متنازع کینالز کے خلاف سندھ میں احتجاج، قیادت کون کر رہا ہے؟


سندھ میں احتجاجی تحریک کون چلا رہا ہے؟ پیپلز پارٹی اتنی دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کیوں ہو گئی ہے؟ اس کا کس طرح سے حل نکالا جا سکتا ہے؟

ملک کے بڑے بڑے تجزیہ کار جب اپنی رائے دیتے ہیں تو ان کی باتوں سے صاف لگتا ہے کہ وہ سندھ کی زمینی حقائق سے بے خبر ہیں۔

کوئی سمجھتا ہے پیر پگارا کی فنکشنل لیگ اس احتجاج کو لیڈ کر رہی ہے، کوئی جی ڈی اے میں شامل جماعتوں ایس یو پی اور قومی عوامی تحریک تو کوئی قومپرست جماعتوں جسقم، ایس ٹی پی، جسم اور عوامی تحریک کو اس کا کریڈٹ دیتے ہیں۔ اسلام آباد کا ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر یا پھر جے یو آئی سندھ نے یہ سارا ماحول بنا دیا ہے۔

ان تمام جماعتوں اور شخصیات کا اس تحریک میں بلاشبہ ایک شاندار کردار رہا ہے مگر اس میں وکلا اور طلبہ نے بھی تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ یہ سوال کہ آخر اس احتجاج کی قیادت کون کر رہا ہے؟ یہی ملین ڈالر کا سوال ہے جو اس تحریک کو منفرد بنا دیتا ہے۔

میں ہم سب پر گزشتہ بلاگ ”نئی کینالز، سندھ کے تحفظات کو نظرانداز کرنا بڑی غلطی ہوگی“ میں واضح طور پر لکھ چکا ہوں، آج ایک بار پھر مزید وضاحت کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی سیاسی تحریک نہیں جس کے عزائم سیاسی طور پر کسی جماعت یا فریق کو نقصان پہنچانا یا کسی جماعت یا فریق کو فائدہ پہنچانا ہے۔ یہ ایک خالصتاً عوامی مزاحمت ہے جس کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ کینالز نامنظور۔

سندھ کے لوگ پانی، زبان اور دھرتی کی وحدت کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتے ہیں، جس کے لیے وہ میدان عمل میں ہیں۔ ان کے لیے سیاسی جماعتیں اور شخصیات ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس تحریک میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں جو انتہائی پرامن رہ کر احتجاج کر رہے ہیں، لوگوں کو نون لیگ کی وفاقی حکومت سے شکایت ہے مگر چونکہ وہ ان کو اپنا نمائندہ نہیں سمجھتے اس لیے ان کو زیادہ شکایت پیپلز پارٹی سے ہے، جو خود کو سندھ کی واحد نمائندہ جماعت سمجھتی ہے۔ عوام کے غصے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ 8 جولائی کو صدر آصف زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں ان منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے کی منظوری دی گئی۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی کا کردار پہلے دن سے مشکوک ہے، سوال یہ ہے کہ صدر مملکت نے متنازع کینالز کے منصوبے سے متعلق اجلاس کی صدارت ہی کیوں کی؟

پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیراعلی سندھ بار بار یہ کہتے رہے کہ منصوبے پر عمل نہیں ہو رہا، پیپلز پارٹی نے سندھ میں احتجاج کیا تو مزید نقصان ہوا کیونکہ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وفاقی حکومت آپ کی بات نہیں مانتی تو اتحاد ختم کر دیں اور شہباز شریف کی حمایت واپس لے لیں، اس پر رہنما مزید الجھن کا شکار ہو گئے، یہاں تک کہ پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو جھنجھلاہٹ میں اپنی پارٹی کے رہنماوٴں سے الجھتے نظر آئے، پی پی رہنماوٴں کی حواس باختگی اس نہج پر پہنچ گئی کہ لاڑکانہ کے ایک جذباتی رہنما نے تو احتجاج کرنے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرانے کی بھی دھمکی دے دی مگر شاید ان کو اپنی جماعت کی جانب سے جلدی شٹ اپ کال آ گئی ورنہ ایسی حماقت تو جلتی پر تیل کا کام کر جاتی۔

جب ایس یو پی یے زین شاہ اور مختلف سندھی ٹی وی چینلز کی ٹیموں نے چولستان کا دورہ کیا تو نہ صرف کینال کا تعمیراتی کام کے لیے بھاری مشینری موجود تھی بلکہ پورے علاقے میں نئی سڑکوں کا جال بھی بچھایا جا رہا تھا۔

اب کہ وزیراعلی سندھ کی یہ وضاحت بھی کام نہ آئی کہ یہ صرف ماڈل ہے جو پنجاب حکومت نے بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو دکھانے کے لیے بنایا ہے، پھر مراد علی شاہ کو ایک اور قلابازی کھانا پڑی کہ ایوان صدر میں جو اجلاس ہوا تھا، ایک تو صدر کینالز کی منظوری نہیں دے سکتے، دوسری بات یہ کہ اس میٹنگ کے منٹس غلط جاری کیے گئے، یہ بات بھی ان کے گلے پڑ گئی، لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اگر غلط منٹس ریکارڈ ہوئے اور جاری بھی ہو گئے تو صدر کا ذاتی اسٹاف، پولیٹیکل سیکریٹری اور لیگل ٹیم کیا کر رہی تھی؟ اتنی سنگین غلطی پر کوئی انکوائری ہوئی؟ کسی کو سزا ملی؟ لوگوں نے صدر صاحب کی ذہنی حالت سے متعلق بھی سوالات اٹھانا شروع کر دیا، ظاہر ہے صورتحال عذر گناہ بدتر از گناہ والی ہے، اس لیے ڈیمیج کنٹرول تو نہ ہوا مزید بڑھ گیا۔

گو کہ پیپلز پارٹی کی ان چالوں کے بعد عوامی غصے میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور احتجاج کے دوران نعروں میں تلخی بھی آتی جا رہی ہے مگر یہ تحریک مکمل طور پر پرامن ہے کیونکہ اس میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین، بچے، بزرگ اور خواجہ سرا بھی شامل ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ احتجاج روز ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔

عید کے موقع پر کراچی سے کشمور تک سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں منفرد انداز سے احتجاج کیا گیا، جس میں ایک طرف لوگوں نے دریا سے تجدید عہد وفا کے لیے دریا کے اندر کشتیوں میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔

دوسری طرف عیدگاہوں میں امام اور مقتدیوں نے کینالز کو مسترد کر دیا۔

یہ پہلی دفعہ دیکھا گیا کہ عید کے دن ہاتھوں پر مہندی کے ڈیزائن کے ساتھ سندھ کی بیٹیوں اور کہیں بیٹوں نے بھی ہیش ٹیگ نو مور کینالز آن انڈس کے ڈیزائن بنوائے۔

لوگوں نے عزیزوں اور دوستوں کو عید کی مبارکباد اس پیغام کے ساتھ دی کہ دریائے سندھ پر مزید کینالز نامنظور۔

اس سے قبل ہولی کے تہوار پر بھی سندھ کے ہندو اور مسلمانوں نے مل کر ایک دوسرے پر رنگوں کی برسات کی اور دریا پر متنازع کینالز کے منصوبے کو مسترد کر دیا یہ رنگ بھی ہولی کے رنگوں میں پہلی بار شامل ہوا تھا۔

ایسا نہیں کہ سندھ کے لوگ ہوائی بات کر رہے ہیں بلکہ ان سے بات کریں تو آپ کو بتائیں گے کہ سندھ کے لیے پانی کی کیا اہمیت ہے؟ ملک کے دریائی نظام میں پانی کی کتنی کمی ہے؟ بین الاقوامی قوانین میں دریا کے لوئر ریپیریئنز کے کیا حقوق ہیں؟ اور پنجاب نے ماضی میں اپنے تین دریا بھارت کو بیچ کر کس طرح معاہدوں کے برخلاف سندھ کو اپنے حصے کے پانی سے محروم کیا ہے؟ اب یہ منصوبہ بنا تو اس کے کیا اثرات ہوں گے ؟ اپنی دھرتی سے محبت کا یہ انداز یا تو فلسطینیوں کا ہو سکتا ہے یا پھر سندھیوں کا ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ 4 اپریل کو بلاول کوئی واضح لائن لیتے ہیں یا لوگوں کو بہلانے کے لیے کوئی نئی چال چلنے کی کوشش میں ڈیمیج کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS