صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 37 : بردکھاوا
” جو شخص خداوند کی طرف سے دولت، جائیداد اور اختیار کا تحفہ حاصل کرتا ہے اور اپنی محنت میں خوشی مناتا ہے، وہ واقعی خدا کا عطیہ ہے۔“ واعظ 5 : 19
عادل پیٹر کا شمار چٹاگانگ کے سربرآوردہ لوگوں میں ہوتا تھا۔ سرکاری اور تجارتی حلقوں میں شاید ہی کوئی اہم شخص ہو جو انہیں نہ جانتا ہو۔ وہ چٹاگانگ کے چیمبر آف کامرس کے صدر تھے اور لائنز کلب کے فعال ترین ممبر تھے۔ فلاحی کاموں میں دل کھول کر مدد کرتے تھے اور کلب کے فلاحی منصوبوں کے لیے فنڈ جمع کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتے تھے۔ دراز قد، کسرتی بدن، اور دلکش شخصیت کے مالک تھے۔ اجنبیوں سے بھی اس طرح ملتے تھے جیسے برسوں کا یارانہ ہو۔ حالاں کہ انہوں نے پچھلے برس اپنی پچاسویں سال گرہ منائی تھی اور کنپٹیوں پر وقت کی سفیدی دھیرے دھیرے اترنے لگی تھی، مگر جم خانہ میں اسکواش کے کورٹ پر اب بھی وہ بے تاج، مگر ناقابلِ تسخیر بادشاہ تھے۔
عادل کی بیگم، گلوریا، ان سے تین سال چھوٹی تھیں مگر دیکھنے میں تیس پینتیس سے زیادہ نہیں لگتی تھیں۔ ایک بار عادل کے ایک شاعر دوست نے کہا تھا کہ گلوریا پر پڑنے والی پہلی نظر ان پر جم جاتی ہے اور ان کا ملیح سانولا پن دھیرے دھیرے دل میں اترتا ہے، جیسے کنول پر بیٹھی سرسوتی دیوی کا چہرہ۔ اس دن سے دوستوں نے انہیں سرسوتی کہنا شروع کر دیا تھا اور واقعی جب ان کے گھر پر دوستوں کی محفل ہوتی اور وہ قالین پر گاؤ تکیوں کے درمیان ستار لے کر بیٹھتیں تو لگتا تھا کہ سرسوتی اپنی وینا کے ساتھ کنول کے پھول پر بیٹھی ہو۔
ائرپورٹ کے باہر ہوا میں موجود ہلکی سی نمی سمندر کی نزدیکی کی نشان دہی کر رہی تھی مگر چٹاگانگ کے مرطوب موسم میں بھی گلوریا کی شخصیت میں نکھار تھا۔ وہ وہاں اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی تھیں اور ایک نہایت نفیس اور مہنگی ساڑھی میں ملبوس تھیں۔ وہ اپنی ساڑھیوں کے تیکھے رنگوں کے لیے چٹاگانگ کی اشرافیہ میں مشہور تھیں اور ان کی الماریوں میں رنگ برنگی ساڑھیوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ان الماریوں میں جھانکتے ہوئے لگتا تھا کہ پھولوں سے لدے باغیچے میں دریچے کے پٹ کھل گئے ہوں۔ مہمان خواتین جب ان کے گھر آتیں تو ان کی فرمائش ہوتی تھی کہ وہ انہیں اپنی ساڑھیوں کا ذخیرہ دکھائیں۔ کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ اس نے گلوریا کو ایک ہی ساڑھی میں ایک سے زیادہ مرتبہ دیکھا ہو۔
یہ وہ پس منظر تھا جس میں مریم چٹاگانگ پہنچ رہی تھی، جہاں عادل اور گلوریا اپنے بیٹے کے ساتھ اس کی آمد کے منتظر تھے۔ ان کے اعلیٰ طبقے سے تعلق اور دولت کی جھلک اس چھوٹے سے مگر مصروف ہوائی اڈے میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔ ائر پورٹ کے عملے کے افراد آتے جاتے انہیں سلام کرنے اور ہاتھ ملانے کے لیے رُک جاتے تھے۔ ان کی گاڑی، ایک چمچماتی ہوئی امپورٹڈ مرسڈیز، جس کے ساتھ ان کا ڈرائیور موجود تھا، ائرپورٹ کے مخصوص پارکنگ ایریا میں کھڑی تھی۔ اس کے برابر ہی عارف کی نئی جیگوار ای ٹائپ کھڑی تھی، جس کا شمار اس زمانے میں دنیا کی سب سے مشہور اسپورٹس کاروں میں ہوتا تھا، یہاں تک کہ جب اس کا پہلا ماڈل 1961 میں منظر عام پر آیا تو فیراری کے بانی، اینزو فیراری نے اسے اُس وقت تک کی بنائی گئی سب سے خوب صورت کار قرار دیا تھا۔
