سالک ایک منفرد کتاب
لاہور انٹرنیشنل بک فیئر پر جہاں بہت سی کتب خریدیں وہیں کچھ کتابیں دوستوں کی طرف سے بھی ملیں۔ بہت دنوں سے انہی کتب میں سے ایک کتاب میری توجہ کی منتظر تھی، اس کتاب کا عنوان اور انتساب دونوں ہی چونکا دینے والے تھے۔ مصنف سے کسی حد تک تعارف تھا لیکن ان کی پہلی مکمل کتاب پڑھی ہے جس کے بعد خواہش ہوئی کہ مصنف کی مزید کتب پڑھی جائیں۔ خیر ایک روز میں نے سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے اس مسافر کی کھڑکی کا دروازہ کھول ہی لیا اور سالک کی دنیا میں داخل ہو گئی، یہ خضر کی دنیا تھی، وہ خضر جسے پورا سچ جاننے کا شوق تھا وہ آدھے ادھورے سچ کو جان کر ایک کرب میں مبتلا ہو جاتا تھا، اس کے اندر نہ ختم نہ ہونے والے سوالات کا طوفان تھا لیکن کوئی بھی اپنے جوابات سے اسے مطمئن نہیں کر پایا۔ خضر کی کہانی کے تمام کرداروں کے نام سے ہی ہمیں کسی حد تک ان کے تعلق کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ سچ کی تلاش میں گم اس مسافر کی ماں مذہب ہے، تو باپ تصوف، ایک ایک کر کے تمام کرداروں سے تعارف ہوتا ہے اور خضر کے ساتھ ساتھ ہم بھی ان کرداروں کے حصار میں آ جاتے ہیں۔ ہم اس مسافر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں اور یہ مسافر جو روایت کی سرزمین سے باغی ہے اور پھر ایک روز ہجرت اس مسافر کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ ایک نئے آسمان کے نیچے لا کھڑا کرتی ہے۔ خضر کے خواب اس کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں، کبھی وہ شاعر بن کر نظمیں کہتا ہے تو کبھی محبت کے آسمان پر اڑانیں بھرتا ہے۔ اس کا تخلیقی سفر جاری و ساری رہتا ہے۔ اس مسافر کے ساتھ پڑھنے والا نجانے کتنے ہی جہانوں کی سیر کر لیتا ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل کا انداز تحریر اتنا رواں اور پر اثر ہے کہ پڑھنے والا ان کی تحریر کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔ سالک کے خضر کے دکھ قاری کو اپنے دکھ لگتے ہیں۔ ہجرت کا ہاتھ پکڑ کر خضر جس اجنبی سرزمین پر اپنے خوابوں کے ساتھ چل رہا ہے اسے اب وہ آزادی کی سرزمین کہتا ہے۔ اب اس کے تمام تر خواب اسی سرزمین کے ساتھ جڑے ہیں۔ اس مسافر کے بہت سے دوست ہیں اور ہر دوست کا کردار ایک اہم معاشرتی رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔
سالک اپنے قاری کے ہاتھ میں امید اور حوصلے کے بہت سے جگنو تھما دیتی ہے۔ کہیں یہ جگنو کسی قول کی شکل اور کہیں کسی قصے یا کہانی کی شکل میں نظر آتے ہیں اور پڑھنے والا ان کہانیوں میں خود کو ڈھونڈتا رہتا ہے۔ سالک ڈاکٹر خالد سہیل کی ایک ایسی تصنیف ہے جسے پڑھ کر ہم زندگی کی بہت سی حقیقتوں سے واقف ہو سکتے ہیں۔ ہمارے اندر امید اور حوصلے کی شمع ایک نئے انداز سے اپنے ہونے کا احساس دلا سکتی ہے۔ سالک جیسی کتابیں روز تخلیق نہیں ہوتیں۔ مصنف سے کچھ نظریات پر مکمل متفق نہ ہونے کے باوجود میرا ایک بات پر تو یقین ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل روحانیت کی دنیا کے مسافر ہیں۔ اس مسافر کی یہ کہانی ہمیں آگے بڑھنے کی تحریک دیتی ہے۔ باذوق قارئین کو سالک کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔


