مقابلہ مصوری
یونیورسٹی کے کیفے میں میرے ایک دوست نے بتایا کہ GIKI یونیورسٹی میں ایک آرٹ گالا کا انعقاد ہو رہا تھا۔ اس نے مجھے بھی شرکت کی تاکید کی۔ ہماری یونیورسٹی کی نمائندگی کے لیے ایک ٹیم جمعہ کے روز روانہ ہو رہی تھی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس دن میرا کمپیوٹر لاجک اینڈ ڈیزائن کا کوئز تھا۔ میں نے پروفیسر صاحب سے درخواست کی کہ وہ میرا کوئز بعد میں لے لیں تو انہوں نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا۔ گویا وہ میرے آرٹ اور سائنس کو خلط ملط کرنے پر برہم تھے۔ میں نے دوست کو بتایا تو وہ بولا کہ کوئی بات نہیں، تم کوئز دے کر اگلے دن اکیلے آجانا۔ مجھے اس کی بات مناسب معلوم ہوئی۔ مجھے آرٹ اور سائنس کو الگ الگ لے کر چلنا سیکھنا ہو گا۔
میں ہفتے کے روز صبح سویرے ڈائیوو بس میں سوار ہو کر GIKI کے لیے روانہ ہو گیا۔ دوپہر میں میرا تصویر کشی کا مقابلہ تھا۔ میں نے حساب لگایا کہ اگر بس اپنے وقت پر اسلام آباد پہنچ گئی، وہاں سے میں ٹھیک ویگن میں سوار ہو گیا، اور ویگن راستے میں جگہ جگہ نہ رکی تو میں مقررہ وقت پر GIKI پہنچ جاؤں گا۔ ڈائیوو بس موٹر وے پر برق رفتاری سے دوڑ رہی تھی۔ بس ہوسٹس نے حسب معمول ہیڈ فون پیش کیے۔ میں نے سیٹ کے سامنے والے خانے میں موجود ادارے کے میگزین ”منزلیں“ کا مطالعہ شروع کر دیا۔ ایک دو آرٹیکل پڑھ کر میگزین واپس اپنی جگہ پر رکھ دیا۔ مجھے اپنی ’منزل‘ پر پہنچنے کی جلدی تھی۔
پھر میں نے ہیڈ فون لگایا اور سیٹ سے ٹیک لگا کر میوزک سنتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ سٹیریو نیشن کا ایک مقبول گانا چل رہا تھا۔ ’پیار ہو گیا۔ کسی سے یارو ہمیں پیار ہو گیا۔ باتوں باتوں میں بتا دیا۔ یہ دل میرا تو نے چرا لیا۔‘ بس کلر کہار کی پہاڑیوں کے بیچوں بیچ بل کھاتی سڑک سے گزر رہی تھی۔ میری خوش قسمتی کہ اسلام آباد پہنچ کر مجھے GIKI جانے والی ویگن تیار مل گئی۔ ابھی مقابلے میں ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا۔ کم و بیش اتنی ہی دیر کا مزید سفر تھا۔ لیکن راستے میں ویگن ایک ٹیکنیکل فالٹ کی وجہ سے رک گئی۔
مسافر سستانے کے لیے ویگن سے باہر آ گئے۔ گویا ان کے لیے یہ ایک معمول کی بات تھی۔ لیکن مجھ پر ایک ایک منٹ بھاری تھا۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں پکار پکار کر کہتا کہ لوگو، ویگن چلنے لگی ہے، واپس آ جاؤ، میرا مقابلہ مصوری نکلا جا رہا ہے! پندرہ منٹ گزر گئے لیکن ویگن نہ چلی۔ مجھے یہ فکر کھانے لگی کہ اگر میں دیر سے پہنچا تو مقابلے میں حصہ نہیں لے سکوں گا۔ اگر لیا بھی تو تصویر مکمل نہ کر سکوں گا۔ کیا ہوتا اگر پروفیسر صاحب میرا کوئز بعد میں لے لیتے؟ میں ٹیم کے ساتھ گزشتہ روز آ جاتا؟ آرٹ اور سائنس میں پھر ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ”دو شعبہ جاتی نظریہ“ ناکام ہوتا معلوم ہوا۔
