پاکستانی ریاست اورثقافتی بالا دستی


 

”Dominance Without Hegemony: History and Power in Colonial India“
پروفیسر رنجیت گوہا کی کتاب ہے جو 1997 میں ہارورڈ یونیورسٹی پریس کے ذریعے شائع ہوئی۔ یہ کتاب جنوبی ایشیا میں نو آبادیاتی ریاست کا گرامچی کے نظریہ کے تحت جائزہ لیتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ نو آبادیاتی ریاست کا کردار طاقت کے ذریعے غلبہ قائم کرنے کا تھا نہ کہ عوام کو قائل کرنے والے ثقافتی تسلط کے ذریعے۔

پروفیسر رنجیت گوہا کی زیر نظر کتاب پاکستان میں موجودہ ریاستی بحران اور دن بدن بگڑتی صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایک طاقتور اور اہم وسیلہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ریاستی بحران کی گہرائیوں کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کی جڑوں کو بھی کھوجتی ہے جو ہمارے نظام میں گہرے تضادات اور استحکام کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کتاب میں پیش کردہ نظریات اور تجزیے پاکستان کی ریاستی ساخت اور اس کے بحرانوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جو موجودہ حکومتی پالیسیوں اور اشرافیہ کے تسلط کو چیلنج کرتے ہیں۔ رنجیت گوہا کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا (انڈیا ) میں نو آبادیاتی ریاست یورپ اور امریکہ کی میٹروپولیٹن ریاستوں سے بنیادی طور پر مختلف تھی۔ جنوبی ایشیا میں برطانوی راج نے حکومت کا جو طریقہ کار اپنایا وہ زیادہ تر طاقت کے استعمال پر مبنی تھا نہ کہ ثقافتی اثر و رسوخ، عوامی قبولیت یا عوامی رضامندی پر۔ برطانوی حکمرانوں نے عوام کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے بجائے جبر اور فوجی طاقت کا سہارا لیا۔ اس کے برعکس، یورپ اور امریکہ کی ریاستوں میں حکمران طبقے نے عوام کو ثقافتی، اخلاقی اور فکری طور پر متاثر کر کے اپنی حکمرانی قائم کی جہاں لوگوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی رضامندی سے حکمرانوں کی طاقت کو تسلیم کیا۔ گوہا کے مطابق جنوبی ایشیا میں نو آبادیاتی ریاست کی جبر پر مبنی حکمرانی اور یورپی ریاستوں کی ثقافتی اور اخلاقی حکمرانی کے درمیان یہ بنیادی فرق تھا۔

بھارت میں نو آبادیاتی دور اور آزادی کے بعد کی حکومتوں نے (اپنے مفادات کے پیش نظر) عوام کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے میں ناکامی کا سامنا کیا۔ جس کے نتیجے میں بعد ازاں (سرمایہ داروں اور جاگیرداروں پر مشتمل) حکومتوں کو اپنے منصوبوں کی توثیق اور حمایت کے لیے عوام کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ آزادی کے بعد کی بھارتی اشرافیہ (نئے سرمایہ دار اور جاگیردار) کی دلچسپیاں، مفادات عوام سے مختلف بلکہ برعکس اور متضاد تھیں اور وہ یورپ کی طرح عوام کو ثقافتی طور پر قائل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس وجہ سے بھارت کی حکومت اور سیاست میں ثقافتی ہم آہنگی اور عوامی حمایت کی کمی رہی۔ پروفیسر گوہا کی تحریروں نے انڈیا میں پوسٹ کالونیل اسٹڈیز پر علمی طور پر گہرے اثرات ڈالے ہیں پوسٹ کالونیل اسٹڈیز اب مغربی دنیا میں بھی ترقی کر رہی ہے۔ گوہا اور ان کے ساتھیوں نے تقریباً بیس سال تک اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی کسانوں، فیکٹری ورکروں، مزدوروں اور دیہی لوگوں کی آوازوں کو تاریخ میں شامل کیا جائے جنہیں انہوں نے سبالٹرن کہا ہے۔ گوہا کا کہنا ہے کہ ان کی انقلابی آوازوں کو نو آبادیاتی مصنفین اور بعد میں یورو سینٹرک نظریات سے متاثر انڈین ایلیٹ قوم پرستوں (انڈین نیشنلسٹ) نے دبانے کی کوشش کی۔

گوہا کی مذکورہ کتاب انتونیو گرامچی کے Cultural Hegemony کے فلسفے سے متاثر ہو کر لکھی گئی تھی۔ گرامچی کا ”Cultural Hegemony“ کا تصور یہ ہے کہ حکمران طبقہ اپنی طاقت کو صرف سیاسی یا اقتصادی جبر سے نہیں بلکہ ثقافتی، اخلاقی اور فکری سطح پر بھی قائم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمران طبقہ عوام کو اپنے خیالات، اقدار اور ثقافت کے ذریعے اتنا متاثر کرتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ان کی حکمرانی کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ حکمران طبقہ ثقافت، عقائد، وضاحتوں، تصورات، اقدار اور رسوم و رواج کو اس طرح ترتیب دیتا ہے کہ ان کے نظریات کو واحد معیار اور سچ کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ حکمران طبقہ اس بات کو فطری انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو سماجی، سیاسی اور معاشی حالات ہیں وہ ہر طبقے کے لیے فائدہ مند ہیں جبکہ حقیقت میں وہ صرف حکمران طبقے کے فائدے میں ہوتے ہیں۔ حکمران طبقہ لوگوں کی رضامندی حاصل کرتا ہے اور عوام ریاست کی پالیسیوں کو اپنی ترقی اور فلاحی مفاد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس میں تعلیم، میڈیا، فنون، مذہب اور سماجی ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طرح، ثقافتی Hegemony کی بنیاد پر حکمران طبقہ نہ صرف سیاسی طاقت رکھتا ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی عوام کی سوچ، نظریات اور رویوں کو اپنے مفاد کے مطابق ڈھالتا ہے۔

پاکستان کی بورژوا ریاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف بیانیہ سازوں، آرٹس کونسلوں، لٹریچر فیسٹیولوں، سرکاری دانشوروں، مخصوص صحافیوں، تعلیمی اداروں، علماء و مشائخ کانفرنسوں، میڈیائی طاقتوں، کالم نگاروں، اینکر پرسنوں، مفاد پرست سیاست دانوں بلکہ عدلیہ، پارلیمنٹ اور گورننس کے تمام اداروں کے ذریعے بھی بورژوا Cultural Hegemony قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اب یہ ریاست صرف طاقت کے استعمال پر منحصر ہو کر رہ گئی ہے، جہاں جبر اور دباؤ کے ذریعے ریاستی اور حکومتی مفادات کو چلایا جا رہا ہے۔ کیا طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا دیر پا حل ہو سکتا ہے؟

Facebook Comments HS