مزاح نگار مرزا یاسین بیگ سے سنجیدہ ادبی دوستی کی کہانی
ڈنر اور ڈائلاگ
کینیڈا کے مایہ ناز مزاح نگار سے سنجیدہ ملاقات کی خواہش نے دل میں سرگوشی کی تو میں نے انہیں ان کے شہر مسی ساگا (جسے کینیڈا کے مشرقی مہاجرین مسز آغا کے نام سے پکارتے ہیں ) کے نروانا ریسٹورانٹ میں ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی۔
اس ڈنر کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ ہماری مشترکہ ادبی دوست شکیلہ رفیق کی مغفرت کی دعا کرنے کے لیے ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کے ہمراہ ایک مسجد میں گئے تھے جہاں مردوں اور عورتوں کو علیحدہ علیحدہ بٹھایا گیا تھا اس لیے مرزا یاسین بیگ کو بالکل پتہ نہ چل سکا کہ اس دعائے مغفرت میں کن خواتین لکھاریوں نے شرکت کی کیونکہ وہ نہ جان سکے کہ اس پردے کے پیچھے کون کیا کر رہا ہے۔
شکیلہ رفیق ایک محبت کرنے والی لیکن زود رنج دوست تھیں۔ ایک دفعہ جب وہ مرزا یاسین بیگ سے ناراض ہو گئیں تو میں یاسین بیگ کو اپنے ساتھ ان کے گھر لے گیا اور انہیں بڑی اپنائیت سے بتایا کہ یاسین بیگ آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔ میں نے انہیں نہ صرف منایا بلکہ انہیں جون ایلیا کے دو اشعار سنائے
ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے
جس سے ملیے اسے خفا کیجے
مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی
آپ مجھ کو منا لیا کیجے
شکیلہ رفیق کی ناراضگی ختم ہوئی تو پھر ہماری کافی دیر تک گپ شپ چلتی رہی اور ان کی بیٹی ناہید نے ہمیں لذیذ کھانے کھلائے۔
آپا شکیلہ رفیق
اس شام جب میں گھر پہنچا تو مجھے یاد آیا کہ بہت عرصہ پہلے مرزا یاسین بیگ نے شکیلہ رفیق کے لیے ایک مزاحیہ مضمون لکھا تھا۔ تلاش بسیار کے بعد وہ مجھے مل گیا۔ اس مضمون کا پہلا پیراگراف حاضر خدمت ہے جس میں ایک تنک مزاج ادیب دوسرے زود رنج ادیب سے دوستی کی کہانی سناتا ہے۔ مرزا یاسین بیگ لکھتے ہیں
’خواتین کو پڑھنے کی ابتدا میں نے خواتین ڈائجسٹ سے کی۔ یہاں مجھے شکیلہ رفیق کے افسانے پڑھنے کو ملے۔ یہیں سے میرا ان کا غائبانہ تعارف ہوا۔ مجھے اس وقت ہرگز پتہ نہ تھا کہ یہ آگے چل کر میری آپا بنیں گی اور وہ بھی ٹورانٹو میں۔
میں نے انہیں آپا بنانے کے لیے جو پاپڑ بیلے ایسی کہانی کسی بھی منہ بولے بھائی کے پاس نہ ہوگی۔ آپا اتنی تنک مزاج تھیں جتنا کہ میں۔ وہ بھی اتنی ہی منہ پھٹ بلکہ سچ پھٹ تھیں جتنا کہ میں۔ میں ان کی تعظیم کے چکر میں رہتا تھا اور آپا مجھ پر تنقید کرنے کے۔ وہ پھلکے بنانے اور اڑانے میں یکساں ماہر ہیں۔ ان سے جب بھی ملاقات رہی آپا نے کوئی نہ کوئی جملہ کس کے مجھے انسان بننے میں مدد دی۔ آپا کو رام کرنے کے لیے میں انہیں اپنے ایک ٹی وی شو میں مہمان بنا کے لے گیا۔ ایک گھنٹے کے انٹرویو کے دوران میں نے آپا کے ہر اچھے پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ اس کا صلہ یہ ملا کہ شو دیکھ کر آپا نے جو پہلا تبصرہ کیا وہ یہ تھا کہ ٹی وی پر تو تم اچھے خاصے ہینڈسم نظر آتے ہو مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی بے عزتی کے تمام اختیارات آپا کو سونپ دیے۔ یہ سوچ کر کہ میں انہیں آپا بنا کر ہی دم لوں گا۔ پھر میری اور آپا کی کہانی میں ایک ٹوئسٹ آیا۔ شہر میں ہم دونوں کا ایک مشترکہ دشمن نکل آیا۔ بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے۔ میں اور آپا سگے بہن بھائی سے بھی بڑھ کر ہیں۔
سالک کا کردار مزاح
جب خضر کی سوانح عمری سالک کے نام سے پچھلے سال چھپی تو اس میں ایک باب مرزا یاسین بیگ کے حوالے سے تھا جو کچھ یوں تھا
خضر خود تو ایک سنجیدہ مزاج کا مالک تھا لیکن اس نے جو نیا دوست بنایا اس کا نام مزاح تھا۔ مزاح آنسوؤں کو مسکراہٹوں میں تبدیل کرنے کا فن جانتا تھا۔ مزاح جس محفل میں بھی جاتا لوگ اس سے اس کے پرلطف خاکے سنانے کی فرمائش کرتے اور ان خاکوں سے محظوظ ہوتے۔ مزاح کے مضامین اپنے سامعین کی زندگی کی چاشنی کو دوبالا اور ان کی ذہنی پریشانیوں کو کم کر دیتے۔ لوگ جب مل کر ہنستے تو ایک رشتے میں منسلک ہو جاتے۔
ایک دن جب مزاح نے خضر سے ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے طنز و مزاح کے بارے میں پیشہ ورانہ رائے پوچھی تو خضر نے کہا ’فرائڈ نے نفسیاتی مسائل کو سلجھانے کی جو حفاظتی تدابیر بتائی تھیں مزاح کو اس فہرست میں اعلیٰ مقام دیا تھا اور کہا تھا کہ ذہنی طور پر صحتمند لوگ مزاح کو اپنی شخصیت میں شامل کر لیتے ہیں اور زندگی سے پورا لطف اٹھاتے ہیں‘۔
ایک شام جب خضر مزاح سے ڈنر اور ڈائلاگ کے لیے ملا تو اس نے کہا
فریڈرک نیٹشے سے کسی نے پوچھا
جانوروں اور انسانوں میں کیا فرق ہے؟
تو نیٹشے نے کہا
انسان وعدے کر سکتے ہیں جانور وعدے نہیں کر سکتے
انسان خودکشی کر سکتے ہیں جانور خودکشی نہیں کر سکتے
انسان ہنس سکتے ہیں جانور ہنس نہیں سکتے
مزاح شاعر اور فلسفی خلیل جبران کا اتنا مداح تھا کہ اس نے ایک نیا کردار تخلیق کیا تھا اور اس کا نام رکھا تھا۔ علیل جبران
مزاح علیل جبران کے جو اقوال لکھتا تھا وہ اس کے قارئین اور سامعین کو بہت پسند آتے تھے۔ خضر نے جن پسندیدہ اقوال کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا وہ مندرجہ ذیل تھے
جس طرح بچے عورت کی کوکھ سے نکلتے ہیں
اسی طرح
اچھا مزاح ہمیشہ درد کی کوکھ سے جنم لیتا ہے
گلاس اور محبوبہ کو تھامنا ایک آرٹ ہے
بچپن میں کئی گلاس توڑ کر
اور جوانی میں
کئی محبوباؤں کو ناراض کرنے کے بعد
ہم اس آرٹ کو سیکھتے اور سمجھتے ہیں
نئی بیوی نیا عشق اور نیا سیل فون نیند اڑا دیتا ہے
انٹلیکچول اسے کہتے ہیں جو پہنتا اور کھاتا سادہ ہے
مگر لکھتا اور بولتا ثقیل ہے
ہر بچے کے اندر ایک بوڑھا چھپا ہوتا ہے
بشرطیکہ وہ لمبی عمر پائے
کتنی عجیب ہو گئی ہے دنیا
نفرت کے لیے سینکڑوں مل جاتے ہیں
محبت کے لیے ایک نہیں
خضر نے ایک دن مزاح کو بتایا کہ وہ بھی خلیل جبران کا مداح ہے اور اسے خلیل جبران کا یہ قول بہت پسند ہے
ایسا کبھی نہ سوچنا کہ تم محبت کی رہنمائی کرو گے۔
اگر محبت تمہیں اس قابل سمجھے
تو وہ تمہاری رہنمائی کرے گی
دوستی میں پی ایچ ڈی
ڈنر کے بعد مرزا یاسین بیگ نے مجھے علیل جبران کے تازہ اقوال سنائے
میں اتنا ایکو فرینڈلی ہو گیا ہوں کہ اب صرف گرین ٹی پیتا ہوں
وہ اتنی مٹھاس سے بات کرتی ہے کہ ہر ملاقات کے بعد میری شوگر بڑھ جاتی ہے۔
میں نے مرزا یاسین بیگ سے کہا کہ اپنی شوگر کم کرنے کے لیے میں نے عارضی طور پر دختران خوش گل سے ملنا کم کر دیا ہے۔
جانے سے پہلے میں نے مرزا یاسین بیگ کو اپنی نئی کتاب ”ٹائی ٹینک کی ان سنی کہانی“ پیش کی جسے مقدس مجید نے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے تو مرزا یاسین بیگ نے دو فرمائشیں کیں۔ پہلی یہ کہ ویٹر سے کہیں کہ وہ ہم دونوں کی کتاب کے ساتھ تصویر اتارے، دوسری یہ کہ میں ان کے لیے کتاب پر چند الفاظ لکھ دوں۔ چنانچہ میں نے لکھا
مرزا یاسین بیگ کے نام
جنہوں نے دوستی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔


