حبیب جالبؔ کی بتیسویں برسی


اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا
رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو
حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا

اشتراکیت پسند، جمہوریت پسند، انقلابی اور عوامی شاعر حبیب جالب جن کا اصل نام حبیب احمد اور تخلص جالبؔ ہے۔ حبیب جالبؔ کی پیدائش عید الفطر کے دن یعنی 24 مارچ 1928 ء کو قصبہ دسویا ضلع میاں افغاناں ہوشیار پور، صوبہ پنجاب میں ہوئی۔ اینگلو عربک سکول سے میٹرک پاس کیا۔ اس کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول جیکب لائن کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی۔ روزنامہ جنگ اور لائل پور ٹکسٹائل مل سے روزگار کے سلسلے میں منسلک ہوئے۔ روزنامہ امروز میں بطور ایڈیٹر بھی رہے۔

1947 ء کی تقسیم ہند کے بعد کراچی ہجرت کی۔ وہاں کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھی ہاری تحریک میں کام کیا اور پھر 1956 ء میں لاہور رہائش اختیار کی۔ سندھ ہاری تحریک میں حصہ لینے کی وجہ سے ان کے اندر سماجی جور و ستم کے خلاف بغاوت نے جنم لیا۔ وہ سماجی ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ولی خان کے ساتھ نیشنل عوامی پارٹی کا بھی تادم مرگ حصے رہے ہیں۔ انہی کے ساتھ اکٹھے جیلیں کاٹیں۔ انھوں نے معاشرتی نا انصافیوں، سامراجی قوتوں کی اجارہ داری، محنت کشوں کا استحصال وغیرہ کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ ان کے اشعار آمریت پسندوں اور نو آبادیات کا پیدا کردہ سامراجوں کو چبھتے تھے۔ اسی وجہ سے ایوب خان اور یحیی خان کے دور آمریت میں کئی دفعہ جیل جانا پڑا۔ قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔

1960 اور 1970 کے درمیان مارشل لاء کے خلاف بہت سے اشعار کہے بہت سی غزلیں اور نظمیں لکھیں۔ ایوبی آمریت کا پیش کردہ 1962 ء کے دستور کے خلاف سر مقتل کے نام سے نظم لکھ ڈالی۔ پہلا بند ملاحظہ کیجیے

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

1970 ء کے انتخابات میں جب یحیی خان نے عوامی لیگ پارٹی کو اکثریت کے باوجود اقتدار منتقل نہیں کیا۔ ان پر لشکر کشی کی اور مغربی پاکستان میں گولیاں برسائی گئیں حبیب جالبؔ نے اس جور و ستم کے خلاف مزاحمت کی آواز بلند کی۔

محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گمان تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

1974 ء میں بھٹو دور میں نام نہاد حیدر آباد سازش کیس بنا تو جالبؔ کی یہ نظم بہت مشہور ہوئی
قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا
لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو

ضیاء الحق کے مارشل لا میں جب حیدر آباد سازش کیس ختم ہوا اور اس کے اسیروں کو رہائی ملی تو انھوں نے اوروں کی طرح بھٹو دشمنی میں نہ ضیا سے ہاتھ ملایا اور نہ فسطائیت کے ترانے گائے بلکہ انھوں نے کہا

ظلمت کو ضیا صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ضیا کی آمریت کے بعد جب پیپلز پارٹی کا پہلا دور حکومت آیا اور عوام کے حالات کچھ نہ بدلے تو جالبؔ کو کہنا پڑا

وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

پرویز مشرف نے جب ایمرجنسی لگائی تو سیاسی پارٹیوں میں حبیب جالب کی شاعری دلوں کو گرمانے کے لیے پڑھی جاتی تھی۔ حبیب جالب مزاحمت کی علامت تھے۔ جابر نظام کے سامنے ایک مضبوط چٹان تھے۔ استحصال کے خلاف لشکر جرار تھے۔ آمریت کے خلاف مرد مجاہد تھے۔ مظالم سے چشم پوشی نہیں کی۔ ریاستی ظلم اور فوجی حکمرانی کے سخت مخالف رہے۔ اس وجہ سے زندگی میں بہت ساری تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی دفعہ جیل جانے پڑے۔ مزاحمت کے میدان میں اردو شاعری کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ ان کی شاعری ولولہ آزادی، مزاحمت، بغاوت اور رومان کا امتزاج ہے۔ لہو کو گرما دینے والی ہے۔ حکمرانوں کے سامنے نہ جھکنے والے شخص تھے۔ اس لیے وہ فرماتے ہیں

کچھ بھی کہتے ہیں کہیں شہ کے مصاحب جالبؔ
رنگ رکھنا یہی اپنا اسی صورت لکھنا

جالبؔ محض 15 سال کی عمر سے مشق سخن کرنے لگے تھے۔ کسان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ نظیر اکبر آبادی کے بعد دوسرا بڑا عوامی شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے ہم عصر فیض احمد فیضؔ کے مطابق جالبؔ ایک عوامی شاعر ہے۔ شروع میں انھوں نے روایتی شاعری کی۔ جگر مراد آبادی سے متاثر تھے۔ جالبؔ کو عوامی حمایت بھی حاصل تھی۔ ہر شعبہ زندگی اور مکتبہ فکر کے لوگ آپ سے محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔ سب کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ عوام کو اپنی شاعری کے ذریعے خواب غفلت سے بیدار کر رہے تھے۔ نظم جمہوریت میں کہتے ہیں

دس کروڑ انسانو!
زندگی سے بیگانو!
صرف چند لوگوں نے
حق تمھارا چھینا ہے
خاک ایسے جینے پر
یہ بھی کوئی جینا ہے
بے شعور بھی تم کو
بے شعور کہتے ہیں

عوام کو اپنے حقوق کی خاطر لڑنے کے لیے نظم ”اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو“ میں فرماتے ہیں
جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو
ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے
مٹ جاؤ یا قصر ستم پامال کرو

جالبؔ پاکستان کے محنت کش طبقہ کی زندگی میں تبدیلی کے خواہاں تھے آمریت کے ہر رنگ سے نفرت کرتے۔ صرف نظموں میں نہیں بلکہ اپنی غزلوں میں بھی محنت کشوں کی حالت زار بیان کرتے ہوئے ان کو حوصلہ بخشا ہے۔

ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلا
زنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا
سوئے ہوئے ہیں لوگ تو ہوں گے سکون سے
ہم جاگنے کا روگ لگائیں کسی کو کیا
جینے کی دعا دینے والے یہ راز تجھے معلوم نہیں
تخلیق کا اک لمحہ ہے بہت بیکار جئے سو سال تو کیا
ایک اور شعر میں فرماتے ہیں
ہجوم دیکھ کر رستہ نہیں بدلتے ہم
کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم

آپ سادہ مزاج تھے۔ سادہ زندگی گزارتے۔ ان کے بچے معمولی اداروں میں تعلیم حاصل کر کے جوان ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار ڈپٹی کمشنر نے انھیں مشورہ دیا کہ حکمرانوں کی مخالفت چھوڑ دو، تم غریب آدمی ہو، اپنا نہیں تو کم از کم اپنے بچوں کا ہی خیال کرو۔ اس پر جالب نے کہا کہ ”دیکھو ڈپٹی کمشنر، تم نے زندگی میں اتنا کمایا نہیں جو میں نے ٹھکرایا ہے“ ۔ کالم نگار سلیمان کھوکھر نے بہت خوب لکھا ہے

” جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل ضیا تک جالبؔ کی جدوجہد کی داستان ایک نہیں کئی داستانیں ہیں۔ ان کی کہانیوں میں دار و رسن کے نوحے بھی ہیں اور شعر و سخن کے زمزمے بھی، قید تنہائی کا سناٹا بھی ہے اور زور قلم کا فراٹا بھی۔ عوامی حقوق کی باتیں بھی ہیں اور جرنیلوں کی گھاتیں بھی، پچھلے پہر کی یادیں بھی ہیں اور دیدہ و دل کی فریادیں بھی۔ غرض زلف و زنجیر کے رشتے اور زخم و مرہم لے ناتے جالبؔ کے فکر کے بین السطور کی آبرو ہیں

جالبؔ کا پہلا شعری مجموعہ 1957 ء کو *برگ آوارہ* کے نام سے شائع ہوا۔ ان کا یہ شعر امر ہوا۔
یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے۔

صراط مستقیم، ذکر بہتے خوں کا، گنبدِ بے در، کلیات حبیب جالب، اس شہر خرابی میں، گوشے میں قفس کے، حرفِ حق، حرف سرِ دار، عہد ستم وغیرہ ان کے معروف کتب ہیں۔

فلمی گیت بھی لکھے ہیں۔ جن میں ”ہم ایک ہیں“ ، ”موت کا نشہ“ ، ناگ منی، دو راستے، بھروسا اور زخمی وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی مشہور نظمیں دستور، اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو، بگیا لہو لہان، جمہوریت وغیرہ ہیں۔ 2006 ء میں ان کے نام حبیب جالب امن ایوارڈ کا اجرا کیا گیا۔ فلمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور 2008 ء میں حکومت پاکستان نے انھیں نشان امتیاز سے بھی نوازا۔

65 برس کی عمر میں یعنی 13 مارچ 1993 کو عوام کا غم گسار، راہنما اس دار فانی سے ہمیشہ کے لیے کوچ کر گیا۔ (ان کی وفات 12 اور 13 مارچ 1993 کی درمیانی شب ساڑھے بارہ اور پونے ایک بجے کے درمیان ہوئی۔ اس لیے صحیح تاریخ وفات 13 مارچ 1993 ہے۔ جو ان کی قبر کے کتبے پر بھی درج ہے ) ۔ ایسا لگتا ہے جیسے حکمراں طبقہ سے لڑتے لڑتے وہ تھک گئے تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا

چلتے پھرتے روشن رستے تاریکی میں ڈوب گئے
سو جاؤ اب جالبؔ تم بھی کیوں آنکھیں سلگاتے ہو
حبیب جالبؔ کو لاہور میں سبزہ۔ زار اسکیم قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

Facebook Comments HS