مظلوم کا محضر نامہ


چار جنوری 2011 کی اداس شام یاد کے حجرے میں ہمیشہ کے لئے مقید ہو گئی۔ سوریا کے انگارے زمستانی موسم کی لپیٹ میں تھے، اندھیرے کا فتور یخ بستہ ہواؤں سے لبریز تھا ایسے میں میرے گاؤں کا ڈیرہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ آتش دان میں پڑی لکڑیاں سلگ رہی تھیں بذلہ سنجی اور قصہ گوئی کا دور دورہ تھا کہ اچانک ایک دبلا پتلا سا نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور بولا، تم یہاں قہقہے لگا رہے ہو تمہیں پتہ ہی نہیں کہ گورنر پنجاب کو گولیاں مار دی گئی ہیں۔ میری عمر اس وقت لگ بھگ آٹھ برس تھی۔ ڈیرے کی فضا جہاں لمحہ بھر پہلے مسکراہٹوں کی پھوار تھی اب اچانک سے غمگین ہو گئی۔ میں ابھی یہ بات پوری طرح ہضم نہیں کر سکا تھا کہ مجمعے میں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے تمکنت اور جلال میں آ کر کہا کہ اچھا ہوا مر گیا گستاخ۔ اب میں اور متجسس ہو گیا کہ آخر یہ کسی شخص کہ مرنے پر اتنا خوش کیوں ہو رہا ہے۔ خیر میں گھر آیا اور نو بجے والے خبر نامے میں کچھ تصاویر دیکھیں جو میری یادداشت میں ہمیشہ کے لئے پیوست ہو گئیں۔ میں اس وقت قضیے کی نوعیت نہیں سمجھ سکا لیکن جب میں نے شعور کے زینے پر قدم رکھنا شروع کیا تو مجھے اس وحشت کی ہیئت سمجھ آنے لگی۔

احمد نورانی صاحب نے جب فیکٹ فوکس پر بلاسفیمی کے گروہ کو بے نقاب کیا جو ملک کے طول و عرض میں نوجوانوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ جہاں چند لوگوں کے معاشی چولہوں میں معصوم لوگوں کے ارمان جل رہے تھے کسی ضعیف باپ کی امید پر توہین کا ہتھوڑا چل رہا تھا تو کہیں ممتا سے استقامت کا بلیدان اپنے مذموم مقاصد کے لئے لیا جا رہا تھا۔ جتھے کے جذبات کو اشتعال کی آنچ پر بھڑکانے والے لوگوں کے لئے توہین سے اچھا کاروبار کوئی نہیں ہو سکتا۔

ریاستی سطح پر ضیا الحق کے دور میں قانون کی کتاب میں ترمیم کی گئی ایک ایسی ترمیم جہاں ترمیم کرنے والوں کی آل اولاد نے بعد میں ایک ایسے عفریت کو بھگتا جو ان کے آباء کی کارستانی تھی۔ آپا نثار فاطمہ کے فرزند ارجمند کو گولی مارنے والا شخص جب یہ کہتا ہے کہ احسن اقبال گستاخ ہے تو دراصل یہ تاریخ کا جبر ہے جو المیے کی صورت میں تاریخ کی مانگ کا سندور ہے۔

9 جولائی 1986 کو جب پارلیمنٹ کو اسلامائزیشن کا بخار چڑھا تو پارلیمنٹ میں ایک قانون پیش کیا گیا جہاں تعزیرات پاکستان کی سیکشن 295۔ C میں ترمیم کی گئی۔ گستاخی رسول ثابت ہونے پر غیر مسلموں کو بھی سزائے موت کا حکم دیا گیا۔ ابن تیمیہ کی ”السیف المسلول“ ، فتویٰ عالمگیری اور فتاویٰ شامی جس کا اصل نام ”رد المختار علی الدر المختار“ ہے اور جسے علامہ محمد امین ابن عابدین شامی نے تحریر کیا ہے کو بنیاد بنا کر غیر مسلموں کے گلوں کے پھندے بنا کر انہیں بھی دار و رسن کے سپرد کرنے کا ریاستی قانون تعزیرات پاکستان میں شامل کیا گیا لیکن حقیقت میں ان تمام علمائے دین نے غیر مسلموں کو سزائے موت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

