پاکستان کرکٹ مسیحی ٹیم کے سپُرد کرنے کا دلچسپ مطالبہ


گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی اس خبر سے کرکٹ کی دیوانی مگر اب کرکٹ ٹیم سے مایوس پاکستانی پبلک میں خوشی کی لہر دوڑی ہے کہ پاکستان کی مسیحی کرکٹ ٹیم نے سری لنکا میں منعقد ہونے والے جنوبی ایشیا کرکٹ کپ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بلکہ نجی محفلوں میں اب اس بات کا اظہار بھی ہونے لگا ہے کہ پاکستان قومی ٹیم کی پے در پے شکستوں کے بعد اب قومی کرکٹ ٹیم کی باگ ڈور انہی مسیحی نوجوانوں کے سپرد کر دی جائے۔ پسماندہ اور تعصبات کے شکار اس مذہبی گروہ کا یہ مطالبہ یقیناً مسائل کا حل تو پیش نہیں کرتا لیکن پاکستان کرکٹ کو یک مذہبی رنگ میں رنگے جانے کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ ضرور کرتا ہے کہ تمام مذاہب کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو بلا کسی رنگ، نسل اور عقیدہ کے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنے کے یکساں مواقع فرام کیے جائیں۔

مسیحی منتظمین کی قیادت میں مسیحی نوجوانوں پر مشتمل اس کرکٹ ٹیم نے 24 سے 29 مارچ 2025 تک سری لنکا میں منعقد ہونے والے لیگیسی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کپ میں شرکت کی۔ کرکٹ کا یہ جنوب ایشیائی میلہ ساؤتھ ایشین لیگیسی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ ٹورنامنٹ ماؤنٹین موورز لنکا اور ساؤتھ ایشین اسپورٹس موومنٹ کے زیراہتمام سری لنکا میں منعقد ہوا۔ جس میں پاکستان، انڈیا، نیپال اور سری لنکا کی مسیحی نوجوانوں پر مشتمل چار کرکٹ ٹیموں نے شرکت کی۔ اس دورے کا مقصد چاروں قوموں کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان کرکٹ کی اقدار، محبت، امن، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ کم وسائل یافتہ طبقات کو ساتھ ملانا اور باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

پاکستان کرسچن ٹیم میں مارک سلیمان (کپتان) ، ثاقب گل (نائب کپتان) ، آکاش حیات، فلپس طارق، رامش امین، گیری گل، راہل جاوید، آکاش اشرف، یشواع طالب، برائن بھٹی، محسن جان، ہارون اسلم، بوئزعرفان، جوشواہ گل، شازیب بھٹی، عاشر رزاق اور فرحان مسیح شامل تھے، جبکہ اجمل طاہر (آپریشن مینجر) ، عرفان فرانسس (ٹیم مینجر) اور میکسویل کھوکھر، اسٹیفن جان اور راشد مسیح آفیشلز اور آرگنائزنگ کمیٹی میں شامل تھے۔

پاکستان کرسچن ٹیم نے ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا اور نیپال کو شکست دی۔ پاکستان ٹیم کو فقط سری لنکا سے ایک میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، بہرحال فائنل میچ میں سری لنکا کو شکست دے دی۔ پاکستان کرسچن ٹیم نے 27 رنز سے یہ میچ جیت کر ٹورنامنٹ بھی اپنے نام کر لیا۔

پاکستان کے مسیحی نوجوانوں کے لئے چار ملکی کرکٹ لیگ میں پاکستان کی نمائندگی کرنا اپنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کا ایک بہترین موقع تھا۔ پاکستان کرسچن کرکٹ ٹیم کے مینجر عرفان فرانسس کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم میں کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو شمولیت کے یکساں مواقع ملنے چاہیں۔ گو پاکستان اسلامی جمہوریہ ملک ہے مگر یہ ایک متنوع معاشرہ بھی ہے جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتی پس منظر کے افراد آباد ہیں۔ اگر پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں مسیحی یا دیگر مذاہب کے کھلاڑی بھی شامل ہوں گے تو یہ پاکستان میں مذہبی رواداری اور تنوع کی عکاسی کرے گا، جس سے دنیا میں پاکستان سے متعلق مثبت تصور سامنے آئے گا۔

مسیحیوں نے دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ ساتھ جب بھی موقع ملا (انتہائی کم) کھیلوں میں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، مگر ان مواقع کے حصول میں ان کی مذہبی شناخت آڑے آتی رہی اور 2015 سے کسی مسیحی یا اقلیتی عقیدے سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں میں قومی سطح پر نمائندگی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یوسف یوحنا کی تبدیلی مذہب کے بعد اس صورتحال نے مسیحی کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ انہوں نے یا تو کرکٹ کھیلنے سے کنارہ کشی اختیار کی اور یا پھر وہ شدید دباؤ کا شکار رہے۔ جب سے کرکٹ کے معاملات میں براہ راست مذہب کا عمل دخل بڑھا ہے اس سے نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے، بلکہ اس رجحان نے دیگر عقائد کے کھلاڑیوں کے راستے بھی محدود کیے ہیں۔

راقم اس موقف سے سہمت اور اسی کی وکالت کرتا ہے کہ کسی بھی ادارے، محکمے، میدان یا ملکی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لئے افراد کا باصلاحیت ہونا لازمی شرط ہونی چاہیے نہ کہ مذہبی شناخت۔

مسیحی کرکٹ ٹیم کا سری لنکا میں جنوبی ایشیائی ٹرافی جیتنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی ہرگز کوئی کمی نہیں۔ اگر ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، انہیں معیاری سہولیات دی جائیں، انہیں مذہبی شناخت کی بجائے قومی شناخت کے زاویے سے سوچا جائے تو اُن کی کارکردگی یقیناً ملک و قوم کے لئے سودمند ثابت ہوگی۔ ہمیں کسی بھی ایسی کرکٹ ٹیم کی ضرورت نہیں جس کی شناخت کسی مذہب پر ہو بلکہ تمام مذاہب سے باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل قومی ٹیم ہی کرکٹ کے موجودہ بحران کا حل ہے۔

Facebook Comments HS