عوام ناخواندہ ہو سکتے ہیں جاہل نہیں
” پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن اس میں نئی بات کیا ہے ؔ؟“ جب یہ طنزیہ جملہ، بڑے پیمانے پر لکھا، بولا اور سنا جانے لگے تو اس سے لطف لینے کی بجائے اپنی لاچارگی پر ماتم کرنا چاہیے۔ اس طرح کی کڑوی اور زہر میں بجھی باتیں مفلس عوام کم، دانشور، متوسط و خوش حال طبقات کے لوگ زیادہ کرتے ہیں۔ ایسی باتیں کرنے والوں سے جب ملک کے اس حال تک پہنچنے کا سبب دریافت کیا جائے تو سب کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ سیاست دانوں نے جاگیرداروں، بیوروکریسی اور کاروباری اشرافیہ سے مل کر ملک کی ساری دولت لوٹ لی ہے جس سے ملک کنگال ہو گیا ہے۔ مسئلے کا حل پوچھا جائے تو جواب ملے گا کہ لوٹی ہوئی دولت لٹیروں سے چھین لیں تو ملک سے غربت دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہو جائے گی۔ اپنے علم میں مزید اضافے کے لیے عرض کیا جائے کہ یہ کام کیسے ممکن ہو گا تو انتہائی اعتماد سے جواب ملے گا کہ ملک کو ایک سخت گیر ایماندار حکمران کی ضرورت ہے جو آئے اور چند ہزار بدعنوان لوگوں کو گولیوں سے اڑا دے۔
یہ انداز فکر، احساس برتری میں مبتلا اس چھوٹے لیکن طاقتور گروہ کا ہے جو عوام کو جاہل، ان کے منتخب نمائندوں کو نا اہل اور بدعنوان کہہ کر جمہوریت کو انتہائی حقارت سے مسترد کر دیتا ہے۔ احساس برتری کی یہ سوچ، مغربی ایشیا کے مسلمان فاتحین کی ثقافت اور مذہب اختیار کرنے والوں کے اس محدود طبقے میں ابھرنی شروع ہوئی جسے مسلمان بادشاہ، مراعات دے کر اپنی حکمرانی کے لیے فوجی اور انتظامی طور پر استعمال کرتے تھے۔ یہ مراعات یافتہ لوگ کئی سو سال تک مقامی غریب مسلمان اور ہندو آبادی کو کمتر اور اپنی رعایا تصور کرتے رہے۔ اس طبقے کی اکثریت مغل دارالحکومت، اس کے قریب واقع شہروں، علاقوں اور صوبوں میں آباد تھی۔ دہلی سے بہت دور واقع صوبوں کی خاص اہمیت نہیں تھی لہٰذا وہاں یہ مظہر زیادہ نمایاں نہیں تھا۔
تاہم، ہندوستان پر برطانوی قبضے کے بعد کچھ اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں جس سے اس طرح کی سوچ رکھنے والوں کا محدود دائرہ بتدریج وسیع ہوتا گیا۔ برطانیہ نے ہندوستان پر طویل حکمرانی کے لیے انڈین سول سروس اور برٹش انڈین آرمی جیسے دو انتہائی جدید ادارے تشکیل دیے۔ جب کہ سیاسی حمایت کے لیے جاگیرداروں کا طاقتور طبقہ پیدا کیا اور تقریباً 500 نوابی ریاستوں کو اپنے زیر انتظام لے لیا۔
1947 میں انڈین سول سروس میں 980 افسر شامل تھے، ان میں 468 انگریز، 352 ہندو، 101 مسلمان اور بقیہ کا تعلق دیگر مذاہب سے تھا۔ برطانیہ نے انڈین سول سروس کے افسروں کی اتنی چھوٹی تعداد کے ذریعے گیارہ صوبوں کے 250 اضلاع، قبائلی علاقوں اور 500 سے زیادہ نوابی ریاستوں پر طویل عرصے تک خوب جم کر حکمرانی کی۔
برطانیہ نے 1858 میں برٹش انڈین آرمی قائم کی۔ اس فوج کا بنیادی فرض ملک کا دفاع نہیں تھا کیوں کہ ہندوستان پر خود برطانیہ کا غیر قانونی قبضہ تھا۔ اتنی بڑی اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کی حامل فوج رکھنے کا مقصد ہندوستان جیسی وسیع و عریض نو آبادی میں اٹھنے والی شورشوں، بغاوتوں، آزادی کی تحریکوں پر قابو پانا اور عالمی جنگوں میں برطانوی استعمار کے لیے ان کا لہو بہانا تھا۔ برٹش انڈین آرمی میں بھرتی کے لیے انگریز نے ان لوگوں کو ترجیح دی جو ان کے مطابق ”مارشل ریس“ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظر میں مضبوط جسم کے مالک، بہادر، لڑ مرنے پر ہمہ وقت تیار ہندوستانی مارشل ریس میں شامل تھے۔ اسی معیار کے پیش نظر انگریز نے 1857 کی بغاوت میں شامل سپاہیوں کو برٹش انڈین آرمی میں بھرتی کر لیا تھا۔ انگریزوں کی درجہ بندی میں بنگال کے لوگوں کا تعلق ”غیر مارشل ریس“ سے تھا لہٰذا انہیں فوج میں بہت کم شامل کیا گیا۔ تقسیم ہند کے وقت برٹش انڈین آرمی، 11800 افسروں اور 500000 سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ 30 جون 1947 کو طے پایا کہ فوج کے اثاثوں کو، 64 فیصد ہندوستان اور 36 فیصد پاکستان کے تناسب سے تقسیمُ کر دیا جائے گا۔ تاہم، پاکستان کو عملاً اس سے کم حصہ ملا۔
آزادی کے بعد پاکستان کو انگریز راج کی طرف سے جب مذکورہ بالا دو طاقتور ادارے اور جاگیردار سیاستدان ورثے میں ملے تو ان میں ایک ہزار میل دور واقع مشرقی پاکستان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد 81 مسلمان آئی سی ایس افسروں نے پاکستان کا انتخاب کیا۔ ان کی اکثریت کا تعلق ہندوستان کے مسلم اشرافیہ گھرانوں سے تھا۔ انہیں برطانیہ نے اپنی رعایا پر حکمرانی کی تربیت دی تھی لہٰذا وہ خود کو حاکم اور عوام کو اپنا خادم تصور کرتے تھے۔ پاکستان آتے ہی احساس برتری میں مبتلا ان افسروں نے ملک کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا۔ دس سال تک ملک پر ان کی مکمل ُگرفت رہی۔ وہ گورنر جنرل، وزیر اعظم اور صدر تک کے منصب پر بھی براجمان رہے۔ انہوں نے آئین سازی اور عام انتخابات کے ذریعے اقتدار کی جمہوری منتقلی میں غیر معمولی تاخیر پیدا کی تاکہ ریاست پر ان کی بالا دستی قائم رہے۔ بیورو کریسی نے ایک حکمت عملی کے تحت سیاست دانوں، جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کی توہین اور تذلیل کی منظم مہم شروع کی۔ 1958 تک ہر سیاسی حکومت بے توقیر کر کے نکالی جاتی رہی۔ جب جمہوری سیاسی قوتوں کا دباؤ بڑھا تو سول بیورو کریسی نے ریاست کی باگ ڈور جنرل ایوب خان کے سپرد کر دی۔ جنرل صاحب نے ناکامیوں کی ساری ذمہ داری سیاست دانوں پر ڈال کر انہیں ایبڈو ( ABDO ) قانون کے تحت سیاست سے چھ سال کے لیے نا اہل کر دیا۔ نا اہل ہونے والوں میں قائداعظم کے رفیق، تحریک پاکستان کے رہنماؤں کے علاوہ درجنوں ممتاز سیاست دان شامل تھے۔ عوام کو جاہل، جمہوریت کو لوگوں کو تولنے کی بجائے گننے کا نظام اور سیاست دانوں کو چور کہنے والے گروہ نے ایوب خان کے گرد جمع ہو کر انہیں سیاسی طاقت فراہم کی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے آمرانہ دور میں جمہوری، ترقی پسند اور قومی حقوق کی پرامن جدوجہد کرنے والوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ حسن ناصر مارے گئے، سردار نوروز خان سے قرآن پر صلح کے بعد ان کے جوان بیٹوں اور بھتیجوں کو پہاڑوں سے نیچے بلا کر پھانسی دے دی گئی۔ فاطمہ جناح نے صدارتی انتخاب میں حصہ لے کر ایوبی آمریت کو چیلنج کیا جس کی پاداش میں ان پر ناقابل بیان دشنام طرازی کی گئی۔ یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ اس دور میں سیاسی رہنماؤں کو حقارت سے دیکھنے اور خود ساختہ احساس برتری کی بیمار سوچ رکھنے والے ’شرفا‘ مشرقی پاکستان کے اپنے بنگالی ہم وطنوں کے بارے میں کتنی تضحیک آمیز رائے رکھتے تھے؟ وہ کہا کرتے تھے کہ بنگالیوں کا قد چھوٹا ہے اس لیے وہ بہادر کیسے ہو سکتے ہیں، ان کے جسم سے مچھلی کی بو آتی ہے، ان کی ثقافت، رسم و رواج، کھانا پینا، رہن سہن سب ہندوانہ ہے۔ وہ پاکستان کا حصہ بن کر فوائد حاصل کرتے ہیں لیکن انہیں مسلم قومیت سے زیادہ بنگالی قومیت عزیز ہے۔ یہ لوگ، بنگالی پاکستانیوں کو راہ راست پر لانے، اچھا مسلمان اور محب وطن پاکستانی بنانے کے زعم میں آدھا ملک گنوا بیٹھے۔
1971 میں پاکستان کے ٹوٹنے کے بعد مجبوراً اقتدار عوام کے منتخب سیاست دانوں کے سپرد کرنا پڑا۔ سیاست دان وزیر اعظم جنگی قیدی واپس لایا، مقبوضہ علاقے واگزار کرانے کے علاوہ جو کچھ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ’جاہل‘ عوام نے جن ”چور، نا اہل، بدعنوان، غدار“ سیاسی نمائندوں کو منتخب کیا تھا وہ سب پارلیمنٹ میں سر جوڑ کر بیٹھے اور 25 سال بعد ملک کو پہلا وفاقی پارلیمانی آئین دیا جس کے نہ ہونے سے ملک دو لخت ہوا اور جس کے طفیل پاکستان کا موجودہ وفاق اب تک سلامت ہے۔ تاہم، ملک کی مشکلات کم ہوتے ہی عوام اور جمہوریت سے نفرت کرنے والا یہ گروہ دوبارہ میدان میں کود پڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شرم ناک کردار کشی کا آغاز ہوا، کیا الزام تھے جو ان پر نہیں لگائے گئے۔ ان کے حسب نسب اور شجرہ تک پر سوال اٹھا دیے گئے۔ ان کے خلاف تحریک چلائی گئی اور نعروں کی آڑ میں جو ذاتی حملے کیے گئے انہیں لکھنے سے قلم لرزتا ہے۔ احتجاجی تحریک کو جواز بنا کر جنرل ضیا الحق نے آئین توڑا، اقتدار پر قبضہ کیا اور 4 اپریل 1979 کو پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم کا عدالتی قتل کروایا۔ اس قتل کے ذمہ داروں نے آج تک اپنے گناہ کی معافی نہیں مانگی، شہادت کے 45 سال بعد 23 مارچ 2025 کو صدر آصف علی زرداری نے ریاست کی جانب سے انہیں بعد از مرگ، نشان پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز دینے کا اعلان کیا۔ آصف علی زرداری نے جرم بے گناہی میں زندگی کے 14 قیمتی سال زنداں میں قربان کیے اور اپنی صحت کی بہت بھاری قیمت ادا کی۔ ان کی ذات کو دنیا کے سامنے ایک منفی علامت بنا کر پیش کیا گیا لیکن وہ خاموش رہے۔ یہ ہے سیاست دان کا تحمل اور برد باری۔ دل شاد ہوا انہیں ایوان صدر میں دیکھ کے۔ سچ ہے کہ آمروں کے خلاف جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔
وقت سفر کرتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف جیسے مقبول سیاسی رہنما جمہوریت مخالف نشانہ بازوں کی زد پر آ گئے۔ کیا الزامات ہیں جو ان پر نہیں لگے، دونوں قید و بند کی اذیت ناک صعوبتوں سے گزرے، نواز شریف کو جہاز کی سیٹ پر باندھ کر ہر پیشی پر لایا لے جاتا رہا۔ بینظیر نے باپ اور بھائیوں کے قتل دیکھے، نواز شریف دم توڑتی شریک حیات کو ابدی سفر پر رخصت نہ کر سکے۔ بینظیر شہید کر دی گئیں، نواز شریف موت کے منہ میں جانے سے بال بال بچے۔ ان دونوں سیاست دانوں نے ہر عذاب جھیلا لیکن اپنے چاہنے والوں کو امتحان میں نہیں ڈالا۔ انہیں مسلسل معزول اور بے توقیر کیا جاتا رہا لیکن عوام انہیں اور ان کی جماعتوں کو بار بار اقتدار میں لاتے رہے۔
