جگن کاظم، پہلے شوہر کا تشدد بڑی جلدی بھلا دیا آپ نے!


فیمنزم کو برا بھلا کہہ کر اور فیمنسٹ عورتوں / مردوں کو کچرا قرار دے کر خود کو بی بی بھولی بھالی اور گھر کے مرد کو آئیڈیل قرار دینے والی عورتوں کی ہمارے معاشرے میں کمی نہیں۔

وجہ ڈھونڈی جائے تو پتا چلتا ہے کہ وہی احساس کمتری۔ اندر کہیں مردوں سے تھپکی لے کر سیدھی راہ پہ چلتی ستی ساوتری عورت کا ٹیگ لگوانے کی شدید خواہش۔ اس خواہش کو پورا تو ایسے ہی کیا جا سکتا ہے کہ اپنی ہی ہم صنف پہ کیچڑ اچھال کر معصومیت سے کہہ دیا جائے : داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ ( مرد) ۔

یقیناً اچھے ہوتے ہیں لیکن سب نہیں۔ اچھے ہوتے ہیں کچھ مرد۔ تبھی تو ہم جیسی چند عورتیں معاشرے میں موجود ہیں جن کی زبان اوائل عمری میں کاٹی نہیں گئی، جن کی گردن بچپن میں کسی پھندے میں کسی نہیں گئی، جن کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر قیدی نہیں بنایا گیا۔ اور اگر کبھی ایسا ہوا بھی تو کوئی نہ کوئی مرد ایسا تھا جس نے یہ سب توڑ دینے کی ہلا شیری دی۔

ہمیں کوئی شک نہیں کہ جگن کاظم کے ابا، شوہر اور بیٹے دنیا کے بہترین مرد ہیں اور وہ ان پہ بجا طور پہ نازاں ہیں لیکن کیا جگن کاظم اپنے پہلے شوہر کو بھول گئیں جو تھپڑوں سے ان کا منہ لال کر دیا کرتا تھا۔ جس نے حمل کے ساتویں مہینے میں انہیں گھر سے نکال دیا تھا اور بقول ان کے ہمسایوں نے ان پہ چادر ڈالی تھی۔ اور تشدد کی انتہا یہ تھی کہ انہیں ڈر تھا کہ کسی دن وہ بھی نور مقدم کی طرح قتل ہو جائیں گی۔

” میرے لیے وہ بہت خوفناک وقت تھا۔ میں سوچتی تھی میرے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جائے گا جو نور مقدم کے ساتھ ہوا۔

میں سات ماہ کی حاملہ تھی جب میرے شوہر نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا اور پھٹے کپڑوں میں گھر سے باہر پھینک دیا۔ اللہ بھلا کرے ان پڑوسیوں کا جنہوں نے مجھے چادر لا کر دی ”

یہ سب یاد کرتے ہوئے جگن کاظم کا خاندانی پس منظر، تعلیم، معاشی استحکام اور معاشرتی مقام ذہن میں رکھیے گا۔ اور اس کے بعد تصور کرنے کی کوشش کیجیے کہ اگر اس مقام پہ موجود عورت اس طرح کے تشدد کی شکار ہو سکتی ہے تو کسی دور دراز کے دیہات، کسی گوٹھ اور کسی چھوٹے سے محلے میں رہتی عورت کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے؟

فیمنسٹ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ انہیں وہ مظلوم عورتیں ہر وقت یاد رہتی ہیں جو کسی نہ کسی مرد کے ہاتھوں قتل ہوئیں، ریپ کا نشانہ بنیں، مضروب ہوئیں یا ہو رہی ہیں۔ اسی لیے فیمنسٹ عورتیں / مرد پدرسری معاشرے کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ مسوجنسٹ مرد کے ہاتھوں عورت کا کیا حشر ہو رہا ہے۔

فیمنسٹ لوگوں کو داد دیجیے کہ جب جگن کاظم کے طبقے کی کسی عورت پہ بھی اگر ظلم ہو تو وہ ان کے لیے بھی احتجاج کرنے میں کلاس کا فرق مدنظر نہیں رکھتے، بھلے وہ نور مقدم ہو، سارہ انعام ہوں یا پہلے شوہر کے ہاتھوں سڑک پہ پڑی متشدد حاملہ جگن کاظم ہوں۔

ہمیں شدید حیرت ہوتی ہے جب جگن کاظم جیسی عورتیں اپنے پہ بیتی بھول کر فیمنزم پہ پھبتیاں کستی ہوئی نظر آتی ہیں شاید بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت کمزور ہونے کا مسئلہ ہے یا پک می گرل بننا مقصود ہے۔

” اگر فیمنسٹ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سارے کے سارے ریپسٹ ہیں، کمینے ہیں، پریڈیٹرز ہیں، ہاربل ہیں تو میں بالکل بھی فیمنسٹ نہیں۔ میں کس منہ سے یہ سٹوپڈ ترین بات کروں؟

ہم دوسری ایکسٹریم پہ جا رہے ہیں، عورتیں کہہ رہی ہیں ہم سپیریئر ہیں۔ اگر ہم پستے رہے ہیں تو اب مردوں کو تو نہ پیسو نا۔ چیزیں سٹیبلائز ہو رہی ہیں۔

ہم بڑے کھلے ڈلے پیدا ہوئے تھے ہم نے کبھی فرق نہیں کیا مرد عورت میں۔ ناؤ۔ لڑکے لڑکی سے بات کرتے ڈرتے ہیں کہیں وہ ٹرگر نہ ہو جائے؟ کہیں وہ یہ فیل نہ کرے کہ وہ وائلیٹ ہو رہی ہے۔ مرد سہم کے ایک پاسے بیٹھ گئے ہیں۔

تشدد کے بہت سے ایسے کیسسز بھی ہیں جو سچ نہیں ہیں ”
جگن کاظم، اگر کوئی آپ کو کہہ دے کہ آپ پہ تشدد ہونے کی کہانی سچ نہیں ہے تو کیسا لگے گا آپ کو؟
اور یہ آپ کو کس نے سمجھا دیا کہ فیمنسٹ ہونے کا مطلب مردوں کو گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا ہے۔

میرا خیال ہے کہ آپ کو فیمنزم کے بنیادی concepts پڑھنے اور سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ پلیز پہلی فرصت میں کچھ کتابیں پڑھ لیجیے، نام ہم بتائے دیتے ہیں۔

1-Entitlement
2- Down Girl

اگر کتابیں پڑھنا مشکل لگے تو مصنفہ پروفیسر کیٹ کی یو ٹیوب پہ وڈیوز بھی موجود ہیں وہ سن لیجیے گا تاکہ آئندہ فیمنزم پہ گفتگو کرتے ہوئے جاہلانہ رنگ نظر نہ آئے۔

جگن کاظم اور احمد علی بٹ کے لیے مشورہ ہے کہ میڈیا پہ پروگرام کرنے سے پہلے اپنا ہوم ورک پورا کر کے آیا کریں، فیمنزم کے بخیے ادھیڑنے کی خواہش میں ایسی باتیں مت کیا کریں جن کا نہ سر ہو نہ پیر۔ جیسے بڑی معصومیت سے کہا گیا آپ کا جملہ۔ فیمنزم سے وابستہ ہر بات اور کام فنڈڈ ہے۔

آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ کچھ دیوانے ذاتی فائدے کے بغیر بھی انسانیت کی کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں کہ ان کے نزدیک فیمنزم کا مطلب ایک ہی ہے :

عورت کو مرد جیسا انسان سمجھا جائے۔

Facebook Comments HS