مطالعہ پاکستان کی خیر و برکات


ہمیں جب بھی پاکستان کی خوبصورتی، شاندار کامیابیوں اور ناقابلِ یقین کارناموں کے بارے میں پڑھنے کا اشتیاق ہوتا ہے، تو سیدھے مطالعہ پاکستان کی کتاب کھول لیتے ہیں۔ جیسے ہی چند صفحات پڑھتا ہوں، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہماری سوچ کو چنبیلی کے عطر میں ڈبو کر، شہد میں گھول کر، اور دودھ میں نہلا کر دماغ میں ڈال دیا ہو۔ یہ ایسی محب وطن کی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ پھکی ہے جس سے ہر طرح کی پریشانیاں لمحوں میں غائب ہو کر رہ جاتی ہیں۔ ہمیں صرف لگتا نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ مطالعہ پاکستان لکھنے والوں کے ہاتھ شاہ جہاں کے تاج محل بنانے والوں سے بھی زیادہ بابرکت ہیں کیوں کہ انہوں نے ایک ایسی چیز بنا دی ہے جسے پڑھ کر پاکستانی عوام ہمیشہ خوش باش رہ رہی ہے بلکہ آگے کی نئی نسلوں سے بھی یہی اپنے آبا و اجداد والی اعلیٰ روایات و اخلاقیات کی امید کی جا سکتی ہے۔

ان موٹیویشنل مصنفین کے ”مقدس قلم“ نے جو سنہری الفاظ اگلی نسلوں کے لیے چھوڑے ہیں، وہ یقیناً تاج محل سے بھی زیادہ عظیم شاہکار ہیں۔ کیوں کہ تاج محل تو بس ایک بے جان سی عمارت ہے، جبکہ مطالعہ پاکستان ایک پوری قوم کے لئے مثبت سوچ کا کامیاب ترین فارمولہ ہے۔ اصل افسوس تو اس بات کا ہے کہ ایسے لوگوں کو نوبل پرائز سے نہیں نوازا جاتا۔ اگر نوبل پرائز دینا اتنا ہی مشکل ہے، کیونکہ وہ ”انگریزوں“ کی پروڈکٹ ہے، تو کم از کم انہیں وہی عزت تو قوم کی طرف سے دی جانی چاہیے جو تاج محل بنانے والوں کو شاہ جہاں سے ملی تھی۔ حالانکہ تاج محل دیکھ کر لوگ صرف خوش ہوتے ہیں جبکہ مطالعہ پاکستان پڑھ کر نہ صرف ”حد سے زیادہ سکون حاصل ہوتا ہے اور ساتھ ہی جو مثبت تبدیلیاں سوچ میں رونما ہوتی ہیں وہ الگ ہیں۔ ہمارا آپ کو دوستانہ مشورہ ہے کہ اگر آپ کو بھی ہمیشہ مثبت مزاج کی طلب ہے، جو کہ ہر پاکستانی کی اشد ضرورت ہے تو مطالعہ پاکستان کو روزانہ کی بنیاد پر پڑھنا شروع کر دیں۔

مطالعہ پاکستان ہر طالب علم پر ایسے ہی فرض ہوتا ہے جیسے ہمارے ہاں سیاستدانوں پر یوٹرن۔ اس کے بغیر کوئی ڈگری مکمل ہی نہیں ہوتی، بالکل ایسے ہی جیسے کرپشن بغیر حکومت۔ اس مضمون میں فیل ہونا تقریباً اتنا ہی مشکل ہے جتنا کسی سیاسی لیڈر کا اپنے وعدوں پر پورا اترنا لیکن جو غدار فیل ہوتے ہیں، انہیں صرف فیل نہیں بلکہ کالا پانی کی سزا ہونی چاہیے، کیونکہ وطن کی مٹی سے اس سے بڑی بے وفائی اور کیا ہو سکتی ہے کہ بندہ اپنے ملک کی ”سنہری تاریخ“ سے بھی ناواقف ہو۔ یہی تو وہ مضمون ہے جس میں ناکامی کا تصور ایسے ہی ناپید ہے جیسے پاکستان میں میرٹ۔ پرچے پر کچھ بھی سوالات کی صورت میں لکھا ہو، جوابات بس مثبت، جاندار کی بجائے شاندار، تاریخی کے ساتھ یادگار، اور سنہری چمکدار ہونا چاہیے۔

یعنی، اگر سوال آئے، پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ بیان کریں ”تو عقل و دانش کے گھوڑے دوڑائے بغیر سیدھا جواب:“ پاکستان میں جمہوریت ہمیشہ پھلتی پھولتی رہی، اور عوام کو ہر دور میں مساوی حقوق ملتے رہے۔ ہر حکومت نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا، اور عالمی دنیا نے پاکستان کی جمہوری روایات کو ہمیشہ سراہا۔ ”بس! نمبرز پکے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا تو حقیقت میں نہیں ہے، لیکن ہمارے خفیہ ذرائع نے جو چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا گول ہے یا نہیں مگر پاکستان ضرور گول ہے، جس کی وجہ سے یہ سفر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے چاہیے جمہوریت کی گاڑی جہاں سے بھی نکالی جائے وہ پھر لاہور، سندھ یا زمان پارک لیکن اختتام میں نقطہِ آغاز پر ہی کھڑی ملتی ہے اور اس میں ان بیچارے سیاستدانوں کا ہرگز قصور نہیں بلکہ ہمارے ملک کا گول مٹول ہونا ہے۔

اگر آپ کے پاس دوسرا اہم سوال آتا ہے کہ پاکستان میں پچھلے چار مارشل لا کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ لہٰذا، ہماری رائے ہے کہ اگر آپ سے مارشل لا پر رائے مانگی جائے، تو بہتر یہی ہے کہ ”مطالعہ پاکستان کا ورژن“ ہی سنائیں، ورنہ آپ بھی ”طلب کیے گئے افراد“ کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔

اصل میں مارشل لا کو بیان کرنے کے لیے ہمیشہ سے اردو میں کچھ مناسب الفاظ ہی نہیں رہے ہیں اور اگر کسی نے مجبوری میں غیر محترم الفاظ استعمال کرنے جیسی گستاخی کی، تو وہ مطالعہ پاکستان کے پیپر میں تو فیل ہوتا ہی ہوتا ہے ساتھ ساتھ ”حب الوطنی کے امتحان“ میں بھی فیل ہو کر رہ جاتا ہے یا پھر ”ریٹائرمنٹ پیکج“ کے طور پر لمبے سفر پر بھیج دیا جاتا ہے۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ یہ وہ نظام ہے جس کے بغیر ہم آج ترقی کی جس راہ پر گامزن ہیں، وہ کبھی بھی اس کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ جب بھی پاکستانی تاریخ میں جمہوریت پنکچر ہوئی تو مارشل لا گاڑی کے ٹائر کے طور پر کام کرتے ہوئے فوراً نظام کو رواں دواں رکھنے میں معاون ثابت ہوا۔ اگر جمہوریت کی گاڑی زیادہ رفتار پکڑ لے، تو مارشل لا ناصرف بریک لگا دیتا ہے، بلکہ قوم کی جان کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے حادثے کا شکار نہ ہو جائیں فوراً گاڑی کو بھی خود سے سنبھال لیتا ہے۔ یہ نظام اتنا موثر تھا کہ ترقی یافتہ ممالک ہمیں حسد بھری نظروں سے دیکھتے تھے۔ جہاں باقی ممالک الیکشن، پارلیمنٹ اور پالیسی سازی میں سالہا سال لگا دیتے تھے، ہم ایک ہی تقریر میں سب فیصلے نمٹا دیتے تھے، یہ وہی برکت ہے جس کے طفیل آج ہم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں، ہاں، خیر، فہرست میں نہ سہی، لیکن فہرست کو قریب سے دیکھ ضرور سکتے ہیں۔

مارشل لا لگانے والے کو قوم کا باپ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اور ایک ایسا باپ جو پبلک میں اپنے بچوں کے کان کھینچنے اور جوتا گھمانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔ اور کیوں نہ کرے آخر قوم کے بہترین مفاد میں جو کچھ بھی کیا جائے، وہ جائز ہوتا ہے۔ ویسے بھی، باپ کی مرضی کے بغیر کچھ کرنا ناصرف ہماری تہذیب و ثقافت سے برعکس ہے بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس نظام میں قوم کی تربیت ایسے ہوتی ہے جیسے استاد ہاتھ میں چھڑی لے کر بچوں کو ’سیدھا‘ کرتا ہے۔ لوگ کچھ کرنے سے پہلے دس بار سوچتے ہیں، اور بولنے سے پہلے تو اتنا سوچتے ہیں کہ آخر میں چپ ہی رہنا بہتر سمجھتے ہیں۔ عوام کو زیادہ بولنے اور سوال کرنے کی عادت نہ پڑے، اس لیے مارشل لا انہیں خاموش رہنے کا درس دیتا ہے کیوں کہ خاموشی عبادت ہے۔ اس نظام کو ہماری ناصرف دنیا بلکہ آخرت کی بھی ساتھ ساتھ فکر لاحق رہتی تھی اور پاکستان کو اسلامی لباس پہنانا بھی اسی نظام کی مہربانی کی عنایت ہے۔

مارشل لا کے دوران عوام کا اخلاق بہت بلند ہوتا ہے، کوئی بھی اونچی آواز میں نہیں بولتا کیوں کہ اونچی آواز گدھوں کی ہوتی ہے اور اس وجہ سے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ ٹی وی پر صرف ترقیاتی منصوبے دکھائے جاتے ہیں، کیوں کہ دوسرے پروگرام ہماری نئی نسل کا ذہن خراب کرتے ہوئے ہماری اصل تہذیب و ثقافت سے دور نہ لے جائیں۔ جو لوگ یادداشت کے کمزور ہونے پر ان ہدایات کو بھول جاتے ہیں تو پھر یادداشت مضبوط کرنے والے انجیکشن کا بھی بندوبست ہوتا ہے اور ایک بار لگنے کے بعد پھر زندگی بھر کے لئے یادداشت ایسے مضبوط ہوتی ہے کہ ”dementia“ کے سبب بندہ سب کچھ یہاں تک کہ اپنا نام تک بھول سکتا ہے لیکن یہ ہدایات ہرگز نہیں۔ یہ نظام اتنا بابرکت ہوتا تھا کہ پورے پاکستان کے عوام کو یقین ہوتا ہے کہ فیصلے اُن کے حق میں ہو رہے ہیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ دیہاتی دلہن کی طرح شادی سے پہلے رضامندی پوچھنے پر وقت ضائع نہیں کیا جاتا تھا کہ کہیں بابرکت وقت نکل نہ جائے۔

ہمیں لگتا ہے کہ اردو زبان بھی ایک حد تک ہی برداشت کر سکتی ہے۔ اب اگر ہم آگے اس محترم اور بلند و بالا نظام کی شان بیان کرتے چلے گئے، تو بیچاری اردو بھی کہہ اٹھے، ”بھائی! میرے پاس اتنے لمبے، چوڑے، اونچے، سریلے، دبدبہ دار، پرشکوہ اور عظمت سے بھرپور الفاظ نہیں ہیں، جتنی اس نظام کی تعریف کے لئے آپ کو درکار ہیں اور جو تھوڑے بہت اوپر الفاظ ہم نے استعمال کیے ہیں، یہ بھی ہمارے چند دوستوں کی خصوصی عنایت ہیں، جنہوں نے حکم دیا تھا کہ،“ تعریف ایسے کرو کہ حقیقت کبھی غلطی سے بھی آپ کے قریب نہ آئے۔ ”

بس آخر میں یہی آپ سے کہوں گا کہ پرچے میں جھوٹ لکھنے کی ذرہ برابر بھی ضرورت نہیں، کیونکہ حقیقت تو کبھی چھپائے نہیں چھپتی۔ یہ پاکستانی نیوز چینلز پر چوبیس گھنٹے دکھائی جو جا رہی ہے۔ ہمارا یہ پاکستان کے تمام بورڈز کو مشورہ ہے کہ جو بھی اس مضمون میں فیل ہو، اسے سزا کے طور پر دوبارہ امتحان نہیں، بلکہ ”جو یہ فضائلِ پاکستان لکھتے ہیں ان مقدس ہستیوں کے ساتھ ایک عرصہ گزارنے کی کی سعادت بخشی جائے، تاکہ جو عقل کے اندھے سمجھ نہیں سکتے تو شاید دیکھ کر ان میں کچھ ایمان آ جائے۔

Facebook Comments HS

4 thoughts on “مطالعہ پاکستان کی خیر و برکات

  • 30/03/2025 at 3:26 صبح
    Permalink

    پاکستان میں رہ کر بہت آسان ہے کہ ہم اپنی تمام کمیوں کوتاہیوں اور نااہلیوں کو فوج کے کھاتے میں ڈال کر مارشل لاء پر تبرا اور طنز کرکے سوجائیں اور چل کریں۔

    آپ نے بہت آسانی سے ایک بات لکھ دی۔ پاکستان می :
    "اگر جمہوریت کی گاڑی زیادہ رفتار پکڑ لے، تو مارشل لا ناصرف بریک لگا دیتا ہے، بلکہ قوم کی جان کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے حادثے کا شکار نہ ہو جائیں فوراً گاڑی کو بھی خود سے سنبھال لیتا ہے۔ "

    اسی تحریر میں آپ نے ایک انکشاف یہ بھی کیا کہ پاکستان میں چار مارشل لاء لگے۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ جب مارشل لاء لگتا ہے تو ملک کا انتظام و انصرام ایک مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ بادی النظر میں ایوب، یحیی اور ضیا تو فوجی مارشل لا ایڈمنسٹریٹرتھے۔ کیا آُپ چوتھے مارشل لا کے ایڈمنسٹریٹر کا نام بتاسکتے ہیں؟

    الفاظ کا صحیح استعمال آپ کی تحریر میں جان ڈالتا ہے۔ اگر آپ کا اشارہ مشرف کی طرف تھا تو نہ مشرف نے کبھی مارشل لا لگایا تھا اور نہ وہ چوتھا مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھا۔

    غلطی یہاں یہ ہے کہ یا تو آپ لفظ استعمال کریں کہ "جب بھی جمہوریت کی گاڑی ٹریک پر چڑھتی ہے۔ تو فوج اقتدار پر قبضہ کرلیتی ہے۔” اس کھاتے میں آپ مشرف کو لپیٹ سکتے تھے لیکن مارشل لاء کا لفظ درست نہیں ہوگا۔

    شاید بہت کم لوگ یہ باریک بات جانتے ہیں کہ ایک اور مشہور شخص بھی پاکستان میں مارشل لا ایڈمنسٹریٹر رہا او وہ کوئی اور نہیں ایک سویلین سیاست داں ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ تو مارشل لا کے فیوض میں ان پر بھی لعن طعن کرلیں۔ یاد رہے بھٹو محض چند دن نہیں بلکہ دسمبر 1971 سے اگست 1973 تک مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رہے تھے۔

    کبھی فرصت ملے تو تاریخ کو اور کھنگال لیجئے گا تو پتہ شلے گا کہ پاکستان میں دو تین جزوی مارشل (محدود علاقے) پر بھی متعدد مرتبہ لگے تھے اور ہر مرتبہ انہیں لگانے کا سہرا فوج کو نہیں بلکہ "ریاستی صدر” کو جاتا تھا جوفوج کا سپریم کمانڈر بھی کہلاتا ہے۔

    باقی کچھ دیر کے لئے آپ کے اس دعوی کی بھی جراحی کرلیتے ہیں کہ "اگر جمہوریت کی گاڑی زیادہ رفتار پکڑ لے، تو مارشل لا ناصرف بریک لگا دیتا ہے، بلکہ قوم کی جان کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے حادثے کا شکار نہ ہو جائیں فوراً گاڑی کو بھی خود سے سنبھال لیتا ہے۔”

    پہلا مارشل لاء (اسکندر مرزا براستہ ایوب خان 1958)
    یہ براہ راست فوج یعنی ایوب خان نے نہیں لگایا تھا بلکہ اس کا سہرا سویلین صدر اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ اسکندر مرزا کو جاتا ہے جو1956 کے آئین کے تناظر میں ملک میں ہونے والے انتخابات کو روکنا چاہتے تھے کیوں کہ انہیں یقین تھا کہ اگلی اسمبلی انہیں صدر منتخب نہیں کرے گی۔ مرزا صاحب نے ساتھ بلوچستان کے معاملات کو بہانہ بنایا اور اسمبلی توڑ کر اقتدار ایوب خان کے حوالے کردیا۔ وہ خود صدر رہے اور فوج کے سپریم کمانڈر ۔ جس کی وجہ سے ان کو یقین تھا کہ وہ اپنے ماتحت ایوب خان کے ذریعے حکومت چلاتے رہیں گے۔ اس کے بعد بیگم اسکندر مرزا کے مسلسل اپنے شوہر پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے : اسکندر مرزا نے فوج فضائیہ اور نیوی کے افسران کے ذریعے ایوب کے خلاف تختہ الٹنے کی متعدد کوششیں کیں اور یوں دس بارہ دن بعد ایوب نے انہیں چپ چاپ ملک سے باہر بھیج دیا۔

    ایوب خان پر جو الزامات لگانا چاہیں۔ سر آنکھوں پر لیکن مارشل لاء اس نے یعنی فوج نے نہیں لگایا تھا۔

    دوسرا مارشل لاء (یحیی خان)
    اس وقت ایوب خان تو آرام سے حکومت کررہا تھا۔ اور بقول آپ کے جمہوریت پھل پھول رہی تھی ؟ اسی لئے دوسرے مارشل لا کا راستہ کھلا۔ یادرہے اس وقت پاکستان میں صدارتی نظام نافذ تھا یعنی ملک میں وزیراعظم نہیں ہوتا تھا۔ بہرحال یہ وہ وقت تھا جب بھٹو اور مجیب اقتدار پر قبضے کی جنگ لڑرہے تھے اور سڑکوں پر عوام کو بے وقوف بناکر بتایا جارہا تھا کہ عوام لٹ گئی اور ایوب کتا ہائے ہائے جیسے نعرے عام تھے۔ جب کہ حقیقت اس کے برعکس نہ سہی کم از کم اتنے قریب بھی نہ تھی۔ بہرحال اس کے بعد جو کچھ ہوا اور بھٹو مجیب یحیی کے تکون نے پاکستان کو توڑ ڈالا۔

    تیسرا مارشل لاء (ضیا الحق 1977)
    مجھے علم نہیں کہ آپ کی کیا عمر ہے۔ 1977 کے عام انتخابات میں جس طرح بھٹو نے دھاندلیاں کرکے اور کئی سیاستدانوں کو قتل کرواکے یا پابند سلاسل کرکے انتخابات جیتے تھے۔ عوام کی اکثریت اس سے نالاں تھی اور یہ کسی ایک صوبے نہیں پورے ملک کا حال تھا۔ تین مہینے تک پورا ملک آگ میں جلتا رہا۔ ہر شہر میں لوگ مرتے رہے بالخصوص نوجوان اور طالب علم۔

    اس وقت پولیس مکمل ناکام ہوچکی تھی۔ کئی بڑے شہروں میں بھٹو نے کرفیو لگاکر کنٹرول فوج کے حوالے کردیا۔ یہاں ایک باریک واردات یاد رکھیں جب آپ متعدد علاقوں کا کنٹرول فوج کے حوالے کردیں تو سرحد یا بیرک میں بیٹھی فوج چند دنوں میں یہ سوچنے لگتی ہے کہ اگر یہ گندا کام کرکے عوام میں برا ہم نے بننا ہے تو پھر مکمل گناہ ہی کرلیں۔
    اس اثنا میں بالخصوص لاہور میں بھٹو نے فوج کو حکم دیا کہ شرپسند عوام پر کنٹرول کرنے کے لئے فائر کا استعمال کیا جائے۔ فوج کے مختلف افسران نے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا (کچھ مقامات جیسے کراچی میں بدستور فائر سے لڑکے مارے گئے)۔

    بھتو نے اس معاملے کو سنگین سمجھتے ہوئے ان افسران کے کورٹ مارشل کا کہا۔
    یہ معاملہ مزید سنگین تر ہوا تو یہ مختلف کورکمانڈرز کا اکثریتی فیصلہ تھا کہ ضیا آگے بڑھیں اور معاملات کو ہاتھ میں لیں۔ یہ کہنا کہ اس وقت پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی فراٹے سے آگے بڑھ رہی تھی بذات خود ایک لطیفہ اور جھوٹ ہے۔ اس وقت یہ بھی یادرکھیں کہ پیپلز پارٹی کے علاوہ شاید ہی کوئی ایسی بڑی پارٹی ہو جو فوج کو آگے بڑھ کر اقتدار سنبھال کر انتخابات کرانے کا مطالبہ نہ کررہی ہو۔ اسی لئے ضیا کے آنے کے بعد سبھی نے فوجی انقلاب کا استقبال کیا۔

    مشرف کا اقتدار پر قبضہ
    یہ تو سامنے کی بات ہے۔ کیا آپ کے خیال میں اس وقت ملک میں جمہوریت کا بول بالا تھا۔ ملک ترقی کی شاند ٓار منازل طے کررہا تھا۔ یہ سب احمقانہ دعوی ہیں۔
    حالت یہ تی کہ اسٹیٹ بنک کے پاس محض چند سو ملیں ڈالر کا زرمبادلہ موجود تھا۔ ہم نے ایٹمی دھماکہ تو کرلیا تھا مگر پچھلے انتخابات میں ملنے والی دو تہائی اکثریت نواز شریف کو ہضم نہیں ہوئی تھی۔ جس کا خمیازہ نہ صرف انہوں نے بلکہ پورے ملک نے بھگتا۔ کون تھا جس سے نواز شریف کی لڑائی نہ ہوئی ہو۔ دو آرمی چیف، چیف جسٹس، اپوزیشن کے لیڈر، اپنی پارٹی کے لوگ، بیوروکریٹس ۔۔۔ یہ وہ وقت تھا کب نواز شریف امیرالمومنین بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔
    مشرف یا فوج نے جن حالات میں اور جو کچھ کیا وہ صحیح تھا یا غلط لیکن ایسا جھوٹ مت بولیں جسے سن کر ہنسی آئے۔

    پچھلے 18 سال میں ملک میں دودھ اور شہد کی جو نہریں بہہ رہی ہیں اور جمہوریت کے پہاڑ اور معیشیت کے شہد کی جو نہریں بہہ رہی ہیں وہ آپ کو ہی مبارک ہوں۔

    میں اکثر کسی اک ایک جملہ استعمال کرتا ہوں۔ فوج اگر براہ راست اقتدار میں ہو تو کم از کم ایک فائدہ تو ہوتا ہے کہ عوام کے علم میں ہوتا ہے کہ گالیاں کس کو دینی ہیں۔ 18 ویں ترمیم کے 15 سال گزرنے کے بعد عوام کو دکھ کے سوا کیا ملا ؟ فوجی سربراہ کے دور میں نلکے میں پانی، اسکول میں تعلیم، ھسپتال میں علاج اور بستر، تار میں بجلی، دفتر میں نوکری اور پیٹ میں روٹی ضرور ملتی ہے مگر صرف ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ بھونکنے کی آزادی نہیں ملتی اور ہم عوام یہ سوچے بغیر کہ حکمراں بادشاہ کہلائے، صدر، وزیراعظم یا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر۔ ۔۔۔ حاکم مقامی کالا ہو یا انگریز گورا یا امریکی اور یا کوئی چینی۔۔۔۔۔۔

    اگر عوام کو کچھ مل ہی نہیں رہا تو کاغذ کالے کرنے سے کیا فائدہ ! اور ایسی یک طرفہ جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔

    • 30/03/2025 at 1:08 شام
      Permalink

      محترم عارف احمد صاحب سب سے پہلے، میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ آپ نے میری تحریر کو نہ صرف پڑھا بلکہ اس پر ایک مدلل اور خوبصورت ردعمل بھی پیش کیا۔ آپ کی آرا کا احترام کرتے ہوئے، میں چند وضاحتیں پیش کرنا چاہوں گا تاکہ میرے نقطۂ نظر کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
      میرا مضمون "مطالعہ پاکستان کی خیر و برکات” درحقیقت مکمل نہیں بلکہ اس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ شائع ہوا ہے، جس کی وجہ ویب سائٹ کی پالیسی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بعض نکات، خصوصاً جمہوریت سے متعلق بحث، مختصر کرنی پڑی یا پھر یہ کہے کی ہی نہیں۔ اگر مکمل مضمون آپ کے پیش نظر ہوتا تو شاید آپ کو یہ محسوس ہوتا کہ میں نے دونوں نظاموں پر متوازن تبصرہ کیا ہے نہ کہ کسی ایک کو یکطرفہ طور پر ترجیح دی ہے۔
      جہاں تک مارشل لا کی حمایت کے حوالے سے آپ کی رائے کا تعلق ہے، تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں جمہوری عمل کو کبھی مستحکم ہونے ہی نہیں دیا گیا۔ ہر مارشل لاء کے بعد ایک غیر متوازن اور کمزور جمہوری نظام چھوڑا گیا، جس میں سیاست دانوں پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا گیا، جیسے کہ سیاسی جماعتوں پر پابندیاں عائد کرنا، منتخب نمائندوں کی گرفتاری، اور مخصوص قیادت کو آگے لانا اور جس کی مثال آج سب کے سامنے ہے۔
      آپ نے بجا فرمایا کہ پہلا مارشل لا اسکندر مرزا کے ہاتھوں نافذ ہوا، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اگر فوج کی رضامندی شامل نہ ہوتی تو یہ ممکن نہ ہوتا۔ ایوب خان نے چند ہی روز میں اسکندر مرزا کو اقتدار سے ہٹا کر خود حکومت سنبھال لی، جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ فوج پہلے ہی دن سے اقتدار میں دلچسپی رکھتی تھی۔
      اسی طرح، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے معاملے میں بھی صرف ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمٰن کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں، بلکہ تیسرے فریق کی ذمہ داری بھی برابر، بلکہ شاید زیادہ ہے۔ اگر 1971 میں جمہوری روایات کو مستحکم رکھا جاتا اور انتخابی نتائج کو تسلیم کیا جاتا، تو شاید یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔
      یہ درست ہے کہ بھٹو کی حکومت میں دھاندلی کے الزامات تھے، لیکن کیا اس کا حل ایک اور مارشل لاء تھا؟ تیسرے فریق نے انتخابات کرانے کے بجائے گیارہ سال حکومت کی، اور اس دوران ایسا نظام متعارف کرایا جس میں سیاستدان مکمل طور پر ان کے محتاج ہو گئے۔
      یہ کہنا کہ جمہوریت عوام کو کچھ نہیں دیتی، دراصل جمہوری نظام کی ناکامی نہیں بلکہ اس نظام کو کمزور کرنے والی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔ جب منتخب حکومتوں کو بار بار ختم کیا جائے گا، سیاست دانوں پر قدغنیں لگائی جائیں گی اور انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے نہیں دیا جائے گا، تو عوام تک اس نظام کے حقیقی ثمرات کیسے پہنچیں گے؟

      مارشل لا حکومتوں کے اقتصادی اثرات پر نظر ڈالیں تو بظاہر بعض ادوار میں ترقی دکھائی دیتی ہے، لیکن اس ترقی کی بنیاد عموماً بیرونی قرضوں اور امداد پر ہوتی ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں معیشت بظاہر مستحکم نظر آئی، لیکن جیسے ہی ان کی حکومت ختم ہوئی، ملک سنگین اقتصادی بحران کا شکار ہو گیا، جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ اگر مارشل لا واقعی ملک کے لیے سودمند ہوتے، تو ان کے جانے کے بعد ادارے مزید مضبوط ہونے چاہیے تھے، نہ کہ مزید کمزور۔
      دنیا کے وہ ممالک جہاں جمہوریت مستحکم رہی۔ جیسے کہ بھارت، ملائیشیا، ترکی، جنوبی کوریا اور جاپان۔ وہ نہ صرف اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں بلکہ ان کے ادارے بھی مستحکم ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان میں بار بار مارشل لا نافذ کیے گئے، لیکن ہر بار ملک کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

      یہ بھی واضح رہے کہ میں کسی صورت یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ ہمارے سیاست دان دیانت دار یا معصوم ہیں۔ تاہم، اگر ہم ایک مستحکم جمہوری نظام چاہتے ہیں، تو ہمیں اس نظام کو چلنے دینے اور اس میں موجود کمزوریوں کو اصلاحات کے ذریعے دور کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ بار بار غیر جمہوری مداخلت کے ذریعے اسے مزید کمزور کرنے کی۔

    • 31/03/2025 at 1:29 صبح
      Permalink

      شکریہ۔

      میرا اعتراض چار مارشل لا پر تھا۔ اس کی اہمیت یا افادیت پر نہیں۔
      مزید یہ کہ اتفاق کی بات ہے کہ فوج کے چاروں مرتبہ ایوان اقتدار میں آمد کے وقت جمہوریت زمین بوس اور ملک میں امن صفر تھا (ماسوائے پہلے کہ)۔ یہ بھی آپ کے دعوی کہ برعکس ہے۔

      میں ایوب کی حمایت نہیں کررہا لیکن ایک سے زائد جزوی مارشل لا 1958 سے پہلے بھی لگ چکے تھے۔ شاید ایوب مرزا کو معطل نہ کرتے اگر اسکندر مرزا ایوب کے خلاف مسائل نہ کھڑے کرتے۔
      اسی طرح ممکن ہے ضیا 90 دن میں الیکشن بھی کروادیتے اگر بھٹو باہر آکر ۔۔۔ مرنے مارنے کی دھمکیاں نہ دیتا۔ جب آپ اونٹ کو خیمے کے اندر بلانے کی ھماقت کرلیتے ہیں تو پھر شکوہ کیسا۔

      اسی طرح مشرف کے وقت بھی معاملات کو غلط طریقے سے ہینڈل کیا گیا۔

      پاکستان میں ایسا بھی نہیں کہ فوج نے جمہوریت کو چلنے نہیں دیا۔ المیہ یہ ہے کہ سیاستدان ملک چلانے کی بجائے بلیوں کی طرح ڈبل روٹی پر لڑتے اور عوام کے فائدے کا سوچنے کے برعکس اپنی املاک بڑھانے پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ اور رنڈی رونا یہی رہتا ہے کہ "ھمیں کام نہیں کرنے دیا گیا”۔

      یادرہے ایوب سے ضیا تک کے ادوار میں افریقہ مشرق وسطی اور متعدد ایشیائی اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں فوج کا اقتدار پر قبضہ کرنا یا خونی انقلاب عام بات تھی۔

      میں بہرحال پاکستان جیسے ملک میں بے دلی سے فوجی حکومت کا قائل ہوں کہ یہ بادشاہت سے نزدیک تر ہے اور اس دوران عوام کو بہت کچھ بہتر مل جاتا ہے ۔

      میٹرک انٹر کے بچوں کا ذہم اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ آپ ان کو اپنے ناکامیوں سے آگاہ کریں اسی لئے سب اچھا اچھا ہی بتایا جاتا ہے۔ ویسے بھی ہمارا نظام تعلیم 18 ویں ترمیم کے بعد صوبائی مسئلہ ہوچکا ہے ۔