عوام کو جاہل، سیاست دانوں کو ڈاکو اور جمہوریت کو بد ترین نظام کہنے والوں سے عوام اسی طرح انتقام لیتے ہیں۔ ان کے ذہن ہزاروں سال سے منتقل ہونے والی اس اجتماعی دانش سے مالا مال ہیں جو ان سے حیران کن سیاسی فیصلے کراتی ہے۔ اس لیے جان لیا جائے کہ عوام ناخواندہ تو ہو سکتے ہیں لیکن جاہل ہرگز نہیں ہیں۔ آپ ان سے جیت نہیں سکتے۔



کچھ اس جاہل کی طرف سے:
–
ذوالفقار علی بھٹو کی شرم ناک کردار کشی کا آغاز ہوا، کیا الزام تھے جو ان پر نہیں لگائے گئے۔
ہرجا کہ میں اس قسم کی گھٹیا سیاست اور کردار کشی کو کبھی قائل نہیں رہا لیکن وقت ملے تو سندھ کی ہی بیٹی "مرحومہ حمیدہ کھوڑو” کی اپنے والد محترم ایوب کھوڑو پر لکھی سوانح پڑھ لیں جس میں ایوب کھوڑو نے اپنی سر شاہ نواز بھتو کے ساتھ شاہی محلوں اور وہاں موجود ایک خاص رقاصہ کا قصہ بیان کیا ہے۔ دروغ بہ گردن راوی۔ ویسے مرحومہ کبھی بھی فوج کے نزدیک نہیں رہی تھیں۔
–
آپ کا دعوی ہے کہ تقسیم کے وقت پاکستان کے حصے میں آئی بیوروکریسی اور فوج میں بنگالیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ برسبیل تذکرہ اس وقت کے چند سب سے مشہور بیوروکریٹس میں سے ایک اسکندر مرزا مراد آباد کے پکے بنگالی تھے۔ جنہیں عام شام میر جعفر کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ میرجعفر خود نواب سراج الدولہ کے سگے نہ سہی رشتہ میں نانا لگتے تھے یوں اسکندر مرزا دیکھا جائے تو سراج الدولہ کا رشتہ دار بھی تھا۔ دوسری طرف 1949 میں جب جی ایچ کیو نے سب سے سینئر چھ پاکستانی فوجی افسران کے نام وزیراعظم لیاقت علی خان کو بھجوائے تو ان میں شاید تیسرے نمبر پر نام میجر جنرل اشفاق المجید کا تھا جو پکے بنگالی تھے اور سہروردی کی پہلی بیگم کی طرف سے ہم زلف بھی۔
–
برٹش فوج کی طرف سے جسمانی پیمائش کے جو ضابطے رکھے گئے تھے ان میں قد اور چھاتی کے پھلاؤ کی حدود کی وجہ سے زیادہ تر بنگالی سلیکشن میں رہ جاتے تھے۔ ایوب خان نے ڈھاکہ ایسٹرن کمانڈ سنبھالنے کے بعد بنگالی کیڈٹس کے لئے ان شرائط کو نرم کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں ایم ایم عالم جیسے لوگ بھی مشرقی پاکستان سے سلیکٹ ہوکر فوج (فضائیہ) میں آئے۔
–
آصف علی زرداری نے جرم بے گناہی میں زندگی کے 14 قیمتی سال زنداں میں قربان کیے اور اپنی صحت کی بہت بھاری قیمت ادا کی۔
اسلام آباد کے پمز کے خصوصی وارڈ میں زرداری صاحب کے ساتھ میری دو طویل ملاقاتیں رہیں 14 سال کا اکثر وقت انہوں نے (اور نواز شریف یا شہباز شریف نے) عمران خان کے برعکس ایسے ہی زندانوں میں گزارا۔ محو حیرت ہوں کہ ایوان صدارت میں یا وزیراعظم بنتے ہی ۔۔۔۔ زرداری صاحب شہباز شریف، نواز شریف اور اسحاق ڈار کی بیماریاں کہاں چلی گئیں ؟
–
فاطمہ جناح پر دشنام طرازی
جی بالکل درست کہا اور اس میں پیش پیش محض گجرانوالہ کے سیاست دان ہی نہیں تھے بلکہ ایوب خان کے متبادل صدارتی امیدوار بھٹو بھی اس کارخیرمیں پیش پیش تھے جن کی یعنی بھٹو کی تقریروں میں فاطمہ جناح کی کردارکشی، بڈھی بطخ جیسے القاب اور ہندوستانی غدار ہونے جیسے الزامات پرانے اخبارات میں دیکھے جاسکتے ہیں۔