وضاحت نہیں کرتی مگر سندھ کے حکمران کمال ڈھٹائی سے کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ یہ کینال بننے نہیں دیں گے۔ پارلیمنٹ میں اس منصوبے کے خلاف تقاریر تو کرتے ہیں مگر کوئی قرارداد تک نہیں لاتے، بلاول بھٹو نون لیگ کی حکومت سے ناراضگی کی بات تو کرتے ہیں مگر اس مسئلے پر قانون سازی کی کوئی بات نہیں ہوتی۔
دوسری طرف سندھ کے غریب، کمزور، بے روزگار، ننگے پیر لوگ ہیں جن کے پاس یا تو پہلے سے زمین نہیں، یا بہت کم اراضی ہے مگر مملکت خداداد پاکستان میں ایک ہی چیز ہے اپنی دھرتی، جس کو وہ آباد اور سرسبز دیکھنا چاہتے ہیں۔
سندھ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی روک لیا جائے گا تو لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے، ڈیلٹا تباہ ہو جائے گا، سمندر زمین کو نگلنے کا عمل تیز کردے گا اور سندھ میں انسان تو کیا چرند پرند کا رہنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ اس لیے یہ مسئلہ سندھ کی بقا کا مسئلہ ہے۔
کوئی بھی دانشور اسلام آباد، لاہور یا کسی اور بڑے شہر میں بیٹھ کر سندھ کی نفسیات اور سیاست کو سمجھ ہی نہیں سکتا کیونکہ ان کے پاس سمجھنے کا ایک ہی پیمانہ ہے، الیکشن، باوجود اس کے کہ سب جانتے ہیں کہ ملک میں الیکشن کس طرح ہوتے ہیں، ہر بار الیکشن چرانے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد ہوتے ہیں مگر ہمارا سوٹڈ بوٹڈ دانشور یہی سمجھتا ہے کہ ہر بار ایک ہی سیاسی جماعت الیکشن جیت کر آتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سندھ کے لوگ تو مرتے مر جائیں گے، بھٹو کا قرض چکاتے نسلیں برباد ہوجائیں گی مگر کبھی کسی اور کو ووٹ نہیں کریں گے۔
اقتداری ایوانوں تک رسائی رکھنے والا سندھ کا دانشور طبقہ بھی کسی نہ کسی حد تک مراعات یافتہ ہے اور وہ کھل کر سندھ کی کمپنی سرکار کے خلاف نہ بات کرتا ہے، نہ رائے کا ایمانداری سے اظہار کرتا ہے۔
اگر آپ سندھ کو سمجھنا چاہتے ہیں تو کبھی حیدرآباد سے آگے کا سفر کریں، لوگوں سے ملیں، ان کو یقین دلائیں کہ آپ سچ جاننا چاہتے ہیں، پھر شاید آپ حقائق کی کھوج لگانے میں کسی حد تک کامیاب ہوجائیں۔
اس وقت سندھ میں ایک ہی پارٹی اقتدار میں ہے، شہروں میں کسی حد تک ایم کیو ایم، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی موجود ہیں، دیہی علاقوں میں جے یو آئی کے اثر و رسوخ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے مگر عملی طور پر اپوزیشن نہیں ہے۔ بہت سارے حلقوں میں پیپلز پارٹی کے خلاف امیدوار ہی نہیں، وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہر مخالف کو اپنے اندر جذب کر لیا ہے، اب ہر حلقے کا امیدوار اس ڈر سے سہما ہوا ہے کہ کہیں اس کی کوئی بات بڑے صاحبان کو بری لگی تو ٹکٹ روایتی مخالف کو مل جائے گا جو اب پارٹی کا حصہ ہے۔
عدم تحفظ کا یہ احساس وزیراعلی سندھ تک پھیلا دیا گیا ہے، وہاں بھی دو سے تین رہنما نہ صرف شیروانیاں سلوا کر بیٹھے ہیں بلکہ لابنگ میں بھی مصروف ہیں۔ اس لیے سندھ کے ارکان اسمبلی اپنا وجود بچانے کے لیے خوشامدی بن کر اخلاقی و نفسیاتی پستیوں میں چلے گئے ہیں۔ ان سے جب عوام کینالز کا سوال پوچھتے ہیں تو وہی روایتی جملے بول دیتے ہیں کہ بلاول صاحب نے اور سی ایم صاحب نے کہا ہے کینالز نہیں بنیں گے، تو نہیں بنیں گے
سندھ میں اپوزیشن کا نہ ہونا شاید اسمبلی یا حکومت چلانے میں حکمرانوں کو آسان لگتا ہو مگر یہ اس لحاظ سے بہت خطرناک ہے کہ پی پی مخالف جذبات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور غم و غصے سے بھرے نوجوانوں کے پاس قیادت کوئی ہے نہیں۔ وہ شاہ لطیف کا کلام پڑھتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ جنگ میں جاوٴ تو کبھی پیٹھ پر گھاوٴ لے کر مت مرنا، میت کے چہرے پر زخم ہوں تو ماں بھی انہیں دیکھ کر مطمئن ہوجاتی ہے کہ شہید بھاگا نہیں۔
وہ شیخ ایاز کی شاعری پڑھتے ہیں کہ سندھڑی تے سر کیر نہ ڈیندو، سہندو کیر میار او یار، یعنی کون ایسا ہو گا جو سندھ پر اپنی جان قربان نہ کر کے طعنے برداشت کرے گا۔
متنازع کینالز کی تعمیر کے خلاف دھرتی کے ایسے دیوانوں کا احتجاج ہوتا ہے تو پولیس ٹوٹ پڑتی ہے، سندھ یونی ورسٹی میں احتجاج کی پاداش میں نہتے طلبا و طالبات پر شیلنگ کر کے بیس سے زائد طلبا کو گرفتار کیا گیا، کم و بیش ایسے ہی مناظر کراچی میں دیکھے گئے، سندھ کے لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ انہوں نے کوئی پوزیشن لے لی تو ان کی رائے کو بدلنا کسی کے بس میں نہیں رہتا، کالاباغ ڈیم کی طرح سندھ کے لوگ اس منصوبے کو مسترد کرچکے ہیں۔
سندھ کے لوگ اپنی دھرتی، اپنے پانی، اپنے وسائل اور حقوق کے حوالے سے پہلے ہی بہت حساس ہیں۔ آپ کی یہ دلیل کہ ”پنجاب اپنے حصے کا پانی استعمال کرے گا“ اس لیے نہیں مانیں گے کہ پنجاب نے ہر بار بزور طاقت سندھ کو پانی کے حصے سے محروم رکھا ہے، فلڈ کینالز کو عام کینال کی طرح استعمال کیا جاتا رہا ہے، ٹیلی میٹری ریڈنگ کے تجربے ناکام بنا دیے گئے۔ اب کینالز کے معاملے پر سندھ کا احتجاج عوامی سمندر کی شکل اختیار کر سکتا ہے، ایک ایسا سمندر جس کی کوئی قیادت نہ ہو، کوئی سمت کا تعین کرنے والا نہ ہو، سوچیے کہاں جائے گا!
پڑوس میں بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں، کے پی میں جو کچھ ہو رہا ہے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اگر سندھ کے غیر مسلح عوام کا سیلاب کسی طرف چل نکلا تو کروڑوں لوگوں پر گولی چلانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ اس سے پہلے کہ کوئی تیسری قوت اس عوامی غیظ و غضب کی سمت موڑ دے، ہماری مودبانہ گزارش ہے کہ اپنے سمت درست کر لیجیے۔


