شہنشاہ جذبات ادا کار محمد علی کا 19 واں یوم وفات
پاکستانی فلمی صنعت کی مختصر تاریخ ادا کار محمد علی کے ذکر کے بغیر بالکل ہی ادھوری رہے گی۔ انہوں نے 33 برس تک پاکستانی فلمی صنعت پر راج کیا۔ 1962 ء میں ہدایت کار فضل کریم فضلی کی، فلم چراغ جلتا رہا، سے اپنا فلمی عہد شروع کیا۔ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے کیا اور یہ فلم کراچی کے نشاط سنیما میں نمائش پذیر ہوئی۔ چراغ جلتا رہا اتنی کامیاب فلم ثابت نہ ہوئی لیکن یہ پاکستانی فلمی صنعت کو اداکار محمد علی، زیبا، دیبا کے علاوہ چار نئے ادا کار ضرور دے گئی جو آگے چل کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔
محمد علی 19 اپریل 1931 ء کو رام پور بھارت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام سید مرشد علی تھا۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے بڑے بھائی کا نام ارشاد علی تھا۔ سید مرشد علی کا گھرانا کٹر مذہبی تھا، جہان انگریزی اور جدید تعلیم کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ محمد علی نے بھارت میں صرف مدرسہ کی تعلیم حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد ان کے والدین اور خاندان کے دوسرے افراد ملتان اور حیدرآباد میں آباد ہو گئے۔ سید مرشد علی گڑ منڈی، ملتان میں ایک مسجد کے خطیب مقرر ہو گئے جہاں انہوں نے 12 برس تک خطابت کے جوہر دکھائے۔ ملتان آ کر سید مرشد نے محمد علی کو دنیاوی تعلیم سے بہرہ مند کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں انٹر بہاولپور سے کرایا اور مزید تعلیم کے لیے ایمرسن کالج ملتان میں داخل کروا دیا۔
محمد علی کے بڑے بھائی ریڈیو پاکستان حیدر آباد میں ڈرامہ فنکار تھے۔ ان کی وساطت سے محمد علی کو صدا کاری کے لیے ریڈیو پاکستان تک رسائی ہوئی۔ محمد علی ایک اعلی پائے کے صدا کار تھے۔ ان کی آواز میں اعلی درجے کی گہرائی اور زیر و بم پائے جاتے تھے۔ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل سید ذوالفقار علی بخاری نے محمد علی کی صدا کاری سنی تو ان کے ہی گرویدہ ہو گئے۔ سید ذوالفقار علی بخاری نے محمد علی کو صدا کاری اور مائیکروفون استعمال کرنے کے تمام رموز و اسرار سمجھا دیے اور اپنا سارا کمال فن ان میں منتقل کر دیا۔ ریڈیو کی وساطت سے ہی محمد علی کے لیے پاکستانی فلمی صنعت کے دروازے ان پر ایسے کھلے کہ پھر تا حیات کبھی بند نہ ہوئے۔
محمد علی کو اصل شہرت فلم، تم ملے پیار ملا، سے ملی۔ اس میں انہوں نے زیبا کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے۔ 1966 ء میں انہوں نے زیبا سے شادی کر لی۔ زیبا کی پہلی شادی ادا کار لالہ سدھیر سے ہوئی تھی جس سے ان کی ایک بیٹی ثمینہ پیدا ہوئی۔ سدھیر نے جب زیبا کو فلموں میں کام کرنے سے روکا تو زیبا نے ان سے طلاق لے کر محمد علی سے شادی کرلی۔ پھر علی زیب کی جوڑی نے 75 کامیاب فلموں میں ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ محمد علی کو رب کریم نے تمام نعمتوں سے نوازا، سوائے نعمت اولاد کے، جس کو انہوں نے کبھی بھی اپنی زندگی کی محرومی نہ بنایا۔ انہوں نے زیبا کی بیٹی ثمینہ کو ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھ کر اس کے تمام شرعی و دنیاوی حقوق ادا کئیے۔
محمد علی نے 300 فلموں میں ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ ان میں چند پنجابی فلمیں بھی شامل ہیں۔ ان کی مشہور فلموں میں، پیار ملا تم ملے، ضمیر، صورت اور سیرت، پہلی نظر، سسرال، دیور بھابھی، خاک اور خون، اگ کا دریا شامل ہیں۔ فلموں میں ان کی اداکاری جذبات سے بھر پور ہوتی۔ عدالت میں جج کے سامنے بولتے ہوئے ان کا ایک خاص لہجہ اور فقرہ ہوتا، جو وہ اتنی اونچی آواز سے ادا کرتے کہ حقیقی زندگی میں ان پر توہین عدالت لگ جاتی، جج صاحب!
ان پر فلمائے گئے زیادہ تر گانوں میں مہدی حسن نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ 1983 ء میں جب وہ صدر ضیا الحق کے ہمراہ ہندوستان گئے تو اندرا گاندھی نے انہیں بھارتی فلموں میں کام کرنے کی پیشکش کی۔ منوج کمار کی فلم کلرک میں محمد علی اور زیبا نے اداکاری کی۔ جب منوج کمار نے فلم میں محمد علی کی ادا کاری کو اپنی ادا کاری پر حاوی دیکھا تو ان کی ادا کاری کا کافی حصہ فلم سے خذف کر دیا جس سے فلم ناکام ہو گئی۔
محمد علی کو پاکستان کے ہر حکمران سے عزت و احترام ملا۔ ذوالفقار علی بھٹو ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کے دوران سلطان قابوس، شاہ فیصل اور یاسر عرفات نے ان کے گھر علی زیب ہاؤس میں رہائش اختیار کی۔ ایران کے شاہ رضا شاہ پہلوی بھی ان کو بہت چاہتے تھے۔ کئی ممالک نے محمد علی کو اپنا غیر سرکاری سفیر مقرر کیا ہوا تھا۔ محمد علی کو فن ادا کاری اور دوسری خدمات کے اعتراف میں تمغہ حسن کارکردگی، حاصل زندگی اعزاز اور تمغا امتیاز سمیت بہت سے انعامات اور اسناد ملیں۔
فلموں سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد محمد علی نے سماجی فلاح و بہبود کے لیے علی زیب تنظیم بنائی۔ اس تنظیم کے تحت ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد اور میانوالی میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کے علاج و معالجہ کے لیے ہسپتال قائم کئیے جن کے تمام اخراجات علی زیب تنظیم اٹھاتی ہے۔ محمد علی کا دستر خوان بہت وسیع تھا۔ علی زیب ہاؤس میں اکثر و بیشتر مذہبی، سیاسی، سماجی اور دوسری تقریبات کا اہتمام ہوتا رہتا۔ محمد علی ہر وقت ضرورت مندوں، محروم، بے کس اور بیواؤں کی مدد کرنے کے لیے کمر بستہ رہتے۔ ان کی دولت و ثروت معاشرے کے غریب اور محروم طبقات کے لیے استعمال ہوتی اور انہوں نے اس کار خیر سے کبھی ہاتھ نہ کھینچا۔
19 مارچ 2006 ء کو پاکستانی فلمی صنعت کا یہ روشن اور چمکدار ستارہ حرکت قلب رکنے سے ملک عدم میں غروب ہو گیا۔ درگاہ میاں میر لاہور کے احاطے میں ان کی آخری آرام گاہ ہے۔
رب کریم ان کی کامل مغفرت کرے اور درجات بلند کرے۔