مستند حنفی روایت کے مطابق غیر مسلموں کے معاملے میں سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ امام طحاوی کے مطابق صرف زبانی تنبیہ کافی ہے۔ غیر معمولی حالات میں، اگر کوئی شخص بار بار توہین کا مرتکب ہو، تو سربراہِ مملکت کی صوابدید پر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ مگر بد قسمتی سے قانون میں ترمیم کر کے غیر مسلموں کے لیے ایک ہی مرتبہ توہینِ رسالت کا ارتکاب سزائے موت کے نفاذ کے لیے کافی قرار دیا گیا۔

امام بخاری حدیث کے سب سے مستند علما میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ابو رافع اور کعب بن اشرف کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر ان کی گستاخانہ سرگرمیوں کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔ تاہم، یہ روایات امام بخاری نے توہینِ رسالت کے باب میں نہیں بلکہ غزوات کے باب میں بیان کی ہیں۔ مزید برآں، امام بخاری ایک حدیث نقل کرتے ہیں جو واضح طور پر بتاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گستاخوں کو معاف فرمایا۔ یہ حدیث بیان کرتی ہے کہ یہود نبی کریم ﷺ کو سلام کرنے کے بجائے ناپسندیدہ الفاظ استعمال کرتے تھے۔ یہ الفاظ نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کے لیے تکلیف دہ تھے۔ تاہم، جب صحابہ نے گستاخ کو قتل کرنے کی اجازت چاہی، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ صرف یہ جواب دینے کی اجازت دی: ”تم پر بھی“ ۔ اس واقعے کو دیکھتے ہوئے، بدر الدین عینی، جو امام بخاری کے ایک نامور شارح ہیں، اس نتیجے پر پہنچے کہ امام بخاری، اہلِ کوفہ اور فقہائے احناف توہینِ رسالت کو ایک قابلِ معافی جرم سمجھتے تھے۔

سیرت ابن ہشام میں ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جہاں توہین کرنے والوں کو معاف کر دیا گیا۔ حبیرہ بن ابی وہاب اور کعب ذوہیر وہ لوگ ہیں جنہیں عہد رسالت مآب میں توہین رسالت میں معافی دی گئی۔ جن لوگوں کو مبینہ طور پر عہد رسالت میں توہین پر قتل کیا گیا اصل میں ان کا جرم توہین نہیں کچھ اور تھا۔ جیسے کہ کعب بن اشرف کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ مکہ کے کافروں کو مسلمانوں کے خاتمے پر اُکساتا تھا۔ ایک اور مثال ابو رافع کی ہے سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ ابو رافع کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ بنو نضیر کے قبیلے کا سربراہ تھا۔ اس نے مکہ کے قبائل کو اکٹھا ہونے اور مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔ محاصرہ ناکام ہونے کے بعد ، نبی کریم ﷺ نے اپنے ایک صحابی کو ابو رافع کو قتل کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ایک بڑا خطرہ بن چکا تھا۔

اگر ہم مختلف اسلامی ممالک میں توہین رسالت کی سزائیں دیکھیں تو مصر، انڈونیشیا، ملیشیا، اردن، کویت اور مراکش ایسے مسلم ممالک ہیں جہاں توہین پر انسان نہیں لٹکائے جاتے بلکہ قید اور جرمانے کی سزائیں سنائیں جاتی ہیں۔

لگ بھگ چار عشروں پر پھیلی وحشت جہاں توہین کا سہارا لے کر نہ جانے کتنے بے گناہ لوگوں کو لقمہ اجل بنا دیا گیا۔ جتھے کی نفسیات توہین پر انگیختہ ہو کر انسانیت کا سبق تج دیتی ہے اور چوک چوراہوں پر خود ہی منصف بن جاتی ہے۔ قصور کی شمع ہو یا سری لنکن شہری پریانتھا، وہ چاہے مردان کا مشال ہو یا سندھو وادی کا ڈاکٹر شاہنواز، ہر بار ہجوم بپھرتا ہے نعروں کی صدا گونجتی ہے، اذیتوں کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں اور انسان کے وجود کی راکھ کو فضا میں اڑاتے ہوئے لوگ غرہ دیتے ہوئے اپنے آپ کو ضبط رسول اور صبر شبیر کا معتقد مانتے ہیں۔ مظلوم کا محضر نامہ سننا رسول پاک ﷺ کا شیوہ ہے جبکہ آج کا مسلمان توہین کی مالا جپتا ہے اور لوگوں کو زندہ جلا دیتا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “مظلوم کا محضر نامہ

  • 30/03/2025 at 4:00 شام
    Permalink

    کیا کہنے

Comments are closed.