    • 01/04/2025 at 9:08 صبح
      Permalink

      محترم عارف احمد صاحب، انتہائی معذرت کے ساتھ مجھے آپ کی بات سے اتفاق نہیں۔ مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہمیشہ ایسا ہی رہے۔ ممکن ہے کل کو میں بھی آپ کے مؤقف کو بہتر انداز میں دیکھنے لگو، یا پھر آپ میرے نکتہ نظر کو تسلیم کر لے۔
      بحث و مکالمہ اسی لیے اہم ہوتا ہے کہ اس سے فہم و ادراک کے نئے در وا ہوتے ہیں۔ اختلاف اپنی جگہ، لیکن آپ کے مطالعے اور اندازِ فکر کی داد دینی چاہیے کہ آپ نے اپنی بات کو ایک مضبوط استدلال کے ساتھ پیش کیا۔ یہی مکالمے کی خوبصورتی ہے کہ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور بعض اوقات اپنے ہی خیالات پر نظرِ ثانی کا موقع دیتا ہے۔
      ایک بار پھر معذرت کے ساتھ
      آپ کے نقطہ نظر میں ایک خاص استدلال موجود ہے، لیکن اس پر چند پہلوؤں سے غور کیا جا سکتا ہے۔
      مارشل لا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ کہنا کہ ہر بار جمہوریت زمین بوس تھی اور ملک میں امن صفر تھا، ایک عمومی بیان ہے جو کئی بار زمینی حقائق سے متصادم رہا ہے۔ بعض اوقات جمہوری حکومتوں کو مصنوعی بحران میں دھکیل کر مارشل لا کو ناگزیر بنایا گیا۔ اسکندر مرزا اور ایوب خان کی کشمکش ہو یا بھٹو اور ضیا کا معاملہ، ہر جگہ سیاسی مداخلت کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی ترجیحات کا بھی کردار رہا ہے۔
      رہی بات سیاستدانوں کی نااہلی اور کرپشن کی، تو یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں اکثر حکمران عوامی فلاح کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، جمہوریت کے ساتھ اصلاح ممکن ہوتی ہے، جبکہ آمریت میں ایک فردِ واحد کے فیصلوں کا دار و مدار محض اس کی ذاتی عقل و فہم پر ہوتا ہے، جو کبھی درست تو کبھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
      فوجی حکمرانی کو بادشاہت سے قریب سمجھنا بظاہر درست لگ سکتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مطلق العنان حکمرانی دیرپا ترقی کی ضامن نہیں ہوتی۔ پاکستان میں فوجی ادوار میں وقتی طور پر استحکام ضرور آیا، مگر سیاسی و ادارہ جاتی تباہی نے مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دیا۔
      جہاں تک تعلیمی نظام کی بات ہے، تو میٹرک اور انٹر کے طلبہ کو محض "سب اچھا ہے” کی کہانی سنانا جوکہ اس بنیاد کی وجہ سے اس مضمون کو نام بھی ” مطالعہ پاکستان کی خیر و برکات” رکھا گیا ہے یقیناً ایک غیر حقیقی طرزِ فکر ہے۔ تعلیم کا مقصد شعور دینا ہے، نہ کہ حقائق کو چھپانا۔ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیمی نظام صوبوں کو منتقل ہوا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مسائل پر بات ہی نہ کریں۔
      الغرض، اگر ملک کو واقعی آگے بڑھانا ہے تو ہمیں مستقل بنیادوں پر نظام کی اصلاح اور جمہوری روایات کو مضبوط
      کرنا ہوگا۔
      آخر میں، میں آپ سے ایک چھوٹی درخواست کرنا چاہوں گا کہ اگر آپ کے پاس تھوڑا سا وقت ہو تو میرے مضمون ‘میں ایک کتاب کا مصنف ہوں’ کے آخری دو حصے جو ابھی تک اسی ویب سائٹ پر شائع ہوئے ہیں ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ ان حصوں کو پڑھ کر آپ کو میری سیاستدانوں کے بارے میں رائے اور نقطہ نظر کا کچھ حد تک اندازہ ہو سکے گا۔ یہ میرے لیے ایک خوشی کی بات ہوگی کہ آپ جیسی خوبصورت شخصیت، جو نہ صرف تحریر کو گہرائی سے سمجھتی ہیں بلکہ اس کے ہر پہلو کی باریکیوں کو بھی جانچتی ہیں، میرے کام پر نظر ڈالیں۔
      آپ کی قیمتی رائے اور وقت کے لیے بہت بہت شکریہ۔

Comments are closed.