اُس زمانے میں چٹاگانگ ائرپورٹ ایک چھوٹا سا ہوائی اڈہ تھا۔ ائرپورٹ کی عمارت کنکریٹ کی ایک سادہ سی بلڈنگ تھی، جس میں سفید رنگ کی دیواریں اور لمبا سا برآمدہ تھا۔ اس ائرپورٹ پر صرف ایک رن وے تھا اور لوگ ٹیک آف اور لینڈ کرتے ہوئے جہاز کا نظارہ کرنے کے لیے عمارت سے نکل کر رن وے کے سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ یہ ائرپورٹ بنیادی طور پر ملکی اور کچھ بین الاقوامی پروازوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ پی آئی اے کی پروازیں کراچی، ڈھاکہ اور دیگر اہم شہروں سے یہاں آتی تھیں۔ ائر پورٹ میں داخل ہوتے ہی ایک چھوٹا سا ویٹنگ ہال تھا، جس میں پرواز کا انتظار کرنے والے مسافروں کے لیے لکڑی کی بینچیں رکھی تھیں۔
جب کوئی بین الاقوامی پرواز آتی تو امیگریشن کلرک اپنا دستی رجسٹر لے کر پہنچ جاتا اور آنے والے مسافروں کے کوائف درج کر کے جنہیں ویزا کی ضرورت ہوتی ان کے لیے ویزا جاری کرتا تھا۔ ائرپورٹ کی دیواروں پر پی آئی اے اور دیگر ائرلائنز کے رنگ برنگے پوسٹر لگے تھے، جن میں مشرقی پاکستان کی خوبصورتی اور ہوائی سفر کے فوائد کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ ہوائی اڈے پر بیک وقت ایک یا دو طیارے کھڑے ہو سکتے تھے، جن میں عموماً پی آئی اے کے فوکر اور DC۔ 3 طیارے ہوتے تھے۔ چونکہ اُس وقت ہوائی سفر ایک بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی، لہٰذا ائرپورٹ پر مسافروں کو رخصت کرنے اور استقبال کرنے کے لیے پورے خاندان آیا کرتے تھے مگر ائرپورٹ کی عمارت میں صرف مسافر داخل ہوسکتے تھے لہٰذا ان کے عزیز باہر کھڑے ہو کر آنے والوں کا استقبال کرتے اور جانے والوں سے گلے مل کر انہیں رخصت کرتے تھے، سوائے ان کے جو با اثر تھے یا ائرپورٹ کی انتظامیہ میں سے کسی کو جانتے تھے۔
ائر پورٹ کی عمارت کی پشت پر تقریباً دو سو گز کے فاصلے پر دوپہر کی چمکتی ہوئی دھوپ میں تارکول کا سیاہ رن وے یوں پھیلا ہوا تھا، جیسے دھوپ میں تپتی ہوئی زمین سانس لے رہی ہو۔ ہلکی ہلکی نم ہوا رن وے کے کناروں پر لگے ہوئے جھنڈوں کو سست روی سے ہلا رہی تھی۔ کراچی سے براہِ ڈھاکہ آنے والے بوئنگ 707 نے ایک لمبا سانس لے کر زمین کو چھوا، اور چند لمحوں بعد وہ تھکن سے بوجھل، رینگتا ہوا ٹرمینل کے سامنے آ کر رک گیا۔ اس کا سفید اور مٹیالا دھاتی بدن سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ جیسے ہی جہاز نے دائیں جانب مُڑ کر ٹیکسی وے پر آہستہ آہستہ قدم رکھا، تو رن وے پر موجود عملے نے ترتیب سے اپنے اپنے مقامات سنبھال لیے۔ چند لمحوں میں جہاز ٹرمینل کے سامنے آ کر ٹھہر گیا۔ جب جہاز کے اگلے اور پچھلے دروازوں سے ہوائی زینے منسلک ہو گئے تو مسافروں نے اترنا شروع کر دیا۔ عادل اور اُن کی فیملی دروازہ کھول کر باہر آ گئی۔ جیسے ہی مریم زینے سے اتری، عارف نے آگے بڑھ کر اس کا بیگ سنبھال لیا۔ عادل نے گرم جوشی سے دونوں بازو پھیلا کر اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور بولے، ”یقین نہیں آتا کہ اتنی بڑی ہو گئی ہے۔“ گلوریا نے مریم کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور چمٹا کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ عارف نے بھی اپنے بازو پھیلا دیے مگر مریم جھینپ کر رہ گئی۔
”چلو بھئی، ہم منہ پھیرے لیتے ہیں تاکہ یہ اپنا حساب چُکا لیں،“ عادل نے گلوریا کا ہاتھ پکڑ کر مڑتے ہوئے قہقہہ لگایا۔
” نہیں انکل، یہ تو ہمیشہ سے ایسے ہی شرارتیں کرتا آیا ہے۔ بس اب تھوڑا سا اور ڈھیٹ ہو گیا ہے،“ مریم نے گھبرا کر کہا۔
عارف نے ہنستے ہوئے بیگ کندھے پر ڈالا اور بولا، ”ڈھیٹ؟ میں تو بس خوش ہوں کہ تم آ گئی ہو۔“
ہوا میں گھلتی ہنسی، پرانی دوستیوں اور محبتوں کی خوشبو، اور ایک نئے باب کے کھلنے کا احساس۔ مریم کی نظر آسمان پر ٹِک گئی، جہاں دور افق پر بگلوں کی ایک قطار V کی صورت اڑتی چلی جا رہی تھی، جیسے فطرت نے آسمان پر کوئی نظم تحریر کی ہو۔
” اپنا بورڈنگ پاس دو، میں تمہارا سامان لے آتا ہوں،“ عارف نے مریم سے کہا۔
”ایک ہی سوٹ کیس ہے؟“ اس نے بورڈنگ پاس کی پشت پر بیگج ٹیگ دیکھ کر کہا۔ مریم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
وہ سامان لے کر باہر نکلے تو عادل کا ڈرائیور سوٹ کیس لینے کے لیے آگے بڑھا۔
” ارے نہیں، چچا مجمِّل، یہ میں اپنی گاڑی میں رکھ رہا ہوں،“ عارف نے کہا۔
”یوحنّا، تم مریم کو اپنے ساتھ لے جا رہے ہو؟“ عادل نے پوچھا۔
” جی، آپ چاہیں تو آپ لے جائیں،“ عارف دونوں ہاتھ اٹھا کر پیچھے ہٹ گیا۔
” میرا مطلب یہ نہیں،“ عادل نے ہنس کر کہا، ”اگر تم لے جا رہے ہو، تو سیدھے گھر آنا کیوں کہ مجھے سخت بھوک لگ رہی ہے۔“
” پرواہ نہ کریں، میں آپ سے پہلے گھر پہنچ جاؤں گا۔“
عارف نے کار اسٹارٹ کی اور انجن کی نرم گونج دھیرے دھیرے چلنے لگی، مگر گاڑی اب بھی اپنی جگہ خاموش کھڑی تھی کیوں کہ وہ انتظار کر رہا تھا کہ اس کے والدین کی کار وہاں سے نکل جائے۔ جب اس نے اِدھر اُدھر دیکھ کر اطمینان کر لیا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا تھا تو اس نے ایک نظر اپنے برابر بیٹھی ہوئی مریم کی طرف دیکھا، اور آہستگی سے اپنا بایاں ہاتھ اُس کے کندھے کے گرد لے جاکر اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔ مریم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ عارف نے شرارت بھری نگاہ سے مسکرا کر اُس کے رخسار پر ہونٹ رکھ دیے۔ یہ بوسہ نہ صرف طویل تھا، بلکہ اتنی واضح اور شرارتی پُچ کی آواز کے ساتھ تھا کہ مریم کو بے اختیار ہنسی آ گئی۔
”یار، کچھ تو شرم کرو۔ اگر باہر کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا،“ وہ جھینپ کر بولی، مگر آواز میں ناراضی کم اور مسکراہٹ زیادہ تھی۔
عارف نے ہنستے ہوئے گاڑی کے گیئر پر ہاتھ رکھا اور بولا، ”پہلے شرم آتی تھی، مگر تمہیں دیکھنے کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ اور ویسے بھی، یہ بوسہ تو دوستی والا تھا، تھوڑی محبت، تھوڑا مرچ مصالحہ۔“
مریم نے مسکرا کر اپنے رخسار پر ہاتھ پھیرا، جہاں اب بھی اس بوسے کی گرمی اور شرارت باقی تھی، جیسے کسی نے کان میں قطرہ قطرہ مسکراہٹ اُنڈیل دی ہو۔ کار اب سڑک پر دوڑ رہی تھی، لیکن وقت ایک چٹخارے دار لمحے کی خوشبو لیے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر سا گیا تھا۔

