خواب، محبت اور زندگی (4)
امی ہمیشہ اپنے والد یعنی ہمارے نانا کو یاد کر کے اداس ہو جاتی تھیں۔ ”ابھی میں نے ٹھیک طرح سے ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔“ لیکن بچپن کی کچھ خوشگوار یادیں بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ اپنی سہیلیوں کا ذکر وہ بہت محبت بھرے انداز میں کرتی تھیں خاص طور پر دو سکھ بہنوں کلونت کور اور بلونت کور کا جن کے ساتھ ان کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ ”سکھ، ہندو، مسلمان برادریوں کے آپس میں بہت اچھے تعلقات تھے پھر اچانک نہ جانے کیا ہوا۔ ”ان کے الفاظ میں مجھے اقبال کی شاعری کی بازگشت سنائی دیتی تھی جنہوں نے کہا تھا:
”یا باہم پیار کے جلسے تھے۔ دستور محبت قائم تھا
یا بحث میں اردو ہندی ہے، یا قربانی یا جھٹکا ہے ”
میں اکثر سوچتی ہوں کہ میرے نانا کی جوانمرگی نے میری ماں کی زندگی کو اور پھر میری زندگی کو بھی ایک نیا رخ، ایک نئی جہت عطا کی۔ امی کو یاد نہیں تھا کہ ان کا انتقال کس سال میں ہوا؟ کیا یہ وہی سال تھا جب گاندھی اور جناح معاملات کو حل کرنے اور محبت، ہم آہنگی اور رواداری کا پرچم سربلند رکھنے کی آخری کوشش کر رہے تھے۔ پارٹیشن سے بیس یا پچیس سال پہلے گجرات کے ان دو قد آور سپوتوں نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں ہندو مسلم اتحاد کے لئے گراں قدر کوششیں کی تھیں۔ یہ راہ سب کے لئے ہی دشوار گزار تھی۔ ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو ہم سب اپنے اپنے ولن یا ہیرو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن صورت حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھی۔
یہ صحیح ہے کہ مسلم لیگ میں شامل ہونے والے زمیندار اور جاگیردار موقع پرستی اور بزدلی کا مظاہرہ کرتے تھے اور انہیں نو آبادیاتی نظام سے اس وقت تک مسئلہ نہیں رہا جب تک کہ ان کے مفادات کی حفاظت ہوتی رہی۔ ہندو مہا سبھا کی جنونیت نے بھی عام مسلمانوں کو خوف زدہ کر دیا تھا۔ مصالحت اور مفاہمت کی کوششیں کئی مرتبہ دونوں طرف کے دائیں بازو کے مذہبی جنونی عناصر کی وجہ سے ناکام ہوئیں۔ لیکن کبھی کبھی یہ کوششیں گاندھی، جناح، نہرو اور دیگر رہنماؤں کی کوتاہیوں کی وجہ سے بھی ناکام ہوئیں۔ یہ سب بلاشبہ غیر معمولی لوگ تھے لیکن خامیوں سے مبرا نہیں تھے۔ تاریخ کا ہر طالبعلم جانتا ہے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان مصالحت کے ہزاروں سنہرے مواقع ضائع کیے گئے۔ بہرحال لگتا یہی ہے کہ تاریخ اور حالات، عوام اور رہنما، اپنے وسوسوں اور اناؤں کے ساتھ پاکستان کی پیدائش اور اس لئے میری پیدائش کی سازش کر رہے تھے۔
میرے والد۔ دی ہیرو
اس ”سازش“ کا دوسرا لازمی حصہ دہلی کا ایک انیس سالہ خوش شکل نوجوان تھا جو شارٹ ہینڈ اور ٹائپنگ میں ماہر، انگریزی رسالے پڑھنے کا شوقین تھا۔ اسے بھی یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ مسلمانوں کے لئے بنائے گئے جناح کے پاکستان میں جائے یا پھر ہندوستان میں ہی رہے۔ یہ ابی تھے، میرے والد زین العابدین قریشی۔
ابی کے بچپن کی کہانی شاید امی کی کہانی سے بھی زیادہ اداس کر دینے والی ہے۔ لیکن امی کے برعکس ابی کو میں نے کبھی ماضی کو یاد کر کے اداس ہوتے نہیں دیکھا۔ وہ ایک بہت ہی خوش باش اور رجائیت پسند شخص تھے۔ شاید زندگی میں آنے والے طوفانوں سے نمٹنے کے لئے یہ رجائیت ضروری بھی تھی۔ یہ اور بات کہ اپنی زندگی میں بہت سے طوفان انہوں نے خود ہی اٹھائے تھے۔ جیسا کہ آنے والے ابواب میں ذکر ہو گا۔
انہوں نے پرانی دہلی کی چاند والی حویلی میں جنم لیا۔ وہ ابھی دودھ پیتے بچے تھے کہ ان کی والدہ نندوں کے ساتھ آئے دن ہونے والے جھگڑوں سے تنگ آ کر شوہر کی حویلی چھوڑ کر جانے لگیں تو نندوں نے دودھ پیتے بچے کو ماں کی گود سے چھین لیا اور یوں ابی ہمارے دادا کے پاس ان کی بہنوں یعنی اپنی پھوپھیوں کے ہاتھوں میں پلے بڑھے۔ ادھر میکے پہنچتے ہی ابی کی والدہ کو اپنے پہلوٹھی کے شیر خوار بچے کی یاد ستانے لگی اور انہوں نے واپس جانا چاہا لیکن اب یہ ان کے بھائیوں یعنی ابی کے ماموؤں کی مردانگی اور انا کا مسئلہ بن چکا تھا۔ شاید وہ چاہتے ہوں کہ ان کا بہنوئی آ کر ان کی منت سماجت کرے، خود سے بہن کا واپس چلے جانا ان کے لئے بے عزتی اور شرمندگی کا باعث بنتا۔ ادھر بہن بچے کی محبت میں بے تاب ہو کر اٹھ اٹھ کر دروازے کی طرف دوڑتی تھی اور اسے پکڑ پکڑ کر واپس لایا جاتا۔
نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ بھائیوں نے ان کے پیروں میں زنجیریں ڈال دیں تا کہ ان کے گھر سے نکلنے کا امکان ہی نہ رہے۔ اور یوں پاکستان بننے تک وہ اپنے بیٹے یعنی ہمارے ابی سے کبھی نہیں مل پائیں۔ اس تکلیف دہ اور دردناک صورتحال میں قدرت نے ان کی ممتا کی تسکین کا سامان فراہم کر دیا۔ ہماری دادی نے جب گھر چھوڑا تو وہ امید سے تھیں۔ اور چند ماہ بعد انہوں نے ایک اور بیٹے، ہمارے اکلوتے چچا صلاح الدین کو جنم دیا۔ یوں ابی کی پرورش ددھیال میں اور چچا کی پرورش اپنے ننھیال میں ہوئی۔