آدھے گھنٹے بعد ویگن چلی تو میری اٹکی سانس بحال ہوئی اور ذہن سے تفکر کے بادل چھٹنے لگے۔ کچھ دیر بعد بالآخر میں GIKI کے گیٹ پر پہنچ گیا۔ مقابلہ شروع ہوئے دس منٹ گزر چکے تھے۔ میں پوچھتے پھلانگتے مقابلے کے مقام کی طرف بڑھنے لگا۔ ایک چھوٹے سے لان میں بہت سے امیدوار اپنے اپنے بورڈ پر کاغذ چسپاں کیے ایک جانب بیٹھے ماڈل کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ایک کونے میں مجھے اپنی ٹیم کے لوگ بھی نظر آ گئے جو مجھے جلدی جلدی آنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ میں پاس پہنچا تو وہ مجھے سوالیہ نظروں سے گھورنے لگے۔ کیوں، کب، کیسے؟ لیکن سوال جواب کا وقت نہیں تھا۔ ایک لڑکے نے میرا بیگ تھاما۔ دوسرے نے مجھے بیٹھنے میں مدد کی۔ یوں میں مقابلے میں شریک ہو گیا۔ میرے پاس مزید پینتالیس منٹ تھے۔
میں نے بورڈ پر چسپاں کاغذ کے عین وسط میں پینسل کی نوک رکھی اور ماڈل کی طرف دیکھنے لگا۔ ایک ہنس مکھ نوجوان لڑکا جو اس وقت میری ہی طرف دیکھ رہا تھا۔ گویا میرا استقبال کر رہا تھا۔ اور دعوت دے رہا تھا کہ میں اس کے فیچرز کا اچھے سے مطالعہ کر لوں۔ تاکہ میری تاخیر کا کچھ ازالہ ہو سکے۔ اس کے بعد میں تصویر کشی کے عمل میں کھو گیا۔ وقت ختم ہوا تو میری تصویر ابھی مکمل نہ ہوئی تھی۔ ہمارے گروپ لیڈر کی درخواست پر مجھے مزید پانچ منٹ دیے گئے۔ جس میں میں نے جیسے تیسے تصویر مکمل کر لی۔ ٹیم نے میری کوششوں کو سراہا۔ مقابلے کے بعد ہم کیفے میں آ گئے جہاں میں نے اپنی بپتا سنانے کے ساتھ ساتھ پیٹ پوجا کی۔ پھر انہوں نے مجھے یونیورسٹی سے ملحقہ ہوسٹل کے ایک کمرے میں چھوڑ دیا جہاں میری ٹیم ٹھہری ہوئی تھی۔ تاکہ میں کچھ دیر آرام کر سکوں۔
ہوسٹل کی عمارت جدید اور صاف ستھری تھی۔ میں کمرے میں ایک جانب بچھے گدے پر لیٹ گیا۔ اب شام ہو چکی تھی۔ موبائل پر جنید جمشید کا مقبول گانا ”تمہارا اور میرا نام“ سنتے میری آنکھ لگ گئی۔ میں اٹھا تو کمرے میں ساری ٹیم موجود تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سارے مقابلے منعقد ہو چکے تھے جن میں ہماری ٹیم نے بھرپور شرکت کی تھی۔ کل دن میں نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ پھر شام کے وقت ہماری لاہور کے لیے واپسی ہوگی۔ ہم رات کے کھانے کے لیے کیفے میں آ گئے۔ اس کے بعد یونیورسٹی کی مارکیٹ میں چہل قدمی اور گپ شپ کی۔ کمرے میں واپسی پر سب سونے کی تیاری کرنے لگے۔ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ سو میں نے یونیورسٹی کا اکیلے ایک اور راؤنڈ لگانے کا فیصلہ کیا۔
سب سے پہلے میں نے ہوسٹل کے محل وقوع کو اچھی طرح سے سمجھا جو یونیورسٹی کے ایک کونے میں واقع تھا۔ دوسری سمت جاتے ہوئے مختلف ڈیپارٹمنٹس کی عمارات شروع ہو گئیں۔ میں نے ایک آدھ میں جھانکنے کی کوشش کی۔ ایک نیم روشن لیب میں آپریٹس نظر آ رہا تھا۔ وہاں سب کچھ سٹیٹ آف دی آرٹ معلوم ہوا۔ باہر ہر شے پر سکوت طاری تھا۔ گھنے درختوں میں سے ایک تاریک رستہ نکل رہا تھا۔ مجھے اس پر جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ پھر میں یونیورسٹی کے دوسرے کونے میں موجود مارکیٹ کا چکر لگا کر واپس کمرے میں آ گیا۔
اگلی صبح میں مارے تجسس گھنے درختوں کے بیچ اس رستے پر اکیلا نکل گیا۔ آگے جا کر وہ ایک پہاڑی کو جاتی پگڈنڈی میں تبدیل ہو گیا۔ راستے میں میں ایک چوکی کے پاس سے گزرا جہاں ڈیوٹی پر مامور ایک سپاہی نے مجھے جنگلی جانوروں سے محتاط رہنے کی تاکید کی۔ چڑھائی زیادہ تھی سو میں ایک جگہ سانس بحال کرنے کے لیے ٹھہر گیا۔ دور ایک ریسٹ ہاؤس کی عمارت نظر آ رہی تھی۔ میں نے خود کو درختوں سے گھرے ایک جنگل میں پایا۔ میں نے غور کیا تو مجھے آس پاس کے درختوں پر لکھے ہوئے کچھ نام نظر آئے۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ گہرے سرخ ہو چکے تھے۔
معلوم نہیں وہ نام کتنے برسوں سے وہاں موجود تھے۔ ان کو لکھنے والے اب کہاں تھے؟ کیا وہ لوگ بھی دور دراز کا سفر کر کے وہاں پہنچے تھے؟ میرے ذہن میں گزشتہ شام سنا ہوا جنید جمشید کا گانا گونجنے لگا۔ ”تمہارا اور میرا نام۔ جنگل کے درختوں پر ابھی لکھا ہوا ہے۔“ مجھے ایک اچھوتا خیال آیا۔ میں نے نوکیلے پتھر سے ایک درخت پر اپنا نام لکھنا شروع کیا۔ ساتھ کس کا نام لکھوں؟ تھوڑی سی سوچ بچار کے بعد میرے ذہن میں ایک نام آ گیا۔ میں نے اپنے نام کے ساتھ وہ نام بھی لکھ دیا اور ہوسٹل کے کمرے میں واپس آ گیا۔
دن کے وقت آڈیٹوریم میں نتائج کا اعلان ہوا۔ ہماری ٹیم نے بہت سے مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ میرے اسکیچ کو بھی خوب داد ملی۔ شام کے وقت گاڑیوں کا قافلہ یونیورسٹی کی پارکنگ میں واپسی کے لیے تیار کھڑا تھا۔ رات گئے ہم بخیر و عافیت لاہور پہنچ گئے۔ اگلی صبح پھر سے روٹین کی زندگی شروع ہو گئی۔ اب اس بات کو بھی کئی برس بیت چکے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ GIKI سے یقیناً اس مقابلہ مصوری کے سب نقوش مٹ گئے ہوں گے۔ غالباً اس آرٹ گالا کی یاد بھی ذہنوں میں دھندلا گئی ہوگی۔ لیکن کیا ’میرا اور وہ نام‘ جنگل میں درختوں پر ابھی لکھا ہوا ہو گا؟ کیا کسے نے اسے مٹانے کی جسارت کی ہوگی؟


